ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے طور طریق اور چال ڈھال میں فاطمہ (رض) سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا (حسن کی روایت میں بات چیت میں کے الفاظ ہیں، اور حسن نے سمتا وهديا ودلا (طور طریق اور چال ڈھال) کا ذکر نہیں کیا ہے) وہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی طرف لپکتے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیتے، ان کو بوسہ دیتے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے، اور رسول اللہ ﷺ جب ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے پاس لپک کر پہنچتیں، آپ کا ہاتھ تھام لیتیں، آپ کو بوسہ دیتیں، اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I never saw anyone more like the Messenger of Allah ﷺ in respect of gravity, calm deportment, pleasant disposition - according to al-Hasans version: in respect of talk and speech. Al-Hasan did not mention gravity, calm deportment, pleasant disposition - than Fatimah, may Allah honour her face. When she came to visit him (the Prophet) he got up to (welcome) her, took her by the hand, kissed her and made her sit where he was sitting; and when he went to visit her, she got up to (welcome) him, took him by the hand, kissed him, and made him sit where she was sitting.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس (رض) نے نبی اکرم ﷺ کو حسین (حسین بن علی رضی اللہ عنہما) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے : میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا (پیار و شفقت رحم ہی تو ہے) ۔
Abu Hurairah said; Al-Aqra bin Habib saw that the Messenger of Allah ﷺ was kissing Husain. He said: I have ten children and I have never kissed any of them. The Messenger of Allah ﷺ said: He who does not show tenderness will not be shown tenderness.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! خوش ہوجاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں، تو اس وقت میرے والدین نے کہا : اٹھو اور رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کو چوم لو، میں نے کہا : میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں (کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں) نہ کہ آپ دونوں کا (کیونکہ آپ دونوں کو بھی تو مجھ پر شبہ ہونے لگا تھا) ۔
Aishah said: the prophet ﷺ said; Good tidings to you, Aisha (RA) , for Allah Most High has revealed your innocence. He then recited to her the Quranic verses. Her parents said: Kiss the head of the Messenger of Allah ﷺ . I said: Praise be to Allah, most High, not to you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٨٧٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة النور ٦ (٤٧٥٠) ، صحیح مسلم/التوبة ١٠ (٢٧٧٠) ، مسند احمد (٦/٥٩) (صحیح )
براء (رض) کہتے ہیں کہ میں ابوبکر (رض) کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ (رض) لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر (رض) ان کے پاس آئے، ان سے کہا : کیا حال ہے بیٹی ؟ اور ان کے رخسار کو چوما۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: I went in with Abu Bakr when he had newly come to Madina and he found his daughter Aisha (RA) lying down afflicted with fever. Abu Bakr went to her, and saying: How are you, girlie? kissed her on the cheek.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے : تو ہم نبی اکرم ﷺ سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Ibn Umar told a story and said: We then came near the Prophet ﷺ and kissed his hand.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٦٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٩٨) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں )
اسید بن حضیر انصاری (رض) کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کو نچہ دیا، تو وہ بولے : اللہ کے رسول ! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا : بدلہ لے لو تو انہوں نے کہا : آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! میرا منشأ یہی تھا۔
Narrated Usayd ibn Hudayr,: Abdur Rahman ibn Abu Layla, quoting Usayd ibn Hudayr, a man of the Ansar, said that while he was given to jesting and was talking to the people and making them laugh, the Prophet ﷺ poked him under the ribs with a stick. He said: Let me take retaliation. He said: Take retaliation. He said: You are wearing a shirt but I am not. The Prophet ﷺ then raised his shirt and the man embraced him and began to kiss his side. Then he said: This is what I wanted, Messenger of Allah!
زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم ﷺ کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے، اور منذر اشج انتظار میں رہے یہاں تک کہ وہ اپنے کپڑے کے صندوق کے پاس آئے اور دو کپڑے نکال کر پہن لیے، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا : تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں : ایک بردباری اور دوسری وقار و متانت انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا یہ دونوں خصلتیں جو مجھ میں ہیں میں نے اختیار کیا ہے ؟ (کسبی ہیں) (یا وہبی) اللہ نے مجھ میں پیدائش سے یہ خصلتیں رکھی ہیں، آپ نے فرمایا : بلکہ اللہ نے پیدائش سے ہی تم میں یہ خصلتیں رکھی ہیں، اس پر انہوں نے کہا : اللہ تیرا شکر ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا جن دونوں کو اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔
Narrated al-Wazi ibn Zari (RA) : Umm Aban, daughter of al-Wazi ibn Zari, quoting his grandfather, who was a member of the deputation of AbdulQays, said: When we came to Madina, we raced to be first to dismount and kiss the hand and foot of the Messenger of Allah ﷺ . But al-Mundhir al-Ashajj waited until he came to the bundle of his clothes. He put on his two garments and then he went to the Prophet ﷺ . He said to him: You have two characteristics which Allah likes: gentleness and deliberation. He asked: Have I acquired them or has Allah has created (them) my nature? He replied: No, Allah has created (them) in your nature. He then said: Praise be to Allah Who has created in my nature two characteristics which Allah and His Messenger like.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٦١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٠٦) (صحیح) (البانی صاحب نے پہلے فقرے کی تحسین کی ہے، اور ہاتھ اور پاؤں چومنے کو ضعیف کہا ہے، بقیہ بعد کی حدیث کی تصحیح کی ہے، یعنی شواہد کے بناء پر، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ٣ ؍ ٢٨٢ )
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ کو پکارا : اے ابوذر ! میں نے کہا : میں حاضر ہوں حکم فرمائیے اللہ کے رسول ! میں آپ پر فدا ہوں۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ addressed me, saying: O Abu Dharr! I replied: At thy service and at thy pleasure, Messenger of Allah! may I be ransom for thee.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے : أنعم الله بک عينا وأنعم صباحا اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور صبح خوشگوار بنائے لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں اس طرح کہنے سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر کہتے ہیں :أنعم الله بک عينا کہنا مکروہ ہے اور أنعم الله عينك کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Narrated Imran ibn Husayn: In the pre-Islamic period we used to say: May Allah make the eye happy for you, and Good morning but when Islam came, we were forbidden to say that. AbdurRazzaq said on the authority of Mamar: It is disapproved that a man should say: May Allah make the eye happy for you, but there is no harm in saying: May Allah make your eye happy.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٨٣٦) (ضعیف الإسناد) (قتادہ مدلس ہیں اور أنَّ سے روایت کئے ہیں نیز معمر نے شک سے روایت کیا ہے، قتادہ یا کسی اور سے )
عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ (رض) نے ہم سے بیان کیا کہ : نبی اکرم ﷺ اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی اس رات رہا (آپ کو چھوڑ کر نہ گیا) تو آپ نے فرمایا : اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے ۔
Abu Qatadah said: The Prophet ﷺ was on journey. The people became thirsty, and they went quickly. I guarded the Messenger of Allah ﷺ on that night. He said: May Allah guard you for the reason you have guarded His Prophet!
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٩١) (صحیح )
ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) ابن زبیر اور ابن عامر (رض) کے پاس آئے، تو ابن عامر کھڑے ہوگئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، معاویہ نے ابن عامر سے کہا : بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو یہ چاہے کہ لوگ اس کے سامنے (با ادب) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے ۔
Narrated Muawiyah (RA) : Abu Mijlaz said: Muawiyah went out to Ibn az-Zubayr and Ibn Amir. Ibn Amir got up and Ibn az-Zubayr remained sitting. Muawiyah said to Ibn Amir: Sit down, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Let him who likes people to stand up before him prepare his place in Hell.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ١٣ (٢٧٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٩١، ٩٣، ١٠٠) (صحیح )
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ایک چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تشریف لائے تو ہم سب کھڑے ہوگئے، آپ نے فرمایا : عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام میں کھڑے نہ ہوا کرو ۔
Narrated Abu Umamah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out to us leaning on a stick. We stood up to show respect to him. He said: Do not stand up as foreigners do for showing respect to one another.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٥٣، ٢٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالدبس مجہول، اور ابومرزوق لین الحدیث ہیں لیکن بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے باادب کھڑے رہنے کی ممانعت جابر (رض) کی حدیث سے صحیح مسلم میں مروی ہے )
غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : مجھے میرے والد نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا اور کہا : آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا : میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا : تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو ۔
Narrated A man: Ghalib said: When we were sitting at al-Hasans door, a man came along. He said: My father told me on the authority of my grandfather, saying: My father sent me to the Messenger of Allah ﷺ and said: Go to him and give him a greeting. So I went to him and said: My father sends you a greeting. He said: Upon you and upon your father be peace.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٢٩٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں کئی مجاہیل ہیں، البانی نے اسے حسن کہا ہے، صحیح ابی داود، ٣ ؍ ٤٨٢، جبکہ (٢٩٣٤) نمبر کی سابقہ حدیث (جو اس سند سے مفصل ہے) پر ضعف کا حکم لگایا ہے )
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ (رض) نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا : وعليه السلام ورحمة الله ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو ۔
Aishah told that the Prophet ﷺ said to her: Gabriel gives you a greeting. Replying she said: Upon him be peace and grace of Allah.
