عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہوجاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہوجائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا (سوائے معاذ کے) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ (یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ikrimah reported on the authority of Ibn Abbas, saying: I think the Messenger of Allah ﷺ said: When one of you prays without a sutrah, a dog, an ass, a pig, a Jew, a Magian, and a woman cut off his prayer, but it will suffice if they pass in front of him at a distance of over a stones throw. Abu Dawud said: There is something about this tradition in my heart. I used to discuss it with Ibrahim and others. I did not find anyone who narrated it from Hisham and knew it. I did not know anyone who reported it from Hisham and knew it. I did not know anyone who related it from Hisham. I think the confusion is on the part of Ibn Abi Saminah that is, Muhammad bin Ismail al-Basri, the freed slave of Banu Hisham. In this tradition the mention of words a Magian is rejected; the mention of the words at a stones throw and a pig is rejected. Abu Dawud said: I did not hear this tradition except from Muhammad bin Ismail bin Samurrah and I think he was mistaken because he used to narrate to us from his memory.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٤٥) (ضعیف) (ابن أبی سمینہ ثقہ راوی ہیں، ممکن ہے یحییٰ بن أبی کثیر سے وہم واقع ہوا ہو، نیز یحییٰ مدلس ہیں، ممکن ہے تدلیس سے کام لے کر موقوف کو أحسبہ کے ذریعہ مرفوع بنادیا ہو، ابن عباس ؓ پر موقوفاً یہ روایت صحیح ہے )
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔
Yazid bin Namran said: I saw a crippled man at Tabuk. He (the man) said: I passed riding a donkey in front of the Prophet ﷺ who was praying. He said (cursing him): O Allah, cut off his walking. Thenceforth I could not walk.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦٤، ٥/٣٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی مولی یزید مجہول ہیں )
سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کی چال کاٹ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے، جس میں صرف اتنا ہے: اس نے ہماری نماز کاٹ دی ۔
This tradition as also been reported by Saeed through the same chain of narrators and to the same effect. He added: He cut off our prayer, may Allah cut off his walking. Abu Dawud said: This version narrated by Mushir on the authority of Saeed has: He cut off our prayer.
غزوان کہتے ہیں کہ وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں، رسول اللہ ﷺ تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا: یہ ہمارا قبلہ ہے ، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی، میں ایک لڑکا تھا، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کا قدم کاٹ دے ، چناچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہوسکا۔
Saeed bin Ghazwan reported on the authority of his father that he made his stay at Tabuk (during his journey) for performing Hajj. All of a sudden he saw a crippled man and asked him about his condition. He said: I relate to you a tradition, but do not narrate it to anyone so long as I am alive: The Messenger of Allah ﷺ encamped at Tabuk near a date-palm and he said: This is our qiblah (direction for praying). He then offered prayer facing it. I came running, when I was a boy, until I passed the place between him and the tree. He said (cursing): He cut off our prayer, may Allah cut off his walking. I could not, therefore, stand upon them (feet) till today.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی سعید بن غزوان مجہول ہیں )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اذاخر ١ ؎ کی گھاٹی میں اترے تو نماز کا وقت ہوگیا، آپ ﷺ نے ایک دیوار کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آ کر آپ ﷺ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دفع کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ دیوار میں چپک گیا، وہ سامنے سے نہ جاسکے، آخر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سے ہو کر چلا گیا، مسدد نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Amr bin Shuaib reported from his father on the authority of his grand-father: We came down from the mountain pass of Adhaakhir in the company of the Messenger of Allah ﷺ . The time of prayer came and he prayed facing a direction of prayer, and we were (standing) behind him. Then a kid came and passed in front of him. He kept on stopping it until he brought his stomach near the wall (to detain it), and at last it passed behind him, or as Musaddad said.
