Sunan Abu Dawood 713

نماز کا بیان

713Sunan Abu Dawood

نمازی کے سامنے سے عورت گزرنا مفسد صلوة نہیں

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَكُونُ نَائِمَةً وَرِجْلَايَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ضَرَبَ رِجْلَيَّ فَقَبَضْتُهُمَا فَسَجَدَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سوئی رہتی تھی، میرے دونوں پاؤں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوتے اور آپ رات میں نماز پڑھ رہے ہوتے، جب آپ ﷺ سجدہ کرنا چاہتے تو میرے دونوں پاؤں کو مارتے تو میں انہیں سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔

It was reported from Abu An-Nadr, from Abu Salama bin Abdur Rahman, from Aisha (RA) , that she said: I used to be asleep while my legs would be in the front of the Messenger of Allah ﷺ while he was praying during the night. When he wanted to prostrate, he would prod my feet, so I would pull them up, and he would prostrate.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٩ (٣٨٢)، العمل فی الصلاة ١٠ (١٢٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، سنن النسائی/القبلة ١٠ (٧٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٨، ٢٢٥) (صحیح )