Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 122 of 218

2418Sunan Ibne-Majah

تنگدست کو مہلت دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ نُفَيْعٍ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ وَمَنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ حِلِّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ.

بریدہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا ۔

It was narrated from Buraidah Al-Aslami that the Prophet ﷺ said: "Whoever gives respite to one in difficulty, he will have (the reward of) an act of charity for each day. Whoever gives him respite after payment becomes due, will have (the reward of) an act of charity equal to (the amount of the loan) for each day."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠١٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥١، ٣٦٠) (صحیح) (سند میں ابوداود نفیع بن الحارث ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق و شواہد سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٨٦ )
2419Sunan Ibne-Majah

تنگدست کو مہلت دینا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ لَهُ.

صحابی رسول ابوالیسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے (عرش کے) سائے میں رکھے، تو وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا اس کا قرض معاف کر دے ۔

It was narrated from Abu Yasar, the Companion of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever would like Allah to shade him with His shade, let him give respite to one in difficulty, or waive repayment of the loan."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١٨ (٣٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١١١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٧)، سنن الدارمی/البیوع ٥٠ (٢٦٣٠) (صحیح )
2420Sunan Ibne-Majah

تنگدست کو مہلت دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍيُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَجُلًا مَاتَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا عَمِلْتَ؟ فَإِمَّا ذَكَرَ أَوْ ذُكِّرَ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ وَالنَّقْدِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: أَنَا قَدْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

حذیفہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مرگیا تو اس سے پوچھا گیا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ تو اس کو یا تو یاد آیا یا یاد لایا گیا، اس نے کہا: میں سکہ اور نقد کو کھوٹ کے باوجود لے لیتا تھا، اور تنگ دست کو مہلت دیا کرتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Hudhaifah that the Prophet ﷺ said: "A man died and it was said to him: What did you do? Either he remembered or was reminded and said: I used to be easy going in coins and cash concerning collecting debts due, and I used to give respite to (the debtor) who was in difficulty. So, Allah forgave him." Abu Masud said: "I heard that from the Messenger of Allah."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کوئی کھوٹا سکہ یا نقدی دیتا تو بھی میں اسے قبول کرلیتا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٧ (٢٠٧٧)، الاستقراض ٥ (٢٣٩١)، الأنبیاء ٥٤ (٣٤٥١)، الرقاق ٢٥ (٦٤٨٠)، صحیح مسلم/المساقاة ٦ (١٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٣١٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز ١١٧ (٢٠٨٢)، سنن الترمذی/البیوع ٦٧ (١٣٠٧)، مسند احمد (٥/٣٩٥، ٣٩٩)، سنن الدارمی/البیوع ١٤ (٢٥٨٨) (صحیح )
2421Sunan Ibne-Majah

اچھے طریقہ سے مطالبہ کرنا اور حق لینے میں برائی سے بچنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ.

ابن عمر اور عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی حق کا مطالبہ کرے تو شریفانہ طور پر کرے، خواہ وہ حق پورا پا سکے یا نہ پا سکے ۔

It was narrated from Ibn Umar and Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever demands his rights let him do so in a decent manner as much as he can."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٩٤، ١٧٦٧٣، ومصباح الزجاجة: ٨٤٩) (صحیح )
2422Sunan Ibne-Majah

اچھے طریقہ سے مطالبہ کرنا اور حق لینے میں برائی سے بچنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِصَاحِبِ الْحَقِّ خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحب حق سے فرمایا: شریفانہ انداز سے اپنا حق لو خواہ پورا ملے یا نہ ملے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to the one who was entitled to something: "Take your rights in a decent manner, as much as you can."

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں عفاف کا لفظ آیا ہے، مطلب یہ ہے کہ صاحب حق اچھے ڈھنگ اور شریفانہ طور طریقے سے قرض کا مطالبہ کرے، نرمی اور شفقت کا لحاظ رکھے، خلاف شرع سختی نہ کرے، اور گالی گلوچ نہ بکے یا وہی مال لے جو حلال ہے، حرام مال سے اپنا قرض پورا نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨٧، ومصباح الزجاجة: ٨٥٠) (حسن صحیح )
2423Sunan Ibne-Majah

عمدگی سے ادا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَكُمْ أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of you - or among the best of you – are those who payoff their debts in the best manner."

