رفاعہ بن رافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، مجھ کو (رفاعہ) کو چھینک آئی۔ اور قتیبہ نے اپنی روایت میں رفاعة کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ تو میں نے یہ دعا پڑھی: الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضى اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، ایسی تعریف جو پاکیزہ، بابرکت اور پائیدار ہو، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے ، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مڑے اور پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ ، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے ہم مثل اور اس سے زیادہ کامل روایت ذکر کی۔
Narrated Rifaah ibn Rafi (RA) : I offered prayer behind the Messenger of Allah ﷺ . Rifaah sneezed. The narrator Qutaybah did not mention the name Rifaah (but he said: I sneezed). So I said: Praise be to Allah, praise much, good and blessed therein, blessed thereupon, as our Lord likes and is pleased. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he turned and said: Who was the speaker in prayer? He then narrated the rest of the tradition like that of Malik and completed it.
عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے حالت نماز میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آگئی، تو اس نے کہا: الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من أمر الدنيا والآخرة اللہ کے لیے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہوجائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہوجانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے ، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ ، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ ﷺ نے پھر پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا ، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے (بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے) ۔
Rabiah said: A young man from the Ansar sneezed behind the Messenger of Allah ﷺ while he was praying. He then said: Praise be to Allah, much, good, blessed, till our Lord is pleased (with us) in the affairs relating to this world and to the other world. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he said: Who was the speaker of these words (in prayer)? The young man kept silence. He again asked: Who was the speaker of these words? He did not say wrong. He said: Messenger of Allah, I said these (words). I did not intend by them but good. He said: These words did not stay below the Throne of the Compassionate (Allah).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٠٣٨) (ضعیف) (اس کے دو راوی شریک اور عاصم ضعیف ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو (نماز کے لیے) کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالى جدک ولا إله غيرك یعنی اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، ہم تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، تیرا نام بابرکت اور تیری ذات بلند و بالا ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں پھر تین بار لا إله إلا الله کہتے، پھر تین بار الله أكبر کبيرا کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه پھر قرآن کی تلاوت کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حدیث علی بن علی سے بواسطہ حسن مرسلاً مروی ہے اور یہ وہم جعفر کا ہے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ got up to pray at night (for tahajjud prayer) he uttered the takbir and then said: Glory be to Thee, O Allah, and Praise be to Thee and Blessed is Thy name, and Exalted is Thy greatness. and There is no god but Thee. He then said: There is no god but Allah three times; he then said: Allah is altogether great three times: I seek refuge in Allah, All-Hearing and All-Knowing from the accursed devil, from his evil suggestion (hamz), from his puffing up (nafkh), and from his spitting (nafth) He then recited (the Quran). Abu Dawud said: It is said that this tradition has been narrated by Ali bin Abi from al-Hasan omitting the name of the Companion of the Prophet ﷺ . The misunderstanding occurred on the part of Jafar.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٦٥ (٢٤٢)، سنن النسائی/الافتتاح ١٨ (٩٠١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١ (٨٠٤)، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠، ٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٥) (صحیح) (یہ حدیث اور اگلی حدیث متابعات و شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہیں، ورنہ خود ان کی سندوں میں کچھ کلام ہے جسے مؤلف نے بیان کردیا ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالى جدک ولا إله غيرك پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالسلام بن حرب سے مروی یہ حدیث مشہور نہیں ہے کیونکہ اسے عبدالسلام سے طلق بن غنام کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور نماز کا قصہ بدیل سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا (یعنی: افتتاح کے وقت اس دعا کے پڑھنے کی بابت) ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ began his prayer, he said: Glory be to Thee, O Allah, and Praise be to Thee and Blessed is Thy name, and Exalted is Thy greatness, sand there is no god but Allah. Abu Dawud said: This tradition is not well known from Abd al-Salam bin Harb. No one narrated this except Talq bin Ghannam. A group of narrators reported the description of prayer from (the narrator) Budail; they did not mention therein this supplication.