ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ١ ؎۔
Ibn Juraij said; I often saw Ata praying while letting his garment trail. Abu Dawud said: This (practice of Ata) weakens the tradition (narrated by Abu Hurairah).
Notes · وضاحت
١ ؎: راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے مخالف عمل اس حدیث کے ترک کرنے کے لئے قابل اعتبار نہیں، اصل اعتبار روایت کا ہے (اگر صحیح ہو) راوی کے عمل کا نہیں: الحجة فيما روى، لا فيما رأى نیز عطاء کا فتوی حدیث کے مطابق ثابت ہے جیسا کہ گزرا، اس لئے عطاء کے فعل سے حدیث کی تضعیف درست نہیں ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ سدل کرتے وقت بھول گئے ہوں یا کوئی دوسرا عذر لاحق ہوگیا ہو۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے شعار یا لحاف ١ ؎ میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد (معاذ) کو شک ہوا ہے (کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ: شعرنا کہا، یا: لحفنا ) ۔
Aishah said; The Messenger of Allah ﷺ would not pray on our sheets of cloth or on our quits. Ubaid allah said: My father doubted.
Notes · وضاحت
١ ؎: جو کپڑا جسم سے لگا رہتا ہے اسے شعار کہتے ہیں، اور اوڑھنے کی چادر کو لحاف۔
Takhrij · تخریج
انظر حديث رقم: 367، (تحفة الأشراف: ١٦٢٢١، ١٧٥٨٩، ١٩٢٩٦) (صحیح )
ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے غلام ابورافع ؓ کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی ؓ کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔
Narrated Abu Rafi (RA) : Saeed ibn Abu Saeed al-Maqburi reported on the authority of his father that he saw Abu Rafi the freed slave of the Prophet ﷺ , passing by Hasan ibn Ali (Allah be pleased with them) when he was standing offering his prayer. He had tied the back knot of his hair. Abu Rafi untied it. Hasan turned to him with anger, Abu Rafi said to him: Concentrate on your prayer and do not be angry: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: This is the seat of the devil, referring to the back knot of the hair.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامةالصلاة ١٦٧ (١٠٤٢)، مسند احمد (٦/٨، ٣٩١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢٠) (حسن )
عبداللہ بن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث ؓ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا؟ تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Kurayb the freed slave of Ibn Abbas reported: Abdullah ibn Abbas saw Abdullah ibn al-Harith praying having the back knot of the hair. He stood behind him and began to untie it. He remained standing unmoved (stationary). When he finished his prayer he came to Ibn Abbas and said to him: What were you doing with my head? He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A man who prays with the black knot of hair tied is the one praying pinioned.
عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورة مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ ﷺ موسیٰ ١ ؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے قصے پر پہنچے (راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے) تو آپ ﷺ کو کھانسی آگئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب ؓ (سابقہ حدیث کے راوی) اس وقت وہاں موجود تھے ٢ ؎۔
Abdullah bin al-Saib said; the Messenger of Allah ﷺ led us in the morning prayer at Makkah. He began to recite Surah al-Mu;minin and while he came to description of Moses and Aaron or the description of Moses and Jesus the narrator Ibn Abbad doubts or other narrators differed amongst themselves on this word the prophet ﷺ coughed and gave up (recitation) and then bowed Abdullah bin al-Saib was present seeing all this incident.
Notes · وضاحت
١ ؎: موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر: ثم أرسلنا موسیٰ وأخاه هارون بآياتنا وسلطان مبين (سورۃ المومنون: ٤٥) میں ہے، اور عیسیٰ کا ذکر اس سے چار آیتوں کے بعد: وجعلنا ابن مريم وأمه آية وآويناهما إلى ربوة ذات قرار ومعين (سورۃ المؤمنون: ٥٠) میں ہے۔ ٢ ؎: اس سے پہلے والی حدیث کی مناسبت باب سے ظاہر ہے اور یہ حدیث اسی حدیث کی مناسبت سے یہاں نقل کی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٦(٧٧٤ تعلیقاً )، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٥)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٦ (١٠٠٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥ (٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو (آپ ﷺ کی اتباع میں) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟ ، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: قذرا کہا، یا: أذى کہا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : While the Messenger of Allah ﷺ was leading his Companions in prayer, he took off his sandals and laid them on his left side; so when the people saw this, they removed their sandals. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he asked: What made you remove your sandals? The replied: We saw you remove your sandals, so we removed our sandals. The Messenger of Allah ﷺ then said: Gabriel came to me and informed me that there was filth in them. When any of you comes to the mosque, he should see; if he finds filth on his sandals, he should wipe it off and pray in them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٣٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠، ٩٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٣ (١٤١٨)، (صحیح )
بکر بن عبداللہ نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث (مرسلاً ) روایت کی ہے، اس میں لفظ: فيهما خبث ہے، اور دونوں جگہ خبث ہی ہے۔
This tradition has also been transmitted through a chain by Bakr bin Abdullah. This version has the word Khubuth (filth) and in two places the word Khubuthan (filth).
