اجازت لیتے وقت کتنی بار السلام علیکم کہنا چاہیے
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي مُوسَى: إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ.
اس سند سے بھی ابوموسیٰ ؓ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر ؓ نے ابوموسیٰ سے کہا: میں تم پر (جھوٹی حدیث بیان کرنے کا) اتہام نہیں لگاتا، لیکن رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Musa in a similar way through a different chain of narrators. This version has: Umar said to Abu Musa (RA) : I do not blame you, but the matter of transmitting a tradition from the Messenger of Allah ﷺ is serious.