Notes · وضاحت
١ ؎: قرض کا اچھی طرح ادا کرنا یہ ہے کہ قرض کے مال سے اچھا مال دے یا کچھ زائد دے یا قرض خواہ کا شکریہ ادا کرے، قرض میں زائد ادا کرنا مستحب ہے اور یہ منع نہیں ہے، منع وہ قرض ہے جس میں زیادہ دینے کی شرط ہو اور وہ سود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ٥ (٢٣٠٥)، ٦ (٢٣٠٦)، الاستقراض ٤ (٢٣٩٠)، ٦ (٢٣٩٢)، ٧ (٢٣٩٣)، ١٣ (٢٤٠١)، الھبة ٢٣ (٢٦٠٦)، ٢٥ (٢٦٠٩)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٢ (١٦٠١)، سنن الترمذی/البیوع ٧٥ (١٣١٦، ١٣١٧)، سنن النسائی/البیوع ٦٢ (٤٦٢٢)، ١٠١ (٤٦٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٣٧٣، ٣٩٣، ٤١٦، ٤٣١، ٤٥٦، ٤٧٦، ٥٠٩) (صحیح )
2424Sunan Ibne-Majah

عمدگی سے ادا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا قَدِمَ قَضَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْد.

عبداللہ بن ابی ربیعہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا، پھر جب حنین سے واپس آئے تو قرض ادا کیا، اور آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے اہل و عیال اور مال و دولت میں برکت دے، قرض کا بدلہ اس کو پورا کا پورا چکانا، اور قرض دینے والے کا شکریہ ادا کرنا ہے ۔

Isma’il bin Ibrahim bin Abdullah bin Abi Rabiah Al-Makhzumi narrated from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ borrowed thirty or forty thousand from him, when he fought at Hunain. When he came back he paid back the loan, then the Prophet ﷺ said to him "May Allah bless your family and your wealth for you. The reward for lending is repayment and words of praise."

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإستقراض ٩٥ (٤٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦) (حسن) (سند میں ابراہیم بن عبداللہ کے حالات غیر معروف ہیں، شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإراوء: ١٣٨٨ )
2425Sunan Ibne-Majah

عمدگی سے ادا کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَيْنٍ أَوْ بِحَقٍّ، فَتَكَلَّمَ بِبَعْضِ الْكَلَامِ فَهَمَّ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ سے اپنا قرض یا حق مانگنے آیا، اور کچھ (نامناسب) الفاظ کہے، صحابہ کرام ؓ اس کی طرف بڑھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، رہنے دو، قرض خواہ کو مقروض پر غلبہ اور برتری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "A man came to ask the Prophet ﷺ of Allah for some debt or some right, and he spoke harshly to him, and the Companions of the Messenger of Allah ﷺ wanted to rebuke him. But the Messenger of Allah ﷺ said: Let him be, for the one who is owed something has authority over the debtor, until it is paid off.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٣١، ومصباح الزجاجة: ٨٥١) (ضعیف جدا) (حنش کے بارے میں بخاری نے کہا کہ اس کی احادیث بہت زیادہ منکر ہیں، اس حدیث کو لکھا نہیں جائے گا، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣١٨ )
2426Sunan Ibne-Majah

عمدگی سے ادا کرنا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَظُنُّهُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ لَهُ: أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِلَّا قَضَيْتَنِي. فَانْتَهَرَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا: وَيْحَكَ! تَدْرِي مَنْ تُكَلِّمُ؟ قَالَ: إِنِّي أَطْلُبُ حَقِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَّا مَعَ صَاحِبِ الْحَقِّ كُنْتُمْ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَقَالَ لَهَا: إِنْ كَانَ عِنْدَكِ تَمْرٌ فَأَقْرِضِينَا حَتَّى يَأْتِيَنَا تَمْرُنَا فَنَقْضِيَكِ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَضَتْهُ. فَقَضَى الْأَعْرَابِيَّ وَأَطْعَمَهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَ أَوْفَى اللَّهُ لَكَ، فَقَالَ: أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ، إِنَّهُ لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا، اور اس نے آپ ﷺ سے سختی سے مطالبہ کیا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا، نہیں تو میرا قرض ادا کر دیجئیے (یہ سن کر) صحابہ کرام ؓ نے اس کو جھڑکا اور کہا: افسوس ہے تجھ پر، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے؟ وہ بولا: میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے پھر آپ ﷺ نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اور ان کو کہلوایا کہ اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لیے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آجائیں، تو ہم تمہیں ادا کردیں گے ، انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! میرے پاس ہے، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا، آپ ﷺ نے اس سے اعرابی کا قرض ادا کردیا، اور اس کو کھانا بھی کھلایا، وہ بولا: آپ نے میرا حق پورا ادا کردیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی بہتر لوگ ہیں، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہوگی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے ۔

