Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 256 of 265

5136Sunan Abu Dawoodصحیح

ذمی (کافر) کو کیسے خط لکھا جائے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى هِرَقْلَ: مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، قال ابْنُ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى: أَمَّا بَعْدُ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہرقل کے نام خط لکھا : اللہ کے رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۔ محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوسفیان نے ان سے کہا کہ ہم ہرقل کے پاس گئے، اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا تو اس میں لکھا تھا : بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ wrote a letter to Heraclius: From Muhammad, the Messenger of Allah, to Hiraql (Heraclius), Chief of the Byzantines. Peace be to those who follow the guidance. Ibn Yahya reported on the authority of Ibn Abbas that Abu Sufyan said to him: We then came to see Hiraql (Heraclius) who seated us before him. He then called for the letter from the Messenger of Allah ﷺ . Its contents were: In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful, from Muhammad the Messenger of Allah, to Hiraql, chief of Byzantines. Peace be to those who follow the guidance. To proceed.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الوحي ١ (٧) ، الجھاد ١٠٢ (٢٩٧٨) ، تفسیر سورة آل عمران ٤ (٤٥٥٣) ، صحیح مسلم/الجھاد ٢٧ (١٧٧٣) ، سنن الترمذی/الاستئذان ٢٤ (٢٧١٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٥٠، ٥٨٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٦٢، ٢٦٣) (صحیح )
5137Sunan Abu Dawoodصحیح

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ، فَيُعْتِقَهُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: A son does not repay what he owes to his father unless he buys him and emancipates him if he finds him in slavery.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٦ (١٥١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٦٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٨ (١٩٠٧) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١ (٣٦٥٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٣٧٦، ٤٤٥) (صحیح )
5138Sunan Abu Dawoodصحیح

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ، وَكُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا، فَقَالَ لِي: طَلِّقْهَا، فَأَبَيْتُ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلِّقْهَا.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور عمر (رض) کو وہ ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اسے طلاق دے دو ، لیکن میں نے انکار کیا، تو عمر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اسے طلاق دے دو ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : A woman was my wife and I loved her, but Umar hated her. He said to me: Divorce her, but I refused. Umar then went to the Prophet ﷺ and mentioned that to him. The Prophet ﷺ said: Divorce her.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ١٣ (١١٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٦ (٢٠٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٠، ٤٢، ٥٣، ١٧٥) (صحیح )
5139Sunan Abu Dawoodصحیح

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ: أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلَاهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَقْرَعُ: الَّذِي ذَهَبَ شَعْرُ رَأْسِهِ مِنَ السُّمِّ.

معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : أقرع سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔

Bahz bin Hakim on his fathers authority said that his grandfather said: I said: Messenger of Allah! to whom should I show kindness? He replied: Your mother, next your mother, next your mother, and then comes your father, and then your relatives in order of relationship. The Messenger of Allah ﷺ said: If a man asks his slave whom he freed for giving him property which is surplus with him and he refuses to give it to him, the surplus property which he refused to give will be called on the Day of resurrection as a large bald snake. Abu Dawud said: Aqra means a snake whose hair of the head were removed on account of poison.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ١ (١٨٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣، ٥) (حسن صحیح )
5140Sunan Abu Dawoodضعیف

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ: أُمَّكَ، وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ، وَأَخَاكَ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي، ذَاكَ حَقٌّ وَاجِبٌ، وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ.

بکر بن حارث (کلیب کے دادا) (رض) کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا : اپنی ماں، اور اپنے باپ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ، اور ان کے بعد اپنے غلام کے ساتھ، یہ ایک واجب حق ہے، اور ایک جوڑنے والی (رحم) قرابت داری ہے ۔

Kulaib bin Manfaah said that his grandfather told then he went to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! to whom should I show kindness? He said: Your mother, your sister, your brother and the slave whom you set free and who is your relative, a due binding (on you), and a tie of relationship which should be joined.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٦٥) (ضعیف) (اس کی سند میں کلیب کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، اور ابن حجر نے مقبول لکھا ہے، اصل حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، چاہے اس حدیث کی سند پر ضعف کا حکم ہی لگا دیا جائے، جیسا کہ شیخ ناصر نے کیا ہے) ملاحظہ ہو : ضعیف ابی داود، الارواء (٨٣٧ )
5141Sunan Abu Dawoodصحیح

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ: أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ: يَلْعَنُ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَلْعَنُ أَبَاهُ، وَيَلْعَنُ أُمَّهُ، فَيَلْعَنُ أُمَّهُ.