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨١١، ألف)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ١٩٦) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اور قبلہ کے بیچ میں ہوتی تھی، شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری، عطاء، ابوبکر بن حفص، ہشام بن عروہ، عراک بن مالک، ابواسود اور تمیم بن سلمہ سبھوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے، اور ابراہیم نے اسود سے، اسود نے عائشہ سے، اور ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے عائشہ سے، اور قاسم بن محمد اور ابوسلمہ نے عائشہ سے روایت کیا ہے، البتہ ان لوگوں نے وأنا حائض اور میں حائضہ ہوتی تھی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I was sleeping in front of the Prophet ﷺ with my legs between him and the qiblah. Shubah said: I think she said: I was menstruating. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Zuhri, Ata, Abu Bakr bin Hafs, Hisham bin Urwah, Irak bin Malik, Abu al-Aswad and Tamim bin Salamah; all transmitted from Urwah on the authority of Aisha (RA) . Ibrahim narrated from al-Aswad on the authority of Aisha (RA) . Abu al-Duha narrated from Masruq on the authority of Aisha (RA) . Al-Qasim bin Muhammad and Abu Salamah narrated it from Aishah. All these narrators did not mention the words And I was menstruating.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٩ (٣٨٢)، ٢١ (٣٨٣)، ١٠٣ (٥١٢)، ١٠٤ (٥١٣)، والوتر ٣ (٩٩٧)، والعمل في الصلاة ١٠ (١٢٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، والمسافرین ١٧ (١٣٥)، سنن النسائی/القبلة ١٠ (٧٦٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٠ (٩٥٦)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١(٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٧ (١٤٥٣)، مسند احمد (٦/٩٤، ٩٨، ١٧٦) (صحیح) دون قولہ: وأنا حائض
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی رات کی نماز پڑھتے اور وہ آپ کے اور قبلے کے بیچ میں اس بچھونے پر لیٹی رہتیں جس پر آپ سوتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو انہیں جگاتے تو وہ بھی وتر پڑھتیں۔
Urwah reported on the authority of Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray at night and she (Aishah) would lie between him and the qiblah, sleeping on the bed on which he would sleep. When he wanted to offer the witr prayer, he awakened her and she offered the witr prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٩٠٢، ١٦٣٣٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ تم لوگوں نے بہت برا کیا کہ ہم عورتوں کو گدھے اور کتے کے برابر ٹھہرا دیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے عرض میں لیٹی رہتی تھی، جب آپ ﷺ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو میرا پاؤں دبا دیتے، میں اسے سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
Aishah said: I used to sleep with my legs in front of the Messenger of Allah ﷺ when he would offer his prayer at night (i. e. tahajjud prayer offered towards the end of the night. ). When he prostrated himself he struck my legs, and I drew them up and he then prostrated.
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سوئی رہتی تھی، میرے دونوں پاؤں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوتے اور آپ رات میں نماز پڑھ رہے ہوتے، جب آپ ﷺ سجدہ کرنا چاہتے تو میرے دونوں پاؤں کو مارتے تو میں انہیں سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
It was reported from Abu An-Nadr, from Abu Salama bin Abdur Rahman, from Aisha (RA) , that she said: I used to be asleep while my legs would be in the front of the Messenger of Allah ﷺ while he was praying during the night. When he wanted to prostrate, he would prod my feet, so I would pull them up, and he would prostrate.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٩ (٣٨٢)، العمل فی الصلاة ١٠ (١٢٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، سنن النسائی/القبلة ١٠ (٧٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٨، ٢٢٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی سمت میں لیٹی رہتی، آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے آگے ہوتی، جب آپ ﷺ وتر پڑھنا چاہتے (عثمان کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو آپ مجھے اشارہ کرتے ، پھر عثمان اور قعنبی دونوں روایت میں متفق ہیں) تو آپ ﷺ فرماتے: سرک جاؤ ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I used to sleep lying between the Messenger of Allah ﷺ and the qiblah. The Messenger of Allah ﷺ used to pray when I (was lying) in front of him. When he wanted to offer the witr prayer - added by the narrator Uthman - he pinched me - then the narrators are agreed - and said: Set aside.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨٢) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بالغ ہونے کے قریب ہوچکا تھا، اور رسول اللہ ﷺ منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے بعض حصے کے آگے سے گزرا، پھر اترا تو گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور صف میں شریک ہوگیا، تو کسی نے مجھ پر نکیر نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قعنبی کے الفاظ ہیں اور یہ زیادہ کامل ہیں۔ مالک کہتے ہیں: جب نماز کھڑی ہوجائے تو میں اس میں گنجائش سمجھتا ہوں۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I came riding a donkey. Another version has: Ibn Abbas said: When I was near the age of the puberty I came riding a she-ass and found the Messenger of Allah ﷺ leading the people in prayer at Mina. I passed in front of a part of the row (of worshippers), and dismounting left my she-ass for grazing in the pasture, and I joined the row, and no one objected to that. Abu Dawud said: These are the words of al-Qanabi, and are complete. Malik said: I take it as permissible at the time when the iqamah for prayer is pronounced.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ١٨ (٧٦)، والصلاة ٩٠ (٤٩٣)، والأذان ١٦١ (٨٦١)، وجزاء الصید ٢٥ (١٨٥٧)، والمغازي ٧٧ (٤٤١٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٠ (٣٣٧)، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٤٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ١١(٣٨)، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٦٤، ٣٣٧، ٣٦٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٩(١٤٥٥) (صحیح )
ابوصہباء کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس ؓ کے پاس ان چیزوں کا تذکرہ کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، تو انہوں نے کہا: میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، ہم دونوں اترے اور گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا، تو آپ ﷺ نے کچھ پرواہ نہ کی، اور بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں آئیں، وہ آ کر صف کے درمیان داخل ہوگئیں تو آپ نے اس کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : AbusSahba said: We discussed the things that cut off the prayer according to Ibn Abbas. He said: I and a boy from Banu Abdul Muttalib came riding a donkey, and the Messenger of Allah ﷺ was leading the people in prayer. He dismounted and I also dismounted. I left the donkey in front of the row (of the worshippers). He (the Prophet) did not pay attention to that. Then two girls from Banu Abdul Muttalib came and joined the row in the middle, but he paid no attention to that.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥٥)، (تحفة الأشراف: ٥٦٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥) (صحیح )
منصور سے یہی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ ابن عباس ؓ نے کہا: بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں، تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو پکڑ لیا، عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے پکڑ کر دونوں کو جدا کردیا۔ اور داود بن مخراق کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک کو دوسرے سے جدا کردیا، اور اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔
The above mentioned narration has also been narrated by Mansur through a different chain of narrators. This version has: Then two girls from Banu Abd al-Muttalib came fighting together. He caught them. Uthman (a narrator) said: He separated them. And Dawud (another narrator) said: He pulled away from the other, but he paid no attention to that.
فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک صحرا میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ عباس ؓ بھی تھے، آپ ﷺ نے صحرا (کھلی جگہ) میں نماز پڑھی، اس حال میں کہ آپ کے سامنے سترہ نہ تھا، اور ہماری گدھی اور کتیا دونوں آپ ﷺ کے سامنے کھیل رہی تھیں، لیکن آپ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔
Narrated Al-Fadl ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to us accompanied by Abbas when we were in open country belonging to us. He prayed in a desert with no sutrah in front of him, and a she-ass and a bitch of ours were playing in front of him, but he paid no attention to that.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١١، ٢١٢) (ضعیف) (اس کے راوی عباس لین الحدیث ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اور جہاں تک ہو سکے گزرنے والے کو دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: Nothing interrupt prayer, but repulse as much as you can anyone who passes in front of you, for he is just a devil.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی مجالد ضعیف ہیں، اور پہلا جزء صحیح احادیث کے مخالف ہے، ہاں دوسرے حصے کے صحیح شواہد ہیں )
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری ؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ١ ؎۔
