ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل ؓ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے باغ والے سے کہا: تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا ۔
It was narrated that Abu Bishr Jafar bin Abu Iyas said: "I heard Abbad bin Shurahbil, a man from Banu Chubar, say: We suffered a year of famine, and I came to Al-Madinah. I came to one of its gardens and took an ear of corn, I rubbed it, ate some and put the rest in my garment. The owner of the garden came and beat me and took my garment. I came to the Prophet ﷺ and told him (what had happened). He said to the man: "You did not feed him when he was hungry and you did not teach him when he was ignorant. Then the Prophet ﷺ told him to give back his garment and ordered that a Wasq or half a Wasq of food be brought to him." (Sahih)
رافع بن عمرو غفاری ؓ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: لڑکے! (ابن کا سب کا قول ہے کہ آپ ﷺ نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں (کھجور) کھاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔
It was narrated that Rãfi’ bin ‘Amr Al-Ghifâri said: “When I was a boy, I used to throw stones at our date-palm Trees” — or he said: “the date-palm frees of the Ansdr.” I was brought to the Prophet ﷺ and he said: ‘O boy’ - (one of the narrators) Ibn Kâsib said He said: ‘O my son - why are you throwing stones at the date-palm frees?’ I said: ‘So I can He said: ‘Do not throw stones at the date-palm frees. Eat om what falls to the ground om them.’ Then he patted me on e head and said: ‘O Allah, give him enough to eat.’” (Da’if)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٩٤ (٢٦٢٢)، سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٥) (ضعیف) (سند میں ابن ابی الحکم مستور اور جدتی (دادی) مبہم روایہ ہیں نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٤٥٣ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھالو، البتہ خراب مت کرو ۔
It was narrated from Abu Saeed that the Prophet ﷺ said: "When you come to a shepherd, call him three times. If he answers (all well and good), otherwise drink (milk from the flock) WIthout taking advantage. And when you come to a garden, call the owner of the garden three times. If he answers (all well and good), otherwise eat (from the produce of the garden) without taking advantage." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٣٤٢، ومصباح الزجاجة: ٨٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧، ٢١، ٨٥) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٥٢١ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی باغ سے گزرے تو (پھل) کھائے، اور کپڑے میں نہ باندھے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you passes by a garden, let him eat therefrom, but he should not carry any away in his garment." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: جن احادیث میں مالک کی اجازت کے بغیر دودھ یا پھل لینے کی اجازت ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ منسوخ ہیں، اور ان کی ناسخ وہ احادیث ہیں جن میں مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کا مال لینا حرام ہے، اور بعضوں نے کہا کہ یہ حدیثیں اس حالت پر محمول ہیں کہ جب آدمی بھوک کے مارے بےتاب ہو یعنی مرنے کے قریب ہو، مخمصہ کی حالت ہو تو ایسی حالت میں حرام حلال ہوجاتا ہے، پھر پھل یا دودھ بھی بےاجازت کھا پی لینا جائز ہوگا، لیکن ضروری ہے کہ صرف اتنا لے جس سے جان بچ جائے، اور ضرورت سے زیادہ اس کا مال خراب نہ کرے نہ اپنے ساتھ باندھ کرلے جائے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے، کیا کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی جائے، اور اس کے غلہ کی کوٹھری کا دروازہ توڑ کر غلہ نکال لے جائے؟ ایسے ہی ان کے جانوروں کے تھن ان کے غلہ کی کوٹھریاں ہیں، تو کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ stood up and said: "No one of you should milk from the livestock of another man without his permission. Would anyone of you like someone to break into his storeroom and take his food? The udders of their livestock store food for them, so none of you should milk the livestock of another man without his permission."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم (کا دودھ دوہنے کے لیے) اس کی طرف لپکے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے، اور یہی ان کی روزی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے بعد یہی ان کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: بس یہ بھی ایسا ہی ہے ، ہم نے عرض کیا: اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (ایسی حالت میں) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ ١ ؎۔
Abu Hurairah (RA) said: "While We were wi th the Messenger of Allah ﷺ on a journey, we saw some camels with their udders tied, among some thorny trees. We rushed towards it, but the Messenger of Allah ﷺ called us arid we came back to him. He said: ‘These camels belong to a family of Muslims, and this is their support (and blessing) after Allah. Would you be happy if you went back to your vessels and found that what was in them had been taken away? Do you think that is fair?’ They said: ‘No.’ He said: ‘This is like that.’ We said: ‘What do you think if we are in need of food and drink?’ He said: ‘Eat but do not carry any away; drink but do not carry any away.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ اونٹنی ان کی توشہ دان ہیں، اس کے تھن میں ان کے کھانے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٨٩٢ ، ومصباح الزجاجة: ٨٠٧ )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٢ /٤٠٥) (ضعیف) لأن ھذا السند فیہ سلیط بن عبد اللہ، قال فیہ البخاری: إسنادہ لیس بالقائم وحجاج بن أرطاة مدلس وقد رواہ بالعنعنة۔
عروہ بارقی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔
It was narrated that Urwah Al-Bariqi said in a Marfu report: "Camels are the pride of their owners, and sheep are a blessing, and goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection."