It was narrated that Abu saeed Al-Khudri said: "A Bedouin came to the Prophet ﷺ to ask him to pay back a debt that he owed him, and he spoke, harshly, saying: I will make things difficult for you unless you repay me. His Companions rebuked him and said: Woe to you, do you know who you are speaking to? He said: I am only asking for my rights. The Prophet ﷺ said: Why do you not support the one who has a right? Then he sent word to Khawlah bint Qais, saying to her: If you have dates, lend them to us until our dates come, then we will pay you back. She said: Yes, may my father be ransomed for you, O Messenger of Allah! ﷺ So she gave him a loan and he paid back the Bedouin and fed him. He (the Bedouin) said: You have paid me in full, may Allah pay you in full. He (the Prophet) said: Those are the best of people. May that nation not be cleansed (of sin) among whom the weak cannot get their rights without trouble.

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ آپ ﷺ کا کیا عدل و انصاف تھا، اپنے صحابہ کرام ؓ کو بھی یہ فرمایا کہ تم قرض خواہ کی مدد کرو، میری رعایت کیوں کرتے ہو، حق کا خیال اس سے زیادہ کیا ہوگا، آپ ﷺ کی نبوت کی یہ ایک کھلی دلیل ہے، نبی کے علاوہ دوسرے سے ایسا عدل و انصاف ہونا ممکن نہیں ہے، دوسری روایت میں ہے کہ پھر وہ گنوار جو کافر تھا مسلمان ہوگیا، اور کہنے لگا: میں نے آپ ﷺ سے زیادہ صابر نہیں دیکھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٢١، ومصباح الزجاجة: ٨٥٢) (صحیح )
2427Sunan Ibne-Majah

قرض کی وجہ سے قید کرنا اور قرض دار کا پیچھا نہ چھوڑنا اس کے ساتھ رہنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ، قَالَ وَكِيعٌ: وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ، قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ: يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ.

شرید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قرض ادا کرسکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کردیتا ہے، اور اس کو سزا (عقوبت) پہنچانا جائز ہوجاتا ہے ۔ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کرسکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔

It was narrated from Amr bin Sharid that his father said that the Messenger of Allah ﷺ said: "If one who can afford it delays repayment, his honor and punishment become permissible.” (One of the narrators) Ali At- Tanafisi said: Honor means that it is permissible to make a complaint, and punishment means that he may be imprisoned.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٢٨)، سنن النسائی/البیوع ٩٨ (٤٦٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩) (حسن) (سند میں محمد بن میمون مجہول راوی ہیں، جن سے وبر طائفی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٤٣٤ )
2428Sunan Ibne-Majah

قرض کی وجہ سے قید کرنا اور قرض دار کا پیچھا نہ چھوڑنا اس کے ساتھ رہنا۔

حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: الْزَمْهُ، ثُمَّ مَرَّ بِي آخِرَ النَّهَارِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ.

ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے پیچھے لگے رہو ، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے بنی تمیم کے بھائی! تمہارا قیدی کہاں ہے ۔

Hirmas bin Habib narrated from his father that his grandfather said: "I came to the Prophet ﷺ with a man who owed me money, and he said to me: Keep him.’ Then he passed by me at the end of the day and said: What did your prisoner do, brother of Banu Tamim?"

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤٤) (ضعیف) (ہرماس بن حبیب اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں )
2429Sunan Ibne-Majah

قرض کی وجہ سے قید کرنا اور قرض دار کا پیچھا نہ چھوڑنا اس کے ساتھ رہنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى كَعْبًا فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: دَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَاوَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّطْرِ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: قُمْ فَاقْضِهِ.

کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہوگئیں، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب ؓ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو ، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ ﷺ نے ابن ابی حدرد ؓ سے فرمایا: اٹھو، جاؤ ان کا قرض ادا کرو ۔

It was narrated from Abdullah bin Kab bin Malik from his father that he demanded payment owed by Ibn Abi Hadrad in the Masjid. Their voices became so loud that the Messenger of Allah ﷺ heard them when he was in his house. He came out and called Kab who said: "Here I am, Messenger of Allah ﷺ " He said: "Waive this much of your loan," and gestured with his hand to indicate half. He said: "I will do that," and he said: "Get up and repay it.”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧١ (٤٥٧)، ٨٣ (٤٧١) والخصومات ٤ (٢٤١٨)، ٩ (٢٤٢٤)، الصلح ١٠ (٢٧٠٦)، ١٤ (٢٧١٠)، صحیح مسلم/المسافاة ٢٥ (١٥٥٨)، سنن ابی داود/الأقضیة ١٢ (٣٥٩٥)، سنن النسائی/آداب القضاة ٢١ (٥٤١٠)، (تحفة الأشراف: ١١١٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٤، ٤٦٠، ٦/٣٨٦، ٣٩٠)، سنن الدارمی/البیوع ٤٩ (٢٦٢٩) (صحیح )
2430Sunan Ibne-Majah

قرض دینے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسِيرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ، قَالَ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ أُذُنَانٍ يُقْرِضُ عَلْقَمَةَ أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِهِ، فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ تَقَاضَاهَا مِنْهُ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، فَقَضَاهُ، فَكَأَنَّ عَلْقَمَةَ غَضِبَ، فَمَكَثَ أَشْهُرًا ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: أَقْرِضْنِي أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِي، قَالَ: نَعَمْ، وَكَرَامَةً يَا أُمَّ عُتْبَةَ! هَلُمِّي تِلْكَ الْخَرِيطَةَ الْمَخْتُومَةَ الَّتِي عِنْدَكِ فَجَاءَتْ بِهَا، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَرَاهِمُكَ الَّتِي قَضَيْتَنِي مَا حَرَّكْتُ مِنْهَا دِرْهَمًا وَاحِدًا، قَالَ: فَلِلَّهِ أَبُوكَ! مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ بِي؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْكَ، قَالَ: مَا سَمِعْتَ مِنِّي؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُقْرِضُ مُسْلِمًا قَرْضًا مَرَّتَيْنِ إِلَّا كَانَ كَصَدَقَتِهَا مَرَّةً، قَالَ: كَذَلِكَ أَنْبَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ.

قیس بن رومی کہتے ہیں کہ سلیمان بن اذنان نے علقمہ کو ان کی تنخواہ ملنے تک کے لیے ایک ہزار درہم قرض دے رکھا تھا، جب ان کی تنخواہ ملی تو سلیمان نے ان سے اپنے قرض کا تقاضا کیا، اور ان پر سختی کی، تو علقمہ نے اسے ادا کردیا، لیکن ایسا لگا کہ علقمہ ناراض ہیں، پھر کچھ مہینے گزرے تو پھر وہ سلیمان بن اذنان کے پاس آئے، اور کہا: میری تنخواہ ملنے تک مجھے ایک ہزار درہم کا پھر قرض دے دیجئیے، وہ بولے: ہاں، لے لو، یہ میرے لیے عزت کی بات ہے، اور ام عتبہ کو پکار کر کہا: وہ مہر بند تھیلی لے آؤ جو تمہارے پاس ہے، وہ اسے لے آئیں، تو انہوں نے کہا: دیکھو اللہ کی قسم! یہ تو وہی درہم ہیں جو تم نے مجھے ادا کئے تھے، میں نے اس میں سے ایک درہم بھی ادھر ادھر نہیں کیا ہے، علقمہ بولے: تمہارے باپ عظیم ہیں پھر تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا تھا؟ ١ ؎ وہ بولے: اس حدیث کی وجہ سے جو میں نے آپ سے سنی تھی، انہوں نے پوچھا: تم نے مجھ سے کیا سنا تھا؟ وہ بولے: میں نے آپ سے سنا تھا، آپ ابن مسعود ؓ سے روایت کر رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کسی مسلمان کو دو بار قرض دے، مگر اس کو ایک بار اتنے ہی مال کے صدقے کا ثواب ملے گا ، علقمہ نے کہا: ہاں، مجھے ابن مسعود ؓ نے ایسے ہی خبر دی ہے۔

It was narrated that Qais bin Rumi said: "Sulaiman bin Udhunan lent Alqamah one thousand Dirham until he got his salary. When he got his salary, he demanded that he pay him back and treated him harshly. He paid him back, and it was as if Alqamah was angry. Several months passed, then he came to him and said: Lend me one thousand Dirham until my salary comes. He said: Yes, it would be an honor. O Umm Utbah! Bring me that sealed leather bag that you have’ He said: By Allah, these are your Dirham that you paid back to me; I did not touch a single Dirham., What made you do what you did to me (i.e., treat me so harshly)? He said: What I heard from you: He said: What did you hear from me? He said: I heard you narrated from Ibn Masud that the Prophet ﷺ said: "There is no Muslim who lends something to another Muslim twice, but it will be like giving charity once. He said: That is what Ibn Masud told me."

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تعریفی کلمہ ہے۔ یعنی جب تمہیں ان کی ضرورت نہیں تھی تو پھر تم نے مجھ سے اتنی سختی سے کیوں مطالبہ کیا تھا۔ تو ہر بار قرض میں آدھے صدقہ کا ثواب ہے، دوبارہ قرض دے تو گویا اتنا کل مال صدقہ دیا۔ اسی وجہ سے سلیمان نے سخت تقاضا کر کے اپنا قرض وصول کرلیا تاکہ علقمہ کو دوبارہ قرض لینے کی ضرورت ہو اور ان کا ثواب زیادہ ہو، سبحان اللہ، اگلے لوگ ثواب کے کیسے حریص اور طالب تھے، آگے حدیث میں ہے کہ قرض میں صدقہ سے زیادہ ثواب ہے، یہ حدیث بظاہر اس کے مخالف ہے اور ممکن ہے کہ یہ حدیث مطلق قرض میں ہو اور وہ اس قرض میں جس میں مقروض سے تقاضا نہ کرے یا جو سخت ضرورت کے وقت دے۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٧٥، ومصباح الزجاجة: ٨٥٣) (ضعیف) (سند میں قیس بن رومی مجہول، اور سلیمان بن یسیر ضعیف ہیں، اس لئے یہ ضعیف ہے، مرفوع حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٣٨٩ )
2431Sunan Ibne-Majah

قرض دینے کی فضیلت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَاهِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَاب: الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے، اور قرض کا اٹھارہ گنا، میں نے کہا: جبرائیل! کیا بات ہے؟ قرض صدقہ سے افضل کیسے ہے؟ تو کہا: اس لیے کہ سائل سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کھانے کو ہوتا ہے، اور قرض لینے والا قرض اس وقت تک نہیں مانگتا جب تک اس کو واقعی ضرورت نہ ہو ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra), I saw written at the gate of Paradise: Charity brings a tenfold reward and a loan brings an eighteen fold reward. I said: O Jibril! Why is a loan better than charity? He said: Because the beggar asks when he has something, but the one who asks for a loan does so only because he is in need."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٣، ومصباح الزجاجة: ٨٥٤) (ضعیف جدا) (خالد بن یزید متروک ہے، یحییٰ بن معین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ٣٦٣٧ )
2432Sunan Ibne-Majah

قرض دینے کی فضیلت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق الْهُنَائِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي لَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهَا وَلَا يَقْبَلْهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ.

یحییٰ بن ابی اسحاق ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا: ہم میں سے ایک شخص اپنے مسلمان بھائی کو مال قرض دیتا ہے، پھر قرض لینے والا اس کو تحفہ بھیجتا ہے تو یہ عمل کیسا ہے؟ کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: تم میں سے جب کوئی کسی کو قرض دے، پھر وہ اس کو تحفہ دے یا اسے اپنے جانور پر سوار کرے، تو وہ سوار نہ ہو اور نہ تحفہ قبول کرے، ہاں، اگر ان کے درمیان پہلے سے ایسا ہوتا رہا ہو تو ٹھیک ہے ١ ؎۔

