ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بعینہ اپنا مال اس شخص کے پاس پا لیا جو مفلس (دیوالیہ) ہوگیا ہو، تو وہ دوسرے قرض خواہوں سے اس مال کا زیادہ حقدار ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever finds his exact property with a man who has become bankrupt, then he has more right to it than anyone else."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کوئی سامان بیچا پھر اس نے اس کو بعینہ اس (مشتری) کے پاس پایا جو دیوالیہ ہوگیا ہے، اور بائع کو ابھی تک اس کی قیمت میں سے کچھ نہیں ملا تھا، تو وہ سامان بائع کو ملے گا، اور اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ لے چکا ہے تو وہ دیگر قرض خواہوں کے مانند ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Any man who sells a product, then he finds the exact product with the man who has become bankrupt, and he has not taken any of its price, it belongs to him, but if he had taken any of its price, then he is like any other creditor."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کو بیچ کر قرض خواہوں کا قرضہ حصے کے طور پر اس سے ١ دا کریں گے، بائع کو بھی اپنے حصہ کے موافق ملے گا، حدیث سے یہ نکلا کہ اگر مشتری نے اسباب میں کچھ تصرف کیا ہو یعنی اس حال پر باقی نہ رہا جو بائع کے وقت پر تھا تب بھی وہ بائع کو نہ ملے گا بلکہ اس کو بیچ کر سب قرض خواہوں کو حصہ ادا کریں گے، بائع بھی اپنے حصہ کے موافق لے گا۔
ابن خلدہ زرقی (وہ مدینہ کے قاضی تھے) کہتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے سلسلے میں جس کا دیوالیہ ہوگیا تھا ابوہریرہ ؓ کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ایسے ہی شخص کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا تھا: جو شخص مرجائے یا جس کا دیوالیہ ہوجائے، تو سامان کا مالک ہی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے، جب وہ اس کو بعینہ اس کے پاس پائے ۔
It was narrated that Ibn Khaldah, who was a judge in Al- Madinah, said: We came to Abu Hurairah (RA) and asked him about a companion of ours who had become bankrupt. He said: "This is what the Prophet ﷺ ruled: ‘Any man who dies or becomes bankrupt, the owner of the product has more right to it, if he finds the exact thing.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٦ (٣٥٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٩) (ضعیف) (سند میں ابو المعتمر بن عمرو بن رافع مجہول ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مرجائے، اور اس کے پاس کسی کا مال بعینہ موجود ہو، خواہ اس کی قیمت سے کچھ وصول کیا ہو یا نہیں، وہ ہر حال میں دوسرے قرض خواہوں کے مانند ہوگا۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Any man who dies and has the property of another man, whether he paid something towards it or not, (the owner of those goods) is like any other creditor."
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے زمانہ والے، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی ١ ؎۔
Abdullah bin Masud said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked, Which of the people are best? He said: My generation, then those that follow them, then those that follow them. Then there will come people whose testimony precedes their oath and whose oath precedes their testimony.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا، اس خطبہ میں انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمارے بیچ کھڑے ہوئے جیسے میں تمہارے بیچ کھڑا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی شان کے سلسلے میں میرا خیال رکھو پھر ان لوگوں کی شان کے سلسلے میں جو ان کے بعد ہوں، پھر جو ان کے بعد ہوں، پھر جھوٹ عام ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک شخص گواہی دے گا اور کوئی اس سے گواہی نہ چاہے گا، اور قسم کھائے گا اور کوئی اس سے قسم نہ چاہے گا ١ ؎۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "Umar bin Khattab addressed us at Jabiyah and said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up among us as I stand among you, and said: Honor my Companions for my sake, then those who come after them, then those who come after them. Then lying will prevail until a man will give testimony without being asked to do so, and he will swear an oath without being asked to do so
Notes · وضاحت
١ ؎: مقام جابیہ شام کی ایک بستی کا نام ہے۔ میرا خیال رکھو یعنی کم از کم میری رعایت کرتے ہوئے انہیں کوئی ایذا نہ پہنچاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٤١٨، ومصباح الزجاجة: ٨٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦) (صحیح) (سند میں عبد الملک بن عمیر مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، الصحیحة: ٤٣١ ، ١١١٦ )
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بہتر گواہ وہ ہے جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دیدے ١ ؎۔
Zaid bin Khalid Al-juhani said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The best of witnesses is the one who gives his testimony before he is asked for it."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گواہ نہ ہونے کے سبب جب کسی مسلمان کا حق مارا جا رہا ہو، یا اس کے مال یا جان کو نقصان لاحق ہو رہا ہو، تو ایسی صورت میں بغیر بلائے قاضی کے پاس جا کر گواہی دے دے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے آیت کریمہ: يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى کی تلاوت کی، یہاں تک کہ فإن أمن بعضکم بعضا یعنی اے ایمان والو! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور لکھنے والے کو چاہیئے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے، کاتب کو چاہیئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے، پس اسے بھی لکھ دینا چاہیئے اور جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے، اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں، ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے، اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرلو، تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے، اور گواہوں کو چاہیئے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں، خریدو فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کرلیا کرو، اور (یاد رکھو کہ) نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور اگر تم یہ کرو گے تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو، ہاں اگر آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جیسے امانت دی گئی ہے وہ اسے ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے، اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وہ گنہگار دل والا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (سورۃ البقرہ: ٢٨٢ ، ٢٨٣ ) تک پہنچے تو فرمایا: اس آیت نے اس پہلی والی آیت کو منسوخ کردیا ہے۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri recited this Verse: "O you who believe! When you contract a debt for a fixed period ..." until: "then if one of you entrusts the other." Then he said: "This abrogates what came before”.
Notes · وضاحت
١ ؎: اور بعض علماء نے کہا کہ سابقہ آیت منسوخ نہیں ہے اس لئے کہ وہ استحبابی حکم تھا، واجب نہ تھا اور مستحب یہی ہے کہ جب قرض لیا جائے تو اس کو لکھیں اور گواہ بنالیں کیونکہ زندگی کا اعتبار نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ دائن (قرض خواہ) یا مدیون (مقروض) مرجائے اور ان کے وارثوں میں جھگڑا ہو یا مدیون کے ذمہ قرض رہ جائے اس کے وارث ادا نہ کریں تو عاقبت کا مواخذہ رہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ خائن مرد کی گواہی جائز ہے اور نہ خائن عورت کی، اور نہ اس کی جس پر اسلام میں حد نافذ ہوئی ہو، اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ و عداوت رکھے ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib from his father that his grandfather said that the Messenger of Allah ﷺ said: "The testimony of a man or woman who is treacherous, or of one who has been subjected to one of the Hadd punishments of Islam, or of one who bears a grudge against his brother, is not permissible."
Notes · وضاحت
١ ؎: جس سے وہ کینہ رکھتا ہو اس کی گواہی جائز نہیں ہے، البتہ اگر اس کے فائدہ کے لئے گواہی دے تو قبول ہوگی، اہل حدیث کے نزدیک اس شخص کی شہادت جو عادل نہ ہو مقبول نہیں ہے، اس لئے کہ قرآن میں ہے: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ (سورة الطلاق:2)، اور اپنے میں سے دو عادل کو گواہ کرلو غرض یہ کہ شہادت میں ضروری ہے کہ شاہد مسلمان ہو، آزاد ہو، مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو، عادل ہو، صاحب مروت ہو متہم نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٤)، ومصباح الزجاجة: ٨٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١، ٢٠٣، ٢٠٨) (حسن) (سند میں حجاج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن ترمذی میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٦٦٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بدوی (دیہات میں رہنے والے) کی گواہی شہری (بستی میں رہنے والے) کے خلاف جائز نہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The testimony of a Bedouin against a town-dweller is not permissible."
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ اور (مدعی کی) قسم سے فیصلہ فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ passed judgment on the basis of an oath (from the claimant) along with a (single) witness. [This is in the absence of two witnesses.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو اس سے دوسرے گواہ کی جگہ قسم کو قبول کرلیا جائے گا، جمہور کا یہی مذہب ہے، ان کا کہنا ہے کہ مالی معاملات میں ایک گواہ اور ایک قسم جائز ہے البتہ غیر مالی معاملات میں دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک مالی معاملات ہوں یا غیر مالی معاملات دونوں صورتوں میں دو گواہوں کا ہونا لازمی ہے، اس باب کی ساری احادیث ان کے خلاف حجت ہیں ان کا استدلال: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ (سورة الطلاق:2) اور وَاسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ من رِّجَالِكُمْ (سورة البقرة: 282) سے ہے لیکن ان کا استدلال کامل نہیں بالخصوص جبکہ وہ مفہوم مخالف کے قائل نہیں (تفصیل کے لیے دیکھئے اعلام الموقعین ج ١ ص ٣٢ ، ٢٨ )۔
سرق (ابن اسد جہنی) ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مدعی کی قسم کے ساتھ ایک شخص کی گواہی کو جائز رکھا ١ ؎۔
It was narrated from Surraq that the Prophet ﷺ allowed the testimony of a man along with the oath of the claimant.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن الجوزی نے التحقیق میں کہا کہ اس حدیث کے راوی بیس صحابہ کرام ؓ سے زیادہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ فرمایا اور جمہور صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے کہ مدعی سے قسم لی جائے، اگر وہ قسم کھالے تو اس کا دعوی ثابت ہوگیا، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اب مدعی علیہ سے قسم لیں گے، اگر اس نے قسم کھالی تو مدعی کا دعوی ساقط ہوگیا، اور اگر انکار کیا تو مدعی کا دعوی ثابت ہوگیا، اور پھر مدعی کا حق مدعی علیہ سے دلوایا جائے گا، الا یہ کہ وہ معاف کر دے، مگر یہ امر اموال کے دعوی میں ہوگا (یعنی ایک شاہد اور قسم پر فیصلہ) جب کہ حدود، نکاح، طلاق، عتاق، سرقہ اور قذف وغیرہ میں دو گواہ ضروری ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٢، ومصباح الزجاجة: ٨٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢١) (صحیح) (سند میں مصری تابعی مبہم راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
خریم بن فاتک اسدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز فجر پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا، پھر آیت کریمہ: واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشرکين به جھوٹ بولنے سے بچو، اللہ کے لیے سیدھے چلو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو (سورة الحج: ٣٠ -٣١) کی تلاوت فرمائی۔
It was narrated that Khuraim bin Fatik Al-Asadi said that the, Prophet ﷺ prayed the Morning prayer, and when he had finished, he stood up and said: "Bearing false witness is equivalent to associating others with Allah," three times. Then he recited this Verse: And shun lying speech (false statements), Hunafa Lillah (i.e., worshiping none but Allah), not associating partners (in worship) to Him."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١٥ (٣٥٩٩)، سنن الترمذی/الشہادات ٣ (٢٣١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٥) (ضعیف) (سند میں سفیان کے والد زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں مجہول ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھوٹی گواہی دینے والے کے پاؤں (قیامت کے دن) نہیں ٹلیں گے، جب تک اللہ اس کے لیے جہنم کو واجب نہ کر دے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: The one who bears false witness will not move away (on the Day of Resurrection) until Allah condemns him to Hell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤١٧، ومصباح الزجاجة: ٨٣٢، ومصباح الزجاجة: ٨٣٢) (موضوع) (محمد بن الفرات کی امام احمد نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٥٩ )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، اور عرض کیا: میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز نعمان کو دے دی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسی ہی چیزیں دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تب میرے علاوہ کسی اور کو اس پر گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تمہارے سارے بیٹے تم سے نیک سلوک کرنے میں برابر ہوں ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تب ایسا مت کرو ۔
It was narrated that Numan bin Bashir said that his father took him to the Prophet ﷺ and said: "Bear witness that I have given Numan such and such from my wealth." He said: "Have you given all your children something like that which you have given to Numan?" He said: "No." He said: "Then let someone other than me bear witness to that." And he said: "Would you not like all your children to honor you equally?" He said: "Of course." He said: "Then do not do this."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اولاد کو عطیہ دینے میں سب کا حصہ برابر کا ہوگا، کم زیادہ ہو تو ہبہ باطل ہے مگر جمہور نے اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ سب کو برابر دینا مندوب ہے، عطیہ وہبہ میں کسی کو زیادہ دینے سے ہبہ باطل نہیں ہوتا لیکن ایک روایت میں آپ ﷺ نے اسے ظلم کہا ہے اور نعمان کے والد بشیر سے آپ کا یہ فرمانا فاردده اسے واپس لے لو اس بات کی تائید کر رہا ہے کہ اولاد کے ساتھ عطیہ میں برابر کا سلوک واجب ہے، یہی احمد، سفیان ثوری اور اسحاق ابن راہویہ وغیرہ کا مذہب ہے۔
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام دیا، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسے ہی دیا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تب اس کو واپس لے لو ۔
It was narrated from Numan bin Bashir that his father gave him a gift of a slave, and he came to the Prophet ﷺ so that he could witness the gift. He said: "Have you given something to all of your children?" He said: "No." He said: "Then take back (your gift)."
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کسی کو عطیہ دے کر واپس لے سوائے باپ کے جو اپنی اولاد کو دے ۔
It was narrated from Ibn Abbas and Ibn Umar, who attributed the Hadith to the Prophet, that he said: "It is not permissible for a man to give a gift then take it back, except what a father gives to his child."