اجازت لیتے وقت دروازہ کھٹکھٹانے کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ يَعْنِي الْمَقَابِرِيَّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْتُ حَائِطًا، فَقَالَ لِي: أَمْسِكِ الْباب، فَضُرِبَ الْباب، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: فِيهِ فَدَقَّ الْباب.
نافع بن عبدالحارث ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ایک (باغ کی) چہار دیواری میں داخل ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا: دروازہ بند کئے رہنا پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے پوچھا: کون ہے؟ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی ابوموسیٰ اشعری کی حدیث بیان کی ١ ؎ اس میں ضرب الباب کے بجائے فدق الباب کے الفاظ ہیں۔
Narrated Nafi ibn AbdulHarith (RA) : I went out with the (Messenger of Allah ﷺ until I entered a garden, he said: Keep on closing the door. The door was then closed. I then said: Who is there ? He then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said: That is to say, the tradition of Abu Musa al-Ashari. In this version he said: He then knocked at the door.