نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 21 of 55

792Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ، وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ.

ایک صحابی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا: تم نماز میں کون سی دعا پڑھتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں: اللهم إني أسألک الجنة وأعوذ بک من النار اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ١ ؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہم بھی اسی ٢ ؎ (جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ) کے اردگرد پھرتے ہیں ۔

Jabir narrated the story of Muadh and said: The prophet ﷺ said to a youth: My nephew, what do you do in prayer? He replied: I recited fatihat al-katab and I ask Allah for paradise and seek his refuge from hell-fire I do not understand well your sound and the sound of Muadh. The prophet ﷺ said: I and Muadh go around both (paradise and Hell-fire), or he said something similar.

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں دندنہ کا لفظ آیا ہے، یعنی انسان کی آواز کی گنگناہٹ سنائی دے لیکن اس کے معنی و مطلب سمجھ میں نہ آئیں۔ وضاحت : حولها میں ها کی ضمیر اس آدمی کے قول کی طرف لوٹتی ہے، یعنی ہمارا اور معاذ کا کلام بھی تمہارے ہی کلام جیسا ہے، ان کا ماحصل بھی جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، مسند احمد ٣/٤٧٤، (تحفة الأشراف: ١٥٥٦٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٦ (٩١٠) (صحیح )
793Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ، قَالَ: وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَتَى: كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ ؟ قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَلَا دَنْدَنَةُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ، أَوْ نَحْوَ هَذَا.

جابر ؓ معاذ ؓ کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس نوجوان سے پوچھا: میرے بھتیجے! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں (نماز میں) سورة فاتحہ پڑھتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں ، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: When one of you leads the people in prayer, he should be brief, for among them are the weak, the sick, and the aged. But when one of you prays by himself, he may pray as long as he likes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٢) (صحیح )
794Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ جماعت میں کمزور، بیمار اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں، البتہ جب تنہا نماز پڑھے تو اسے جتنی چاہے لمبی کرلے ۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: when one of you leads the people in prayer, he should be brief, for among them are the sick, the aged and the needy.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦٢ (٧٠٣)، سنن النسائی/الإمامة ٣٥ (٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٦٣ (٢٣٦)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٤ (١٣)، مسند احمد (٢ /٢٥٦، ٢٧١، ٣١٧، ٣٩٣، ٤٨٦، ٥٠٢، ٥٣٧) (صحیح )
795Sunan Abu Dawood

نماز کو ہلکا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار، بڑے بوڑھے، اور حاجت مند لوگ (بھی) ہوتے ہیں ۔

Ammar bin Yasir said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A man returns after saying his prayer while a tenth part of his prayer, or a ninth part, or an eight part, or a seventh part, or a sixth part, or a fifth part, or a third part, or half of it, is recorded for him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٣٠٤، ١٥٢٨٨) (صحیح )
797Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ، وَحَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ.

عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں (جہراً ) سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا ١ ؎۔

Abu Hurairah said: In every prayer there is a recitation. We make you listen what the Messenger of Allah ﷺ made us listen, and we keep hidden from you what he kept hidden from us.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس میں جہر نہیں کیا اسے آہستہ سے پڑھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٤١٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٤ (٧٧٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٤ (٩٧٠)، مسند احمد (٢/ ٢٥٨، ٢٧٣، ٢٨٥، ٣٠١، ٣٤٣، ٣٤٨، ٤١١، ٤١٦، ٤٣٥، ٤٨٧) (صحیح )
798Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْالْحَجَّاجِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَأَبِي سَلَمَةَ: ثُمَّ اتَّفَقَا عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِنَا، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں (ایک آدھ) آیت سنا دیتے تھے، اور آپ ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے فاتحة الکتاب اور سورة کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Abu Qatadah said: The Messenger of Allah ﷺ used to lead us in prayer and recite in the first two rak’ahs of the noon prayers Fatihat al-kitab and two surahs, and he would sometimes recite loud enough for us to hear the verse. He would prolong the first rak’ah of the noon prayer and shorten the second; and he did so in the morning prayer. Abu Dawud said: Musaddad did not mention the words fatihat al-kitab and surah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٦ (٧٥٩)، ٩٧ (٧٦٢)، ١٠٧ (٧٧٦)، ١٠٩ (٨٨٧)، ١١٠ (٧٧٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥١)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٦(٩٧٥)، ٥٧(٩٧٦)، ٥٨ (٩٧٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨ (٨٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٣، ٥/٢٩٥، ٢٩٧، ٣٠٠، ٣٠١، ٣٠٥، ٣٠٧، ٣٠٨، ٣١٠، ٣١١، ٣٨٣) (صحیح )
799Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بِبَعْضِ هَذَا، وَزَادَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ: بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَزَادَ. عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ.