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٦٧ (٢٦٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١ (٨٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٤١) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں: ایک امام کے تکبیر تحریمہ کہنے سے، قرأت شروع کرنے اور دوسرا جب فاتحہ اور سورت کی قرأت سے فارغ ہو کر رکوع میں جانے کے قریب ہوا، اس پر عمران بن حصین ؓ نے اس کا انکار کیا، تو لوگوں نے اس سلسلے میں مدینہ میں ابی بن کعب ؓ کو خط لکھا، تو انہوں نے سمرہ کی تصدیق کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حمید نے بھی اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت کرتے جب آپ قرآت سے فارغ ہوتے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : I remember two period of silence in prayer, one when the imam said the takbir; and one when he finished reciting the Fatihah and the surah when he was about to bow. But Imran ibn Husayn took it as something strange. So they wrote about it to Ubayy (ibn Kab) in Madina. He verified the statement of Samurah. Abu Dawud said: Humaid also narrated in this tradition the words and one period silence when he finished the recitation (of the Quran)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٧٤ (٢٥١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢ (٨٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٦٠٩)، مسند احمد (٥/١١، ٢١، ٢٣) (ضعیف) (حسن بصری نے سمرہ ؓ سے عقیقہ کی حدیث کے سوا اور کوئی حدیث نہیں سنی ہے، نیز وہ مدلس ہیں )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دو سکتے کرتے: ایک جب نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قرآت سے پورے طور سے فارغ ہوجاتے، پھر راوی نے یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Samurah bin Jundub said: The Prophet ﷺ had two periods of silence; when he began his prayer and when he finished the recitation (of the Quran). He then narrated the tradition like the version of Yunus.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٦)، مسند احمد (٥/١٥، ٢٠، ٢١، ٢٢) (ضعیف) (گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں )
حسن سے روایت ہے کہ سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین ؓ نے آپس میں (سکتہ کا) ذکر کیا تو سمرہ بن جندب ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے یاد رکھے ہیں: ایک سکتہ اس وقت جب آپ تکبیر تحریمہ کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ ﷺ غير المغضوب عليهم ولا الضالين ١ ؎ کی قرآت سے فارغ ہوتے، ان دونوں سکتوں کو سمرہ نے یاد رکھا، لیکن عمران بن حصین نے اس کا انکار کیا تو دونوں نے اس کے متعلق ابی بن کعب ؓ کو خط لکھا تو انہوں نے ان دونوں کے خط کے جواب میں لکھا کہ سمرہ ؓ نے (ٹھیک) یاد رکھا ہے۔
Narrated Samurah ibn Jundub; Ubayy ibn Kab (RA) : Samurah ibn Jundub and Imran ibn Husayn had a discussion (about the periods of silence in prayer). Samurah then said that he remembered two periods of silence from the Messenger of Allah ﷺ ; one when he uttered the takbir and the other when he finished reciting: Not of those with whom Thou art angry, nor of those who go astray (i. 7). Samurah remembered that, but Imran ibn Husayn rejected it. Then they wrote about it to Ubayy ibn Kab. He wrote a letter to them and gave a reply to them that Samurah remembered correctly.
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة الفاتحة: (٧ )
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٧٧٧)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٩، ٤٦٠٩) (ضعیف )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، سعید کہتے ہیں: ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جب آپ ﷺ نماز میں داخل ہوتے اور جب آپ قرات سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا: جب آپ ﷺ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہہ لیتے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : I remember from the Messenger of Allah ﷺ two periods of silence. Saeed said: We asked Qatadah (RA) : What are those two periods of silence? He said: (one) when he began his prayer, and (one) when he finished the recitation. Then he added: When he finished reciting (the closing verse of the Fatihah): Not of those with whom Thou art angry, nor of who go astray.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے تو تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان (تھوڑی دیر) خاموش رہتے تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان آپ جو سکتہ کرتے ہیں، مجھے بتائیے آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم أنقني من خطاياى کا لثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني بالثلج والماء والبرد اے اللہ! جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے اسی طرح میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری فرما دے، اے اللہ! تو مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک و صاف کر دے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو برف پانی اور اولوں سے دھو دے ۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ kept silence between the takbir and the recitation of Quran. So I asked him, for whom I would give my father and mother as ransom: What do you say during you period of silence between the takbir and the recitation? He replied (that he said): O Allah, purify me from sins as a white garment is purified from filth. O Allah, wash away my sings with snow, water and hail.
