سلام کی کثرت کا حکم
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
Abdullah bin Amr said: A man asked the Messenger of Allah ﷺ : When aspect of Islam is best? He replied: that you should provide food and greet both those you know and those you do not know.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٦ (١٢)، ٢٠ (٢٨)، والاستئذان ٩ (٦٢٣٦)، صحیح مسلم/الإیمان ١٤ (٣٩)، سنن النسائی/الإیمان ١٢ (٥٠٠٣)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١ (٣٢٥٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٢٧)، وقد أخرجہ: حم (٢/١٦٩) (صحیح )