اس سند سے ابوقتادہ ؓ سے گزشتہ حدیث کے بعض حصے مروی ہیں، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ پچھلی دونوں رکعتوں میں (صرف) سورة فاتحہ پڑھتے تھے اور حسن بن علی نے بواسطہ يزيد بن هارون عن همام اتنی زیادتی اور کی ہے کہ آپ پہلی رکعت اتنی لمبی کرتے جتنی دوسری نہیں کرتے تھے اور اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں (بھی کرتے تھے) ۔

The above mentioned tradition as been reported by Abu Qatadah through a different chain of narrators. This version adds: He would recite Fatihat al-kitab in the last two surahs. Hammam added: He would prolong the first rak’ah but would not prolong the second so much; and he did so similarly in the afternoon prayer, and so in the morning prayer.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٨) (صحیح )
800Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ النَّاسُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ ﷺ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ لوگ پہلی رکعت پاجائیں۔

Abu Qatadah said: We thought that by this (prolonging the first rak’ah). He (the prophet) meant that the people might join the first rak’ah.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٩٨، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٨) (صحیح )
801Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قُلْنَالِخَبَّابٍهَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.

ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم نے خباب ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر میں قرآت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں (قرآت کرتے تھے) ، ہم نے کہا: آپ لوگوں کو یہ بات کیسے معلوم ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی کے ہلنے سے ١ ؎۔

Abu Mamar said: We asked Khabbab (RA) : Did the Messenger of Allah ﷺ recit (the Quran) in the noon and afternoon prayers? He replied: Yes. We then asked: How did you know this? He said: By the shaking of his beard, may peace be upon him.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام بیہقی نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ سری قرات میں یہ ضروری ہے کہ آدمی خود کو سنا سکے کیونکہ اضطراب لحية زبان اور دونوں ہونٹ ہلے بغیر ممکن نہیں اگر آدمی اپنے دونوں ہونٹ بند رکھے اور صرف زبان ہلائے تو داڑھی نہیں ہل سکتی اور قرات خود کو نہیں سنا سکتا (فتح الباری، حدیث: ٧٦٠ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩١ (٧٤٦)، ٩٦ (٧٦٠)، ٩٧، ١٠٨ (٧٧٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧ (٨٢٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٠، ١١٢، ٦/٣٩٥) (صحیح )
802Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر تک قیام کرتے تھے کسی قدم کی آہٹ نہیں سنی جاتی ١ ؎۔

Abdullah bin Abl Awfa said: The prophet ﷺ used to stand in the rak’ah of prayer so much so that no sound of steps heard.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جماعت میں آنے والے سب آ چکے ہوتے کوئی باقی نہیں رہتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداو، (تحفة الأشراف: ٥١٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٦) (ضعیف) (اس کی سند میں رجل مبہم راوی ہیں )
803Sunan Abu Dawood

آخر کی دو رکعتوں میں مختصر قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ: قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے سعد ؓ سے کہا: لوگوں (یعنی اہل کوفہ) نے آپ کی ہر چیز میں شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز کے بارے میں بھی، سعد ؓ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور پچھلی دونوں رکعتیں مختصر پڑھتا ہوں، میں رسول اللہ ﷺ (کے طریقہ نماز کی) پیروی کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اس پر عمر ؓ نے کہا: مجھے آپ سے یہی توقع تھی۔

Jabir bin Samurah reported: Umar said to Saad (RA) : people complain against you for everything, even for prayer. He replied: I prolong the first two rak’ahs of prayer and make the last two rak’ahs brief; I do not fall short of following the prayer offered by the Messenger of Allah ﷺ . He said: I think so about you.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٥)، ١٠٣ (٧٧٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٤ (١٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٦، ١٧٩، ١٨٠) (صحیح )
804Sunan Abu Dawood