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔
It was narra led from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Sheep are among the animals of Paradise. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٣٩، ومصباح الزجاجة: ٨١٠) (صحیح) (سند میں زربی بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٢٨ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مالدار لوگوں کو بکریاں اور محتاج لوگوں کو مرغیاں رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا ہے: جب مالدار مرغیاں پالنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded the rich to keep sheep, and he commanded the poor to keep chickens, and he said: When the rich keep chickens, then Allah will give permission for the town to be destroyed.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٩٩، ومصباح الزجاجة: ٨١١) (موضوع) (سند میں علی بن عروہ متروک بلکہ متہم با لوضع راوی ہے، نیز عثمان بن عبد الرحمن مجہول ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١١٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا قاضی (فیصلہ کرنے والا) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever is appointed judge between the people, he has been slaughtered without a knife."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بن مارے اس کی موت ہوئی، مطلب یہ ہے کہ قضا کا عہدہ بڑے خطرے اور مواخذے کا کام ہے، اور اس میں عاقبت کے خراب ہونے کا ڈر ہے مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچائے، اور اسی واسطے اکثر اسلاف نے تکلیفیں برداشت کیں اور ذلت کو گوارا کیا، لیکن قضا کا عہدہ نہ قبول کیا، چناچہ امام ابوحنیفہ (رح) کو خلیفہ منصور نے مارا پیٹا اور قید کیا، لیکن انہوں نے قاضی بننا قبول نہ کیا، تاکہ اپنے آپ کو حدیث میں وارد وعید سے بچا سکیں، اور جن علماء نے یہ ذمہ داریاں قبول کیں انہوں نے ایک دینی فریضہ پورا کیا، ان کو اللہ کے فضل سے اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ اس عہدے کے ذریعے سے ملک اور عوام کی خدمت کریں گے، اور اللہ رب العزت کے یہاں اجر کے مستحق ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ١٢٩٥٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة ١ (٣٥٧١)، سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٣٢٥)، مسند احمد (٢/٣٦٥) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عہدہ قضاء کا مطالبہ کیا، وہ اپنے نفس کے حوالہ کردیا جاتا ہے، اور جو اس کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کے لیے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever asks to be appointed a judge, will be entrusted to himself, but whoever is forced to accept the position, an angel will come down to him and guide him."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١ (٣٥٧٨)، سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٣٢٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٨، ٢٢٠) (ضعیف) (سند میں عبدالأعلی ضعیف راوی ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن بھیجا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی بنا کر) یمن بھیج رہے ہیں، اور میں (جوان) ہوں، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا پھر فرمایا: اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت فرما، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ ، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen. I said: O Messenger of Allah, you are sending me to judge between them while I am a young man, and I do not know how to judge. He struck me on the chest with his hand and said: O Allah, guide his heart and make his tongue steadfast. And after that I never doubted in passing judgment between two people."
