حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورة پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورة العادیات اور اسی جیسی سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ١ ؎ حدیث منسوخ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
HIsham bin Urwah said that his father (‘Umrah) used to recite the surahs as you recite like Wa’l-Adiyat (surah c). Abu Dawud said: This indicates that those (traditions indicating long surahs) are abrogated, and this is more sound tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سورة مائدہ، انعام اور اعراف پڑھنے والی حدیث، اگر منسوخ کے بجائے یہ کہا جائے کہ ” وہ بیان جواز کے لئے ہے “ تو زیادہ بہتر ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں مفصل ١ ؎ کی چھوٹی بڑی کوئی سورت ایسی نہیں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرض نماز میں لوگوں کی امامت کرتے ہوئے نہ سنا ہو۔
Amr bin Shuaib, on his father’s authority, quoted his grandfather as saying: There is no short or long surah in al-Mufassal which I have not heard the Messenger of Allah ﷺ reciting when he led the people in the prescribed prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح قول کی رو سے سورة ” ق “ سے اخیر قرآن تک کی سورتیں ” مفصل “ کہلاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٨) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے )
معاذ بن عبداللہ جہنی کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فجر کی دونوں رکعتوں میں إذا زلزلت الأرض پڑھتے ہوئے سنا، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ بھول گئے تھے یا آپ نے عمداً اسے پڑھا۔
Narrated Muadh ibn Abdullah al-Juhani (RA) : A man of Juhaynah told him that he had heard the Prophet ﷺ reciting When the earth is shaken (Surah 99) in both rakahs of the morning prayer. But I do not know whether he had forgotten, or whether he recited it on purpose.
عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں گویا میں نبی اکرم ﷺ کی آواز سن رہا ہوں، آپ فجر میں فلا أقسم بالخنس * الجوار الکنس پڑھ رہے ہیں۔
Amr bin Huraith said: As if I am hearing the voice of the prophet (may peace by upon him) who would recite at the morning prayer “Oh, but I call to witness the planets, the stars which rise and set” (surah 81: 15-16)
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٥ (٨١٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٦)، مسند احمد (٤/٣٠٦، ٣٠٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم جاؤ اور مدینہ میں اعلان کر دو کہ نماز بغیر قرآن کے نہیں ہوتی، اگرچہ سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ اور ہی ہو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Go out and announce in Madina that prayer is not valid but the recitation of the Quran even though it might be fatihat al-kitab and something more.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٦١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٨) (منکر) ( جعفر بن میمون ضعیف راوی ہیں، نیز ثقات کی مخالفت کی ہے )
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ اعلان کر دوں کہ سورة فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھے بغیر نماز نہیں۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ commanded me to announce that prayer is not valid but with the recitation of Fatihat al-kitab and something more.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦١٩) (صحیح) (صحیح مسلم میں مروی عبادہ بن صامت ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی جعفر بن میمون ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ۔ راوی ابوسائب کہتے ہیں:
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone observes a prayer in which he does not recite Umm al-Quran, it is incomplete, it is incomplete, it is incomplete, and deficient. (The narrator said) I said: Abu Hurairah, sometime I pray behind the imam (then what should I do)? Pressing my hand he replied: O Persian, recite it inwardly, for I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying that Allah, Most High, has said: I have Me and the Half for my servant and My servant will receive what he asks. The Messenger of Allah ﷺ said: Recite. When the servant says: “praise be to Allah, the Lord of the Universe, ” Allah, Most High says: “My servant has praised me. ” When the servant says: “ The Compassionate, the merciful, “Allah Most High says: “My servant has lauded me. ” When the servant says: “Owner of the Day of Judgment, ” Allah, Most High, says: “My servant has glorified Me” When the servant says: “ Thee do we worship and of thee we ask help. “ (Allah says) “This is between Me and My servant, and My servant will receive what he asks. ” When the servant says: “ Guide us to the Straight Path, the path of those whom thou hast favoured, not ( the path) of those who earn thine anger nor of those who go astray, ” (Allah says:) “This is for My servant, and My servant will receive what he asks. ”
اس پر میں نے کہا: ابوہریرہ! کبھی کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں! ) تو انہوں نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ١ ؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کردی ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ بھی ہے جو وہ مانگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑھو: بندہ الحمد لله رب العالمين کہتا ہے تو اللہ عزوجل کہتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، بندہ الرحمن الرحيم کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری توصیف کی، بندہ مالک يوم الدين کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی، بندہ إياک نعبد وإياک نستعين کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر بندہ اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ سب میرے بندے کے لیے ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ٢ ؎۔
Ubadah bin al-Samit reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: the prayer is not valid I one does not recite fatihat al-kitab and something more, sufyan ( the narrator) said: This applies to a man who prays alone.