ابوعبدالرحمٰن فہری کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھا، ہم سخت گرمی کے دن میں چلے، پھر ایک درخت کے سایہ میں اترے، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ اپنے خیمہ میں تھے، میں نے کہا : السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبرکاته کوچ کا وقت ہوچکا ہے، آپ نے فرمایا : ہاں، پھر آپ نے فرمایا : اے بلال ! اٹھو، یہ سنتے ہی بلال ایک درخت کے نیچے سے اچھل کر نکلے ان کا سایہ گویا چڑے کے سایہ جیسا تھا ١ ؎ انہوں نے کہا : لبيك وسعديك وأنا فداؤك میں حاضر ہوں، حکم فرمائیے، میں آپ پر فدا ہوں آپ نے فرمایا : میرے گھوڑے پر زین کس دو تو انہوں نے زین اٹھایا جس کے دونوں کنارے خرما کے پوست کے تھے، نہ ان میں تکبر کی کوئی بات تھی نہ غرور کی ٢ ؎ پھر آپ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے (اور چل پڑے) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرحمٰن فہری سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور یہ ایک عمدہ اور قابل قدر حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔
Narrated Abu Abdur Rahman al-Fihri (RA) : I was present with the Messenger of Allah at the battle of Hunayn. We travelled on a hot day when the heat was extreme. We halted under the shade of a tree. When the sun passed the meridian, I put on my coat of mail and rode on my horse. I came to the Messenger of Allah ﷺ who was in a tent. I said: Peace, Allahs mercy and His blessings be upon you! The time of departure has come. He said: Yes. He then said: Rise, Bilal. He jumped out from beneath a gum-acacia tree and its shade was like that of a bird. He said: I am at your service and at your pleasure, and I make myself a sacrifice for you. He said: Put the saddle on the horse for me. He then took out a saddle, both sides of which were stuffed with palm-leaves; it showed no arrogance and pride. So he rode and we also rode. He then mentioned the rest of the tradition. Abu Dawud said: Abu Abdur-Rahman al-Fihri did not transmit any tradition except this one. This is a tradition of an expert transmitted by Hammad bin Salamah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اشارہ ہے ان کے ضعف اور ان کی لاغری کی طرف۔ ٢ ؎ : جیسے دنیا داروں کی زین میں ہوتا ہے۔
مرداس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہنسے تو ابوبکر (رض) یا عمر (رض) نے آپ سے أضحک الله سنك اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے کہا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Narrated Ibn Kinanah bin Abbas ibn Mirdas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ laughed Abu Bakr or Umar said to him: May Allah make your teeth laugh! He then mentioned the tradition.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٦ (٣٠١٣) ، (تحفة الأشراف : ٥١٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابن کنانہ اور خود کنانہ بن عباس مجہول ہیں )
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا : عبداللہ ! یہ کیا ہو رہا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ مرمت (سرمت) کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا : معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے (یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو) ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ came upon us when my mother and I were plastering a wall of mine. He asked: What is this, Abdullah ? I replied: It is something I am repairing. He said! The matter is quicker for you than that.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزھد ٢٥ (٢٣٣٥) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ١٣ (٤١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦١) (صحیح )
اس سند سے بھی اعمش سے (ان کی سابقہ سند سے) یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہوگیا تھا، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے کہا : ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مگر میں تو معاملہ (موت) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں (زندگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کرو) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Amash through a different chain of narrators. This version has: The Messenger of Allah ﷺ came upon me when we were repairing our cottage that was broken. He asked: What is this? We replied: This cottage of ours has broken and we are repairing it. The Messenger of Allah ﷺ said: I see that the command is quicker than that.