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے محبت سے علی ؓ کے سینے پر جب ہلکی سی ضرب لگائی اور دعا فرمائی تو اس معجزے کا ظہور ہوا اور دعا کی قبولیت کی مثال سامنے آئی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھی کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے کو علم قضا کے لیے کھول دیا، ایسا ہی معجزہ ابوہریرہ ؓ کے ساتھ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے کو علم حدیث کے لیے کھول دیا، اور خود ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے حدیث بھول جانے کی شکایت کی تو آپ نے ان کو ایک چادر دی جسے انہوں نے اپنے جسم سے لپیٹ لیا، اور نبی اکرم ﷺ نے آپ کے حافظے کے تیز ہونے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ ظاہر کیا اور اپنے محبوب نبی کی ایسی دعا قبول کی کہ ابوہریرہ صحابہ کرام میں احادیث شریفہ کے سب سے بڑے حافظ قرار پائے، جب کہ آپ کو نبی اکرم ﷺ کی مصاحبت کا شرف بہت مختصر ملا کہ آپ غزوہ خیبر کے وقت محرم سن ٧ ہجری کو مدینہ آئے، اس طرح سے تقریباً سوا چار سال کی مدت آپ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گزاری، اور پھر اللہ کا فضل ان پر اور اہل اسلام پر یہ ہوا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ پوری زندگی حدیث کی خدمت کرتے رہے، یہاں تک کہ ٥٧ یا ٥٨ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی ؓ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١١٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة ٦ (٣٥٨٢)، سنن الترمذی/الأحکام ٥ (١٣٣١)، مسند احمد (١/٨٣، ١٤٩) (صحیح) (سند میں ابو البختری سعید بن فیروز کا سماع علی ؓ سے نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن یا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٦٠٠ ، ابوداود: ٣٥٨٢ )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوئے ہوگا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا، اگر حکم ہوگا کہ اس کو پھینک دو، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no judge who judges between the people but on the Day of Resurrection an angel will come and take hold of the back of his head and raise his head towards the sky and if it said: "Throw him," he will throw him into an abyss the depth of forty autumns (years).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٦، ومصباح الزجاجة: ٨١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٣٠) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہے )
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی مدد قاضی (فیصلہ کرنے والے) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Abu Awfa that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah is with the judge so long as he is not unjust, but if he rules unjustly, He entrusts him to himself."
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "The curse of Allah is upon the one who offers a bribe and the one who takes it."
Notes · وضاحت
١ ؎: رشوت لینے والے پر تو ظاہر ہے کہ وہ رشوت لے کر ضرور اس فریق کی رعایت کرے گا جس سے رشوت کھائے گا، اور رشوت دینے والے پر اس واسطے کہ وہ رشوت دے کر اس کو ظلم اور ناحق پر مائل کرے گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر اس کا مقدمہ حق ہو اور کوئی حاکم بغیر رشوت لئے حق فیصلہ نہ کرتا ہو تو ظلم کو دفع کرنے کے لئے اگر رشوت دے تو گناہ گار نہ ہوگا، پس ضروری ہے کہ آدمی رشوت دینے اور لینے والے دونوں برے کاموں سے پرہیز کرے، اسی طرح رشوت دلانے اور اس کی دلالی کرنے سے بھی دور رہے کیونکہ ان امور سے ڈر ہے کہ وہ اللہ کی لعنت کا مستحق ہوگا، نسأل الله العافية۔
عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کو دہرا اجر ملے گا، اور جب فیصلہ کی کوشش کرے اور اجتہاد میں غلطی کرے، تو اس کو ایک اجر ملے گا ۔ یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اسی طرح اس کو مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے۔
It was narrated from Amr bin As that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "When the judge passes a judgment and does his best and gets it right, he will have two rewards, and if he passes a judgement and does his best and gets it wrong, he will have one reward." Yazid (one of the narrators) said: "So I narrated it to Abu Bakr (RA) bin Amr bin Hazm. He said: This is how it was narrated to me by Abu Salamah from Abu Hurairah (RA) h. "
ابوہاشم کہتے ہیں کہ اگر ابن بریدہ کی یہ روایت نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد (بریدہ ؓ) سے روایت کی ہے، اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہیں: ان میں سے دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی، ایک وہ جس نے حق کو معلوم کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا، تو وہ جنت میں جائے گا، دوسرا وہ جس نے لوگوں کے درمیان بغیر جانے بوجھے فیصلہ دیا، تو وہ جہنم میں جائے گا، تیسرا وہ جس نے فیصلہ کرنے میں ظلم کیا (یعنی جان کر حق کے خلاف فیصلہ دیا) تو وہ بھی جہنمی ہوگا (اگر یہ حدیث نہ ہوتی) تو ہم کہتے کہ جب قاضی فیصلہ کرنے میں اجتہاد کرے تو وہ جنتی ہے۔