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود کی مخالفت کرو، کیونکہ نہ وہ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے ہیں اور نہ اپنے موزوں میں ۔
Narrated Aws ibn Thabit al-Ansari (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Act differently from the Jews, for they do not pray in their sandals or their shoes.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے (اتار کر) نہ داہنی طرف رکھے اور نہ بائیں طرف، کیونکہ یہ دوسری مصلی کا داہنا ہے، سوائے اس کے کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو اور چاہیئے کہ وہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When any of you prays, he should not place his sandals on his right side or on his left so as to be on the right side of someone else, unless no one is at his left, but should place them between his feet.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٥) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے تو ان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ دے،چاہیے کہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when any of you prays and takes off his sandals, he should not harm anyone by them. He should place them between his feet or pray with them on
عبداللہ بن شداد ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے ہوتی اور حائضہ ہوتی، جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو بسا اوقات آپ کا کپڑا مجھ سے لگ جاتا، آپ ﷺ چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
Maimunah bint al-Harith reported: the Messenger of Allah ﷺ used to pray while. I was by his side in the state of menstruation. Sometime his cloth would touch me when he prostrated. He would pray on a small mat.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٣٠ (٣٣٣)، والصلاة ١٩ (٣٧٩)، ٢١ (٣٨١)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٥١٣)، سنن النسائی/المساجد ٤٤ (٧٣٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٠ (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠، ٣٣٥، ٣٣٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠١ (١٤١٣) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بھاری بھر کم آدمی ہوں۔ وہ بھاری بھر کم تھے بھی، میں آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا ہوں، انصاری نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر بلایا اور کہا: آپ یہاں نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ تو میں آپ کی پیروی کیا کروں، پھر ان لوگوں نے اپنی ایک چٹائی کا کنارہ دھویا، رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ کو کبھی اسے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے اس دن کے۔
Anas bin Malik (RA) reported: A man from the Ansar said: I am a corpulent man-and he was (actually) a fat man; I cannot pray along with you. He prepared food for him and invited him to his house. (he said) (please) pray (here) so that I may see how you pray, and then I would follow you. They (the people) washed one side of their mat. He (the prophet) then got up and prayed two Rak’ahs. Ibn al-Jarud asked Anas bin Malik (RA) : would he (the prophet) say the forenoon prayer? He replied: I did not see him offering this prayer except that day.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤١ (٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ٢٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٠، ١٣١، ١٨٤، ٢٩١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ام سلیم ؓ کی زیارت کے لیے آتے تھے، تو کبھی نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ ہماری ایک چٹائی پر جسے ہم پانی سے دھو دیتے تھے نماز ادا کرتے تھے۔
Anas bin Malik (RA) said; the prophet ﷺ used to visit Umm Sulaim. Sometimes the time for prayer would come and he would pray on out carpet that was really a mat. She (Umm Sulaim) used to wash it with water.
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے۔
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray on a mat and on a tanned skin.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٥٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٤) (ضعیف) (یونس بن الحارث ضعیف ہیں اور ابوعون کے والد عبیداللہ بن سعید ثقفی مجہول ہیں، نیز مغیرہ ؓ سے ان کی روایت منقطع ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے، تو جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہیں ٹیک پاتا تھا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔
Anas bin Malik (RA) said: we used to pray along with the Messenger of Allah ﷺ in intense heat. When any of us could not rest his face on bare ground while prostrating due to intense heat he spread his cloth and would prostrate on it.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٣ (٣٨٥)، والمواقیت ١١ (٥٤٢)، والعمل في الصلاة ٩ (١٢٠٨)، صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦٢٠)، سنن الترمذی/الجمعة ٥٨ (٥٨٤)، سنن النسائی/ الکبری التطبیق ٥٧ (٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٤ (١٠٣٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٢ (١٣٧٦) (صحیح )
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
Jabir bin Samurah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Why do you stand in rows as the angels do in the presence of their Lord? We asked: how do the angles stand in rows in the presence of their Lord? He replied: they make the first row complete and keep close together in the row.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠)، سنن النسائی/الإمامة ٢٨ (٨١٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٠ (٩٩٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠١، ١٠٦) (صحیح )
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو۔ یہ (جملہ آپ نے تاکید کے طور پر) تین بار کہا۔ اللہ کی قسم تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں پھوٹ ڈال دے گا ، نعمان بن بشیر کہتے ہیں: تو میں نے آدمی کو اپنے ساتھی کے مونڈھے سے مونڈھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتے دیکھا۔
Al-Numan bin Bashir said: the Messenger of Allah ﷺ paid attention to the people and said three times; straighten your rows (in prayer); by Allah, you must straighten your rows, or Allah will certainly put your faces in contrary directions. I then saw that every person stood in prayer keeping his shoulder close to that of the other, and his knee close to that of the other, and his ankle close to that of the other.
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے، جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں (اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا) یہاں تک کہ آپ کو یقین ہوگیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ۔
Al-Numan bin Bashir said: the prophet ﷺ used to straighten us in the rows of prayer as the arrow is straightened, until he thought that we had learned it from him and understood it. One day he turned towards us, and shoulders in order, and say; Do not be irregular. And he would say: Allah and his Angels bless those who near the first rows.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٥ (٢٢٧)، سنن النسائی/الإمامة ٢٥ (٨١١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٠ (٩٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧) (صحیح )