پڑوسی کے حقوق کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى قُلْتُ لَيُوَرِّثَنَّهُ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں (دل میں) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنادیں گے ۔
Aishah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Gabriel kept on commending the neighbor to me so that I thought he would make him an heir.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٢٨ (٦٠١٤)، صحیح مسلم/البر والصلة ٤٢ (٢٦٢٤)، سنن الترمذی/البر والصلة ٢٨ (١٩٤٢)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤ (٣٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩١، ١٢٥، ٢٣٨) (صحیح )