ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ (مسجد میں) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں تھے، انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرلیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے، جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟ ، ابوبکرہ نے کہا: میں نے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زياد الأعلم سے مراد زیاد بن فلاں بن قرہ ہیں، جو یونس بن عبید کے خالہ زاد بھائی ہیں۔
Al-Hasan reported: Abu Bakrah came when the Messenger of Allah ﷺ was bowing. So he bowed without the row (before joining it). He then went to the row. When the prophet ﷺ finished his prayer, he said: which of your bowed without the row, and then went to the row? Abu Bakrah said; it was i. the prophet ﷺ said: May Allah increase your eagerness! but do not do it again.
طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نے (اونٹ کے) کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لی تو پھر تمہارے سامنے سے کسی کا گزرنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
Talhah bin Ubaid Allah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When you place in front of you something such as the back of a saddle, then there is no harm if someone passes in front of you (i. e. the other side of it).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٤٩٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٨ (٣٣٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٦ (٩٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٠١١) وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦١، ١٦٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے دن نکلتے تو برچھی (نیزہ) لے چلنے کا حکم دیتے، وہ آپ ﷺ کے سامنے رکھی جاتی، تو آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے ہوتے، اور ایسا آپ سفر میں کرتے تھے، اسی وجہ سے حکمرانوں نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔
Ibn Umar said: When the Messenger of Allah ﷺ would go out (for prayer) on the day ofEidd, he ordered to bring a lance, it was then setup in front of him and he would pray in its direction, and the people (stood) behind him. He used to do so during journey ; hence the rulers would take it (lance with them).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٠ (٤٩٤)، والعیدین ١٣ (٩٧٢)، ١٤ (٩٧٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠١)، تحفةالأشراف (٧٩٤٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین ٩ (١٥٦٦)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٦٤ (١٣٠٥)، مسند احمد (٢/٩٨، ١٤٢، ١٤٥، ١٥١)، سنن الدارمی/ الصلاة ١٢٤ (١٤٥٠) (صحیح )
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں بطحاء میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھائیں اور آپ کے سامنے برچھی (بطور سترہ) تھی، اور برچھی کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے تھے۔
Abu Juhaifah said: The Prophet ﷺ led them in prayer at al-Batha, with a staff set up in front of him. (He prayed) two rakahs of the Zuhr prayer and two rakahs of the Asr prayer. The women and the donkeys would pass in front of the staff.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے، تو اپنے آگے (بطور سترہ) کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑ لے، اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر (خط) کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you prays, he should put something in front of his face, and if he can find nothing, he should set up his staff; but if he has no staff, he should draw a line; then what passes in front of him will not harm him.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ٣٦ (٩٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٠)، وقد أخرجہ: حم ( ٢/٢٤٩، ٢٥٤، ٢٦٦) (ضعیف) (اس حدیث کے روای ابوعمرو اور ان کے دادا حریث کے ناموں میں بڑا اختلاف ہے، نیز یہ دونوں مجہول راوی ہیں، آگے مؤلف اس کی تفصیل دے رہے ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا، پھر سفیان نے لکیر کھینچنے کی حدیث بیان کی۔ سفیان کہتے ہیں: ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے اس حدیث کو تقویت مل سکے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے۔ علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے سفیان سے پوچھا: لوگ تو ابو محمد بن عمرو بن حریث کے نام میں اختلاف کرتے ہیں؟ تو سفیان نے تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا: مجھے تو ان کا نام ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص یہاں (کوفہ) آیا، اور اس نے ابو محمد کو تلاش کیا یہاں تک کہ وہ اسے ملے، تو اس نے ان سے اس (حدیث خط) کے متعلق سوال کیا، تو ان کو اشتباہ ہوگیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا، آپ سے متعدد بار لکیر کھینچنے کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا: تو آپ نے کہا: وہ اس طرح ہلال کی طرح چوڑائی میں ہوگی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور میں نے مسدد کو کہتے سنا کہ ابن داود کا بیان ہے کہ لکیر لمبائی میں ہوگی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل (رح) سے لکیر کی کیفیت کے بارے میں متعدد بار سنا، انہوں نے کہا: اس طرح یعنی چوڑائی میں چاند کی طرح محور اور مدور یعنی مڑا ہوا۔
