ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے گا، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The young should salute the old, the one who is passing by should salute the one who is sitting, and a small company should salute a large one.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: one who is riding should salute one who is walking. He then mentioned the rest of the tradition.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الاستئذان ٥ (٦٢٣٢) ، ٦ (٦٢٣٣) ، صحیح مسلم/ السلام ١ (٢١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٢٥، ٥١٠) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے، پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور وہ اس سے ملے (ان کا آمنا سامنا ہو) تو وہ پھر اسے سلام کرے۔ معاویہ کہتے ہیں : مجھ سے عبدالوہاب بن بخت نے بیان کیا ہے انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے ہو بہو اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When one of you meets his brother, he should salute him, then if he meets him again after a tree, wall or stone has come between them, he should also salute him. Muawiyah said: Abd al-Wahhab bin Bakht transmitted a similar tradition to me from Abu al-Zinad, from al-Araj, from Abu Hurairah, from the Messenger of Allah ﷺ .
عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ اپنے ایک کمرے میں تھے، اور کہا : اللہ کے رسول ! السلام عليكم کیا عمر اندر آسکتا ہے ١ ؎؟۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Umar came to the Prophet ﷺ when he was in his wooden oriel, and said to him: Peace be upon you. Messenger of Allah, peace be upon you! May Umar enter ?
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث کی باب سے مناسبت واضح نہیں ہے ممکن ہے کہ اس کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ مؤلف اس باب کے ذریعہ تسلیم کی چار صورتیں بیان کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے ملے اور سلام کرے پھر دونوں جدا ہوجائیں اور پھر دوبارہ ملیں تو کیا کریں، اس سلسلہ میں ابوہریرہ (رض) کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ وہ جب بھی ملیں تو سلام کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے ملے اور اسے سلام کرے پھر وہ اس سے جدا ہوجائے، پھر وہ اس کے گھر پر اس سے ملنے آئے تو اس کے لئے مناسب ہے کہ دوبارہ اسے سلام کرے یہ سلام سلام لقاء نہیں سلام استیٔذان ہوگا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے اس کے گھر ملنے آیا اور اس نے اسے سلام استیٔذان کیا لیکن اسے اجازت نہیں ملی اور وہ لوٹ گیا، پھر وہ کچھ دیر کے بعد دوبارہ گھر پر ملنے آیا تو مناسب ہے کہ وہ دوبارہ سلام استیٔذان کرے۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے اس کے گھر پر ملنے آیا اور سلام استیٔذان کیا لیکن اسے اجازت نہیں ملی اور وہ لوٹ گیا پھر دوبارہ آیا اور سلام استیٔذان کیا اور اسے اجازت مل گئی تو اندر جا کر وہ پھر سلام کرے اور یہ سلام سلام لقاء ہوگا، دوسری، تیسری اور چوتھی صورت پر مؤلف نے عمر (رض) کی اسی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ابوداود نے اسے مختصراً ذکر کیا ہے اور امام بخاری نے اسے کتاب انکاح اور کتاب المظالم میں مطوّلاً ذکر کیا ہے جس سے اس روایت کی باب سے مناسبت واضح ہوجاتی ہے۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا : ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ came to us when I was a boy among the boys. He saluted us and took me by my hand. He then sent me with some message. He himself sat in the shadow of a wall, or he said: near a wall until I returned to him.
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید (رض) نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم ﷺ گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ١ ؎۔
Asma, daughter of Yazid, said: the Prophet ﷺ , passed us by when we were with some women and gave us a salutation.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اگر عورتوں کی جماعت ہے تو انہیں سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عورت اگر اکیلی ہے اور سلام کرنے والا اس کے لئے محرم نہیں ہے تو (فتنہ کے خدشہ نہ ہونے کی صورت میں) سلام نہ کرنا بہتر ہے، تاکہ فتنہ وغیرہ سے محفوظ رہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الاستئذان ٩ (٢٦٩٧) ، سنن ابن ماجہ/ الآداب ١٤ (٣٧٠١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٥٢، ٤٥٧) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٩ (٢٦٧٩) (صحیح )
سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ شام گیا تو وہاں لوگوں (یعنی قافلے والوں) کا گزر نصاریٰ کے گرجا گھروں کے پاس سے ہونے لگا تو لوگ انہیں (اور ان کے پجاریوں کو) سلام کرنے لگے تو میرے والد نے کہا : تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ ابوہریرہ (رض) نے ہم سے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بیان کی ہے، آپ نے فرمایا ہے : انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستہ پر چلنے پر مجبور کرو (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو وہ کونے کنارے سے ہو کر چلیں) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Suhayl ibn Abu Salih said: I went out with my father to Syria. The people passed by the cloisters in which there were Christians and began to salute them. My father said: Do not give them salutation first, for Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not salute them (Jews and Christians) first, and when you meet them on the road, force them to go to the narrowest part of it.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے اور وہ السام عليكم (تمہارے لیے ہلاکت ہو) کہے تو تم اس کے جواب میں وعليكم کہہ دیا کرو (یعنی تمہارے اوپر موت و ہلاکت آئے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مالک نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری نے بھی عبداللہ بن دینار سے وعليكم ہی کا لفظ روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of the Jews greets you saying: Death may come upon you, reply: The same to you. Abu Dawud said: Malik bin Adb Allah bin Dinar transmitted it in a similar manner, and al-Thawri transmitted it from Abdullah bin Dinar. He said in this version: The same to you.