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز سے مراد سورة فاتحہ ہے، تعظیماً کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔ ٢ ؎: جو لوگ بسم اللہ کو سورة فاتحہ کا جزء نہیں مانتے ہیں اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بسم اللہ کے سورة فاتحہ کے جزء ہونے کی صورت میں اس حدیث میں اس کا بھی ذکر ہونا چاہیے جیسے اور ساری آیتوں کا ذکر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٥)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة ٢ (٢٩٥٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٣ (٩١٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١ (٨٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٣٥، ١٤٠٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٩ (٣٩)، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٥٠، ٢٨٥، ٢٩٠، ٤٥٧، ٤٨٧) (صحیح )
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ اور کوئی اور سورت نہیں پڑھی ١ ؎۔ سفیان کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے ہے جو تنہا نماز پڑھے ٢ ؎۔
Narrated Ubadah ibn as-Samit: We were behind the Messenger of Allah ﷺ at the dawn prayer, and he recited (the passage), but the recitation became difficult for him. Then when he finished, he said: Perhaps you recite behind your imam? We replied: Yes, it is so, Messenger of Allah. He said: Do not do so except when it is Fatihat al-Kitab, for he who does not recite it is not credited with having prayed.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ سورة فاتحہ سے کم پر نماز جائز نہیں ہوگی، سورة فاتحہ سے زائد قرات کے وجوب کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ ٢ ؎: خطابی کا کہنا ہے کہ یہ عام ہے بغیر کسی دلیل کے اس کی تخصیص جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٤ (٩١١) (وقد ورد بدون قولہ:” فصاعداً “ عند: صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٦)، سنن الترمذی/ الصلاة ٦٩ (٢٤٧)، ١١٦ (٣١٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١ (٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥١١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٤، ٣٢١، ٣٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٦ (١٢٧٨) (صحیح )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ نماز فجر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے، آپ نے قرآت شروع کی تو وہ آپ پر دشوار ہوگئی، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو؟ ، ہم نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں تو ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: سورة فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو، کیونکہ جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔
Nafib. Mahmudb. Al-Rabi Al-Ansari said: “Ubadah bin al-Samit came to late to lead the morning prayer. Abu Nuaim, the Muadhdhin, pronounced the takbir and he led the people in prayer. Then Ubadah came and I was with him. We Joined the row behind Abu Nuaim, while Abu Nuaim was reciting the Quran loudly. Then Ubadah began to recite the Umm al-Quran (I. e Surah al Fatihah). When he finished, I said to Ubadah: I heard you reciting the Umm al-Quran while Abu Nuaim was reciting Quran loudly. He replied: yesgt; The Messenger of Allah ﷺ led us in a certain prayer in which the Quran is recited loudly, but he became confused in the recitation. When he finished he turned his face to us and said: Do you recite when I recite the Quran loudly? Some of us said: we do so; this is why I said to myself: What is that which confused me (in the recitation of) the Quran. Do not recite anything from the Quran when I recite it loudly except the Umm al-Quran.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب اسے هَذَّ يَهُذُّ کا مصدر هَذًّا مانا جائے تو اس کے معنی پڑھنے والے کا ساتھ پکڑنے کے لئے جلدی جلدی پڑھنے کے ہوں گے، اور اگر هذا کو اسم اشارہ مانا جائے تو ترجمہ یوں کریں گے ” ایسا ہی ہے “۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی الصلاة ١١٥ (٣١١)، (تحفة الأشراف: ٥١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٣، ٣١٦، ٣٢٢)، (حسن) (ابن خزیمة نے اسے صحیح کہا ہے (٣ ؍ ٣٦- ٣٧) ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے بھی حسن کہا ہے (٢ ؍ ١٦٤) ابن حجر نے نتائج الافکار میں حسن کہا ہے )، ملاحظہ ہو: امام الکلام تالیف مولانا عبدالحی لکھنوی (٢٧٧- ٢٧٨ )
نافع بن محمود بن ربیع انصاری کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت ؓ نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کردی، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، عبادہ سورة فاتحہ پڑھنے لگے، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ ؓ سے کہا: میں نے آپ کو (نماز میں) سورة فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہاں اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے، آپ کو قرآت میں التباس ہوگیا، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو؟ ، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اب ایسا مت کرنا، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورة فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو ۔
The above mentioned tradition has been transmitted through a different chain of narrators by Ubadah bin al-Samit like the version of al-Rabib Sulaiman. This version adds: Makhul used to recite Surah al Fatihah al-kitab quietly in the prayer in which the imam recites the Quran loudly when he observes the period of silence. If he does not observe the period of silence, recite it before him (i. e before his recitation), or along with him or after him; do not give it up in any case.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٢٩ (٩٢١)، (تحفة الأشراف: ٥١١٦) (صحیح) (اہل علم نے اس حدیث کے بارے میں لمبی چوڑی بحثیں کی ہیں، ملاحظہ ہو: تحقيق الکلام في وجوب القرائة خلف الإمام للعلامة عبدالرحمن المبارکفوري، وإمام الکلام للشيخ عبدالحي اللکهنوي، و ضعيف أبي داود (9/ 318 )