This tradition has also been reported by Abu Hurairah through a different chain of narrators. Abu Hurairah reported: The Prophet ﷺ said: . . . . . . He then narrated the tradition about drawing the line. Sufyan said: We did not find anything by which we could reinforce this tradition, and this has been narrated only through this chain. He (Ali bin al-Madini, a narrator) said: I said to Sufyan: There is a difference of opinion of the name (Abu Muhammad bin Amr). He pondered for a moment and then said: I do not remember except Abu Muhammad bin Amr Sufyan said: A man had come to Kufah after the death of Ismail bin Umayyah ; he was seeking Abu Muhammad until he found him. He asked him (about this tradition) but he became confused. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal who was questioned many times how the line should be drawn. He replied: In this way. horizontally like crescent. Abu Dawud said: I heard Musaddad say: Ibn Dawud said: The line should be drawn perpendicularly. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal describing many times how the line should be drawn. He said: In this way horizontally in the round semi-circular form like the crescent, that is (the line should be) a curve.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٠) (ضعیف) (مذکورہ سبب سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے )
سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی (بطور سترہ) اپنے سامنے رکھ لی۔
Sufyan bin Uyainah said: I saw Sharik who led us in the Asr prayer during a funeral ceremony. He placed his cap in front of him, that is, for saying the obligatory prayer the time of which had come.
مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں میں نے جب بھی رسول اللہ ﷺ کو کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا، تو آپ اسے اپنے داہنے ابرو یا بائیں ابرو کے مقابل کئے ہوتے، اسے اپنی دونوں آنکھوں کے بیچوں بیچ میں نہیں رکھتے ١ ؎۔
Narrated Al-Miqdad ibn al-Aswad (RA) : I never saw the Messenger of Allah ﷺ praying in front of a stick, a pillar, or a tree, without having it opposite his right or left eyebrow, and not facing it directly.
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ بت پرستوں سے مشابہت نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤) (ضعیف) (اس کے رواة میں ولید لین الحدیث اور مہلب اور ضباعہ مجہول ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not pray behind a sleeping or a talking person.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٠ ( ٩٥٩ )، (تحفة الأشراف: ٦٤٤٨ ) (حسن) (اس حدیث میں عبدالملک و عبداللہ بن یعقوب دونوں مجہول، اور عبداللہ کے شیخ مبہم ہیں، لیکن شواہد کے بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل حدیث نمبر: ٣٧٥، و صحیح ابی داود: ٣؍٦٩١)
سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے واقد بن محمد نے صفوان سے، صفوان نے محمد بن سہل سے، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے، یا (بغیر اپنے والد کے واسطہ کے) نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد ؓ سے، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
Narrated Sahl ibn AbuHathmah (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you prays facing a sutrah he should keep close to it, and not let the devil interrupt his prayer. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Waqid bin Muhammad from Safwan from Muhammad bin Sahl on the authority of his father, or on the authority of Muhammad bin Sahl from the Prophet ﷺ . Some have narrated it from Nafi bin Jubair on the authority of Sahl bin Saad. There is a variation in the chain of its narrators.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القبلة ٥ (٧٤٩)، (تحفة الأشراف: ٤٦٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢) (صحیح )
سہل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ (کی دیوار) کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ نفیلی کے ہیں۔
Sahl said: The distance between the place where the Prophet ﷺ stood and the qiblah (i. e. the sutrah or the wall of the mosque) was as much as to allow a goat to pass.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے قتال کرے (یعنی سختی سے روکے) کیونکہ وہ شیطان ہے ١ ؎۔
Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you prays, he should not let anyone pass in front of him; he should turn him away as far as possible; but if he refuses (to go), he should fight him, for he is only a devil.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شیطانوں کا سا کام کر رہا ہے روکنے سے بھی نہیں مانتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥)، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٩ (٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٤١١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ١٠(٣٣)، مسند احمد (٣/٣٤، ٤٣، ٤٤، ٤٩، ٥٧، ٩٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٥ (١٤٥١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو کسی سترے کی طرف منہ کر کے پڑھے، اور اس سے قریب رہے ۔ پھر ابن عجلان نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you prays, he should pray facing the sutrah (screen or covering) and he should keep himself close to it. He then narrated the tradition to the same effect.