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا : اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ وعليكم کہہ دیا کرو ابوداؤد کہتے ہیں : ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔
Anas said: The Companions of the prophet ﷺ said to the prophet ﷺ : The people of the Book salute us. How should we reply to them? He said: say: the same to you.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you comes to an assembly, he should give a salutation and if he feels inclined to get up, he should give a salutation, for the former is not more of a duty than the latter.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الاستئذان ١٥ (٢٧٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣٠، ٤٣٩) (حسن )
ابوجری ہجیمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا : عليك السلام يا رسول الله آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : عليك السلام مت کہو کیونکہ عليك السلام مردوں کا سلام ہے۔
Narrated Abu Jurayy al-Hujaymi (RA) : I came to the Prophet ﷺ and said: Upon you be peace, Messenger of Allah! He said: Do not say: Upon you be peace, for Upon you be peace is the salutation to the dead.
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں : حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے) ، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو (لوگ چل رہے ہوں) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کرلینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہوگا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ١ ؎۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Abu Dawud said: Al-Hasan ibn Ali traced this tradition back to the Prophet ﷺ : When people are passing by, it is enough if one of them gives a salutation on their behalf, and that it is enough for those who are sitting if one of them replies.
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دو مسلمان آپس میں ملیں پھر دونوں مصافحہ کریں ١ ؎، دونوں اللہ عزوجل کی تعریف کریں اور دونوں اللہ سے مغفرت کے طالب ہوں تو ان دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: The Prophet ﷺ said: If two Muslims meet, shake hands, praise Allah, and ask Him for forgiveness, they will be forgiven.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مصافحہ صرف ملاقات کے وقت مسنون ہے، سلام کے بعد اور نماز کے بعد، مصافحہ کرنے کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے، یہ بدعت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٩٣) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی زید لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت حسن ہے )
براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دو مسلمان آپس میں ملتے اور دونوں ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہوجاتی ہے ۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: The Prophet ﷺ said: Two Muslims will not meet and shake hands having their sins forgiven them before they separate.
Takhrij · تخریج
* تخريج : سنن الترمذی/ الاستئذان ٣١ (٢٧٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٥ (٣٧٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/ ٢٨٩، ٣٠٣) (حسن )
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب یمن کے لوگ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مصافحہ کرنا شروع کیا ۔
Narrated Anas ibn Malik: When the people of the Yemen came, the Messenger of Allah ﷺ said: The people of the Yemen have come to you and they are first to shake hands.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٢، ٢٥١) (صحیح) ( وهم أول من ... کا جملہ انس کا اپنا قول مدرج ہے )
قبیلہ عنزہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے ابوذر (رض) سے جب وہ شام سے واپس لائے گئے کہا : میں آپ سے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا : اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا، میں نے کہا : وہ راز کی بات نہیں ہے (پوچھنا یہ ہے) کہ جب آپ لوگ رسول اللہ ﷺ سے ملتے تھے تو کیا وہ آپ سے مصافحہ کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : میری تو جب بھی رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ ہی فرمایا، اور ایک دن تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا بھیجا، میں گھر پر موجود نہ تھا، پھر جب میں آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا بھیجا تھا تو میں آپ کے پاس آیا اس وقت آپ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، تو آپ نے مجھے چمٹا لیا، یہ بہت اچھا اور بہت عمدہ (طریقہ) ہے۔
Narrated Abu Dharr (RA) : Ayyub ibn Bushayr ibn Kab al-Adawi quoted a man of Anazah who said that he asked Abu Dharr when he left Syria: I wish to ask you about a tradition of the Messenger of Allah ﷺ . He said: I shall tell you except that it is something secret. Did the Messenger of Allah ﷺ shake hands with you when you met him? He replied: I never met him without his shaking hands with me. One day he sent for me when I was not at home. When I came I was informed that he had sent for me. I came to him and found him on a couch. He embraced me and that was better and better.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٢٠٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٦٣، ١٦٧) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے )
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ جب قریظہ کے لوگ سعد کے حکم (فیصلہ) پر اترے تو نبی اکرم ﷺ نے سعد (رض) کو بلا بھیجا، وہ ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر آئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے سردار یا اپنے بہتر شخص کی طرف بڑھو پھر وہ آئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔
Abu Saeed Al-Khudri said: When Banu Quraizah capitulated agreeing to accept Saad’s judgement, the Prophet ﷺ sent a messenger to him. When he came riding on a white ass, the prophet ﷺ said: stand up to (show respect to) your chief, or he said: “to the best of you”. He came and sat beside the Messenger of Allah ﷺ .
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے : جب وہ مسجد سے قریب ہوئے تو آپ نے انصار سے فرمایا : اپنے سردار کی طرف بڑھو ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Shubah through a different chain of narrators. This version has: when he came near the mosque, he said to the Ansar; stand up showing respect to your chief.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے قیام تعظیم کی بابت استدلال درست نہیں کیونکہ ترمذی میں انس (رض) کی یہ روایت موجود ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے پھر بھی لوگ آپ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ آپ کو یہ چیز پسند نہیں۔ دوسری جانب مسند احمد میں قوموا إلى سيدكم کے بعد فأنزلوه کا اضافہ ہے جو صحیح ہے اور اس امر میں صریح ہے کہ لوگوں کو سعد بن معاذ (رض) کے لئے کھڑے ہونے کا جو حکم ملا یہ کھڑا ہونا دراصل سعد (رض) کو اس زخم کی وجہ سے بڑھ کر اتارنے کے لئے تھا جو تیر کے لگنے سے ہوگیا تھا، نہ کہ یہ قیام تعظیم تھا۔