اس طریق سے بھی عبادہ ؓ سے ربیع بن سلیمان کی حدیث کی طرح روایت مروی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ مکحول مغرب، عشاء اور فجر میں ہر رکعت میں سورة فاتحہ آہستہ سے پڑھتے تھے، مکحول کا بیان ہے: جب امام جہری نماز میں سورة فاتحہ پڑھ کر سکتہ کرے، اس وقت آہستہ سے سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو اور اگر سکتہ نہ کرے تو اس سے پہلے یا اس کے ساتھ یا اس کے بعد پڑھ لیا کرو، کسی حال میں بھی ترک نہ کرو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ finished a prayer in which he had recited (the Quran) loudly, he asked: Did any of you recite along with me just now? A man replied: Yes, Messenger of Allah. He said: I am wondering what is the matter with me that I have been contended with reciting the Quran. He said: When the people heard that from the Messenger of Allah ﷺ they ceased reciting (the Quran) along with him at the prayers in which he recited aloud. Abu Dawud said: This tradition reported by Ibn Ukaimah has also been narrated by Mamar, Yunus, and Usamah bin Zaid on the authority of al-Zuhri similar to the tradition of Malik.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥١١٤) (ضعیف) (مکحول نے عبادہ ؓ کو نہیں پایا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک نماز سے جس میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی تھی پلٹے تو فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی ابھی قرآت کی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تبھی تو میں (دل میں) کہہ رہا تھا کہ کیا ہوگیا ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ کشمکش کی جا رہی ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جس وقت لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا تو جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے تھے، اس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآت کرنے سے رک گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer, that was, we think, the dawn prayer, He further narrated this tradition up to the words “what is the matter with me that I have been contended with in (the recitation of) the Quran. ” Abu Dawud said: Musaddad in his tradition said that Mamar said: The people ceased to recit (the Quran) at the prayer in which the Messenger of Allah ﷺ recited aloud. Ibn al-Sarh said in his version that Mamar reported from al-Zuhrl on the authority of Ab Hurairah. Then the people ceased (to recite behind the imam). Another version says: Sufyan said: Al-Zuhrl spoke a word that I could not hear. Then Mamar said; He said: Then people ceased (to recite the Quran) Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Abd al-Raman bin Ishaq on the authority of al-Zuhrl. This version ends at the words: “What is the matter with me that I am contended with in (the recitation of) the Quran. Al-Awza’ I also narrated it on the authority of al-Zuhri. This version has: Al-Zuhrl said: The Muslims took lesson from that and thenceforth they did not recite (the Quran) at the prayer in which he (the Prophet) recited a loud. Abu Dawud said: I heard Muhammad bin Yaya bin Faris say: The words “ the people ceased to recite (the Quran)” is a statement of al-zuhri.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ (٣١٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٨ (٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣ (٨٤٨، ٨٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٠(٤٤)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٨٤، ٢٨٥، ٣٠٢، ٤٨٧) (صحیح )
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، ہمارا گمان ہے کہ وہ نماز فجر تھی، پھر اسی مفہوم کی حدیث ما لي أنازع القرآن تک بیان کی۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ معمر نے کہا: تو لوگ اس نماز میں قرآت سے رک گئے جن میں رسول اللہ ﷺ جہری قرآت کرتے تھے، اور ابن سرح کی روایت میں ہے کہ معمر نے زہری سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا: فانتهى الناس یعنی لوگ (قرآت سے) رک گئے، عبداللہ بن محمد زہری کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا کہ زہری نے کوئی بات کہی، جسے میں سن نہ سکا تو معمر نے کہا وہ یہی فانتهى الناس کا کلمہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی روایت آپ ﷺ کے قول ما لي أنازع القرآن پر ختم ہے اور اسے اوزاعی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ زہری نے کہا: اس سے مسلمانوں نے نصیحت حاصل کی، چناچہ جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے، آپ کے ساتھ قرآت نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس کو کہتے ہوے سنا ہے کہ فانتهى الناس زہری کا کلام ہے ١ ؎۔
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ led (us) in the noon prayer, and a man came and recited behind him Glorify the name of thy Lord, the Most High (Surah 87). When he finished (the prayer), he said: Which of you recited? They (the people) said: A man (recited). He said: I knew that some one of you confused me in it (in the recitation of the Quran). Abu Dawud said: Abu al-Walid said in his version: Shubah said: I asked Qatadah (RA) : Did Saeed not say: Listen attentively to the Quran? He replied: (Yes), but that applies to prayer in which it (the Quran) is recited aloud. Ibn Kathir said in his version: I said to Qatadah (RA) : Perhaps he (the Prophet) disliked it (recitation). He said: If he had disliked it, he would have prohibited it.
