ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، (عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے) تو وہ نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوگئے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح ؟ (یعنی دروازہ سے ہٹ کر) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔
Narrated Huzayl: A man came. Uthmans version has: Saad ibn Abu Waqqas came. He stood at the door. Uthmans version has: (He stood) facing the door. The Prophet ﷺ said to him: Away from it, (stand) this side or that side. Asking permission is meant to escape from the look of an eye. A similar tradition has also been transmitted by Talhah bin Musarrif from a man from Saad from the prophet ﷺ through a different chain of narrators.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩٤٦) (صحیح )
سعد (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٩٤٦) (صحیح )
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ہم سے مسدد نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ہے انہوں نے منصور سے اور منصور نے ربعی سے روایت کیا ہے، انہوں نے عن رجل من بني عامر نہیں کہا ہے۔
Ribi bin Hirash said I was told that a man of Banu Amir asked the prophet ﷺ for permission to enter the house. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect. Abu Dawud said: Similarly, Musaddad transmitted it to us saying that Abu Awanah related it to us from Mansur. He did not say: a man of Banu Amir.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٧٢، ١٨٦٣٠) (صحیح )
بنو عامر کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت طلب کی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے : میں نے اسے سن لیا تو میں نے کہا : السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ ۔
Ribi said that a man of Banu Amir told him that he asked permission of the prophet ﷺ to enter the house. He related the tradition to the same effect, saying: I heard it and so I said: Peace be upon you. May I enter?
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٧٢، ١٨٦٣٠) (صحیح )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ (رض) گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا : کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : مجھے عمر (رض) نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا (دوبارہ ملاقات پر) انہوں نے کہا : تم میرے پاس کیوں نہیں آئے ؟ میں نے کہا : میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے (یہ سن کر) عمر (رض) نے کہا : تم اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، اس پر ابوسعید نے کہا : (اس کی گواہی کے لیے تو) تمہارے ساتھ قوم کا ایک معمولی شخص ہی جاسکتا ہے، پھر ابوسعید ہی اٹھ کر ابوموسیٰ کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔
Abu Saeed Al-Khudri said: I was sitting in one of the meeting of the Ansar. Abu Musa came terrified. We asked him; what makes you terrified? He replied: Umar sent for me; so I went to him and asked his permission three times, but he did not permit me (to enter), so I came back. He asked; what has prevented you from coming to me? I replied: I came and asked permission three times, but it was not granted to me (so I returned). The Messenger of Allah ﷺ has said: When one of you asks permission three times and it is not granted to him, he should go away. He (Umar’) said; establish the proof of it. So Abu Saeed said: the youngest of the people will accompany you. So Abu Saeed got up with him and testified.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩ (٢٠٦٢) ، الاستئذان ١٣ (٦٢٤٥) ، صحیح مسلم/الآداب ٧ (٢١٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٧٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الاستئذان ٣ (٢٦٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٧ (٣٧٠٦) ، موطا امام مالک/الاستئذان ١ (٣) ، مسند احمد (٤/٣٩٨) ، دي /الاستئذان ١ (٢٦٧١) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ وہ عمر (رض) کے پاس آئے، اور ان سے اندر آنے کی اجازت تین مرتبہ مانگی : ابوموسیٰ اجازت کا طلب گار ہے، اشعری اجازت مانگ رہا ہے، عبداللہ بن قیس اجازت مانگ رہا ہے ١ ؎ انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، تو عمر (رض) نے بلانے کے لیے بھیجا (جب وہ آئے) تو پوچھا : لوٹ کیوں گئے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : تم میں سے ہر کوئی تین بار اجازت مانگے، اگر اسے اجازت دے دی جائے (تو اندر چلا جائے) اور اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جائے، عمر (رض) نے کہا : اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، وہ گئے اور (ابی بن کعب (رض) کو لے کر) واپس آئے اور کہا یہ ابی (گواہ) ہیں ٢ ؎، ابی نے کہا : اے عمر ! رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے باعث عذاب نہ بنو تو عمر نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے لیے باعث اذیت نہیں ہوسکتا۔
