عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں قرآن میں سے کچھ نہیں پڑھ سکتا، اس لیے آپ مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو اس کے بدلے مجھے کفایت کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله کہا کرو ، اس نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو اللہ کی تعریف ہوئی، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم کہا کرو اللهم ارحمني وارزقني وعافني واهدني اے پروردگار! مجھ پر رحم فرما، مجھے روزی دے، مجھے عافیت دے اور مجھ کو ہدایت دے ، جب وہ شخص کھڑا ہوا تو اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ١ ؎ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نے تو اپنا ہاتھ خیر سے بھر لیا ۔
Jabir bin Abdullah said: we used to offer supererogatory prayers and recite supplications while we were standing, and would glorify Allah while bowing and prostrating.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں ہاتھوں کو سمیٹا جس سے اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس نے ان باتوں کو محفوظ کرلیا ہے جن کا رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا ہے جس طرح کوئی عمدہ چیز سمیٹ کر آدمی اسے محفوظ کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ افتتاح ٣٢ (٩٢٥) (تحفة الأشراف: ٥١٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٦، ٣٨٢) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں ہم نفل نماز پڑھتے تو قیام و قعود کی حالت میں دعا کرتے اور رکوع و سجود کی حالت میں تسبیح پڑھتے تھے۔
The above-mention tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Humaid, but he did not mention the word “Supererogatory prayer” This version has: Al-Hasan (al-Basri) would recite fatihat al-kitab in the noon and afternoon prayers while he led in prayer or he was behind the imam and would glorify Allah, and would repeatedly say: “Allah is most great” and “ There is no god but Allah” (i. e takbir and tahlil) equal to the amount one recites al-Qaf (Surah 50) and al-Dhariyat (surah 51).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٠) (ضعیف) (حسن بصری نے جابر ؓ سے نہیں سنا ہے )
حمید سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں راوی نے نفل کا ذکر نہیں کیا ہے، اس میں ہے کہ حسن بصری ظہر اور عصر میں خواہ وہ امام ہوں یا امام کے پیچھے ہوں، سورة فاتحہ پڑھتے تھے اور سورة ق اور سورة ذاریات پڑھنے کے بقدر (وقت میں) تسبیح و تکبیر اور تہلیل کرتے تھے۔
Mutarrif said: I and Imran bin Husain offered prayer behind ‘All bin AbI Talib (may Allah be pleased with him). When he prostrated, he uttered the takbir (Allah is most great) and when he bowed, he uttered the takbir and when he stood up at the end of two rak’ahs, he uttered the takbir. When we finished our prayer, Imran caught hold of my hand, and said: He has led us in prayer just now like the prayer offered by Muhammed (may peace by upon him).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٠، ١٨٥١٣) (ضعیف مقطوع ولکن فعلہ صحیح وثابت) (جابر ؓ کا اثر ضعیف ہے، اور حسن بصری کا فعل صحیح ہے، قرأت پر قادر آدمی کے لئے قرأت فرض ہے )
مطرف کہتے ہیں میں نے اور عمران بن حصین ؓ نے علی بن ابی طالب ؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو جب وہ سجدہ کرتے تو الله اکبر کہتے، جب رکوع کرتے تو الله اکبر کہتے اور جب دو رکعت پڑھ کر تیسری کے لیے اٹھتے تو الله اکبر کہتے، جب ہم فارغ ہوئے تو عمران ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابھی انہوں نے ایسی نماز پڑھی ہے (راوی کو شک ہے) یا ابھی ہمیں ایسی نماز پڑھائی ہے، جیسے محمد ﷺ کی نماز ہوتی تھی۔
Abu bakr bin Abdur-Rahman and abu Salamah said: Abu Hurairah would utter the takbir in every prayer, whether obligatory or non-obligatory, He would utter the takbir when he stood, and he would utter the takbir when he bowed, then he would say: “Allah listens to him who praises Him”; he then would say before prostrating himself; “ Our Lord, to Thee be praise”; then he would say while falling in prostration: “Allah is most great”; he then would utter the takbir when he raised his head after prostration, and then utter the takbir when he prostrated, and then utter takbir the takbir when he stood up at the end of two rak’ahs after sitting down. He used to do so in every rak’ah until he finished his prayer. Then he would say at the end of the prayer: By Him in Whose hands lies my life, I am closer to the Messenger of Allah ﷺ in respect of his prayer. Such was the prayer he used to offer until he departed from the world. Abu Dawud said: Malik, al-Zubaidi and others have narrated so that they form the last words from al-Zuhri on the authority of Ali b, Husain. And this is supported by the version reported by Abd al-A’la from Mamar and Shuaib bin Abi Hamzah on the authority of Al-Zuhri.