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ، ابوبکر ؓ، عمر ؓ اور عثمان ؓ عنہ الحمد لله رب العالمين سے قرآت شروع کرتے تھے۔
Anas said: The Prophet (peace be upon hm), Abu Bakr, Umar and Uthman used to begin the recitation with “Praise be to Allah, the Lord of the Universe. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٨٩ (٧٤٣)، صحیح مسلم/الصلاة ١٣ (٣٩٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٦٨ (٢٤٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٠ (٩٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤ (٨١٣)، موطا امام مالک/الصلاة ٦ (٣٠)، مسند احمد (٣/١٠١، ١١١، ١١٤، ١٨٣، ٢٧٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٤ (١٢٧٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کو تکبیر تحریمہ الله اکبر اور الحمد لله رب العالمين کی قرآت سے شروع کرتے تھے، اور جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکائے رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ بالکل سیدھے بیٹھ جاتے، اور ہر دو رکعت کے بعد التحيات پڑھتے، اور جب بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور اپنا داہنا پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے ١ ؎ سے اور درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے ٢ ؎ سے منع کرتے اور نماز سلام سے ختم کرتے۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ began prayer with the takbir (Allah is most great) and with reciting “Praise be to Allah, the Lord of the Universe”. And when he bowed, he neither raised up nor lowered down his head, but kept it between the two (conditions). And when he raised his head after bowing, he did not prostrate himself until he stood up straight; and when he raised his head after prostration, he did not prostrate (the second time) until he sat down properly; and he recited al-tahiyyat after every pair of rak’ahs; and when he sat, he spread out his left foot and raised his right. He forbade to sit like the sitting of the devil, and to spread out to hands (on the ground in prostration) like animals. He used to finish prayer with uttering the salutation.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد شیطان کی مانند دونوں قدموں کا گاڑ کر ایڑیوں پر بیٹھنا ہے تشہد میں یہ بیٹھک حرام ہے جبکہ دونوں سجدوں کے درمیان اس طرح کی بیٹھک مسنون و مشروع ہے۔ ٢ ؎: اس سے مراد سجدہ میں دونوں ہاتھوں کو زمین پر بچھانا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٦ (٤٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤ (٨١٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١، ١١٠، ١٧١، ١٩٤، ٢٨١)، سنن الدارمی/الصلاة ٣١ (١٢٧٢) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابھی ابھی مجھ پر ایک سورة نازل ہوئی ہے ، پھر آپ ﷺ نے پڑھا: بسم الله الرحمن الرحيم * إنا أعطيناک الکوثر یہاں تک کہ آپ نے پوری سورة ختم فرما دی، پھر پوچھا: تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس کو زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کوثر ایک نہر کا نام ہے، جسے میرے رب نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ کیا ہے ۔
Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: A surah has just been revealed to me. He then recited: ”In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. Lo! We have given thee Abundance” until he finished it. Then he asked: Do you know what Abundance (al-Kawthar) is? They replied: Allah and His Messenger know it better. He said: It is a river of which my Lord, the Exalted, the Majestic has promised me to give in Paradise.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٤ (٤٠٠)، الفضائل ٩ (٢٣٠٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٢١ (٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٥)، مسند احمد (٣/١٠٢، ٢٨١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر الکوثر (٣٣٥٩)، ویأتي عند المؤلف في السنة برقم: (٤٧٤٧) (حسن )
عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے واقعہ افک کا ذکر کیا، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے اور آپ نے اپنا چہرہ کھولا اور فرمایا: أعوذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم * إن الذين جاء وا بالإفک عصبة منكم ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اسے ایک جماعت نے زہری سے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے یہ بات اس انداز سے ذکر نہیں کی اور مجھے اندیشہ ہے کہ استعاذہ کا معاملہ خود حمید کا کلام ہو۔
Urwah reported on the authority of Aisha (RA) mentioning the incident of slander. She said: The Messenger of Allah ﷺ sat and unveiled his face and said: “I take refuge in Allah, All-Hearing, All-Knowing from the accursed devil. Lo! They who spread the slander are a gang among you. ” Abu Dawud said: This is a rejected (munkar) tradition. A group of narrators have reported this tradition from al-Zuhri; but did not mention this detail. I am afraid the phrase concerning “seeking refuge in Allah” is the statement of Humaid.
