Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 120 of 218

2378Sunan Ibne-Majah

اولاد کو دے کر پھر واپس لے لینا

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَرْجِعْ أَحَدُكُمْ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدَ مِنْ وَلَدِهِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہبہ کر کے کوئی واپس نہ لے سوائے باپ کے جو وہ اپنی اولاد کو کرے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ of Allah said: "None of you should take back his gift, except a father (taking it back) from his son."

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٧١٩)، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ٨٣ (٣٥٤٠)، مسند احمد (٤/١٨٢)، (حسن صحیح )
2379Sunan Ibne-Majah

عمر بھر کے لئے کوئی چیز دینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہوجائے گی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no lifelong grant. Whoever is given something as a lifelong grant, it is his."

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ عمریٰ والوں کے لئے، عمریٰ میراث ہوگی ایک روایت میں ہے کہ عمریٰ جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥١٠٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الرقبي ٤ (٣٥٥٥) (حسن صحیح )
2380Sunan Ibne-Majah

عمر بھر کے لئے کوئی چیز دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ فِيهَا فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے کسی کو بطور عمریٰ کوئی چیز دی، تو وہ جس کو دیا ہے اس کی اور اس کے بعد اس کے اولاد کی ہوجائے گی، اس نے عمریٰ کہہ کر اپنا حق ختم کرلیا، اب وہ چیز جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہوگئی ۔

It was narrated that Jabir said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever gives a lifelong grant to a man, it belongs to him (the recipient) and to his heirs. His (the givers) words put an end to his right to it, and it belongs to the one to whom it was given for life and to his heirs."

Notes · وضاحت
١ ؎: عمریٰ کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٣٢ (٢٦٢٥)، صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٥)، سنن ابی داود/البیوع ٨٧ (٣٥٥٠، ٣٥٥٢)، سنن الترمذی/الأحکام ١٥ (١٣٥٠)، سنن النسائی/االعمريٰ (٣٧٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٣٧ (٤٣)، مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤، ٣٦٠، ٣٩٣، ٣٩٩) (صحیح )
2381Sunan Ibne-Majah

عمر بھر کے لئے کوئی چیز دینا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَعَلَ الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ.

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمریٰ وارث کو دلا دیا۔

It was narrated from Zaid bin Thâbit that the Prophet ﷺ ruled that a gift given for life belongs to the heirs (of the recipient). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عمریٰ دینے سے وہ چیز ہمیشہ کے لئے دینے والے کی ملکیت سے نکل جائے گی اور اس کی ہوجائے گی جس کو عمریٰ دیا گیا، اس کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی، اہل حدیث اور جمہور علماء کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٨٩ (٣٥٥٩)، سنن النسائی/الرقبي (٣٧٤٦)، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٠) (صحیح الإسناد )
2382Sunan Ibne-Majah

رقبی کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا رُقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ، قَالَ: وَالرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ هُوَ لِلْآخَرِ مِنِّي وَمِنْكَ مَوْتًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رقبیٰ کوئی چیز نہیں ہے جس کو بطور رقبیٰ کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ہوگی اس کی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں راوی کہتے ہیں: رقبیٰ یہ ہے کہ ایک شخص کسی کو کوئی چیز دے کر یہ کہے کہ ہم اور تم میں سے جو آخر میں مرے گا یہ اس کی ہوگی۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Ruqba. Whoever is given a gift on the basis of Ruqba, it belongs to him, whether he lives or dies." He (the narrator) said: "Ruqba is when one man says to another: When either of us dies.”

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العمریٰ ١ (٣٧٦٣، ٣٧٦٤، ٣٧٦٥)، (تحفة الأشراف: ٦٦٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤، ٧٣) (صحیح )
2383Sunan Ibne-Majah

رقبی کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُعْمِرَهَا، وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُرْقِبَهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ اس شخص کا ہوجائے گا جس کو عمریٰ دیا گیا، اور رقبیٰ اس شخص کا ہوجائے گا جس کو رقبیٰ دیا گیا ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Umra belongs to the one to whom it is given, and Ruqba belongs to the one to whom it is given."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں صورتوں میں وہ شئے دینے والے کے ملک سے نکل جائے گی، اور جس کو عمریٰ یا رقبیٰ کے طور پر دی گئی ہے اس کی ہوجائے گی، اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٨٩ (٣٥٥٨)، سنن الترمذی/الأحکام ١٦ (١٣٥١)، سنن النسائی/العمريٰ (٣٧٦٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧٠٥) (صحیح )
2384Sunan Ibne-Majah

