ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہوسکتا ہے تم میں کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی ٹکڑا کاٹوں تو گویا میں اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I am only human, and some of you may be more eloquent in presenting your case than others. If I pass a judgment in his favor that detracts from his brothers rights, I am giving him a piece of fire."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٥، ومصباح الزجاجة: ٨١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٢، ٦/٣٠٧) (حسن صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے ۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever claims something that does not belong to him; he is not one of us, so let him take his place in Hell."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٥ (٣٥٠٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٧ (٦١)، مسند احمد (٥/١٦٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ (اس سے) باز آجائے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever takes the wrongdoers side in a dispute or supports wrongdoing, he will remain subject to the wrath of Allah until he gives it up."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کام سے توبہ کرلے اور اس کو چھوڑ دے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١٤ (٣٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٥) (صحیح) (سند میں مطر الوارق ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧ / ٣٥٠ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٤٣٧ ، ١٠٢١ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا (ناحق) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the people were given what they claimed, some would have claimed the lives and property of men. But the one the claim is made against is obliged to swear an oath.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہو اور مدعی علیہ قسم کھالے تو وہ دعویٰ سے بری ہوگیا، اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو تو وہ دعویٰ کے مطابق مدعی کا حق ادا کرے۔
اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصہ کا انکار کردیا، تو میں اس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا: تب تو وہ قسم کھالے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا (سورة آل عمران: 77) جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا ۔
It was narrated that Ashath bin Qais said: "There was a dispute between myself and a Jewish man concerning some land, and he denied me my rights so I brought him to the Prophet. The Messenger of Allah ﷺ said to me: Do you have proof? I said: No: He said to the Jews, Swear an oath: I said: If he swears an oath he will take my property: Then Allah, Glorious is He, revealed: Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allahs covenant and their oaths, they shall have no portion in the Hereafter (Paradise). Neither will Allah speak to them nor look at them on the Day of Resurrection nor will He purify them, and they shall have a painful torment. "
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرلے، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا ۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever swears a false oath in order to seize the wealth of a Muslim unlawfully, he will meet Allah when He is angry with him."
ابوامامہ حارثی ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو ۔
Abu Umamah Al-Harithi narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No man seizes the wealth of a Muslim unlawfully by means of his (false) oath, but Allah will deny Paradise to him and will doom him to Hell." A man among the people said: "O Messenger of Allah, even if it is something small?" He said: "Even if it is a twig of an Ardk tree."
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٧)، سنن النسائی/آداب القضاة ٢٩ (٥٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٠) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لیے ہو ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever swears a false oath near this pulpit of mine, let him take his place in Hell, even if it is for a green twig."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم متبرک مقام میں کھانا اور زیادہ سخت گناہ ہے، اگرچہ ہر جگہ جھوٹی قسم کھانا خود ایک سخت گناہ ہے، بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مدعی کو اختیار ہے جہاں پر چاہے اور جن الفاظ سے چاہے مدعی علیہ سے قسم لے سکتا ہے، اور بعضوں نے کہا: صرف عدالت میں قسم ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھانا کافی ہے، اس سے زیادہ کے لئے مدعی جبر نہیں کرسکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٣ (٢٣٤٦)، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٨ (١٠)، مسند احمد (٣/٣٤٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہوجاتی ہے ۔
Muhammad bin Yahya who is Abu Yunus Al-Qawi, said: I heard Abu Salamah say: I heard Abu Hurairah (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ said: No man or woman swears a false oath beside this pulpit, even if it is for a fresh twig, but he will be doomed to Hell."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٩، ومصباح الزجاجة: ٨١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥١٨) (صحیح )
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی عالم کو بلایا، اور فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری ١ ؎۔
It was narrated from Bara’ bin ‘ Azib (RA) that the Messenger of Allah ﷺ called one of the Jewish scholars and said: "Swear by the One Who sent the Torah (Tawrah) down to Musa."