Abu Musa said that he came to Umar and asked permission three times saying: Abu Musa asks permission, al-Ash’ari ask permission, and Abdullah bin Qais asks permission, but it was not granted to him. So he went away and Umar sent for him saying: what did you return? He replied: The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you asks permission three times and it is not granted to him, he should go away. He said: Establish the proof of it. He went, came back, and said; This is Ubayy. Ubayy said: Umar, do not be an agony for the Companions of the Messenger of Allah ﷺ . Umar said: I shall not be an agony for the Companions of the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎ : ابوموسیٰ اشعری کا نام عبداللہ بن قیس ہے، آپ نے نام سے، کنیت سے، قبیلہ کی طرف نسبت سے، تینوں طریقوں سے اجازت مانگی۔ ٢ ؎ : اس سے پہلے والی حدیث میں ہے کہ شاہد ابوسعید تھے اور اس میں ہے ابی بن کعب تھے دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ ابوسعید خدری نے پہلے گواہی دی اس کے بعد ابی بن کعب آئے اور انہوں نے بھی گواہی دی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الآداب ٧ (٢١٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٩١٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩٨) (حسن الإسناد) (اس کے راوی طلحہ سے غلطی ہوجایا کرتی تھی، ویسے پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے )
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ (رض) نے عمر (رض) سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ ابوموسیٰ ابو سعید خدری (رض) کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی، عمر (رض) نے کہا رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی، بازاروں کی خریدو فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کردیا، (اب تمہارے لیے اجازت ہے) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے۔
Ubaid bin Umair said: Abu Musa asked Umar for permission to enter the house. This version has: he went with Abu sa’ld who testified to it. He said Did this practice of the Messenger of Allah ﷺ remain hidden from me? My engagement in the transaction in the market made me oblivious of it. Now give me salutation as you wish; and do not ask permission.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٥١٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٦) (صحیح) (لیکن آخری ٹکڑا جتنی بار چاہو ... صحیح نہیں ہے، اور یہ صحیحین میں ہے بھی نہیں )
اس سند سے بھی ابوموسیٰ (رض) سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر (رض) نے ابوموسیٰ سے کہا : میں تم پر (جھوٹی حدیث بیان کرنے کا) اتہام نہیں لگاتا، لیکن رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Musa in a similar way through a different chain of narrators. This version has: Umar said to Abu Musa (RA) : I do not blame you, but the matter of transmitting a tradition from the Messenger of Allah ﷺ is serious.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : حدیث کو روایت کرنے میں بڑی احتیاط اور ہوشیاری لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ بھول چوک ہوجائے یا غلط فہمی سے الفاظ بدلنے میں مطلب کچھ کا کچھ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٥١٨١) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٨٤) (صحیح الإسناد )
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور دوسرے بہت سے علماء سے اس سلسلہ میں مروی ہے عمر (رض) نے ابوموسیٰ اشعری (رض) سے کہا : میں نے تمہیں جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے منسوب کر کے جھوٹی حدیثیں نہ بیان کرنے لگیں۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Musa through a different chain of narrators in a similar manner. This version has: Umar said to Abd Musa: I do not blame you, but I am afraid that the people may talk carelessly about the Messenger of Allah ﷺ .