زہری کہتے ہیں: مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ نے خبر دی ہے کہ ابوہریرہ ؓ فرض ہو یا نفل ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے خواہ فرض ہو یا نفل، نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت تکبیر الله اکبر (تکبیر تحریمہ) کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر الله اکبر کہتے، پھر سمع الله لمن حمده کہتے، اس کے بعد سجدہ کرنے سے پہلے ربنا ولک الحمد کہتے، پھر جب سجدے میں جانے لگتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب (دوسرے) سجدے میں جاتے تو الله اکبر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب دو رکعت پڑھ کر اٹھتے تو الله اکبر کہتے، ایسے ہی ہر رکعت میں نماز سے فارغ ہونے تک (تکبیر) کہتے ١ ؎، پھر جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے، اسی طرح آپ کی نماز تھی یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے آخری ٹکڑے یعنی إن کانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا کو مالک اور زبیدی وغیرہ زہری کے واسطہ سے علی بن حسین سے مرسلاً نقل کرتے ہیں اور عبدالاعلی نے بواسطہ معمر زہری کے دونوں شیوخ ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ذکر کرنے میں شعیب بن ابی حمزہ کی موافقت کی ہے ٢ ؎۔
Abd al Rahman bin Abza said that he offered prayer along with the Messenger of Allah ﷺ but he did not complete the takbir. Abu Dawud said: This means that when he raised his head after bowing and when he was about to prostrate, he did not utter the takbir, and when he stood up after prostration, he did not utter the takbir.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت کی نماز میں ٢٢ تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نماز میں کل (٩٤) تکبیریں ہوئیں جس میں سے صرف تکبیر تحریمہ فرض ہے اور باقی سبھی سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہوجائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہوجائے گی ۔ ٢ ؎: جب کہ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے صرف أخبرني أبو بکر بن عبدالرحمن کہا ہے ابوسلمہ کا ذکر نہیں کیا ہے اور مالک نے ابن شہاب سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے صرف عن أبي سلمة بن عبدالرحمن کہا ہے ابوبکر بن عبدالرحمن کا ذکر نہیں کیا ہے اس کے برخلاف ابن شہاب کے تلامذہ میں سے شعیب بن ابی حمزہ نے ابن شہاب کے دونوں شیوخ کا ذکر کیا ہے اسی طرح عبدالاعلیٰ نے بواسطہ معمر عن زہری دونوں کا ذکر کیا ہے۔
عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ تکبیر مکمل نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے اور جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے اور جب سجدے سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے ١ ؎۔
Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I saw that the Prophet ﷺ placed his knees (on the ground) before placing his hands when he prostrated himself. And when he stood up, he raised his hands before his knees.