ہدیہ واپس لینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو ہبہ کر کے واپس لے اس کتے جیسی ہے جو خوب آسودہ ہو کر کھالے، پھر قے کر کے اسے چاٹے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The likeness of one who takes back his gift is that of a dog that eats until it is full and vomits; then it goes back to its vomit and eats it again."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٣٠٥، ومصباح الزجاجة: ٨٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٩، ٤٣٠، ٤٩٢) (صحیح) (خلاس اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، اس لئے کہ خلاس نے ابوہریرہ ؓ سے کچھ نہیں سنا ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ ٦٤ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٦٩٩ )۔
2385Sunan Ibne-Majah

ہدیہ واپس لینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کے مانند ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "The one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ١٤ (٢٥٨٨)، صحیح مسلم/الھبات ٢ (١٦٢٢)، سنن ابی داود/البیوع ٨٣ (٣٥٣٨)، سنن الترمذی/البیوع ٦٢ (١٢٩٩)، سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٧٢٣)، (تحفة الأشراف: ٥٦٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٠، ٢٨٠، ٢٨٩، ٢٩١، ٣٣٩، ٣٤٢، ٣٤٥، ٣٤٩) (صحیح )
2386Sunan Ibne-Majah

ہدیہ واپس لینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْعَرْعَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہبہ کر کے اسے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ said: "The one who takes back his gift is like the dog that goes back to its vomit."

Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہبہ کر کے واپس لے لینا کمینہ پنی، اور خست کا کام ہے اور خلاف مروت ہے، اکثر علماء ہبہ واپس لینے کو حرام کہتے ہیں مگر باپ ہبہ کو واپس لے لے تو جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٣٥) (صحیح )
2387Sunan Ibne-Majah

جس نے ہدیہ دیا اس امید سے کہ اس کا بدل ملے گا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ أَحَقُّ بِهِبَتِهِ مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہبہ کرنے والا اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا زیادہ حقدار ہے جب تک اس کا عوض نہ پائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man has more right to his gift so long as he has not gotten something in return for it."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٢٧٠، ومصباح الزجاجة: ٨٣٦) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف راوی ہے )
2388Sunan Ibne-Majah

خاوند کی اجازت کے بغیر بیوی کا عطیہ دینا

حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا: لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ فِي مَالِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا إِذَا هُوَ مَلَكَ عِصْمَتَهَا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: کسی عورت کا اپنے مال میں بغیر اپنے شوہر کی اجازت کے تصرف کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ وہ اس کی عصمت (ناموس) کا مالک ہے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said, in a sermon that he delivered: "It is not permissible for a woman to dispose of her wealth except with her husbands permission, once he has married her."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ٨٦ (٣٥٤٦)، سنن النسائی/الزکاة ٥٨ (٢٥٤١)، العمریٰ (٣٧٨٧)، مسند احمد (٢/٢٢١) (صحیح )
2389Sunan Ibne-Majah

خاوند کی اجازت کے بغیر بیوی کا عطیہ دینا

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ جَدَّتَهُ خَيْرَةَ امْرَأَةَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ بِهَذَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ فِي مَالِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا فَهَلِ اسْتَأْذَنْتِ كَعْبًا. قَالَتْ: نَعَمْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ زَوْجِهَا فَقَالَ: هَلْ أَذِنْتَ لِخَيْرَةَ أَنْ تَتَصَدَّقَ بِحُلِيِّهَا، فَقَال: نَعَمْ، فَقَبِلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا.

کعب بن مالک ؓ کی اہلیہ خیرۃ ؓ کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنا زیور لے کر آئیں، اور عرض کیا: میں نے اسے صدقہ کردیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں، کیا تم نے کعب سے اجازت لے لی ہے ؟ وہ بولیں: جی ہاں، آپ ﷺ نے ان کے شوہر کعب بن مالک ؓ کے پاس آدمی بھیج کر پچھوایا، کیا تم نے خیرہ کو اپنا زیور صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے ، وہ بولے: جی ہاں، تب جا کر رسول اللہ ﷺ نے ان کا صدقہ قبول کیا۔