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٥١٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٧٠) (صحیح الإسناد )
قیس بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے (باہر رک کر) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد (رض) نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں : میں نے (سعد سے) کہا : آپ رسول اللہ ﷺ کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے ؟ سعد نے کہا چھوڑو (جلدی نہ کرو) ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کو سلامتی کی دعا زیادہ کرلینے دو ، رسول اللہ ﷺ نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ ﷺ نے کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ (اور جواب نہ سن کر) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہوجائے تب رسول اللہ ﷺ سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ ﷺ کے غسل کے لیے (پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ ﷺ کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے : اے اللہ ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ ﷺ اس پر سوار ہوگئے، تو سعد نے کہا : اے قیس ! تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم بھی سوار ہوجاؤ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا : سوار ہوجاؤ ورنہ واپس جاؤ ۔ قیس کہتے ہیں : میں لوٹ آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Qays ibn Saad (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to visit us in our house, and said: Peace and Allahs mercy be upon you! Saad returned the greeting in a lower tone. Qays said: I said: Do you not grant permission to the Messenger of Allah ﷺ to enter? He said: Leave him, he will give us many greetings. The Messenger of Allah ﷺ then said: Peace and Allahs mercy be upon you! Saad again responded in a lower tone. The Messenger of Allah ﷺ again said: Peace and Allahs mercy be upon you! So the Messenger of Allah ﷺ went away. Saad went after him and said: Messenger of Allah! I heard your greetings and responded in a lower tone so that you might give us many greetings. The Messenger of Allah ﷺ returned with him. Saad then offered to prepare bath-water for him, and he took a bath. He then gave him a long wrapper dyed with saffron or wars and he wrapped himself in it. The Messenger of Allah ﷺ then raised his hands and said: O Allah, bestow Thy blessings and mercy on the family of Saad ibn Ubadah! The Messenger of Allah ﷺ then shared their meals. When he intended to return, Saad brought near him an ass which was covered with a blanket. The Messenger of Allah ﷺ mounted it. Saad said: O Qays, accompany the Messenger of Allah. Qays said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: Ride. But I refused. He again said: Either ride or go away. He said: So I went away. Hisham said: Abu Marwan (transmitted) from Muhammad ibn Abdur Rahman ibn Asad ibn Zurarah. Abu Dawud said: Umar bin Abd al-Wahid and Ibn Samaah transmitted it from al-Awzai in mursal form (the ling of the Companion being missing), and they did not mention Qais bin Saad.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٩٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٩ (٤٦٦) ، اللباس ٢٢ (٣٦٠٤) ، مسند احمد (٣/٤٢١، ٦/٧) (ضعیف الإسناد )
عبداللہ بن بسر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے : السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔
Narrated Abdullah ibn Busr (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ came to some peoples door, he did not face it squarely, but faced the right or left corner, and said: Peace be upon you! peace be upon you! That was because there were no curtains on the doors of the house at that time.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٢٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٨٩) (صحیح )
جابر (رض) کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا : کون ہے ؟ میں نے کہا : میں ہوں آپ نے فرمایا : میں، میں (کیا ؟ ) گویا کہ آپ نے (اس طرح غیر واضح جواب دینے) کو برا جانا۔
Jabir said that he went to the prophet ﷺ about the debt of my father. He said: I knocked at the door. He asked: who is there? I replied: it is I. he said: I, as though he disapproved of it.
نافع بن عبدالحارث (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ایک (باغ کی) چہار دیواری میں داخل ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا : دروازہ بند کئے رہنا پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے پوچھا : کون ہے ؟ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی ابوموسیٰ اشعری کی حدیث بیان کی ١ ؎ اس میں ضرب الباب کے بجائے فدق الباب کے الفاظ ہیں۔
Narrated Nafi ibn AbdulHarith (RA) : I went out with the (Messenger of Allah ﷺ until I entered a garden, he said: Keep on closing the door. The door was then closed. I then said: Who is there ? He then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said: That is to say, the tradition of Abu Musa al-Ashari. In this version he said: He then knocked at the door.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے مؤلف کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جسے مسلم نے اپنی صحیح میں عثمان (رض) کے فضائل میں روایت کیا ہے (آپ ﷺ ایک باغ میں گئے، ابوموسیٰ (رض) کو دربان بنایا، ابوبکر (رض) آئے، عمر (رض) آئے پھر عثمان آئے، پھر بیئر اریس نامی کنویں پر آپ بیٹھ گئے الی آخرہ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٥٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٠٨) (حسن )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی آدمی کھانے کے لیے بلایا جائے اور وہ بلانے والا آنے والے کے ساتھ ہی آجائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے (پھر اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں) ۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں : میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا : کہ قتادہ نے ابورافع سے کچھ نہیں سنا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you is invited to take meals and comes along with the messenger, that serves as permission for him to enter. Abu Ali al-Lulu said: I heard Abu Dawud say: Qatadah did not hear anything from Abu Rafi.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٦٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٥٣٣) (صحیح لغیرہ )
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس (رض) کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عطاء نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا (استیذان کا) حکم دیتے تھے۔
Ibn Abbas said: Most of the people did not act upon the verse about asking permission to enter the house. I have commanded this slave-girl of mine to ask my permission to enter. Abu Dawud said: Ata also transmitted it from Ibn Abbas in a similar way. He commanded to act upon this.