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح روایتوں سے سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے باقی سبھی حرکات میں اللہ اکبر کہنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٦٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بن عمران لین الحدیث ہیں، نیز حدیث میں اضطراب ہے )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے ١ ؎ اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔
The above-mentioned tradition has also been transmitted by Wail bin Hujr through a different chain of narrators. This version has: When he prostrated himself, his knees fell on the ground before his hands had fallen. Hemmam said: This tradition has also been transmitted by Asim bin Kulaib through a different chain of narrators to the same effect. And one of these two versions, and probably the version narrated by Muhammad bin Juhadah, has the words: When he stood up (after prostration), he stood up on his knees taking the support of his thighs.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام دارقطنی کہتے ہیں: اس حدیث کو عاصم سے شریک کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور شریک تفرد کی صورت میں قوی نہیں ہیں، علامہ البانی کہتے ہیں: اس حدیث کے متن کو عاصم بن کلیب سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ شریک کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اس کے باوجود ان لوگوں نے سجدہ میں جانے اور اٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث میں شریک کو وہم ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الصلاة ٨٤ (٢٦٨)، سنن النسائی/الإفتتاح ١٢٨ (١٠٩٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩(٨٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٠) (ضعیف) (شریک جب متفرد ہوں تو ان کی روایت مقبول نہیں )
اس سند سے وائل بن حجر ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی نماز کی کیفیت مروی ہے، اس میں ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ ﷺ کے گھٹنے ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑتے۔ ہمام کہتے ہیں: مجھ سے شقیق نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے اور عاصم نے اپنے والد سے کلیب نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے اور ان دونوں میں سے کسی کی حدیث میں اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن جحادہ کی حدیث میں یہ ہے: جب آپ ﷺ اٹھتے تو اپنی ران پر ٹیک لگا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بل اٹھتے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when one of you prostrates himself he must not kneel in the manner of camel, but should put down his hands before his knees.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٢) (ضعیف) قد تقدم ہذا الحدیث برقم (٧٣٦) (عبدالجبار کا اپنے والد وائل سے سماع ثابت نہیں ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: (Does) one of you kneel down in his prayer as a camel kneels down (i. e. put his knees before his hands).
Notes · وضاحت
١ ؎: علامہ ابن القیم نے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو مقلوب کہا ہے اور کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے وليضع رکبتيه قبل يديه (یعنی وہ ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے) لیکن محدث عبدالرحمن مبارک پوری، علامہ احمد شاکر، شیخ البانی وغیرہ نے ابن القیم کے اس خیال کی تردید کی ہے اور ابن خزیمہ کا کہنا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت كنا نضع اليدين قبل الرکبتين فأمرنا بالرکبتين قبل اليدين (پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا) انتہائی ضعیف ہے قطعاً قابل استدلال نہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا ١ ؎ تم میں سے ایک شخص اپنی نماز میں بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟ ۔
Abu Qilabah said: Abu sulaiman Malik bin al-Huwairith came to our mosque and said: By Allah, I Shall offer prayer; and I do not intend to pray, but I intend to show you how I saw the Messenger of Allah ﷺ offering prayer. He (the narrator Ayyub) said: I asked Abu Qilabah: How did he pray? He replied: Like the prayer of this head after the last prostration in the first rak’ah, he used to sit, and then stand up.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں لفظ یعمد سے پہلے ہمزۂ استفہام مقدر ہے اسی وجہ سے ترجمہ میں ” کیا “ کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اس طرح نہ بیٹھا کرو۔
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث ؓ ہماری مسجد میں آئے تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، میرے پیش نظر نماز پڑھانا نہیں بلکہ میں تم لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: انہوں نے کس طرح نماز پڑھی؟ تو ابوقلابہ نے کہا: ہمارے اس شیخ۔ یعنی عمرو بن سلمہ کی طرح، جو ان کے امام تھے اور ابوقلابہ نے ذکر کیا کہ ابوقلابہ نے مالک بن حویرث ؓ جب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو (تھوڑی دیر) بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے ١ ؎۔
Abu Qilabah said: Abu Sulaiman Malik bin al-Huwairth came to our mosque, and said: By Allah, I Shall offer prayer, though I do not intend to pray; I only intend to show you how I saw the Messenger of Allah ﷺ praying. The narrator said: ( He then prayed and) he sat at the end of the first rak’ah when he raised his head after the last prostration.
