Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 34 of 265

664Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو عَاصِمِ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ صُدُورَنَا وَمَنَاكِبَنَا، وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے (یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے) ، اور فرماتے تھے: (صفوں سے) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہوجائیں گے ، آپ ﷺ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں ۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: The Messenger of Allah ﷺ used to pass through the row from one side to the other; he used to set out chests and shoulders in order, and say: Do not be irregular. And he would say: Allah and His angels bless those who are near the first rows.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأذان ١٤ (٦٤٧)، والإمامة ٢٥ (٨١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥١ (٩٩٣)، مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٨٥، ٢٩٧، ٢٩٨، ٢٩٩، ٣٠٤)، دی/الصلاة ٤٩(١٢٩٩) (صحیح )
665Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُالنُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا اسْتَوَيْنَا كَبَّرَ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہماری صفیں درست فرماتے، پھر جب ہم لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ الله أكبر کہتے۔

Narrated An-Numan ibn Bashir: The Messenger of Allah ﷺ used to straighten our rows when we stood up to pray, and when we were straight, he said: Allah is most great (takbir).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٦٣، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٠) (صحیح )
666Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ أَتَمُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عُمَرَ أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ، لَمْ يَقُلْ عِيسَى: بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ، وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو شَجَرَةَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَعْنَى وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ: إِذَا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الصَّفِّ فَذَهَبَ يَدْخُلُ فِيهِ فَيَنْبَغِي أَنْ يُلِينَ لَهُ كُلُّ رَجُلٍ مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ (قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ (کثیر بن مرہ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اور (صفوں کے اندر کا) شگاف بند کرو، اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لينوا بأيدي إخوانکم کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہوجائے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Set the rows in order, stand shoulder to shoulder, close the gaps, be pliant in the hands of your brethren, and do not leave openings for the devil. If anyone joins up a row, Allah will join him up, but if anyone breaks a row, Allah will cut him off. Abu Dawud said: The name of Abu Shjrah is Kathir bin Murrah.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٣١ (٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ٧٣٨٠، ١٩٢٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٧) (صحیح )
667Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Stand close together in your rows, bring them near one another, and stand neck to neck, for by Him in Whose hand my soul is, I see the devil coming in through openings in the row just like a small black sheep.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٢٨ (٨١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٦٠، ٢٨٣) (صحیح )
668Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست رکھو کیونکہ صف کی درستگی تکمیل نماز میں سے ہے (یعنی اس کے بغیر نماز ادھوری رہتی ہے) ۔

Anas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Straighten your rows for the straightening of the rows is part of perfecting the prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٧٤ (٧٢٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٣)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ٥٠ (٩٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٢٧ (٨١٢)، مسند احمد (٣/١٧٧، ١٧٩، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٧٩، ٢٩١)، سنن الدارمی/ الصلاة ٤٨ (١٢٩٨) (صحیح )
669Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا الْعُودُ ؟ فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: اسْتَوُوا وَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ.

صاحب مقصورہ محمد بن مسلم بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز انس بن مالک ؓ کے بغل میں نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا علم نہیں، انس نے کہا: رسول اللہ ﷺ اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے: برابر ہوجاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو ۔

Muhammad bin Muslim bin al-Saib said: one day I prayed by the side of Anas bin Malik (RA) . He said ; Do you know why this stick is placed here ? I said: No, by Allah. He said; The Messenger of Allah ﷺ used to put his hand upon it and say: Keep straight and straighten your rows.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٥٤) (ضعیف) (مصعب اور محمد بن مسلم دونوں ضعیف ہیں )
670Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ أَخَذَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ: اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ أَخَذَهُ بِيَسَارِهِ، فَقَالَ: اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ.

اس سند سے بھی انس ؓ سے یہی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے، پھر (نمازیوں کی طرف) متوجہ ہوتے، اور فرماتے: سیدھے ہوجاؤ، اپنی صفیں درست کرلو ، پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں درست کرلو ۔

This tradition has also ben transmitted by Anas through a different chain of transmitters. This version goes: when the Messenger of Allah ﷺ stood for prayer, he took it (the stick) in his right hand and turning (to the right side) said; keep straight and straighten your rows. He then took it in his left hand and said; keep straight and straighten your rows.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٤٧٤) (ضعیف) (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں )
671Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Complete the front row, then the one that comes next, and if there is any incompleteness, let it be in the last row.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٣٠ (٨١٩)، (تحفة الأشراف: ١١٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٢، ٢١٥، ٢٣٣) (صحیح )
672Sunan Abu Dawood