It was narrated that Yahya bin Abu Ishaq Al-Hunai said: "I asked Anas bin Malik (RA): What if a man gives his brother a loan, then (the borrower) gives him a gift? The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone of you borrows something then he gives (the lender) a gift or gives him a ride on his riding-beast, he should not accept the gift or the ride, unless they used to treat each other in that manner beforehand.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرض دینے سے پہلے بھی اس کے پاس سے تحفہ آیا کرتا ہو، یا وہ سواری دیا کرتا ہو تو اب بھی اس کا قبول کرنا درست ہے اور جو قرض سے پہلے اس کی عادت نہ تھی تو یقیناً اس کا سبب قرض ہوگا اور ہماری شریعت میں قرض دے کر منفعت اٹھانا درست نہیں، اور بخاری نے تاریخ میں انس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی کسی کو قرض دے تو اس کا تحفہ نہ لے، اور بیہقی نے سنن کبری میں ابن مسعود، ابی بن کعب، عبد اللہ بن سلام اور ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ان سبھوں نے کہا: جس قرض سے منفعت ہو وہ سود ہے یعنی سود کی قسموں میں سے ایک قسم ہے، ان سب احادیث و آثار سے یہ معلوم ہوا کہ ہمارے زمانہ میں جو قرض دے کر اس پر شرح فیصد سے منفعت کی شرط ٹھہراتے ہیں مثلاً سات روپیہ فی صد یا دس روپیہ فی صد، یہ ربا (سود) ہے اور حرام ہے، اور تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے اور اس صورت میں بینک اور دوسرے کاروباری ادارے جو سودی نظام چلاتے ہیں ان سے سودی تعامل اور کاروبار بالکل حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٥٥، ومصباح الزجاجة: ٨٥٥) (ضعیف) (سند میں عتبہ بن حمید الضبی ضعیف ہیں، اور یحییٰ بن أبی اسحاق الہنائی مجہول الحال، تراجع الألبانی: رقم: ٣٢٩ )
2433Sunan Ibne-Majah

میت کی جانب سے دین ادا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ، أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَتَرَكَ عِيَالًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَاكَ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِهِ، فَاقْضِ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلَّا دِينَارَيْنِ، ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: فَأَعْطِهَا فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ.

سعد بن اطول ؓ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی وفات پا گئے، اور (ترکہ میں) تین سو درہم اور بال بچے چھوڑے، میں نے چاہا کہ ان درہموں کو ان کے بال بچوں پر صرف کروں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا بھائی اپنے قرض کے بدلے قید ہے، اس کا قرض ادا کرو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ان کی طرف سے سارے قرض ادا کر دئیے ہیں، سوائے ان دو درہموں کے جن کا دعویٰ ایک عورت نے کیا ہے، اور اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو بھی ادا کر دو اس لیے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچی ہے ۔

It was narrated from Sad bin Atwal that his brother died, leaving behind three hundred Dirham and dependents. "I wanted to spend (the money) on his dependents, but the Prophet ﷺ said: Your brother is being detained by his debt, so pay it of for him. He said: Messenger of Allah, I have paid it off apart from two Dinar, which a woman is claiming but she has no proof." He said: "Give them to her for she is telling the truth."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٣، ومصباح الزجاجة: ٨٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٦، ٥/٧) (صحیح )
2434Sunan Ibne-Majah

میت کی جانب سے دین ادا کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ فَكَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ فَمَشَى فِيهَا، ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ: جُدَّ لَهُ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ، فَجَدَّ لَهُ بَعْدَ مَا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَسْقًا، وَفَضَلَ لَهُ اثْنَا عَشَرَ وَسْقًا، فَجَاءَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَهُ بِالَّذِي كَانَ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَائِبًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ أَوْفَاهُ وَأَخْبَرَهُ بِالْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرْ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيُبَارِكَنَّ اللَّهُ فِيهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد وفات پا گئے، اور اپنے اوپر ایک یہودی کے تیس وسق کھجور قرض چھوڑ گئے، جابر ؓ نے اس یہودی سے مہلت مانگی لیکن اس نے انہیں مہلت دینے سے انکار کردیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ اس سے اس کی سفارش کردیں، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس گئے اور آپ نے اس سے بات کی کہ وہ ان کھجوروں کو جو ان کے درخت پر ہیں اپنے قرض کے بدلہ لے لے، لیکن وہ نہیں مانا، پھر آپ ﷺ نے اس سے مہلت مانگی، لیکن وہ انہیں مہلت دینے پر بھی راضی نہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ ان درختوں کے پاس تشریف لے گئے، اور ان کے درمیان چلے پھر جابر ؓ سے کہا: ان کھجوروں کو توڑ کر اس کا جو قرض ہے اسے پورا پورا ادا کر دو ، چناچہ آپ ﷺ کے واپس چلے جانے کے بعد جابر ؓ نے تیس وسق کھجور توڑی (جس سے جابر ؓ نے اس کا قرض چکایا) اور بارہ وسق کھجور بچ بھی گئی، جابر ؓ نے یہ صورت حال دیکھی تو رسول اللہ ﷺ کو بتانے آئے، لیکن آپ کو موجود نہیں پایا، جب آپ واپس تشریف لائے تو وہ پھر دوبارہ حاضر ہوئے، اور آپ کو بتایا کہ اس کا قرض پورا پورا ادا کردیا ہے، اور جو زائد کھجور بچ گئی تھی اس کی بھی خبر دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے عمر بن خطاب کو بھی بتادو ، چناچہ جابر ؓ عمر ؓ کے پاس گئے، اور انہیں بھی اس کی خبر دی، یہ سن کر عمر ؓ بولے: میں اسی وقت سمجھ گیا تھا جب آپ ﷺ ان درختوں کے درمیان چلے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان میں ضرور برکت دے گا ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that his father died owing thirty Wasq to a Jewish man. Jabir bin Abdullah asked him for respite but he refused. Jabir asked the Messenger of Allah ﷺ to intercede for him with him, so the Messenger of Allah ﷺ went and spoke to the Jew, asking him to accept dates in lieu of what was owed, but he refused. The Messenger of Allah ﷺ spoke to him but he refused to give respite. Then the Messenger of Allah ﷺ went in among the date palm trees and walked among them. Then he said to Jabir: "Pick (dates) for him and payoff what is owed to him in full." So he picked thirty Wasq of dates after the Messenger of Allah ﷺ came back, and there were twelve Wasq more (than what was owed). Jabir came to the Messenger of Allah ﷺ to tell himm what had happened, and he found that the Messenger of Allah ﷺ was absent. When the Messenger of Allah ﷺ came back he came to him and told him that he had paid off the debt in full, and he told him about the extra dates. The Messenger of Allah ﷺ said: "Tell Umar bin Khattab about that." So Jabir went to Umar and told him, and "Umar said to him: "I knew when the Messenger of Allah ﷺ walked amongst them that Allah would bless them for us.”

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نبی کریم ﷺ کا ایک کھلا معجزہ تھا، عربوں کو کھجور کے تخمینہ میں بڑا تجربہ ہوتا ہے، اگر وہ کھجور تیس وسق سے زیادہ بلکہ تیس وسق بھی ہوتی تو جابر ؓ اتنا نہ گھبراتے، نہ نبی کریم ﷺ سے اس یہودی کے پاس سفارش کراتے، نہ وہ یہودی سارے باغ کی کھجور اپنے قرضہ کے عوض میں لینے سے انکار کرتا، وہ کھجوریں تیس وسق سے بہت کم تھیں، نبی کریم ﷺ کی دعا سے اس میں ایسی برکت ہوئی کہ سارا قرض ادا ہوگیا اور بارہ وسق کھجور بھی مزید بچ گئی، اس قسم کے معجزات نبی کریم ﷺ کی دعا سے کئی مقامات پر ظاہر ہوئے ہیں کہ تھوڑا سا کھانا یا پانی بہت سے آدمیوں کے لیے کافی ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥١ (٢١٢٧)، الاستقراض ٨ (٢٣٩٥)، ٩ (٢٣٩٦)، ١٨ (٢٤٠٥)، الھبة ٢١ (٢٦٠١)، الصلح ١٣ (٢٧٠٩)، الوصایا ٣٦ (٢٧٨١)، المناقب ٢٥ (٣٥٨٠)، المغازي ١٨ (٤٠٥٣)، سنن ابی داود/الوصایا ١٧ (٢٨٨٤)، سنن النسائی/الوصایا ٤ (٣٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٢٦) (صحیح )
2435Sunan Ibne-Majah

تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں کوئی مقروض ہوجائے تو اللہ اس کا قرضہ ادا کریں گے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، وأبو أسامة، وجعفر بن عون، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الدَّيْنَ يُقْضَى مِنْ صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا مَاتَ إِلَّا مَنْ يَدِينُ فِي ثَلَاثِ خِلَالٍ: الرَّجُلُ تَضْعُفُ قُوَّتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَسْتَدِينُ يَتَقَوَّى بِهِ لِعَدُوِّ اللَّهِ وَعَدُوِّهِ، وَرَجُلٌ يَمُوتُ عِنْدَهُ مُسْلِمٌ، لَا يَجِدُ مَا يُكَفِّنُهُ وَيُوَارِيهِ إِلَّا بِدَيْنٍ، وَرَجُلٌ خَافَ اللَّهَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزْبَةَ، فَيَنْكِحُ خَشْيَةً عَلَى دِينِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْ هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرض دار جب مقروض مرجائے تو قیامت کے دن اس کے قرض کی ادائیگی اس سے ضرور کرائی جائے گی سوائے اس کے کہ اس نے تین باتوں میں سے کسی کے لیے قرض لیا ہو، ایک وہ جس کی طاقت جہاد میں کمزور پڑجائے تو وہ قرض لے کر اپنی طاقت بڑھائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اور اپنے دشمن سے جہاد کے قابل ہوجائے، دوسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان مرجائے اور اس کے پاس اس کے کفن دفن کے لیے سوائے قرض کے کوئی چارہ نہ ہو، تیسرا وہ شخص، جو تجرد (بغیر شادی کے رہنے) سے اپنے نفس پر ڈرے، اور اپنے دین کو مبتلائے آفت ہونے کے اندیشے سے قرض لے کر نکاح کرے، تو اللہ تعالیٰ ان تینوں کا قرض قیامت کے دن ادا کر دے گا ۔

It was narrated from Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "A debt will be settled on the Day of Resurrection if the one who owes it dies, apart from three: A man who lost his strength fighting in the cause of Allah, so he borrows in order to become strong again to fight the enemy of Allah and his enemy. A man who sees a Muslim die and he cannot find anything with which to shroud him except by taking a loan. A man who fears Allah if he stays single, so he gets married for fear of (losing) his religious commitment, Allah will payoff the debt for these people on the Day of Resurrection."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٤، ومصباح الزجاجة: ٨٥٧) (ضعیف) (سند میں رشدین ضعیف ہیں لیکن ان کی متابعت کئی راویوں نے کی ہے، اور ابن انعم عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٤٨٣ )
2436Sunan Ibne-Majah

گروی رکھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت کے لیے غلہ قرض پر خریدا، اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی ١ ؎۔

It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Prophet ﷺ bought some food from a Jew with payment to be made later, and he pawned his armor for that.

Notes · وضاحت
١ ؎: رہن کہتے ہیں گروی رکھنے کو یعنی کوئی چیز کسی کے پاس بطور ضمانت رکھ کر اس سے قرض لینا، گروی رکھنے والے کو راہن اور گروی رکھ کر قرض دینے والے کو مرتہن اور جو چیز گروی رکھی جائے اس کو رہن یا مرہون کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٤ (٢٠٦٨)، ٣٣ (٢٠٩٦)، ٨٨ (٢٢٠٠)، السلم ٥ (٢٢٥١)، ٦ (٢٢٥٢)، الاستقراض ١ (٢٣٨٦)، الرھن ٢ (٢٥٠٩)، ٥ (٢٥١٣)، الجہاد ٨٩ (٢٩١٦)، المغازي ٨٦ (٤٤٦٧)، صحیح مسلم/البیوع ٤٥ (١٦٠٣)، سنن النسائی/البیوع ٥٦ (٤٦١٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٢، ١٦٠، ٢٣٧) (صحیح )
2437Sunan Ibne-Majah

گروی رکھنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْ رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَأَخَذَ لِأَهْلِهِ مِنْهُ شَعِيرًا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی، اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جو لیے۔

It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah ﷺ pawned his armor to a jew in Al-Madinah, and took barley for his family in return.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٤ (٢٠٦٩)، الرھن ١ (٢٥٠٨)، سنن الترمذی/البیوع ٧ (١٢١٥)، سنن النسائی/البیوع ٥٧ (٤٦١٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٣، ٢٠٨، ٢٣٢) (صحیح )