جس شخص کو بلایا جائے کیا بلاواہی اس کی اجازت ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کو بلا بھیجنا، ہی اس کی جانب سے اس کے لیے اجازت ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A mans messenger sent to another indicates his permission to enter.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٤٦٢) (صحیح )