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بڑے گناہوں) میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک شخص کسی شخص کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، تو وہ شخص (جواب میں) اس کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، یا ایک شخص کسی شخص کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے (اس طرح وہ گویا خود ہی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجتا ہے) ۔

Abdullah bin Amr (bin al-As) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: A man’s reviling of his parents is one of the grave sins. He was asked: Messenger of Allah! How does a man revile his parents? He replied: He reviles the father of a man who then reviles his father, and he reviles a man’s mother and he reviles his.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٤ (٥٩٧٣) ، صحیح مسلم/الإیمان ٣٨ (٩٠) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٤ (١٩٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٦١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٥، ٢١٤، ٢١٦) (صحیح )
5142Sunan Abu Dawoodضعیف

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا.

ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ کے مرجانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں، انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا (ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں) ۔

Narrated Abu Usayd Malik ibn Rabiah as-Saeedi: While we were with the Messenger of Allah! ﷺ a man of Banu Salmah came to Him and said: Messenger of Allah is there any kindness left that I can do to my parents after their death? He replied: Yes, you can invoke blessings on them, forgiveness for them, carry out their final instructions after their death, join ties of relationship which are dependent on them, and honour their friends.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٢ (٣٦٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی علی بن عبید لین الحدیث ہیں )
5143Sunan Abu Dawoodصحیح

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: One of the finest acts of kindness is for a man to treat his father’s friends in a kindly way after he has departed.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٤ (٢٥٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٦٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٥ (١٩٠٣) (صحیح )
5144Sunan Abu Dawoodضعیف

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّأَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعِرَّانَةِ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ أَحْمِلُ عَظْمَ الْجَزُورِ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: مَنْ هِيَ ؟ فَقَالُوا: هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ.

ابوالطفیل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جعرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، ان دنوں میں لڑکا تھا، اور اونٹ کی ہڈیاں ڈھو رہا تھا، کہ اتنے میں ایک عورت آئی، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے قریب ہوگئی، آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی، جس پر وہ بیٹھ گئی، ابوطفیل کہتے ہیں : میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں، جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے۔

Narrated Abut Tufayl: I saw the Prophet ﷺ distributing flesh at Jiirranah, and I was a boy in those days bearing the bone of the camel, and when a woman who came forward approach the Prophet ﷺ , he spread out his cloak for her, and she sat on it. I asked: Who is she? The people said: She is his foster-mother.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٠٥٣) (ضعیف الإسناد) (اس میں راوی جعفر لین الحدیث، اور عمارہ مجہول الحال ہیں )
5145Sunan Abu Dawoodضعیف

والدین سے حسن سلوک کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ جَالِسًا، فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ.

عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہوگئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔

Narrated Umar ibn as-Saib: One day when the Messenger of Allah ﷺ was sitting, his foster-father came forward. He spread out of a part of his garment and he sit on it. Then his mother came forward to him and he spread out the other side of his garment and she sat on it. Again, his foster-brother came forward. The Messenger of Allah ﷺ stood for him and seated him before himself.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١٤١) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں اخیر سے کم سے کم دو راوی ساقط ہیں، عمر بن سائب تبع تابعی ہیں )
5146Sunan Abu Dawoodضعیف

یتیموں کی کفالت کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ ابْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا، قَالَ يَعْنِي الذُّكُورَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ يَعْنِي الذُّكُورَ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے پاس کوئی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، نہ اسے کمتر جانے، نہ لڑکے کو اس پر فوقیت دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابن عباس کہتے ہیں : ولده سے مراد جنس ذکور ہے، لیکن عثمان (راوی) نے ذکور کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone has a female child, and does not bury her alive, or slight her, or prefer his children (i. e. the male ones) to her, Allah will bring him into Paradise. Uthman did not mention male children.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٥٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی ابن حدیر مجہول الحال ہیں )
5147Sunan Abu Dawoodضعیف

یتیموں کی کفالت کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، فَلَهُ الْجَنَّةُ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے تین بچیوں کی کفالت کی، انہیں ادب، تمیز و تہذیب سکھائی (حسن معاشرت کی تعلیم دی) ان کی شادیاں کردیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا، تو اس کے لیے جنت ہے ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone cares for three daughters, disciplines them, marries them, and does good to them, he will go to Paradise.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ١٣ (١٩١٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٦٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢، ٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی سعید الأعشی لین الحدیث ہیں )
5148Sunan Abu Dawoodضعیف

یتیموں کی کفالت کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ بِنْتَانِ، أَوْ أُخْتَانِ.

سہل سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ تین بہنیں ہوں، یا تین بیٹیاں، یا دو بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Suhail through a different chain of narrators to the same effect. This version has: “three sisters, or three daughter, or two daughter, or two sisters”.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٩٦٩) (ضعیف) (سعید الأعشی کے سبب یہ روایت بھی ضعیف ہے )
5149Sunan Abu Dawoodضعیف

یتیموں کی کفالت کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوْمَأَ يَزِيدُ بِالْوُسْطَى وَالسَّبابةِ، امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى يَتَامَاهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا.

عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب و زینت سے محرومی کے باعث بدل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے (یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا) عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہوگئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہوجائیں یا وفات پاجائیں ۔

Narrated Awf ibn Malik al-Ashjai (RA) : The Prophet ﷺ said: I and a woman whose cheeks have become black shall on the Day of Resurrection be like these two (pointing to the middle and forefinger), i. e. a woman of rank and beauty who has been bereft of her husband and devotes herself to her fatherless children till they go their separate ways or die.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٩١١) ، وقد أخرجہ : حم (٦/٢٦، ٢٩) (ضعیف) ( اس کے راوی نھ اس ضعیف ہیں )
5150Sunan Abu Dawoodصحیح

کسی یتیم کی پرورش کا ضامن ہونا باعث فضیلت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ، وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ.

سہل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح (قریب قریب) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔

Sahl (bin Saad) reported the prophet ﷺ as saying; I and the one who takes the responsibility of an orphan will be in Paradise thus, and he joined his middle finger and forefinger.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٢٥ (٥٣٠٣) ، الأدب ٢٤ (٦٠٠٥) ، سنن الترمذی/ البر والصلة ١٤ (١٩١٨) ، تحفة الأشراف : ٤٧١٠) ، مسند احمد (٥/٣٣٣) (صحیح )
5151Sunan Abu Dawoodصحیح

پڑوسی کے حقوق کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى قُلْتُ لَيُوَرِّثَنَّهُ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں (دل میں) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنادیں گے ۔

Aishah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Gabriel kept on commending the neighbor to me so that I thought he would make him an heir.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٢٨ (٦٠١٤) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٤٢ (٢٦٢٤) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٢٨ (١٩٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤ (٣٦٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩١، ١٢٥، ٢٣٨) (صحیح )
5152Sunan Abu Dawoodصحیح

پڑوسی کے حقوق کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوأَنَّهُ ذَبَحَ شَاةً، فَقَالَ: أَهْدَيْتُمْ لِجَارِي الْيَهُودِيِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو (گھر والوں) سے کہا : کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا (نہ بھیجا ہو تو بھیج دو ) میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے : جبرائیل مجھے برابر پڑوسی، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنادیں گے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: Mujahid said that Abdullah ibn Amr slaughtered a sheep and said: Have you presented a gift from it to my neighbour, the Jew, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Gabriel kept on commending the neighbour to me so that I thought he would make an heir?

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٢٩ (١٩٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٩١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٠) (صحیح )
5153Sunan Abu Dawoodصحیح

پڑوسی کے حقوق کا بیان

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو جَارَهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاصْبِرْ، فَأَتَاهُ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ، فَطَرَحَ مَتَاعَهُ فِي الطَّرِيقِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَيُخْبِرُهُمْ خَبَرَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْعَنُونَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ وَفَعَلَ فَجَاءَ إِلَيْهِ جَارُهُ، فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ لَا تَرَى مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا : جاؤ صبر کرو پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا : جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ (سن کر) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا : اب آپ (گھر میں) واپس آجائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔

Abu Hurairah said: A man came to the prophet ﷺ complaining against his neighbor. He said: go and have patience. He again came to him twice or thrice. He then said: Go and throw your property in the way. So he threw his property in the way and the people began to ask him and he would tell them about him. The people then began to curse him; may Allah do with him so and so! Then his neighbor came to him and said: Return, you will not see from me anything which you dislike.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤١٤١) (حسن صحیح )
5154Sunan Abu Dawoodصحیح

پڑوسی کے حقوق کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ اور یوم آخرت (قیامت) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: He who believes in Allah and in the last day should honour his guest; he who believes in Allah and in the last day should not harm his neighbor; he who believes in Allah and in the last day should speak good or keep silence.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٨٥ (٦١٣٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٩ (٤٧) ، سنن الترمذی/صفة القیامة ٥٠ (٢٥٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٧٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٧١) ، مسند احمد (٢/٢٦٧، ٢٦٩، ٤٣٣، ٤٦٣) (صحیح )
5155Sunan Abu Dawoodصحیح

پڑوسی کے حقوق کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ بِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ ؟ قَالَ: بِأَدْنَاهُمَا بَابًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: طَلْحَةُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دونوں میں سے پہلے کس کے ساتھ احسان کروں ؟ آپ نے فرمایا : ان دونوں میں سے جس کا دروازہ قریب ہو اس کے ساتھ ۔

Aishah said: I asked: Messenger of Allah! I have two neighbors. With which of them should I begin? He replied: Begin with the one whose door is nearer to you. Abu Dawud said: Shubah said this tradition: Talhah is a man of the Quraish.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشفعة ٣ (٢٢٥٩) ، الھبة ١٦ (٢٥٩٥) ، الأدب ٣٢ (٦٠٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ٦/١٧٥، ١٩٣، ٢٣٩) (صحیح )