علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آخری بات (انتقال کے موقع پر) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا، اور جو تمہاری ملکیت میں (غلام اور لونڈی) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The last words which the Messenger of Allah ﷺ spoke were: Prayer, prayer; fear Allah about those whom your right hands possess.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الوصایا ١ (٢٦٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٧٨) (صحیح )
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر کو ربذہ (مدینہ کے قریب ایک گاؤں) میں دیکھا وہ ایک موٹی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام کے بھی (جسم پر) اسی جیسی چادر تھی، معرور بن سوید کہتے ہیں : تو لوگوں نے کہا : ابوذر ! اگر تم وہ (چادر) لے لیتے جو غلام کے جسم پر ہے اور اپنی چادر سے ملا لیتے تو پورا جوڑا بن جاتا اور غلام کو اس چادر کے بدلے کوئی اور کپڑا پہننے کو دے دیتے (تو زیادہ اچھا ہوتا) اس پر ابوذر نے کہا : میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اس کی ماں کے غیر عربی ہونے کا اسے طعنہ دیا، اس نے میری شکایت رسول اللہ ﷺ سے کردی، تو آپ نے فرمایا : ابوذر ! تم میں ابھی جاہلیت (کی بو باقی) ہے وہ (غلام، لونڈی) تمہارے بھائی بہن، ہیں (کیونکہ سب آدم کی اولاد ہیں) ، اللہ نے تم کو ان پر فضیلت دی ہے، (تم کو حاکم اور ان کو محکوم بنادیا ہے) تو جو تمہارے موافق نہ ہو اسے بیچ دو ، اور اللہ کی مخلوق کو تکلیف نہ دو ١ ؎۔
Marur bin Suwaid said: I saw Abu Dharr at Rabadhah. He was wearing a thick cloak, and his slave also wore a similar one. He said: the people said: Abu Dharr! (it would be better) if you could take the cloak which your slave wore, and you combined that with, and it would be a pair of garments (hullah) and you would clothe him with another garment. He said: Abu Dharr said: I abused a man whose mother was a non-Arab and I reviled him for his mother. He complained against me to the Messenger of Allah ﷺ . He said: Abu Dharr! You are a man who has a characteristic of pre-Islamic days. He said: they are your brethren; Allah has given you superiority over them; sell those who do not please you and do not punish Allah’s creatures.
Notes · وضاحت
١ ؎ : لہٰذا میں اپنے اس عمل سے اسے تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے ناراض رہے۔
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ ہم ابوذر (رض) کے پاس ربذہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے جسم پر ایک چادر ہے اور ان کے غلام پر بھی اسی جیسی چادر ہے، تو ہم نے کہا : ابوذر ! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے، تو آپ کا پورا جوڑا ہوجاتا، اور آپ اسے کوئی اور کپڑا دے دیتے۔ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ (غلام اور لونڈی) تمہارے بھائی (اور بہن) ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کیا ہے، تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو تو اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے اور وہی پہنائے جو خود پہنے، اور اسے ایسے کام کرنے کے لیے نہ کہے جسے وہ انجام نہ دے سکے، اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بنائے جو اس کے بس کا نہ ہو تو خود بھی اس کام میں لگ کر اس کا ہاتھ بٹائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن نمیر نے اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Marur bin Suwaid said: We called on Abu Dharr at al-Rabadhah. He wore a cloak and his slave also wore a similar one. We said; Abu Dharr! If you took the cloak of your slave and combined it with your cloak, so that it could be a part of garments (hullah) and clothed him in another garment, (it would be better). He said; I heard the Messenger of Allah ﷺ say; They are your brethren. Allah has put them under your authority; so he who has his brother under his authority must feed him from what he eats and clothe him with what he wears, and not impose on him work which is too much for him, but if he does so, he must help him. Abu Dawud said: Ibn Numair transmitted it from al-Amash in a similar way.
ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی : اے ابومسعود ! جان لو، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس (غلام) پر رکھتے ہو، یہ آواز دو مرتبہ سنائی پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم ﷺ تھے، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، آپ نے فرمایا : اگر تم اسے (آزاد) نہ کرتے تو آگ تمہیں لپٹ جاتی یا آگ تمہیں چھو لیتی ۔
Abu Masud al-Ansari said: when I was beating a servant of mine, I heard a voice behind me saying: know, Abu Masud-Ibn al-Muthanna said: “twice”-that Allah has more power over you than you have over him. I turned round and saw that it was that it was the prophet ﷺ . I said: Messenger of Allah! He is free for Allah’s sake. He said: If you had not done it, fire would have burned you or the fire would have touched you.
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طرح مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ میں اپنے ایک کالے غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا، اور انہوں نے آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Amash in a similar way to same way to the same effect through a different chain of narrators.