It was narrated from Abdullah bin Yahya, one of the sons of Kab bin Malik, from his father, from his grandfather, that his grandmother Khairah, the wife of Kab bin Malik, came to the Messenger of Allah ﷺ with some jewelry belonging to her, and said, I am giving this in charity. The Messenger of Allah ﷺ said to her: "It is not permissible for a woman to dispose of her wealth without her husbands permission. Did you ask Kabs permission?" She said: "Yes." So the Messenger of Allah ﷺ sent for Kab bin Malik, her husband, and said, "Did you give Khairah permission to give her jewelery in charity?" He said: "Yes." So the Messenger of Allah ﷺ accepted it from her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٣١، ومصباح الزجاجة: ٨٣٧) (صحیح) (سند میں عبد اللہ بن یحییٰ مجہول ہیں، لیکن دوسرے شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٧٥ )
2390Sunan Ibne-Majah

صدقہ دے کر واپس لینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ.

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے صدقہ کو دے کر واپس نہ لو ۔

It was narrated from Umar bin Khattab that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not take back your charity."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٩٠)، الھبة ٣٠ (٢٦٢٣)، ٣٧ (٢٦٣٦)، الوصایا ٣١ (٢٧٧٥)، الجہاد ١١٩ (٢٩٧٠)، ١٣٧ (٣٠٠٢)، صحیح مسلم/الھبات ١ (١٦٢٠)، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٨٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٣٢ (٦٦٨)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٦ (٤٩)، مسند احمد (١/٢٥، ٣٧، ٤٠، ٥٤) (صحیح )
2391Sunan Ibne-Majah

صدقہ دے کر واپس لینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ مَثَلُ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو صدقہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے پھر لوٹ کر اس کو کھاتا ہے ۔

Abdullah bin Abbas narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "The likeness of the one who gives charity then takes it back is that of a dog who vomits then goes back and eats its vomit."

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٣٨٥)، (تحفة الأشراف: ٥٦٦٢) (صحیح )
2392Sunan Ibne-Majah

کوئی چیز صدقہ میں دی پھر دیکھا کہ وہ فروخت ہو رہی ہے تو کیا صدقہ کرنے والا وہ چیز خرید سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْصَرَ صَاحِبَهَا يَبِيعُهَا بِكَسْرٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا تَبْتَعْ صَدَقَتَكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک گھوڑا صدقہ کیا، پھر دیکھا کہ اس کا مالک اس کو کم دام میں بیچ رہا ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا صدقہ مت خریدو ۔

It was narrated from Umar bin Abdullah bin ‘Umar , meaning, from his father, from his grandfather ‘Umar, that he gave a horse in charity at the time of the Messenger of Allah, then he saw its owner selling it for a low price. He went to the Prophet ﷺ and asked him about that, and he said: "Do not buy what you gave in charity,"

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٤٦) (صحیح )
2393Sunan Ibne-Majah

کوئی چیز صدقہ میں دی پھر دیکھا کہ وہ فروخت ہو رہی ہے تو کیا صدقہ کرنے والا وہ چیز خرید سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ: غَمْرٌ أَوْ غَمْرَةٌ فَرَأَى مُهْرًا أَوْ مُهْرَةً مِنْ أَفْلَائِهَا يُبَاعُ يُنْسَبُ إِلَى فَرَسِهِ فَنَهَى عَنْهَا.

زبیر بن عوام ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑی صدقہ میں دی جس کو غمر یا غمرۃ کہا جاتا تھا، پھر اسی کے بچوں میں ایک بچھیرا یا بچھیری کو بکتا دیکھا، جو ان کی گھوڑی کی نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو اس کو خریدنے سے روک دیا۔

It was narrated from Zubair bin Awwam that he gave a horse called Ghamr or Ghamrah to someone, then he saw one of its colts or fillies attributed to his horse being sold, but he refrained from (buying) it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٣٢، ومصباح الزجاجة: ٨٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عامر غیر معروف راوی ہیں، ان کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ غزی ثقہ راوی ہیں، یا کوئی اور، اس لئے اس احتمال کی وجہ سے حدیث ثابت نہیں )
2394Sunan Ibne-Majah

کسی نے کوئی چیز صدقہ میں دی پھر وہی چیز وراثت میں اس کو ملے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ: آجَرَكِ اللَّهُ وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، ماں کا انتقال ہوگیا (اب لونڈی کا حکم کیا ہوگا؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے (تیرے صدقہ کا) ثواب دیا، اور پھر اسے تجھے وارثت میں بھی لوٹا دیا ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "A woman came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, I gave my mother a slave girl of mine, and she has died. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has rewarded you and returned to you your inheritance (without your seeking that)."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ترکہ (وراثت) میں تمہارے پاس لونڈی آگئی، معلوم ہوا کہ صدقہ کی ہوئی چیز اگر میراث میں آجائے تو اس کا لینا منع نہیں ہے، البتہ اس کو خریدنا منع ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٧٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٩٨٠) (صحیح )
2395Sunan Ibne-Majah