Abu al-Waddak said: A youth from the Quraish passed in front of Abu Saeed Al-Khudri who was praying. He repulsed him. He returned again. He then repulsed him for the third time. When he finished the prayer, he said: Nothing cuts off prayer; but the Messenger of Allah ﷺ said: Repulse as much as you can, for he is just a devil. Abu Dawud said: If two traditions of the Prophet ﷺ conflict, the practice of the Companions after him should be taken into consideration.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں دو حدیثیں ایک دوسرے کے معارض تو ہیں مگر دوسری حدیث ” نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی “ ضعیف ہے، اس لیے دونوں میں تطبیق کے لیے اب کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے، ہاں نماز ٹوٹ جانے سے مطلب باطل ہونا نہیں بلکہ خشوع و خضوع میں کمی واقع ہونا ہے، جمہور علماء نے یہی مطلب بیان کیا ہے، اور اسی معنی میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار و اقوال کو لیا جائے گا جن سے یہ مروی ہے کہ ” نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی “۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٩) (ضعیف) (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے (تو بھی اسی طرح کرتے) ، اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی۔ سفیان نے ( اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی کے بجائے) ایک مرتبہ یوں نقل کیا: اور جب آپ اپنا سر اٹھاتے ، اور زیادہ تر سفیان نے: رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد کے الفاظ ہی کی روایت کی ہے، اور آپ دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
Salim reported on the authority of his father (Ibn Umar): I saw the Messenger of Allah ﷺ that when he began prayer, he used to raise his hands opposite his shoulders, and he did so when he bowed, and raised his head after bowing. Sufyan (a narrator) once said: “When he raised his head: ; and after he used to say: “When he raised his head after bowing. He would not raise (his hands) between the two prostrations.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، یہاں تک کہ وہ آپ کے دونوں کندھوں کے مقابل ہوجاتے، پھر آپ ﷺ الله أكبر کہتے، اور وہ دونوں ہاتھ اسی طرح ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھانے کا ارادہ کرتے تو بھی ان دونوں کو اٹھاتے (رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھوں کے بالمقابل ہوجاتے، پھر آپ ﷺ سمع الله لمن حمده کہتے، اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ نہ اٹھاتے، اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہوجاتی۔
Abdullah bin Umar (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to raise his hands opposite his shoulders when he began prayer, then he uttered takbir (Allah is most great) in the same condition, and then he bowed. And when he raised his back (head) after bowing he raised them opposite his shoulders, and said: “Allah listens to him who praises Him. ” But he did not raise his hand when he prostrated himself; he rather raised them when he uttered the takbir (Allah is most great) before bowing until his prayer is finished.
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ ﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کرلیا، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ (چادر سے) نکالے پھر رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی کو دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں رکھا، اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو رفع یدین ١ ؎ کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے۔ محمد کہتے ہیں: میں نے حسن بصری سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے، کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ أبوداود کہتے ہیں: اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Abd al-Jabbar bin Wail (bin Hujr) said: I was a small boy and I did not understand the prayer of my father. So Wail bin Alqamah reported Wail bin Hujr as saying: I offered prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . He used to raise his hands when he pronounced the takbir (Allah is most great), then pulled his garment around him, then placed his right hand on his left, and entered his hands in his garment. When he was about to bow he took his hands out of his garment, and then raised them. And when he raised his head after bowing, he raised his hands. He then prostrated himself and placed his face (forehead on the ground) between his hands. And when he raised his head after prostration, he also raised his hands until he finished his prayer. Muhammad (a narrator) said: I mentioned it to al-Hasan bin Abu al-Hasan who said: This is how the Messenger of Allah ﷺ offered prayer; some did it and others abandoned it. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammam from ibn Juhadah, but he did not mention the raising of hands after he raised his head at the end of the prostration.
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کے سوا کسی کے یہاں بھی سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں ہے، اکثر علماء کے نزدیک مؤلف کی یہ روایت منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٥ (٤٠١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٧٤، ١١٧٨٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ١١ (٨٩٠)، الافتتاح ١٣٩ (١١٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣ (٨١٠)، مسند احمد (٤/٣١٧، ٣١٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٥ (١٢١٧)، ٩٢ (١٣٩٧) (ولیس عند أحد ذکر رفع الیدین مع الرفع من السجود) (صحیح )