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا : ابن عباس ! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول يا أيها الذين آمنوا ليستأذنکم الذين ملکت أيمانکم والذين لم يبلغوا الحلم منکم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابکم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لکم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم اے ایمان والو ! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ، اور وہ تمہارے پاس آئیں۔ (النور : ٥٨) قعنبی نے آیت عليم حكيم تک پڑھی۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ حلیم (بردبار) ہے اور مسلمانوں پر رحیم (مہربان) ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، (یہ آیت جب نازل ہوئی ہے تو) لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے، اور نہ ہی چلمن (سرکیاں) ، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی خدمت گار کوئی لڑکا یا کوئی یتیم بچی ایسے وقت میں آجاتی جب آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ان اوقات میں اجازت لینے کا حکم دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پردے دیے اور خیر (مال) سے نوازا، اس وقت سے میں نے کسی کو اس آیت پر عمل کرتے نہیں دیکھا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبیداللہ اور عطاء کی حدیث (جن کا ذکر اس سے پہلے آچکا ہے) اس حدیث کی تضعیف کرتی ہے۔ ٣ ؎ یعنی یہ حدیث ان دونوں احادیث کی ضد ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : Ikrimah said: A group of people from Iraq said: Ibn Abbas, what is your opinion about the verse in which we have been commanded whatever we have been commanded, but no one acts upon it? The word of Allah, Most High, reads: O ye who believe! Let those whom your right hands possess, and the (children) among you, who have not come of age, ask your permission (before) they enter your presence on three occasions: before morning prayer, while you are undressing for the noonday heat, and after late-night prayer. These are your three times of undress; outside those times it is not wrong for you or for them to move about. Al-Qanabi recited the verse up to full of knowledge and wisdom. Ibn Abbas said: Allah is Most Clement and Most Merciful to the believers. He loves concealment. The people had neither curtains nor curtained canopies in their houses. Sometimes a servant, a child or a female orphan of a man entered while the man was having sexual intercourse with his wife. So Allah commanded them to ask permission in those times of undress. Then Allah brought them curtains and all good things. But I did not see anyone following it after that. Abu Dawud said: The tradition of Ubaid Allah and of Ata, weakens this tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎ : پردے ڈال لینے اور دروازہ بند کرلینے کے بعد بالعموم اس کی ضرورت نہیں رہ گئی تھی اور کوئی ایسے اوقات میں دوسروں کے خلوت کدوں میں جاتا نہ تھا۔ ٣ ؎ : عبداللہ بن عباس (رض) کی ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاسکتی ہے کہ اذن (اجازت) لینے کا حکم اس صورت میں ہے جب گھر میں دروازہ نہ ہو اور عدم اذن اس صورت میں ہے جب گھر میں دروازہ ہو۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے : تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور تم (کامل) مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو : آپس میں سلام کو عام کرو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: By him in whose hand my soul is, you will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another: should I not guide you to something doing which you will love one another: spread out salutation among you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٣٨١) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإیمان ٢٢ (٥٤) ، سنن الترمذی/الاستئذان ١ (٢٦٨٩) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٨) ، مسند احمد (١/١٦٥، ٢/٣٩١) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
Abdullah bin Amr said: A man asked the Messenger of Allah ﷺ : When aspect of Islam is best? He replied: that you should provide food and greet both those you know and those you do not know.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کو دس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا، اس نے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا : اس کو بیس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا : اسے تیس نیکیاں ملیں ۔
Narrated Imran ibn Husayn: A man came to the Prophet ﷺ and said: Peace be upon you! He responded to his salutation. He then sat down. The Prophet ﷺ said: Ten. Another man came and said: Peace and Allahs mercy be upon you! He responded to his salutation when he sat down. He said: Twenty. Another man came and said: Peace and Allahs mercy and blessings be upon you! He responded to him and said when he sat down: and blessings be upon you! He responded to him and said when he sat down: Thirty.
معاذ بن انس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ تو آپ نے فرمایا : اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح (اور کلمات کے اضافے پر) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔
Narrated Muadh ibn Anas (RA) : (This version is same as previous No 5176 from the Prophet ﷺ , adding that): Afterwards another man came and said: Peace and Allahs mercy, blessings and forgiveness be upon you! whereupon he said: Forty. adding: Thus are excellent qualities rewarded.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٣٠٠) (ضعیف الإسناد) (راوی ابن ابی مریم نے نافع سے سماع میں شک کا اظہار کیا )