کسی نے کوئی چیز صدقہ میں دی پھر وہی چیز وراثت میں اس کو ملے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً لِي وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: میں نے اپنی ماں کو ایک باغ دیا تھا، اور وہ مرگئیں، اور میرے سوا ان کا کوئی اور وارث نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں تمہارے صدقہ کا ثواب مل گیا، اور تمہارا باغ بھی تمہیں واپس مل گیا ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: I gave my mother a garden of mine, and she has died and has no other heir but me. The Messenger of Allah ﷺ said: Your charity is valid and your garden has been returned to you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٤، ومصباح الزجاجة: ٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٥) (حسن صحیح )
2396Sunan Ibne-Majah

وقف کرنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَعَمِلَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبَ وَلَا يُورَثَ تَصَدَّقَ بِهَا لِلْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ کو خیبر میں کچھ زمین ملی، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے مشورہ لیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں کچھ مال ملا ہے، اتنا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنی ملکیت میں باقی رکھو اور اسے (یعنی اس کے پھلوں اور منافع کو) صدقہ کر دو ۔ عمر ؓ نے ایسا ہی کیا، اس طرح کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ اسے وراثت میں دیا جائے، اور وہ صدقہ رہے فقیروں اور رشتہ داروں کے لیے، غلاموں کے آزاد کرانے اور مجاہدین کے سامان تیار کرنے کے لیے، اور مسافروں اور مہمانوں کے لیے اور جو اس کا متولی ہو وہ اس میں دستور کے مطابق کھائے یا کسی دوست کو کھلائے لیکن مال جمع نہ کرے۔

It was narrated that lbn Umar said: "Umar bin Khattab acquired some land at Khaibar, and he came to the Prophet ﷺ and consulted him. He said: O Messenger of Allah, I have been given some wealth at Khaibar and I have never been given any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it? He said: If you wish, you can make it an endowment and give (its produce) in charity. So Umar gave it on the basis that it would not be sold, given away or inherited, and (its produce) was to be given to the poor, to relatives, for freeing slaves, in the cause of Allah, to wayfarers and to guests; and there was nothing wrong if a person appointed to be in charge of it consumed from it on a reasonable basis or feeding a friend, without accumulating it for himself."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشروط ١٩ (٢٧٣٧)، الوصایا ٢٢ (٦٧٦٤)، ٢٨ (٢٧٧٢)، ٣٢ (٢٧٧٧)، صحیح مسلم/الوصایا ٤ (١٦٣٢)، سنن ابی داود/الوصایا ١٣ (٢٨٧٨)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٦ (١٣٧٥)، سنن النسائی/الإحب اس ١ (٣٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٥، ١٢٥) (صحیح )
2397Sunan Ibne-Majah

وقف کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّه بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهَا، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا. قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: فَوَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي كِتَابِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! خیبر کے جو سو حصے مجھے ملے ہیں ان سے بہتر مال مجھے کبھی نہیں ملا، میں چاہتا ہوں کہ ان کو صدقہ کر دوں؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اصل زمین کو رہنے دو، اور اس کے پھلوں کو اللہ کی راہ میں خیرات کر دو ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "Umar bin Khattab said: O Messenger of Allah, the one hundred shares of the Khaibar I have never been given any wealth that is more beloved to me than them, and I wanted to give them in charity. The Prophet ﷺ said: Make it an endowment and give its produce in the cause of Allah.’” (One of the narrators) Ibn Abu Umar (who narrated it from Sufyan, from Ubaidullah bin Umar) said: "I found this Hadith in another location in my book from Sufyan, from Abdullah, from Nafi, from Ibn Umar who said: "Umar said. And he mentioned similarly."

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإحب اس ٢ (٣٦٣٣)، (تحفة الأشراف: ٧٩٠٢) (صحیح ) ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر طسفيان عن عبدالله عن نافع عن ابن عمر کے طریق سے پائی ہے، وہ (ابن عمر) کہتے ہیں: عمر ؓ نے کہا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی۔ تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ٧٧٤١) (صحیح )