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، عَنْعَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: The best of you are those whose shoulders are soft in prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صفیں درست کرنے کے لئے مصلیوں کو اگر کوئی آگے بڑھاتا ہے تو آگے بڑھ جاتے ہیں، اور پیچھے ہٹاتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں، یا نماز میں سکون و اطمینان کا پورا خیال کرتے ہیں، ادھر ادھر نہیں دیکھتے، اور نہ کندھے سے کندھا رگڑتے ہیں، بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ صفوں کے درمیان شگاف کو بند کرنے کے لئے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے صف کے بیچ میں آ کر کوئی داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے داخل ہوجانے دیتے ہیں اس سے مزاحمت نہیں کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: ٥٩٣٦) (صحیح )
673Sunan Abu Dawood

ستونوں کے بیچ میں صف قائم کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدُفِعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا وَتَأَخَّرْنَا، فَقَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی (جگہ کی تنگی اور ہجوم کے سبب سے) ہم ستونوں کے بیچ میں کھڑے ہونے پر مجبور کردیئے گئے، تو ہم آگے پیچھے ہونے لگے، اس پر انس نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس سے بچتے تھے ١ ؎۔

Narrated AbdulHamid ibn Mahmud (RA) : I offered the Friday prayer along with Anas ibn Malik. We were pushed to the pillars (due to the crowd of people). We, therefore, stopped forward and backward. Anas then said: We used to avoid it (setting a row between the pillars) during the time of the Messenger of Allah ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے سے بچتے تھے کیونکہ اس سے صف ٹوٹ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥٥ (٢٢٩)، سنن النسائی/الإمامة ٣٣ (٨٢٢)، (تحفة الأشراف: ٩٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣١) (صحیح )
674Sunan Abu Dawood

امام سے قریب رہنا باعث ثواب ہے اور اس سے دور رہنا نا پسندیدہ ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَي سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور باشعور لوگ میرے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔

Abu Masud reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: let those of your who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them, then those who are next to them.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢)، سنن النسائی/الإمامة ٢٣ (٨٠٨)، ٢٦ (٨١٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٥ (٩٧٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٢) (صحیح )
675Sunan Abu Dawood

امام سے قریب رہنا باعث ثواب ہے اور اس سے دور رہنا نا پسندیدہ ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: تم لوگ صف میں آگے پیچھے نہ رہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف ہوجائے گا، اور تم (مسجدوں میں) بازاروں جیسے شور و غل سے بچو ۔

This tradition has also been transmitted by Abdullah (bin Masud) through a different chain of narrators. This version adds: “Do not be irregular, so have your hearts irregular, and beware of tumult such as found in market”.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٤ (٢٢٨)، (تحفة الأشراف: ٩٤١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٥٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٣) (صحیح )
676Sunan Abu Dawood

امام سے قریب رہنا باعث ثواب ہے اور اس سے دور رہنا نا پسندیدہ ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں طرف کے لوگوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Allah and His angels bless those who are on the right flanks of the rows.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٥ (١٠٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٧، ٨٩، ١٦٠)، (حسن) بلفظ: ” على الذين يصلون الصفوف “۔
677Sunan Abu Dawood

صف میں بچے کہاں کھڑے ہوں

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ، حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ، حَدَّثَنَاشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خَلْفَهُمُ الْغِلْمَانَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَذَكَرَ صَلَاتَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا صَلَاةُ، قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: صَلَاةُ أُمَّتِي.

عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ابو مالک اشعری ؓ نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ بتاؤں؟ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے مردوں کی صف لگوائی، ان کے پیچھے بچوں کی، پھر آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر ابومالک ؓ نے آپ کی نماز کی کیفیت بیان کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (میری امت کی) نماز اسی طرح ہے ۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ نے میری امت کی نماز فرمایا۔

Narrated Abu Malik al-Ashari (RA) : Should I not tell you how the Messenger of Allah ﷺ led the prayer? He said: He had the iqamah announced, drew the men up in line and drew up the youths behind them, then led them in prayer. He then mentioned how he conducted it. and said: Thus is the prayer of. . . . . . AbdulAla said: I think he must have said: My people.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤١، ٣٤٣، ٣٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی شہر بن حوشب ضعیف ہیں )
678Sunan Abu Dawood

عورتوں کی ص

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر پہلی صف، اور سب سے بری آخری صف ہے، اور عورتوں کی ١ ؎ سب سے بہتر آخری صف، سب سے بری پہلی صف ہے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: the best of the men’s row is the first and the worst of them is the last, but the best of the women’s rows is the last and the worst of them is the first.

Notes · وضاحت
١ ؎: مراد وہ عورتیں ہیں جو مردوں کے ساتھ نماز پڑھ رہی ہوں، رہیں وہ عورتیں جو مردوں سے الگ پڑھ رہیں ہوں تو ان کی بھی سب سے بہتر صف پہلی ہی صف ہوگی اور سب سے بری آخری صف ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٤٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٢ (٢٢٤)، سنن النسائی/الإمامة ٣٢ (٨٢١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٢ (١٠٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٣٧، ١٢٥٨٩، ١٢٥٩٦، ١٢٧٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٧، ٣٣٦، ٣٤٠، ٣٦٦، ٤٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٢ (١٣٠٤) (صحیح )
679Sunan Abu Dawood

عورتوں کی ص

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو جہنم میں پیچھے ڈال دے گا ١ ؎۔

Aishah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying the people will continue to keep themselves away from the front row until Allah will keep them away (from the front) in the Hell-fire.

Notes · وضاحت
١ ؎: وہاں عذاب کی شدت زیادہ ہوگی بہ نسبت آگے کے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٦) (صحیح) (حدیث میں واقع لفظ في النار کے ثبوت میں کلام ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: ٥١٠، وتراجع الالبانی: ١٤٦ )
680Sunan Abu Dawood

عورتوں کی ص

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ لَهُمْ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کرام ؓ کو پہلی صف سے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: آگے آؤ اور میری پیروی کرو، اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں وہ تمہاری پیروی کریں، کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے رہا کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے ڈال دے گا ١ ؎۔

Abu Saeed Al-Khudri said; The Messenger of Allah ﷺ saw a tendency among his companions to go to the back. He said to them; come forward and follow my lead, and let those who come after you follow your lead people will continue to keep to the back till Allah would put them at the back.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت و فضل عظیم، اور بلند مرتبہ سے پیچھے کر دے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٨)، سنن النسائی/الإمامة ١٧ (٧٩٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٥ (٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤٣٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩، ٣٤، ٥٤) (صحیح )
681Sunan Abu Dawood

امام صف کے آگے کہاں کھڑا ہو؟

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بَشِيرِ بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ فَسَمِعَتْهُ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَسِّطُوا الْإِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام کو (صف کے) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Have the imam in the centre and close up the gaps.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦٠٠) (ضعیف) (لیکن حدیث میں واقع دوسرا جملہ وسدوا الخلل صحیح ہے) (یحییٰ بن بشیر کی والدہ مجہول ہیں )
682Sunan Abu Dawood

صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ وَابِصَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: الصَّلَاةَ.

وابصہ بن معبد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اسے (نماز) لوٹانے کا حکم دیا۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں ہے نماز کو لوٹانے کا حکم دیا ١ ؎۔

Narrated Wabisah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw a man praying alone behind the row. He ordered him to repeat. Sulayman ibn Harb said: The prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے میں اہل علم کا اختلاف ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسے شخص کی نماز ظاہر حدیث کی رو سے فاسد ہے، یہی قول ابراہیم نخعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، مالک، اوزاعی اور شافعی کا کہنا ہے کہ اس کی نماز درست ہے، اور یہی قول اصحاب الرای کا بھی ہے ان لوگوں نے اس حدیث کی تاویل یہ کی ہے کہ اعادہ کا یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥٨ (٢٣٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٤ (١٠٠٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٤/٢٢٧، ٢٢٨، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (١٣٢٣) (صحیح )
683Sunan Abu Dawood

امام کو رکوع میں جاتے ہوئے دیکھ کر صف میں داخل ہونے سے پہلے رکوع کرنا

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، قَالَ: فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ.

ابوبکرہ ؓ کا بیان ہے کہ وہ مسجد میں آئے اور اللہ کے نبی کریم ﷺ رکوع میں تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرلیا، تو نبی اکرم ﷺ نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) فرمایا: اللہ تمہارے شوق کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔

Abu Bakrah said that he came to the mosque when the prophet ﷺ was bowing. So I bowed outside the row (before joining it). The prophet ﷺ said; May Allah increase your eagerness! But do not do it again.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١١٤ (٧٨٣)، سنن النسائی/الإمامة ٦٣ (٨٧٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩، ٤٢، ٤٥، ٤٦، ٥٠) (صحیح )