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا کہنے سے یہودی کے دل پر زیادہ اثر ہوتا ہے، اور نصرانی سے یوں کہیں گے قسم کھا اس اللہ کی جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اتاری۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو یہودیوں سے فرمایا: میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said to two Jews: wear by Allah Who sent the Tawrah down to Musa, peace be upon him."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٦ (٤٤٥٢، ٤٤٥٣، ٤٤٥٤ مختصراً )، (تحفة الأشراف: ٢٣٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that he said that two men laid claim to an animal, and neither of them had any proof, so the Prophet ﷺ commanded them to cast lots as to which of them should swear an oath.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ جانور ایک تیسرے شخص کے پاس ہو اور دو شخص اس کا دعوی کریں، اور تیسرا شخص کہے کہ میں اصل مالک کو نہیں پہچانتا، علی ؓ کا یہی قول ہے، اور شافعی کے نزدیک وہ جانور تیسرے کے پاس رہے گا، اور ابوحنیفہ کے نزدیک دونوں دعوے داروں کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، اسی طرح اگر دو شخص ایک چیز کا دعوی کریں، اور دونوں گواہ پیش کریں اور کوئی ترجیح کی وجہ نہ ہو تو اس چیز کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، (ابوداود، حاکم، بیہقی)۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا (جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔
It was narrated from Abu Musa that two men referred a dispute to the Messenger of Allah ﷺ concerning an animal, and neither of them had proof, so he ruled that it should be divided in half.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٢ (٣٦١٣، ٣٦١٤، ٣٦١٥)، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٤ (٥٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٨)، مسند احمد (٤/٤٠٣) (ضعیف) (قتادہ سے مروی ان احادیث میں روایت ابوموسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة نے اسے سعید بن ابی بردہ عن أبیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے سماک بن حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے، ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف: ٩٠٨٨ و الإرواء: ٢٦٥٦ )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہوجائے، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے ١ ؎۔
It was narrated from Samurah bin Jundub that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a man loses something, or it is stolen from him, and he finds it in the possession of a man who bought it, then he has more right to it, and the one who bought it should ask for his money back from the one who sold it to him."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصل مالک جس کا مال چوری ہوگیا تھا، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٤٦٢٩، ومصباح الزجاجة: ٨١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣، ١٨) (ضعیف) (حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
ابن محیصہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ براء ؓ کی ایک اونٹنی کو لوگوں کا کھیت چرنے کی عادی تھی، وہ لوگوں کے باغ میں چلی گئی، اور اسے نقصان پہنچا دیا، رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ دن کو اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری مال والوں کی ہے، اور رات کو جانور جو نقصان پہنچا جائیں اسے جانوروں کے مالکوں کو دینا ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Shihab that lbn Muhayyisah Al- Ansari told him that a she-camel belonging to Bara used to wander free. It entered a garden belonging to some people and caused some damage. The Messenger of Allah ﷺ was told of that, and he ruled that property was to be protected by its Owners during the day, but the owners of livestock were responsible for any damage caused by their animals during the night. Another chain from Haram bin Muhayyisah, from Bara bin Azib, that a she-camel belonging to the family of Bara damaged something, and the Messenger of Allah ﷺ issued a similar ruling.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ رات کو جانور والوں کو چاہیے کہ اپنے جانور باندھ کر رکھیں، جب انہوں نے چھوڑ دیا اور کسی کا نقصان کیا تو نقصان ان کو بھرنا پڑے گا۔
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ براء کے گھر والوں کی ایک اونٹنی نے کسی کا نقصان کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ اسی کے برابر واپس لوٹانے کا فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٩٢ (٣٥٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاقضیة ٢٨ ( (٣٧)، مسند احمد (٤/٢٩٥، ٥/٤٣٦) (صحیح )
انظرماقبلہ (صحیح )
قبیلہ بنی سوءۃ کے ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کا حال بیان کیجئیے، تو وہ بولیں: کیا تم قرآن (کی آیت) : وإنک لعلى خلق عظيم یقیناً آپ بڑے اخلاق والے ہیں نہیں پڑھتے؟ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا، اور حفصہ ؓ نے بھی آپ کے لیے کھانا تیار کیا، حفصہ ؓ مجھ سے پہلے کھانا لے آئیں، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: جاؤ ان کے کھانے کا پیالہ الٹ دو، وہ حفصہ ؓ کے پاس آئی، اور جب انہوں نے اپنا پیالہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھنا چاہا، تو اس نے اسے الٹ دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا، اور کھانا بکھر گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس گرے ہوئے کھانے کو اور پیالہ میں جو بچا تھا سب کو دستر خوان پر اکٹھا کیا، اور سب نے اسے کھایا، پھر آپ ﷺ نے میرا پیالہ اٹھایا، اور اسے حفصہ کو دے دیا، اور فرمایا: اپنے برتن کے بدلے میں برتن لے لو ، اور جو کھانا اس میں ہے وہ کھالو، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔
It was narrated that a man from Banu Suwaah said: "I said to Aisha (RA) : Tell me about the character of the Messenger of Allah. She said: Have you not read the Quran: "And verily, you ( O Muhammad ﷺ ) are on an exalted (standard of) character? She said: The Messenger of Allah ﷺ was with his Companions, and I made some food for him, and Hafsah made some food for him, but Hafsah got there before me. So I said to the slave girl: "Overturn her bowl." She went and caught up with her, and she was about to put (the bowl) in front of the Messenger of Allah. She overturned it and the bowl broke, scattering the food. The Messenger of Allah ﷺ gathered the pieces and the food on the leather mat, and they ate. Then he sent for my bowl and gave it to Hafsah, and said: "Take this pot in place of your pot, and eat what is in it" And I did not see any expression of anger on the face of the Messenger of Allah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٣، ومصباح الزجاجة: ٨١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١١) (ضعیف الإسناد) (سند میں رجل من بنی سوء ة مبہم ہے، لیکن ام المومنین عائشہ ؓ سے دوسری روایت نبوی میں اخلاق والا ٹکڑا ثابت ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٢١٣ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ امہات المؤمنین ؓن میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا، پہلی بیوی نے (غصہ سے کھانا لانے والے) کے ہاتھ پر مارا، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، رسول اللہ ﷺ نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے (کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا) ، تم کھانا کھاؤ، لوگوں نے کھایا، پھر جن کے گھر میں آپ ﷺ تھے اپنا پیالہ لائیں، تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کردیا، اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ was with one of the Mothers of the Believers (his wives) and another (wife) sent a bowl containing food. She (the first wife) struck the hand of the Messenger and the bowl fell and broke. The Messenger of Allah ﷺ took the two pieces and put them back together. then he started gathering up the food and putting it in (the bowl). He said: Your mother was jealous. Eat’ So they ate, and she (the wife who broke the bowl) brought the bowl that was in her house and gave the intact bowl to the Messenger, who left the broken bowl in the house of the one who broke it"
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر شہ تیر (دھرن یا کڑی) رکھنے کی اجازت مانگے، تو اس کو منع نہ کرے ، جب ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی تو لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا، یہ دیکھ کر ابوہریرہ رضی اللہ ؓ نے ان سے کہا: کیوں، کیا ہوا؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم اس حدیث سے منہ پھیر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں تو اس کو تمہارے شانوں کے درمیان مار کر رہوں گا ١ ؎۔
It was narrated that, Abdur-Rahman Al-Araj said: "I heard Abu Hurairah (RA) narrating that the Prophet ﷺ said: When anyone of you asks his neighbor for permission to fix a piece of wood to his wall, he should not refuse him. When Abu Hurairah (RA) told them this, they lowered their heads, and when he saw them he said: Why do I see you turning away from it? By Allah, I will force you to accept it."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر وقت تم کو سناؤں گا، یا تمہارے مونڈھوں کے بیچ میں اس حدیث کو لکھ کر لگا دوں گا، تاکہ ہر وقت ہر شخص دیکھے، یا تم اس کو چھپا نہ سکو، یا یہ مطلب ہے کہ تم تو دیوار پر کڑی رکھنے اور لکڑی گاڑ لینے کو گوارہ نہیں کرتے، میں تمہارے کندھوں پر بھی رکھوں گا، بعض روایتوں میں اکنافکم نون سے ہے یعنی تمہارے ہر طرف اس حدیث کو پھیلا دوں گا۔
عکرمہ بن سلمہ کہتے ہیں بلمغیرہ (بنی مغیرہ) کے دو بھائیوں میں سے ایک نے یہ شرط لگائی کہ اگر میری دیوار میں تم دھرن لگاؤ تو میرا غلام آزاد ہے، پھر مجمع بن یزید ؓ اور بہت سے انصار آئے اور کہنے لگے: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (دھرن) گاڑنے سے منع نہ کرے ، یہ سن کر وہ کہنے لگا: میرے بھائی! شریعت کا فیصلہ تمہارے موافق نکلا لیکن چونکہ میں قسم کھاچکا ہوں اس لیے تم میری دیوار کے ساتھ ایک ستون کھڑا کر کے اس پر لکڑی رکھ لو ١ ؎۔
Ikrimah bin Salamah narrated that there were two brothers from among the sons of Mughirah. One of them swore an oath to set a slave free if the other one fixed a piece of wood to his wall. Mujammi bin Yazid and many men from among the Ansar came and said: "We bear witness that the Messenger of Allah ﷺ said: None of you should refuse to let his neighbor fix a piece of wood to his wall" He said: O my brother, judgment has been passed in your favor against me, but I have sworn an oath.’ So go ahead and fix your wood to my wall.”
Notes · وضاحت
١ ؎: بلمغیرة یعنی بني المغیرة اس میں ایک لغت یہ بھی ہے۔ تاکہ تمہارا کام نکل جائے اور میرا نقصان نہ ہو، ورنہ میرا غلام آزاد ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢١٧، ومصباح الزجاجة: ٨٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٩، ٤٨٠) (حسن) (سند میں ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ہشام بن یحییٰ مستور لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور عکرمہ بن سلمہ مجہول ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (دھرن) گاڑنے سے منع نہ کرے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There should be neither harming nor reciprocating harm."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢١١، ومصباح الزجاجة: ٨١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٥) (صحیح) (سند میں ابن لھیعہ ہیں، اور عبد اللہ بن وہب کی ان سے روایت صحیح ہے، نیز ابن وہب کی متابعت بھی موجود ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٩٤٧ )