Notes · وضاحت
١ ؎: ” یعنی بیشک جو لوگ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں یہ بھی تم ہی میں سے ایک گروہ ہے “ (سورہ نور: ١١)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٤٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٩٧) (ضعیف شاذ) (یہ حدیث شاذ اس لئے ہے کہ حمید اگرچہ ثقہ ہیں مگر انہوں نے ثقہ جماعت کی مخالفت کی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ سے پوچھا: آپ کو کس چیز نے ابھارا کہ آپ سورة برات کا جو کہ مئین ١ ؎ میں سے ہے، اور سورة الانفال کا جو کہ مثانی ٢ ؎ میں سے ہے قصد کریں تو انہیں سات لمبی سورتوں میں کردیں اور ان دونوں (یعنی انفال اور برات) کے درمیان میں بسم الله الرحمن الرحيم نہ لکھیں؟ عثمان نے کہا: نبی اکرم ﷺ پر آیتیں نازل ہوتی تھیں تو آپ کاتب کو بلاتے اور ان سے فرماتے: اس آیت کو اس سورة میں رکھو، جس میں ایسا ایسا (قصہ) مذکور ہے ، اور آپ ﷺ پر ایک ایک دو دو آیتیں اترا کرتیں تو آپ ایسا ہی فرمایا کرتے، اور سورة الانفال ان سورتوں میں ہے جو پہلے پہل مدینہ میں آپ پر اتری ہیں، اور برات ان سورتوں میں سے ہے جو آپ ﷺ پر آخر میں اتری ہیں اور سورة برات کا مضمون سورة الانفال کے مضمون سے ملتا جلتا ہے، اس وجہ سے مجھے گمان ہوا کہ شاید برات (توبہ) انفال میں داخل ہے، اسی لیے میں نے دونوں کو سبع طوال ٣ ؎ میں رکھا اور دونوں کے بیچ میں بسم الله الرحمن الرحيم نہیں لکھا۔
Narrated Uthman ibn Affan:: Yazid al-Farisi said: I heard Ibn Abbas say: I asked Uthman ibn Affan: What moved you to put the (Surah) al-Baraah which belongs to the miin (surahs) (containing one hundred verses) and the (Surah) al-Anfal which belongs to the mathani (Surahs) in the category of as-sabu at-tiwal (the first long surah or chapters of the Quran), and you did not write In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful between them? Uthman replied: When the verses of the Quran were revealed to the Prophet ﷺ , he called someone to write them down for him and said to him: Put this verse in the surah in which such and such has been mentioned; and when one or two verses were revealed, he used to say similarly (regarding them). (Surah) al-Anfal is the first surah that was revealed at Madina, and (Surah) al-Baraah was revealed last in the Quran, and its contents were similar to those of al-Anfal. I, therefore, thought that it was a part of al-Anfal. Hence I put them in the category of as-sabu at-tiwal (the seven lengthy surahs), and I did not write In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful between them.
Notes · وضاحت
١ ؎: مئین ان سورتوں کو کہتے ہیں جو سو (١٠٠) سے زیادہ آیتوں پر مشتمل ہوں۔ ٢ ؎: مثانی وہ سورتیں ہیں جو مئین سے چھوٹی ہیں۔ ٣ ؎: سبع طوال سے مراد بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام اور اعراف ہیں اور ساتویں کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ وہ انفال اور براہ (دونوں ایک ساتھ) ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ سورة یونس ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ١٠ (٣٠٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٨١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٧، ٦٩) (ضعیف) (یزید الفارسی لین الحدیث ہیں )
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے، اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا، اور آپ نے ہم سے بیان نہیں کیا کہ سورة برات انفال میں سے ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبی، ابو مالک، قتادہ اور ثابت بن عمارہ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے بسم الله الرحمن الرحيم نہیں لکھا یہاں تک کہ سورة النمل نازل ہوئی، یہی اس کا مفہوم ہے۔
The above mentioned tradition has been reported by ibn abbas through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: The Messenger of Allah ﷺ died, but he did not mention to us that surah al baraah ins a part of al-anfal. Abu Dawood said: Al-sha’bl, Abu Malik, Qatadah, and Thabit bin Umarah said: The prophet ﷺ did not write”In the name of Allah, the compassionate, the merciful” until Surah al-naml was revealed. This is the meaning of what they said. Further, this is a mursal traditional (omitting the name of the companion)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سورة کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے، جب تک کہ بسم الله الرحمن الرحيم آپ پر نہ اتر جاتی، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں۔
Ibn Abbas said: The prophet ﷺ did not distinguish between the two surahs until the words “In the name of Allah, the Compassionate, the merciful” was revealed to him. These are the words of Ibn al-sarh.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٤، ١٨٦٧٨) (صحیح )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے لمبی کروں پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو اسے مختصر کردیتا ہوں، اس اندیشہ سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں ۔