Notes · وضاحت
وضاحت: اس بیٹھنے کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کا جواب یہ دیا ہے کہ موٹاپے اور کبر سنی کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا تھا، لیکن یہ تاویل بلا دلیل ہے، شیخ البانی (رح) کہتے ہیں: جلسہ استراحت کو اس امر پر محمول کرنا کہ یہ حاجت کی بنا پر تھا عبادت کی غرض سے نہیں ؛ لہٰذا یہ مشروع نہیں ہے۔ جیسا کہ احناف وغیرہ کا قول ہے۔ باطل ہے اور اس کے بطلان کے لئے یہی کافی ہے کہ دس صحابہ رضی اللہ عنھم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز میں داخل کرنے کو تسلیم کیا ہے، اگر انہیں یہ علم ہوتا کہ آپ ﷺ نے اسے ضرورت کی بنا پر کیا ہے تو وہ آپ ﷺ کے طریقہ نماز میں اسے داخل کرنے پر خاموشی اختیار نہ کرتے۔
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابو سلیمان مالک بن حویرث ؓ ہماری مسجد میں آئے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نماز پڑھوں گا مگر میرے پیش نظر نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ ابوقلابہ کہتے ہیں: پھر وہ پہلی رکعت میں بیٹھے جس وقت انہوں نے اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھایا۔
Abu Qilabah said: Malik bin al-Huwairith saw that the prophet (may peace by upon him) would not stand at the end of the first or the third rak’ah until he sat down straight.
مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔
Tawus said: we asked Ibn Abbas about sitting on heels between the two prostrations. He said: It is the sunnah. We said: We look upon it as a pressure on the foot. He said: This is the sunnah of your Prophet ﷺ
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: دونوں سجدوں کے بیچ میں دونوں قدموں پر اقعاء ١ ؎ (سرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجے کو کھڑا کر کے بیٹھنا) کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ طاؤس کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تو اسے آدمی کے ساتھ زیادتی سمجھتے تھے تو ابن عباس ؓ نے کہا: یہ تیرے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
Abdullah bin Abi Awfa said: When the Messenger of Allah ﷺ raised his head after bowing, he said: Allah listens to him who praises Him. O Allah, our lord, to Thee be the praise in the heavens and in all the earth, and all that it please Thee to create afterwards. Abu Dawud said: Sufyan al-Thawri and Shubah bin al-Hajjaj reported on authority of Ubaid bin al-Hasan (RA) : There is no mention of the words “after bowing” in this tradition. Sufyan said: we met al-shaikh Ubaid bin al-Hasan; he did not say the words “bowing” in it. Abu dawud said: Shubah narrated this from Abi ‘Ismah, from al-Amash, on the authority of Ubaid, saying: “after bowing”.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اقعاء کی مسنون صورت ہے جو دونوں سجدوں کے درمیان کی بیٹھک کے ساتھ مخصوص ہے، رہی اقعاء کی ممنوع صورت جس سے حدیث میں روکا گیا ہے، تو وہ کتے کی طرح چوتڑ اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر دونوں پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے بیٹھنا ہے یا تشہد کی حالت میں دونوں قدموں کو گاڑ کر ایڑیوں پر بیٹھنا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٦ (٥٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٨ (٢٨٣)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح )
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تھے تو سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد کہتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری اور شعبہ بن حجاج نے اس حدیث کو عبید بن لحسن ابوالحسن سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں بعد الرکوع نہیں ہے، سفیان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کے بعد شیخ عبید ابوالحسن سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی اس حدیث میں بعد الرکوع کے الفاظ نہیں کہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے ابوعصمہ سے، ابوعصمہ نے اعمش سے اور اعمش نے عبید سے روایت کیا ہے، اس میں بعد الرکوع کے الفاظ موجود ہیں۔