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو تمہارے موافق ہوں تو انہیں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو، اور جو تمہارے موافق نہ ہوں، انہیں بیچ دو ، اللہ کی مخلوق کو ستاؤ نہیں ۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: Feed those of your slaves who please you from what you eat and clothe them with what you clothe yourselves, but sell those who do not please you and do not punish Allahs creatures.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٩٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٦٨، ١٧٣) (صحیح )
رافع بن مکیث (رض) سے روایت ہے (یہ ان صحابہ میں سے تھے جو صلح حدیبیہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شریک تھے) وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : غلام و لونڈی کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے پیش آنا برکت ہے اور بدخلقی، نحوست ہے ۔
Narrated Rafi ibn Makith (RA) : The Prophet ﷺ said: Treating those under ones authority will produce prosperity, but an evil nature produces evil fortune.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٥٩٩، ١٨٤٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٥٠٢) (ضعیف) (اس کے رواة عثمان جھنی اور بعض بنی رافع دونوں مجہول ہیں )
رافع بن مکیث سے روایت ہے، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے ۔
Narrated Rafi ibn Makith (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Treating those under ones authority well produces prosperity, but an evil nature produces evil fortune.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٥٩٩، ١٨٤٨٠) (ضعیف) (بقیہ ضعیف، عثمان، محمد اور حارث سب مجہول الحال ہیں )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ (سن کر) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا : ہر دن ستر بار اسے معاف کرو ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and asked: Messenger of Allah! how often shall I forgive a servant? He gave no reply, so the man repeated what he had said, but he still kept silence. When he asked a third time, he replied: Forgive him seventy times daily.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨٣٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٣١ (١٩٤٩) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی ۔
Abu Hurairah said: Abu al-Qasim, the Prophet of Atonement ﷺ said to me: If anyone reviles his slave when he is innocent of what he said, he will be beaten on the Day of Resurrection. The transmitter Muammal said: Isa narrated it to us from al-Fudial, that is, Ibn Ghazwan.
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن (رض) کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا : تیرے پاس اسے آزاد کردینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس کے آزاد کردینے کا حکم دیا۔
Hilal bin Yasaf said: We were staying in the house of Suwaid bin Muqarrin. There was among us an old man who was hot-tempered. He had a slave-girl with him. He gave a slap on her face. I never saw Suwaid more angry than on that day. He said: there is no alternative for you except to free her. I was the seventh child in order of Muqarrin and we had only a female servant. The youngest of us gave a slap on her face. The prophet ﷺ commanded us to set her free.
معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص (بدلہ) لو، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے آزاد کر دو لوگوں نے عرض کیا : اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے، آپ نے فرمایا : اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہوجائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو، اور جب یہ لوگ غنی ہوجائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کردیں ۔
Narrated Muawiyah ibn Suwayd ibn Muqarrin: I slapped a freed slave of ours. My father called him and me and said: Take retaliation on him. We, the people of Banu Muqarrin, were seven during the time of the Prophet ﷺ , and we had only a female servant. A man of us slapped her. The Messenger of Allah ﷺ said: Set her free. They said: We have no other servant than her. He said: She must serve them till they become well off. When they become well off, they should set her free.
زاذان کہتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی (معمولی) چیز لی اور کہا : اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔
Zadhan said: I came to Ibn Umar when he set his slave free. He took a stick or something else from the earth and said; for me there is no reward even equivalent to this. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone slaps or beats his slave the atonement due from him is to set him free.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٨ (١٦٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٧١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥، ٤٥، ٦١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا ۔
Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when a slave acts sincerely towards his master and worship Allah well, he will have a double reward.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔
Anas bin Malik (RA) said: A man peeped into some of the apartment of the prophet ﷺ . The prophet ﷺ got up taking an arrowhead or arrowheads. He said: I can still picture myself looking at the Messenger of Allah ﷺ when he was exploring to pierce him.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone peeps into the house of a people without their permission and he knocks out his eye, no responsibility is incurred for his eye.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اسے کوئی تاوان یا بدل نہیں دینا پڑے گا۔ بعضوں نے کہا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب اس نے اسے روکا ہو اور وہ نہ رکا ہو اور بعض علماء نے کہا ہے کہ تاوان دینا پڑے گا کیونکہ کسی کے گھر میں جھانکنا اس میں بلا اجازت داخل ہونے سے بڑا گناہ نہیں اور بلا اجازت داخل ہونے سے جب آنکھ نہیں پھوڑی جاسکتی تو صرف جھانکنے سے بدرجہ اولیٰ نہیں پھوڑی جاسکتی ان لوگوں نے حدیث کو مبالغة في الزجر پر محمول کیا ہے۔
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ (رض) نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : لوٹ کر (باہر) جاؤ اور (پھر سے آ کر) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کرلینے کے بعد کا ہے۔
Narrated Kaladah ibn Hanbal: Safwan ibn Umayyah sent him with some milk, a young gazelle and some small cucumbers to the Messenger of Allah ﷺ when he was in the upper part of Makkah. I entered but I did not give a salutation. He said: Go back and say: Peace be upon you! This happened after Safwan ibn Umayyah and embraced Islam. Amr said: Ibn Safwan told me all this on the authority of Kaladah ibn Hanbal, and he did not say: I heard it from him. Abu Dawud said: Yahya bin Habib said: Umayyah bin Safwan. He did not say: I heard from Kaladah bin Hanbal. Yahya also said: Amr bin Abdullah bin Safwan told him that Kaladah bin al-Hanbal told him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الاستئذان ١٨ (٢٧١٠) ، (تحفة الأشراف : ١١١٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤١٤) (صحیح )