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کردیا، پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) کہا: ابو سعید خدری ؓ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے (یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے) ۔
Abu Ubaid said: I saw Ata bin Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤١٥٩) (حسن صحیح )
ابوصالح کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری ؓ کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا، وہ تم سے بیان کرتا ہوں: ابو سعید خدری ؓ مروان کے پاس گئے، تو عرض کیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو (جسے وہ لوگوں کے لیے سترہ بنائے) سامنے کر کے نماز پڑھے، پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ سینہ پر دھکا دے کر اسے ہٹا دے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے (یعنی سختی سے دفع کرے) کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور کوئی آدمی میرے سامنے سے اتراتے ہوئے گزرتا ہے تو میں اسے روک دیتا ہوں، اور کوئی ضعیف العمر کمزور گزرتا ہے تو اسے نہیں روکتا۔
Abu Salih said: I narrate what I witnesses from Abu Saeed and heard from him. Abu Saeed entered upon Marwan and said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When one of you prays facing any object which conceals him from people, and someone wishes to pass in front of him, he should strike him at his chest; if he refuses (to go), he should fight him; he is only a devil. Abu Dawud said: Sufyan Ath-Thawri said: A person arrogantly walks in front of me while I am praying, so I stop him, and a weak person passes, so I dont stop him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠٠ (٥٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥)، (تحفة الأشراف: ٤٠٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٣) (صحیح )
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی ؓ نے انہیں ابوجہیم ؓ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو اس کو مصلی کے سامنے گزرنے سے چالیس (دن یا مہینے یا سال تک) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا ۔ ابونضر کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔
Narrated Abu Juhaim: The Messenger of Allah ﷺ as saying: If one who passes in front of a man who is praying knew the responsibility he incurs, he would prefer to stand still for forty. . . rather than pass in front of him. Abu al-Nadr said: I do not know whether he said forty days, or months, or years. Abu Dawud (RA) : Sufyan al-Thawri said: If a man passes proudly in front of me while I am praying, I shall stop him, and if a weak man passes, I shall not stop him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠١ (٥١٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٩ (٣٣٦)، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٧ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/١٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٠ (١٤٥٦) (صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر ؓ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ١ ؎۔ میں نے عرض کیا: سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔
Hafs reported that the Messenger of Allah ﷺ as saying, and the other version of this tradition transmitted through a different chain has: Abu Dharr said (and not the Prophet): If there is not anything like the back of a saddle in front of a man who is praying, then a donkey, a black dog, and a woman cut off his prayer. I asked him: Why has the black dog been specified, distinguishing it from a red, a yellow and a white dog? He replied: My nephew, I also asked the Messenger of Allah ﷺ the same question as you asked me. He said: The black dog is a devil.
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء نے اس روایت کی تاویل یہ کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد نماز میں نقص پیدا ہونا ہے، کیونکہ ان چیزوں کے گزرنے سے مصلی کا دھیان بٹ جاتا ہے اور خشوع و خضوع میں فرق آجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٠ (٥١٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤١ (٣٣٨)، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٩، ١٥١، ١٥٥، ١٦٠، ١٦١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٨ (١٤٥٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے) : نماز حائضہ عورت اور کتا (مصلی کے سامنے گزرنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس ؓ سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Qatadah said: I heard Jabir ibn Zayd who reported on the authority of Ibn Abbas; and Shubah reported the Prophet ﷺ as saying: A menstruating woman and a dog cut off the prayer. Abu Dawud said: Saeed, Hisham and Hammam narrated this tradition from Qatadah on the authority of Jabir bin Zaid as a statement of Ibn Abbas.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القبلہ ٧ (٧٥٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٤٩)، مسند احمد (١/٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٩) (صحیح )