آخر کی دو رکعتوں میں مختصر قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي النُّفَيْلِيَّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: حَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا تو ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں تیس آیات کے بقدر یعنی سورة الم تنزیل السجدہ کے بقدر قیام فرماتے ہیں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں اس کے آدھے کا اندازہ لگایا، اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم نے اندازہ کیا تو ان میں آپ کی قرآت ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر ہوتی اور آخری دونوں رکعتوں میں ہم نے اس کے آدھے کا اندازہ لگایا۔

Abu Saeed Al Khudri said: We used to estimate how long the Messenger of Allah ﷺ stood in the noon and the afternoon prayer, and we estimated that he stood in the first two rak’ahs of the noon prayer as long as it takes to recite thirty verses (of the Quran), such as A-L-M Tanzil al-Sajdah. And we estimated that he stood in the last two rak’ahs half the time he stood in the first two rak’ahs. We estimated that he stood in the first two rak’ahs of the afternoon prayer as long as he did in the last two at noon; and we estimated that he stood in the last two rak’ahs of the afternoon prayer half the time he did in first two.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٢)، سنن النسائی/الصلاة ١٦ (٤١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧ (٨٢٨)، (تحفة الأشراف: ٣٩٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٢ (١٣٢٥) (صحیح )
805Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَنَحْوِهِمَا مِنَ السُّوَرِ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں والسماء والطارق ، والسماء ذات البروج اور ان دونوں جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔

Narrated Jabir ibn Samurah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite in the noon and afternoon prayer: By the Heaven and the Morning Star (Surah 86) and By the Heaven, holding mansions of the stars (Surah 85) and similar surahs of equal length.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ (٣٠٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٠ (٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢١٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠١، ١٠٣، ١٠٦، ١٠٨) (حسن صحیح )
806Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ، وَقَرَأَ بِنَحْوٍ مِنْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالْعَصْرِ كَذَلِكَ، وَالصَّلَوَاتِ كَذَلِكَ إِلَّا الصُّبْحَ فَإِنَّهُ كَانَ يُطِيلُهَا.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور اس میں والليل إذا يغشى جیسی سورت پڑھتے تھے، اسی طرح عصر میں اور اسی طرح بقیہ نمازوں میں پڑھتے سوائے فجر کے کہ اسے لمبی کرتے۔

Jabir bin Samurah said: When the sun declined, the Messenger of Allah ﷺ offered the noon prayer and recited surahs lie By the night when it covers over (92) and (recited similar surahs) in the afternoon prayer, and in the other prayers except the dawn prayer which he used to prolong.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٨)، سنن النسائی/الإفتتاح ٦٠ (٩٨١)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣(٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ٢١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ١٠١، ١٠٦، ١٠٨) (صحیح )
807Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ. قَالَ ابْنُ عِيسَى: لَمْ يَذْكُرْ أُمَيَّةَ أَحَدٌ إِلَّا مُعْتَمِرٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور رکوع کیا تو ہم نے جانا کہ آپ نے الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں: معتمر کے علاوہ کسی نے بھی (سند میں) امیہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Ibn Umr said: The prophet ﷺ prostrated himself in the noon prayer; then he stood up and bowed, and we knew that he recited Tanzil al-sajdah (surah xxxii). Ibn ‘Isa said: No one narrated this tradition to Umayyah except Mu’tamir.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٥٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٣) (ضعیف) (اس کے راوی أمیہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کا ہونا نہ ہونا مختلف فیہ ہے )
808Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَقُلْنَا لِشَابٍّ مِنَّا: سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍأَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ فَقَالَ: لَا، لَا. فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ: خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا، بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ.

عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوانوں کے ہمراہ عبداللہ بن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے اپنے میں سے ایک نوجوان سے کہا: تم ابن عباس سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے؟ ابن عباس نے کہا: نہیں، نہیں، تو ان سے کہا گیا: شاید آپ ﷺ اپنے جی میں قرآت کرتے رہے ہوں، اس پر ابن عباس ؓ نے کہا: اللہ تمہارے چہرے یا چمڑے میں خراش کرے! یہ پہلی سے بھی بری ہے ١ ؎، آپ ایک مامور (حکم کے پابند) بندے تھے، آپ کو جو حکم ملتا وہی لوگوں کو پہنچاتے، آپ ﷺ نے ہم (بنی ہاشم) کو کوئی مخصوص حکم نہیں دیا سوائے تین باتوں کے: ایک یہ کہ ہم کامل وضو کریں دوسرے یہ کہ صدقہ نہ کھائیں، تیسرے یہ کہ گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Abdullah ibn Ubaydullah said: I went to Ibn Abbas accompanying some youths of Banu Hashim. We said to one of them: Ask Ibn Abbas (RA) : Did the Messenger of Allah ﷺ recite (the Quran) in the noon and afternoon prayers? He replied: No. People said to him: Perhaps he might recite the Quran quietly. He said: May your face be scratched (a kind of curse)! This (statement) is worse than the former. He was only a servant (of Allah) receiving Commands from Him. He preached (the divine) message which he brought with him. He did not command anything to us (Banu Hashim) specially excluding other people except three points: he commanded us to perform ablution perfectly, and not to accept charity (sadaqah) and not to make pairing of donkey with horse.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ابن عباس ؓ کا وہم ہے، نبی اکرم ﷺ سے ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دوسری سورت کا پڑھنا ثابت ہے، اوپر ابوقتادہ ؓ اور خباب ؓ کی روایتیں گزر چکی ہیں جو صریح طور سے اس پر دلالت کرتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجہاد ٢٣ (١٧٠١)، سنن النسائی/الطھارة ١٠٦ (١٤١)، والخیل ٩ (٣٦١١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٤٩ (٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢، ٢٣٥، ٢٤٩) (صحیح )
809Sunan Abu Dawood

ظہر و عصر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے یا نہیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I do not know whether the Messenger of Allah ﷺ would recite the Quran at the noon and afternoon prayer or not.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٩، ٢٥٧) (صحیح )
810Sunan Abu Dawood

نماز مغرب میں قرأت کی مقدار

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّأُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةِ، إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث ؓ نے انہیں والمرسلات عرفا پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں: میرے بیٹے! تم نے اس سورة کو پڑھ کر مجھے یاد دلا دیا، یہی آخری سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں پڑھتے ہوئے سنا۔

Um al-fadl daughter of al-Harith said: I heard IbnAbbas reciting wa’l-mursalat urfan (surah lxxxvii). She said; sonny you have reminded me of this surah by your recitation. Thie is the last surah which I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting in the sunset prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٣)، والمغازي ٨٣ (٤٤٢٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٢)، سنن الترمذی/الصلاة ١١٨ (٣٠٨)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٤ (٩٨٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩ (٨٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٥ (٢٤)، مسند احمد (٦/٣٣٨، ٣٤٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣١) (صحیح )
811Sunan Abu Dawood

نماز مغرب میں قرأت کی مقدار

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ.

جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں سورة الطور پڑھتے ہوئے سنا۔

Jubair bin Mutim said: I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting al-Tur (surah lii) in the sunset prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٩ (٧٦٥)، والجھاد ١٧٢ (٣٠٥٠)، والمغازي ١٢ (٤٠٢٣)، و تفسیر الطور ١ (٤٨٥٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٥ (٩٨٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩ (٨٣٢)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٥(٢٣)، مسند احمد (٤/٨٠، ٨٣، ٨٤، ٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣٢) (صحیح )
812Sunan Abu Dawood

نماز مغرب میں قرأت کی مقدار

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ: الْأَعْرَافُ، وَالْأُخْرَى الْأَنْعَامُ. قَالَ: وَسَأَلْتُ أَنَا ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَقَالَ لِي مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ: الْمَائِدَةُ، وَالْأَعْرَافُ.

مروان بن حکم کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ نے مجھ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرتے ہو؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں دو لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، مروان کہتے ہیں: میں نے (ان سے) پوچھا: وہ دو لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا سورة الاعراف اور دوسری سورة الانعام ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا: تو انہوں نے مجھ سے خود اپنی طرف سے کہا: وہ سورة المائدہ اور اعراف ہیں۔

Marwan bin a-hakkam said: Zaid bin Thabit asked me: Why do you recite short surahs in the sunset prayer? I saw the Messenger of Allah ﷺ reciting two long surahs at the sunset prayers. I asked him: which are those two long surahs? He replied: Al-A’raf (surah vii) and al-an’am (surah vi). I ( the narrator Ibn Juraij) asked Ibn Mulaikah (about these surahs): He said on his own accord: Al-ma’idah (surah v.) and al-A’raf (furah vii. )

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٧ (٩٩٠)، (تحفة الأشراف: ٣٧٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٥، ١٨٧، ١٨٨، ١٨٩) (صحیح )