Abu Hashim said: "Were it not for the Hadith of Ibn Buraidah from his father, from the Prophet ﷺ who said: Judges are of three types, two of whom will be in Hell and one will be in Paradise. The man who knows the truth and rules in accordance with it, will be in Paradise. The man who passes judgment on the people in ignorance will be in Hell, and the man who is unjust in judgment will be in Hell - we would have said that if the judge does his best he will be in Paradise."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اجتہاد کافی نہیں ہے بلکہ حق کا علم یعنی یقین ضروری ہے، علماء کے نزدیک یہ حدیث تہدید و تشدید پر محمول ہے، اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ قضا کے لئے صرف اجتہاد یعنی غلبہ ظن کافی ہے، اس میں غلطی کا احتمال رہتا ہے، اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ مجتہد اگر خطا بھی کرے گا تو اسے ایک اجر ملے گا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قاضی کا مجتہد ہونا ضروری ہے، اور مقلد کا قاضی ہونا صحیح نہیں ہے کیونکہ کتاب و سنت کے علم کا اطلاق صرف مجتہد پر ہوتا ہے، اور مقلد تو کتاب و سنت اور دلیل سے بیخبر ہوتا ہے، صرف اپنے امام کا قول معلوم کرلیتا ہے، لہذا مجتہد کتاب و سنت کی روشنی میں اس بات کا فیصلہ کرے گا جو اللہ تعالیٰ اس کو دکھائے ہیں، مقلد تو اپنے امام کی رائے کے مطابق فیصلہ کرے گا، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (سورة المائدة: 44) وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (سورة المائدة 45) وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (سورة المائدة:47) اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرنا مجتہد کی شان ہے مقلد کی نہیں، اور معاذ ؓ کی رائے سے متعلق مشہور حدیث جس کی صحت میں بعض علماء نے کلام کیا ہے، میں ان کا قول ہے کہ (میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا، اگر اس میں نہ ملے گا تو حدیث سے اور اگر اس میں نہ ملے گا تو پھر اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا) یہ بھی مجتہد کی شان ہے، مقلد تو نہ قرآن کو دیکھتا ہے نہ حدیث کو، صرف درمختار، کنز اور وقایہ پر عمل کرتا ہے، اور اس کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ یہ حکم کتاب وسنت میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ١ ؎۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے ۔
It was narrated from Abdul-Malik bin Umair that he heard Abdur-Rahman bin Abu Bakrah (narrate) from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the judge (Qadi) not pass a judgment when he is angry." In his narration, (one of the narrators) Hisham said: "The judge (ruler) should not judge between two people when he is angry."
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی کریم ﷺ نے جو غصہ کی حالت میں زبیر ؓ کا فیصلہ ایک انصاری کے ساتھ کیا تو یہ آپ ﷺ کی خصوصیت تھی کیونکہ آپ حالت غضب اور رضا دونوں میں معصوم تھے، اور ظاہر یہ ہے کہ ممانعت تحریمی ہے، اس پر جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ حق ہو تو صحیح ہوگا، علامہ ابن القیم کہتے ہیں کہ مفتی سخت غصہ، یا زیادہ بھوک، یا زیادہ قلق، یا پریشان کن خوف و ڈر، یا نیند کا غلبہ، یا پاخانہ پیشاب کی حاجت میں فتوی نہ دے، اسی طرح جب دل اور طرف لگا ہوا ہو، بلکہ جب آدمی یہ محسوس کرے کہ مذکورہ امور کی وجہ سے وہ اعتدال کی حالت سے باہر چلا گیا ہے، اور اس کی تحقیق و جستجو کی قدرت متاثر ہوگئی ہے، تو اس کو فتویٰ سے رک جانا چاہیے، اس پر بھی اگر وہ ان حالتوں میں فتویٰ دیتا ہے تو اس کا فتویٰ صحیح ہے لیکن اگر ایسی حالت میں فیصلہ کرتا ہے، تو کیا اس کا فیصلہ نافذ ہوگا، یا نہیں نافذ ہوگا؟ اس بارے میں امام احمد کے مذہب میں تین اقوال ہیں: پہلا یہ کہ نافذ ہوگا، دوسرا یہ کہ نافذ نہیں ہوگا، تیسرا یہ کہ مسئلہ کو سمجھنے کے بعد اگر غصہ ہو تو اس میں نافذ ہوگا، اور اگر مسئلہ کے سمجھنے سے پہلے غصہ ہو تو نافذ نہیں ہوگا۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ ٣ /٢٣٣ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس جھگڑے اور اختلافات لاتے ہو اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہوسکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، اور میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں تو وہ اس کو نہ لے، اس لیے کہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا ۔
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "You refer your disputes to me and I am only human. Perhaps some of you may be more eloquent in presenting your case than others, so I rule in your favor because of what I hear from you. If I pass a judgment in favor of one of you that detracts from his brothers rights, then he should not take it, because it is a piece of fire that is given to him which he will bring forth on the Day of Resurrection."