Abu Qatadah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: I stand up to pray and intend to prolong it; but when I hear the cry of a boy I shorten if for fear that his mother might be distressed.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦٥ (٧٠٧)، ١٦٣ (٨٦٨)، سنن النسائی/الإمامة ٣٥ (٨٢٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٩ (٩٩١)، (تحفة الأشراف: ١٢١١٠)، وقد أخرجہ: (حم ٥/٣٠٥) (صحیح )
عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: آدمی (نماز پڑھ کر) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے ١ ؎۔
Jabir said: Muadh bin Jabal used to pray along with the prophet ﷺ ; then he returned and led us in prayer. Sometimes he (the narrator) said: then he returned and led his people in prayer. One night the prophet ﷺ delayed the prayer. Sometimes he (the narrator) mentioned the word “the night prayer”. Then Muadh prayed along with the Prophet ﷺ , then returned to his people and led them in prayer, and recited surah al-baqrah. A mane turned aside and prayed alone. The people said to him: Have you become a hypocrite, so and so? He replied: I did not become a hypocrite. He then came to the prophet ﷺ and said (to him): Messenger of Allah. Muadh prays along with you and then returns and leads us in prayers. We look after camels used for watering and work for by day. De came to us leading us In prayer, and he recited Surah al-Baqrah (in prayer). He (the prophet) said: Muadh, are you a trouble maker? Recite such an d such ; recite such and such (surahs) The narrator Abu al-zubair said (recite) “Glorify the name of the most high lord” (surah lxxxvii.) and “By the night when it covers over” (surah xcii.) we mentioned this to Amr. He said I think he mentioned it (the names of some surahs).
Notes · وضاحت
١ ؎: جب نماز کے شرائط، ارکان یا خشوع و خضوع میں کسی طرح کی کمی ہوتی ہے تو پوری نماز کا ثواب نہیں لکھا جاتا بلکہ ثواب کم ہوجاتا ہے، بلکہ کبھی وہ نماز الٹ کر پڑھنے والے کے منھ پر مار دی جاتی ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ معاذ ؓ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم ﷺ نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چناچہ معاذ بن جبل ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورة پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) : تم سبح اسم ربک الأعلى ، والليل إذا يغشى پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکبری: کتاب السہو ١٣٠ (٦١٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢١) (حسن )
انظر حدیث رقم: (٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ٢٥٣٣) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ معاذ ؓ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم ﷺ نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چناچہ معاذ بن جبل ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورة پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) : تم سبح اسم ربک الأعلى ، والليل إذا يغشى پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔
Hazm bin Ubayy bin Kaab said that he came to Muadh bin Jabal who was leading the people in the sunset prayer. According to this version, the Messenger of Allah ﷺ said: O Muadh, do not become a trouble, because the aged, the weak, the needy and the traveler pray behind you.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ٢٥٣٣) (صحیح )
حزم بن ابی بن کعب سے اس واقعہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ وہ معاذ بن جبل ؓ کے پاس آئے، وہ لوگوں کو مغرب پڑھا رہے تھے، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے نہ بنو، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور، حاجت مند اور مسافر نماز پڑھتے ہیں ۔
Narrated Some Companions of the Prophet: Abu Salih reported on the authority of some Companions of the Prophet ﷺ : The Prophet ﷺ said to a person: what do you say in prayer? He replied: I first recite tashahhud (supplication recited in sitting position), and then I say: O Allah, I ask Thee for Paradise, and I seek refuge in Thee from Hell-Fire, but I do not understand your sound and the sound of Muadh (what you say or he says in prayer). The Prophet ﷺ said: We too go around it (paradise and Hell-fire).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٩) (منکر) (اس حدیث میں مسافر کا تذکرہ منکر ہے )