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ فانتهى الناس کے جملہ کو معمر کبھی ابوہریرہ ؓ کا کلام قرار دیتے ہیں، اور کبھی زہری کا، لیکن زہری کے دوسرے تلامذہ سفیان، عبدالرحمن بن اسحاق، اوزاعی اور محمد بن یحییٰ بن فارس نے اسے زہری کا کلام قرار دیا ہے۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی تو ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے پیچھے سبح اسم ربک الأعلى کی قرآت کی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم میں کس نے قرآت کی ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ایک شخص نے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالولید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا تو میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا سعید کا یہ کہنا نہیں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو؟ انہوں نے کہا: یہ حکم اس وقت ہے، جب قرآت جہر سے ہو۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ نے اسے ناپسند کیا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کو یہ ناپسند ہوتا، تو آپ اس سے منع فرما دیتے ١ ؎۔
Imran bin Husain reported that the prophet of Allah ﷺ led them in the noon prayer. When he finished it, he said: Which of you did recite the surah “ Glorify the name of thy lord, the Most High” (Surah lxxxvii.) A man said: I. He said: I knew that some one of you confused me in it (i. e in the recitation of the Quran).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ نے صرف (زور سے پڑھنے) کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلجان قلب کو ناپسند کیا، سورة کی قرأت پر صاد کیا، تو سورة فاتحہ کی قرأت پر بدرجہ اولیٰ پسندیدگی پائی گئی۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: تم میں سے کس نے (ہمارے پیچھے) سورة سبح اسم ربک الأعلى پڑھی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to us while we were reciting the Quran, and there were among us bedouins and the non-Arabs. He said: Recite, all is well. In the near future there will appear people who will straighten it (the Quran) as an arrow is straightened. They will recite it quickly and not slowly (or it means that they will get the reward in this world and not in the Hereafter).
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں بدوی بھی تھے اور عجمی بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: پڑھو سب ٹھیک ہے عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (یعنی قرآن کے الفاظ و کلمات کو) اسی طرح درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے (یعنی تجوید و قرآت میں مبالغہ کریں گے) اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھیں گے ۔
Sahl bin Saad al-Saeedi said: The Messenger of Allah ﷺ one day came out to us while we were reciting the Quran. He said: Praise be to Allah. The Book of Allah is one, and among you are the red, and among you are the white and among you are the black. Recite it before there appear people who will recite it and straighten it as an arrow is straightened. They will get their reward for it in this world and will not get it in the Hereafter.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٠١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٧، ٣٩٧) (صحیح )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: الحمداللہ! اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ، سفید، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں، تم اسے پڑھو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں، جو اسے اسی طرح درست کریں گے، جس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے، اس کا بدلہ (ثواب) دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Abu Awfa (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: I cannot memorise anything from the Quran: so teach me something which is sufficient for me. He said: Say Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and Allah is most great, and there is no might and no strength but in Allah.: He said: Messenger of Allah, this is for Allah, but what is for me? He said: Say: O Allah have mercy on me, and sustain me, and keep me well, and guide me. When he stood up, he made a sign with his hand (indicating that he had earned a lot). The Messenger of Allah ﷺ said: He filed up his hand with virtues.