Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 118 of 218

2338Sunan Ibne-Majah

راستہ کی مقدار میں اختلاف ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الضُّبَعِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راستہ کو سات ہاتھ رکھو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Make the path seven forearms length wide.”

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہاں ہے جہاں ایک جگہ پر کئی لوگ رہتے ہوں اور راستہ کی لمبائی چوڑائی پہلے سے معلوم نہ ہو۔ اب اس میں جھگڑا کریں تو سات ہاتھ کے برابر راستہ چھوڑ دینا چاہیے، لیکن جو راستے پہلے سے بنے ہوئے ہیں اور ان کی لمبائی چوڑائی معلوم ہے، ان میں کسی کو تصرف کرنے مثلاً عمارت بنانے اور راستہ کی زمین تنگ کردینے کا اختیار نہیں ہے، اور سات ہاتھ کا راستہ ضرورت کے لئے کافی ہے، نبی کریم ﷺ کے عہد میں صرف آدمی، گھوڑے اور اونٹ راستوں پر چلتے تھے، ان کے لئے اتنا لمبا چوڑا راستہ کافی تھا، لیکن عام راستے جہاں آمد و رفت عام ہو اور گاڑیاں اور بگھیاں بہت چلتی ہوں وہاں اگر یہ لمبائی اور چوڑائی تنگ ہو تو حاکم کو اختیار ہے جتنا راستہ ضروری معلوم ہو اس کی تحدید کر دے۔
Takhrij · تخریج
دالأقضیة ٣١ (٣٦٣٣)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٠ (١٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٢٩ (٢٤٧٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٣١ (١٦١٣)، مسند احمد (٢/٤٦٦، ٤٧٤) (صحیح )
2339Sunan Ibne-Majah

راستہ کی مقدار میں اختلاف ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you dispute concerning a path, make it seven forearms length wide.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٢٨، ومصباح الزجاجة: ٨٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٣٠٣، ٣١٧) (صحیح )
2340Sunan Ibne-Majah

اپنے حصہ میں ایسی چیز بنانا جس سے ہمسایہ کا نقصان ہو

حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَاإِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ١ ؎۔

It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ ruled: "There should be neither harming nor reciprocating harm."

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً پڑوسی کے مکان کی طرف ایک نئی کھڑکی یا روشندان کھولے، یا پرنالہ یا نالی نکالے یا ایک پاخانہ گھر بنائے، ان امور میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی کو اس سے نقصان ہوتا ہو تو یہ تصرف صحیح نہ ہوگا، ورنہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٥، ومصباح الزجاجة: ٨٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٢٦، ٣٢٧) (صحیح) (سند میں اسحاق مجہول الحال راوی ہے، اور اسحاق اور عبادہ ؓ کے مابین انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٥٠ و الإرواء: ٨٩٦ ، و غایة المرام ٦٨ )
2341Sunan Ibne-Majah

اپنے حصہ میں ایسی چیز بنانا جس سے ہمسایہ کا نقصان ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There should be neither harming nor reciprocating harm."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠١٦، ومصباح الزجاجة: ٨٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح) (اس سند میں جابر جعفی ضعیف روای ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
2342Sunan Ibne-Majah

اپنے حصہ میں ایسی چیز بنانا جس سے ہمسایہ کا نقصان ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْأَبِي صِرْمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ.

ابوصرمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا ۔

It was narrated from Abu Sirmah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever harms others, Allah will harm him; and whoever causes hardship to others Allah will cause hardship to him."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٣١ (٣٦٣٥)، سنن الترمذی/البروالصلة ٢٧ (١٩٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٣) (حسن )
2343Sunan Ibne-Majah

دو مرد ایک جھونپڑی کے دعویدار

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ، عَنْنِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ فَقَالَ: أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ.

جاریہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، تو آپ ﷺ نے حذیفہ ؓ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا ۔

It was narrated from Nimran bin Jariyah, from his father, that some people referred a dispute to the Prophet ﷺ about a hut, so that he could judge between them. He sent Hudhaifah to judge between them, and he ruled in favor of those who had the rope (with which the hut was binded together). When he went back to the Prophet ﷺ he told him (what he had done) and he said: "You did the right thing, and you did well."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٣١٨١، ومصباح الزجاجة: ٨٢٣) (ضعیف جدا) (سند میں نمران بن جاریہ مجہول الحال، اور دھشم بن قران متروک راوی ہیں )
2344Sunan Ibne-Majah

قبضہ کی شرط لگانا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِبْطَالُ الْخَلَاصِ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہوگا جس نے پہلے خریدا ١ ؎۔ ابوالولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے۔

It was narrated from (Uqbah bin Amir or) Samurah bin Jundub that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a product is sold to two men, it is for the one who was first.” (One of the narrators) Abu Al- Walid said: "This Hadith shows that Khalas is invalid."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر دوسرے خریدار نے اپنے بائع سے یہ شرط لگائی تھی کہ جس طرح تم سے ہو سکے یہ مال چھڑا کر مجھ کو دینا تو یہ شرط مفید نہ ہوگی اور بائع پہلے خریدار سے اس کے چھڑانے پر مجبور نہ کیا جائے گا، مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید کے پاس ایک گھوڑا تھا، زید نے اس کو عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، اس کے بعد زید کے وکیل (ایجنٹ) نے اس کو بکر کے ہاتھ بیچ دیا اور بکر نے وکیل سے شرط لگائی کہ اس گھوڑے کو چھڑا کر میرے حوالہ کرنا تمہارے ذمہ ہے، اس نے قبول کیا جب بھی وہ گھوڑا عمرو ہی کو ملے گا کیونکہ اس کی بیع پہلی تھی اور بکر کی بیع دوبارہ صحیح نہیں ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٢، ٩٩١٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ٢٠ (١١١٠)، سنن النسائی/البیوع ٩٤ (٤٦٨٦)، مسند احمد (٥/٨، ١١، ١٢، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٥ (٢٢٣٩) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ ؓ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے )
2345Sunan Ibne-Majah

قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کردیا، رسول اللہ ﷺ نے ان کے حصے کئے (دو دو کے تین حصے) (اور قرعہ اندازی کر کے) دو کو (جن کے نام قرعہ نکلا) آزاد کردیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ١ ؎۔

It was narrated from Imran bin Husain that a man had six slaves, and he did not have any other wealth apart from them, and he set them free when he died. The Messenger of Allah ﷺ divided them into groups, set two free and left four as slaves.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب آدمی بیمار ہو تو اس کو چاہیے کہ وارثوں کا خیال رکھے، اور اپنی ساری دولت تقسیم نہ کر دے، اگر ایسا ہی ضروری ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں دے دے، اور دو تہائی دولت وارثوں کے لئے چھوڑ دے، اگر ساری دولت کے صدقہ کی وہ وصیت کرے تو یہ وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا، دو غلاموں کو قرعہ ڈال کر آزاد کرایا، اور قرعہ اس واسطے ڈالا کہ وہ جھگڑا نہ کریں، اور وہ وارثوں کی ملکیت میں بدستور غلام رہے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے حق میں سخت کلمہ کہا کیونکہ اس نے وارثوں کا خیال نہیں رکھا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٦٨)، سنن ابی داود/الحدود ٢٥ (٣٩٥٨، ٣٩٥٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٧ (١٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز ٦٥ (١٩٦٠)، مسند احمد (٤/٤٢٠، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٤٠) (صحیح )
2346Sunan Ibne-Majah

قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ ﷺ نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that two men disputed concerning a transaction, and neither of them had proof. The Messenger of Allah ﷺ commanded them to draw lots as to which of them should swear an oath, whether they liked it or not.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٢ (٣٦١٦) وأنظر حدیث رقم: (٢٣٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٨٩، ٥٢٤) (صحیح )
2347Sunan Ibne-Majah

قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that when the Prophet ﷺ traveled he would cast lots among his wives (to decide which one would accompany him).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ١٥ (٢٥٩٣)، المغازي ٣٤ (٤١٤١)، النکاح ٩٧ (٥٠٩٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٥)، التوبة ١٠ (٢٤٤٥)، سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥١، ١٩٧، ٢٦٩)، سنن الدارمی/النکاح ٢٦ (٢٢٤٥)، الجہاد ٣١ (٢٤٦٧)، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ١٩٧٠) (صحیح )
2348Sunan Ibne-Majah

قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ؓ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کردی، اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہوگئے ١ ؎۔

It was narrated that Zaid bin Arqam said: "A case was brought to Ali bin Abu Talib when he was in Yemen, concerning three men who had had intercourse with a woman during one period of being free from menses. He asked two of them: "Do you affirm that this child belongs to (the third man)?" And they said: "No." He asked another two of them: "Do you affirm that this child belongs to (the third man)?" And they said: "No." Every time he asked two of them whether they affirmed that the child belonged to the third, they would say no. So he cast lots between them, and attributed the child to the one whose name was chosen in this manner, and obliged him to pay two thirds of the Diyah. The Prophet ﷺ was told of this, and he smiled so broadly that his back teeth became visible.

Notes · وضاحت
١ ؎: ہنسی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فیصلہ عجیب طور کا تھا، اور دو تہائی دیت کی اس سے اس لئے دلوائی کہ دعوی کے مطابق اس لڑکے میں تینوں شریک تھے، اب قرعہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے کیا، نہ نسب ثابت کرنے کے لئے، تو اس شخص کو بچہ کا دو تہائی کا بدلہ دوسرے دعویداروں کو دینا پڑا اور یہ علی ؓ کی اپنی رائے تھی، لیکن ابوداود نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسی صورت میں یہ حکم فرمایا: وہ بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا، اور کسی سے اس کا نسب ثابت نہ ہوگا، نہ وہ ان دعویداروں میں سے کسی مرد کا وارث ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٣٢ (٢٢٧٠)، سنن النسائی/الطلاق ٥٠ (٣٥١٨)، (تحفة الأشراف: ٣٦٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٣، ٤٧٤) (صحیح )
2349Sunan Ibne-Majah

قیافہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ came in one day looking happy, and said: O Aisha (RA) , did you not see that Mujazziz Al- Mudliji entered upon me and saw Usamah and Zaid. There was a blanket over them and their faces were covered but their feet were exposed, and he said: These feet belong to one another.

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی کریم ﷺ کے متبنی زید بن حارثہ ؓ گورے رنگ کے تھے، اور ان کے بیٹے اسامہ سانولے رنگ کے تھے، منافقوں نے یہ طوفان اٹھایا کہ اسامہ زید کے بیٹے نہیں ہیں، اس سے نبی کریم ﷺ کو بڑا رنج ہوا، جب قیافہ شناس نے دونوں کے پاؤں دیکھ کر ایک طرح کے بتلائے تو مزید اطمینان ہوا کہ اسامہ زید ہی کے بیٹے ہیں، ہرچند پہلے بھی اس کا یقین تھا مگر قیافہ شناس کے کہنے پر اور زیادہ یقین ہوا، منافقوں کا منہ بند ہوا اور نبی کریم ﷺ کو خوشی حاصل ہوئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٣٥٥)، فضائل الصحابہ ١٧ (٣٧٣١)، الفرائض ٣١ (٦٧٧١)، صحیح مسلم/الرضاع ١١ (١٤٥٩)، سنن ابی داود/الطلاق ٣١ (٢٢٦٧)، سنن الترمذی/الولاء ٥ (٢١٢٩)، سنن النسائی/الطلاق ٥١ (٣٤٢٣، ٣٥٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٢، ٢٢٦) (صحیح )
2350Sunan Ibne-Majah

قیافہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ، قَالَ: فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کر کہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب (ابراہیم علیہ السلام) سے زیادہ مشابہ ہے؟، وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا (تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو نبوت عطا کی۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Quraish went to a Sorceress and they said to her: "Tell us whose footprints most resemble those of the owner of Al- Maqam (the station of Ibrahim)." She said: "If you spread a piece of cloth over this soft earth and walk Over it, I will tell you." So they spread out a piece of cloth and the people walked over it. She saw the footprints of the Messenger of Allah ﷺ and said: "This one most closely resembles him among you." After that twenty years passed, or as long as Allah willed, then Allah sent Muhammad (i.e., missioned him as the Prophet).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفة الأشراف: ٦١٣٠، ومصباح الزجاجة: ٨٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٣٢) (منکر ضعیف) ط (سماک بن حرب کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے )
2351Sunan Ibne-Majah

بچہ کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس چاہے رہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَقَالَ: يَا غُلَامُ هَذِهِ أُمُّكَ وَهَذَا أَبُوكَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا: بچے! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ gave a child the choice between his father and his mother (i.e., which parent to live with). He said: "O boy, this is your mother and this is your father."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تو جس کے ساتھ چاہے جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٣٥ (٢٢٧٧)، سنن الترمذی/الأحکام ٢١ (١٣٥٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥ (٣٥٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٧)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٩) (صحیح )
2352Sunan Ibne-Majah

بچہ کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس چاہے رہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالْآخَرُ مُسْلِمٌ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِهِ. فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ.

رافع بن سنان ؓ کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم ﷺ نے ان (رافع) کو اختیار دیا (کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جاسکتے ہیں) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ہدایت دے ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے اسی (مسلمان) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔

It was narrated from Abdul-Hamid bin Salamah, from his father, from his grandfather, that his parents referred their dispute to the Prophet, and one of them was a disbeliever while the other a Muslim. He gave him the choice and he turned towards the disbeliever. He (the Prophet) said: "O Allah, guide him," and he turned towards the Muslim, and he ruled that he should go with that parent.

Takhrij · تخریج
حدیث عبد الحمید بن سلمة عن أبیہ عن جدہ، علی أن إسم أبویہ لایعرفان تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشرا ف: ١٥٥٨٦، مصباح الزجاجة: ٨٥٢)، وحدیث عبد الحمید بن سملة عن جدہ رافع بن سنان أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ٢٦ (٢٢٤٤)، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٤) (صحیح) (سند میں عبدالحمید بن سلمہ عن أبیہ عن جدہ تینوں مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٤١ ١٩ )
2353Sunan Ibne-Majah

صلح کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا.

عمرو بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ١ ؎۔

Kathir bin Abdullah bin Amr bin Awf narrated from his father that his grandfather said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خلاف شرع صلح جائز نہیں، باقی جس میں شرع کی مخالفت نہ ہو وہ صلح ہر طرح سے جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ١٧ (١٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٥) (صحیح )
2354Sunan Ibne-Majah

اپنا مال برباد کرنے والے پر پابندی لگانا

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَال: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلَا خِلَابَةَ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خریدو فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے، نبی اکرم ﷺ نے اس کو بلایا، اور اس کو خریدو فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ خریدو فروخت نہ کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا جب خریدو فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that there was a man at the time of the Messenger of Allah ﷺ whose mental faculties were lacking, and he used to buy and sell. His family came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, stop him." So the Prophet ﷺ called him, and told him not to do that. He said: "O Messenger of Allah, I cannot bear to be away from business," He said, "If you engage in a transaction, then say: Take it (i.e. the goods) and dont cheat (me).”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مجھ کو دھوکہ مت دو، اگر فریب ثابت ہوگا تو معاملہ فسخ کرنے کا مجھ کو اختیار ہوگا، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مجھ کو تین دن تک اختیار ہے (طبرانی اور بیہقی)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٦٨ (٣٥٠١)، سنن الترمذی/البیوع ٢٨ (١٢٥٠)، سنن النسائی/البیوع ١٠ (٤٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٧) (صحیح )
2355Sunan Ibne-Majah

اپنا مال برباد کرنے والے پر پابندی لگانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ، قَالَ: هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ، وَكَانَ لَا يَدَعُ عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ، وَكَانَ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ: إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا.

محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے، بالآخر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو: دھوکا دھڑی نہیں چلے گی، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہوگا، اگر تمہیں پسند ہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو ١ ؎۔

It was narrated that Muhammad bin Yahya bin Habban said: "My grandfather was Munqidh bin Amr. He was a man who had suffered a head wound and lost the power of speech, but that did not stop him from engaging in trade. He was always being cheated, so he went to the Prophet ﷺ and told him about that. He said to him: When you buy something, say: "There should be no intention of cheating," and for every product you buy, you have the choice for three nights. If you are pleased with it, keep it, and if you are displeased then return it.

Notes · وضاحت
١ ؎: پس یہ اختیار خاص کر کے آپ ﷺ نے منقذ کو دیا تھا، اگر کسی کے عقل میں فتور ہو تو حاکم ایسا اختیار دے سکتا ہے، نیز مسرف اور بیوقوف پر حجر کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٤٢٨، ومصباح الزجاجة: ٨٢٦) (حسن) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، کما تقدم، تراجع الألبانی: رقم: ١٠٢ )
2356Sunan Ibne-Majah

جس کے پاس مال نہ رہے اسے مفلس قرار دینا اور قرض خواہوں کی خاطر اس کا مال فروخت کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْعِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَيَعْنِي الْغُرَمَاءَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک شخص کو اس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اسے صدقہ دو چناچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہوسکا، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مل گیا وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ہے یعنی قرض خواہوں کے لیے۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ a man suffered loss of some fruit that he had purchased, and his debts increased. The Messenger of Allah ﷺ said: Give him charity. So the people gave him charity, but that was not enough to pay off his debts. The Messenger of Allah ﷺ said: Take what you find, but you have no right to more than that, meaning his creditors."

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اب وہ مفلس ہوگیا تو قرض خواہوں کو اس سے زیادہ کچھ نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس جو مال ہو وہ لے لیں، مگر مکان رہنے کا اور ضروری کپڑا اور سردی کا کپڑا، اور سد رمق کے موافق خوراک اس کی اور اس کے گھر والوں کی یہ چیزیں قرض میں نہیں لی جائیں گی۔ (الروضۃ الندیۃ)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٤ (١٥٥٦)، سنن ابی داود/البیوع ٦٠ (٣٤٦٩)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٤ (٦٥٥)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣٤)، ٩٣ (٤٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦، ٥٦، ٥٨) (صحیح )
2357Sunan Ibne-Majah

جس کے پاس مال نہ رہے اسے مفلس قرار دینا اور قرض خواہوں کی خاطر اس کا مال فروخت کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ سَلَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ مِنْ غُرَمَائِهِ ثُمَّ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْيَمَنِ فَقَالَ مُعَاذٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَصَنِي بِمَالِي ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو ان کے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، اور پھر آپ ﷺ نے انہیں یمن کا عامل بنادیا، معاذ ؓ نے کہا: دیکھو! رسول اللہ ﷺ نے میرے مال کے ذریعہ مجھے میرے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، پھر مجھے آپ ﷺ نے عامل بھی بنادیا۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ rid Muadh bin Jabal of his creditors, then he appointed him governor of Yemen. Muadh said: "The Messenger of Allah ﷺ settled my debts with my creditors using what wealth I had, then he appointed me as governor."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٦٨، ومصباح الزجاجة: ٨٢٧) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن مسلم بن ہرمز ضعیف اور سلمہ المکی مجہول الحال ہیں )