Abu Saeed Al-Khuri said: When the Messenger of Allah ﷺ said: “ Allah listens to him who praises Him, ” he also said: O Allah, our Lord, to thee be the praise in all heavens. Mu’ammil said ( in his version); “ In all the heavens, and in all the earth, and in all that it pleases Thee to create afterwards. O thou Who art worthy of praise and glory, most worthy of what a servant says, and we are all thy servants, no one can withhold what thou givest or give what Thou withholdest. “The narrators then were agreed on the words: “And riches cannot avail a wealthy person with Thee. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٠ (٤٧٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨ (٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ٥١٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٤، ٣٥٦، ٣٨١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سمع الله لمن حمده کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم ربنا لک الحمد ملء السماء اور مومل کے الفاظ ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وکلنا لک عبد لا مانع لما أعطيت ، محمود نے اپنی روایت میں: ولا معطي لما منعت کا اضافہ کیا ہے، پھر:ولا ينفع ذا الجد منک الجد میں سب متفق ہیں، بشر نے اپنی روایت میں: ربنا لک الحمد کہا اللهم نہیں کہا، اور محمود نے اللهم نہیں کہا، اور ربنا لک الحمد کہا۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When the Imam says: “Allah listens to him who praised Him, ” say: “O Allah, our lord, to Thee be the praise, “ for if what anyone says synchronises with what the angels say, he will be forgiven his past sins.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٠ (٤٧٧)، سنن النسائی/الافتتاح ١١٥ (١٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٤٢٨١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨ (٨٧٧)، مسند احمد (٣/٨٧)، سنن الدارمی/ الصلاة ٧١ (١٣٥٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو، کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوجائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
Amir said: The people behind the imam should not say: “Allah listens to him who praises Him. ” But they should say: “ Our Lord, to Thee be the praise. ”
عامر شعبی کہتے ہیں : لوگ امام کے پیچھے: سمع الله لمن حمده نہ کہیں، بلکہ ربنا لک الحمد کہیں ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ used to say between the two prostrations: O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, heal me, and provide for me.
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز کی تعلیم سے متعلق مسئ صلا ۃ کی حدیث میں رسول اکرم ﷺ رکوع سے پیٹھ اوپر کرتے ہوئے :سمع الله لمن حمده پڑھتے تھے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے: کسی آدمی کی نماز پوری نہیں ہوتی حتی کہ وہ یہ اور یہ کرے، اس حدیث میں کہ پھر رکوع کرے پھر: سمع الله لمن حمده کہے حتی کہ اچھی طرح کھڑا ہوجائے (ابوداود)۔ اس کے بعد آپ ﷺ حالت قیام میں ربنا ولک الحمد پڑھتے، آپ ﷺ نے اس کا حکم امام اور مقتدی سب کو یہ فرما کردیا کہ: صلوا کما رأيتموني أصلي۔ آپ ﷺ فرماتے تھے: امام کو اس کی اقتداء ہی کے لئے بنایا گیا ہے، فرمایا: اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو اللہم ربنا ولک الحمد کہو، اور اس کی تعلیل ایک دوسری حدیث میں یوں کی ہے کہ جس آدمی کا قول ملائکہ کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے ماضی کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ اس تفصیل کے مطابق امام اور مقتدی سب کو دونوں دعا پڑھنی چاہیے، بعض ائمہ جیسے شعبی کا مذہب ہے کہ مقتدی سمع الله لمن حمده نہ کہیں صرف ربنا ولک الحمد پر اکتفا کریں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے کہتے تھے۔
Narrated Asma daughter of Abu Bakr (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: One of you who believes in Allah and in the Last Day should not raise her head until the men raise their heads (after prostration) lest they should see the private parts of men.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٩٥ (٢٨٤، ٢٨٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٤ (٨٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٤٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٥، ٣٧١) (حسن )
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ اپنا سر (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک کہ مرد نہ اٹھا لیں، اس اندیشہ سے کہ ان کی نظر کہیں مردوں کے ستر پر نہ پڑے ١ ؎۔
Al-Bara said: The prostration observed by the Messenger of Allah ﷺ , his bowing, and his sitting between the two prostrations were nearly equal.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابتداء اسلام میں لوگ بڑی تنگدستی اور محتاجی میں تھے، اکثر کو ایک تہبند یا چادر کے علاوہ دوسرا کپڑا میسر نہ ہوتا تھا، جسے وہ اپنی گردن پر باندھ لیتے تھے، جو بیک وقت کرتے اور تہبند کا کام دیتا تھا، کپڑوں کی تنگی کے باعث سجدہ میں ستر کے کھل جانے کا اندیشہ رہتا تھا، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو مردوں کے بعد سر اٹھانے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٨، ٣٤٩) (صحیح) (عروہ نے اسماء کے مولی کی متابعت کی ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے )