Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 255 of 265

5115Sunan Abu Dawoodصحیح

آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ وَنَحْنُ بِبَيْرُوتَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ (آقا) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone pretends to be the son of a man other than his father, or attributes his freedom to people other than those who set him free, on him will be the curse of Allah that will continue till the day of resurrection.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٦١) (صحیح )
5116Sunan Abu Dawoodصحیح

حسب ونسب پر تفاخر جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَي. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ: مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ: أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ، إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتِنَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کردیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ١ ؎، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں (اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کرلے جاتا ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah, Most High, has removed from you the pride of the pre-Islamic period and its boasting in ancestors. One is only a pious believer or a miserable sinner. You are sons of Adam, and Adam came from dust. Let the people cease to boast about their ancestors. They are merely fuel in Jahannam; or they will certainly be of less account with Allah than the beetle which rolls dung with its nose.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اصلاً تم سب ایک ہو پھر ایک دوسرے پر فخر کرنا کیسا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٧٥ (٣٩٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٣٣٣) (حسن )
5117Sunan Abu Dawoodصحیح

عصبیت بالکل حرام ہے

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَنْ نَصَرَ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ، فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رُدِّيَ فَهُوَ يُنْزَعُ بِذَنَبِهِ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : If anyone helps his people in an unrighteous cause, he is like a camel which falls into a well and is pulled out by its tail.

Notes · وضاحت
١ ؎ : تو جس طرح دم پکڑ کر اونٹ کا نکالنا ممکن نہیں ہے ایسے ہی متعصب شخص کا جہنم سے نکلنا بھی ناممکن ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٣٦٣) (صحیح )
5118Sunan Abu Dawoodصحیح

عصبیت بالکل حرام ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔

Abdullah bin Masud said: I went to the prophet ﷺ when he was in a skin tent. He then mentioned something similar to it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٣٦٣) (صحیح )
5119Sunan Abu Dawoodضعیف

عصبیت بالکل حرام ہے

حَدَّثَنَا مُحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْعَصَبِيَّةُ ؟، قَالَ: أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ.

واثلہ بن اسقع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اللہ کے رسول : عصبیت کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو ، اور ان کی مدد کرو ۔

Narrated Wathilah ibn al-Asqa (RA) : I asked: Messenger of Allah! what is party spirit? He replied: That you should help your people in wrongdoing.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٧ (٣٩٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠٧) (ضعیف) (اس کی راویہ بنت واثلہ مجہول اور سلمہ لین الحدیث ہیں )
5120Sunan Abu Dawoodضعیف

عصبیت بالکل حرام ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خَيْرُكُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ضَعِيفٌ.

سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا : تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ (اس دفاع سے) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔

Narrated Suraqah ibn Malik ibn Jusham al-Mudlaji (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave us an address and said: The best of you is the one who defends his tribe, so long as he commits no sin. Abu Dawud said: Abu Ayyub bin Suwaid is weak.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٨١٧) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کردیا کہ ایوب بن سوید ضعیف ہیں )
5121Sunan Abu Dawoodضعیف

عصبیت بالکل حرام ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيِّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ.

جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے ۔

Jubair bin Mutim reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: he who summons others to party-spirit does not belong to us; and he who dies upholding party spirit does not belong to us. ’

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣١٨٨) (ضعیف) (عبداللہ بن ابی سلیمان کا سماع جبیر بن مطعم سے نہیں ہے )
5122Sunan Abu Dawoodصحیح

عصبیت بالکل حرام ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ.

ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قوم کی بہن کا لڑکا یعنی بھانجا اسی قوم کا ایک فرد ہے ۔

Abu Musa reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: the son of a sister of a people belongs to them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩١٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩٦) (صحیح )
5123Sunan Abu Dawoodضعیف

عصبیت بالکل حرام ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقُلْتُ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَهَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ.

ابوعقبہ (رض) سے روایت ہے وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے، وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا : یہ لے میرا وار، میں ایک فارسی جوان ہوں ١ ؎ (میری آواز سن کر) رسول اللہ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا : ایسا کیوں نہ کہا ؟ یہ لے میرا وار، میں انصاری جوان ہوں ٢ ؎۔

Narrated Abu Uqbah (RA) : Abdur Rahman ibn Abu Uqbah quoted his father Abu Uqbah who was a client from the people of Persia as saying: I was present at Uhud along with the Messenger of Allah ﷺ , and on smiting one of the polytheists I said: Take this from me who is the young Persian. The Messenger of Allah ﷺ then turned to me and said: Why did you not say: Take this from me who is the young Ansari?

Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ جملہ انہوں نے اظہار شجاعت کے لئے کہا۔ ٢ ؎ : کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٣ (٢٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩٥) (ضعیف) اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں )
5124Sunan Abu Dawoodصحیح

محبت کرنے والے کا محبوب سے کہنا کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ وَقَدْ كَانَ أَدْرَكَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ، فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ.

مقدام بن معد یکرب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے بھائی سے محبت رکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے ۔

Narrated Al-Miqdam ibn Madikarib: The Prophet ﷺ said: When a man loves his brother, he should tell him that he loves him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الزہد ٥٣ (٢٣٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٣٠) (صحیح )
5125Sunan Abu Dawoodصحیح

محبت کرنے والے کا محبوب سے کہنا کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْلَمْتَهُ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَعْلِمْهُ، قال: فَلَحِقَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، فَقَالَ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ.

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا : تم نے اسے یہ بات بتادی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : اسے بتادو یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے کی محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا : تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔

Narrated Anas ibn Malik: A man was with the Prophet ﷺ and a man passed by him and said: Messenger of Allah! I love this man. The Messenger of Allah ﷺ then asked: Have you informed him? He replied: No. He said: Inform him. He then went to him and said: I love you for Allahs sake. He replied: May He for Whose sake you love me love you!

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٤١) (حسن )
5126Sunan Abu Dawoodصحیح

کسی کو نیکی کرتے دیکھ کر اس سے محبت کرنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِمْ، قال: أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، قال: فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قال: فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، قال: فَأَعَادَهَا أَبُو ذَرٍّ، فَأَعَادَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل نہیں کر پاتا ؟ آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! تو اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو تو انہوں نے کہا : میں تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا : تم اسی کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو ابوذر نے پھر یہی کہا : تو رسول اللہ ﷺ نے پھر وہی دہرایا۔

Abdullah bin al-samit told that Abu Dharr said: Messenger of Allah! A man loves some people, but he cannot do work like their work. He replied; Yes, Abu Dharr, will be with those whom you love. Abu Dharr then repeated it. The Messenger of Allah ﷺ also repeated it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٩٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٥٦، ١٦٦، ١٧٤، ١٧٥) ، دی/ الرقاق ٧١ (٢٨٢٩) (صحیح الإسناد )
5127Sunan Abu Dawoodصحیح

کسی کو نیکی کرتے دیکھ کر اس سے محبت کرنا

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ لَمْ أَرَهُمْ فَرِحُوا بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْهُ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ عَلَى الْعَمَلِ مِنَ الْخَيْرِ يَعْمَلُ بِهِ وَلَا يَعْمَلُ بِمِثْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا : آدمی اسی کے ساتھ ہوگا، جس سے اس نے محبت کی ہے ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) said: I never saw the Companions of the Messenger of Allah ﷺ so happy about anything as I saw them happy about this thing. A man said: Messenger of Allah! A man loves another man for the good work which he does, but he himself cannot do like it. The Messenger of Allah ﷺ said: A man will be with those whom he loves.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : جنت میں اس نیک آدمی کے ساتھ ہوگا، اس لئے نیک لوگوں سے محبت رکھنی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٩٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٦ (٣٦٨٨) ، الأدب ٩٥ (٦١٦٧) ، ٩٦ (٦١٧١) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٥٠ (٢٦٣٩) ، سنن الترمذی/الزھد ٥٠ (٣٢٨٦) ، مسند احمد (٣ /١٠٤، ١١٠، ١٦٥، ١٦٨، ١٧٢، ١٧٣، ١٧٨، ٢٠٠، ٢٢١، ٢٢٨، ٢٦٨) (صحیح )
5128Sunan Abu Dawoodصحیح

کسی کو نیکی کرتے دیکھ کر اس سے محبت کرنا

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who is consulted is trustworthy.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٥٧ (٢٨٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٧ (٣٧٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٨٩) (صحیح )
5129Sunan Abu Dawoodصحیح

نیکی کی رہنمائی کرنا بجائے خود نیکی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي، قال: لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَحْمِلَكَ، فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ.

ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا : میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا ۔

Abu Masud al-Ansari said: A man came to the prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! I have been left without a mount. So give me a mount. He replied: I have no mount to give, but go to so and so; he may perhaps give you a mount. He then went to him and he gave him a mount. He came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him about it. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: if anyone guides someone to a good (deed), he will get the reward like the reward of the one who does it.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٨ (١٨٩٣) ، سنن الترمذی/العلم ١٤ (٢٦٧١) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٢٠، ٥/٢٧٢، ٢٧٣، ٢٧٤) (صحیح )
5130Sunan Abu Dawoodضعیف

خواہشات نفسانیہ کا بیان

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حُبُّكَ الشَّيْءَ: يُعْمِي وَيُصِمُّ.

ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا تمہیں اندھا بہرہ بنا دیتا ہے ١ ؎۔

Narrated Abud Darda: The Prophet ﷺ said: Your love for a thing causes blindness and deafness.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی محب کو محبوب کے عیوب نظر نہیں آتے، اور نہ ہی اس کی ناگوار باتیں اسے ناگوار لگتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٩٤، ٦/٤٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں )
5131Sunan Abu Dawoodصحیح

سفارش کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْفَعُوا إِلَيَّ لِتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ.

ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے سفارش کرو تاکہ تم کو (سفارش کا) ثواب ملے، اور فیصلہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کرے گا جو اسے منظور ہوگا ۔

Abu Musa reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Make intercession to me, you will be rewarded, for Allah decrees what he wishes by the tongue of his prophet.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٢١ (١٤٣٢) ، الأدب ٣٦ (٦٠٢٧) ، ٣٧ (٦٠٢٨) ، التوحید ٣١ (٧٤٧٦) ، صحیح مسلم/البر ٤٤ (٢٦٢٧) ، سنن الترمذی/العلم ١٤ (٢٦٧٢) ، سنن النسائی/الزکاة ٦٥ (٢٥٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٠٠، ٤٠٩، ٤١٣) (صحیح )
5132Sunan Abu Dawoodصحیح

سفارش کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْوَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، فَإِنِّي لَأُرِيدُ الْأَمْرَ فَأُؤَخِّرُهُ كَيْمَا تَشْفَعُوا فَتُؤْجَرُوا، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا.

معاویہ (رض) کہتے ہیں کہ سفارش کرو، اجر پاؤ گے، میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، تو اسے مؤخر کردیتا ہوں، تاکہ تم سفارش کر کے اجر کے مستحق بن جاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : سفارش کرو تم اجر پاؤ گے ۔

Narrated Muawiyah (RA) : Make intercession, you will be rewarded, for I purposely delay a matter so that you intercede and then you are rewarded. The Messenger of Allah ﷺ said: If you make intercession, you will be rewarded.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٦٥ (٢٥٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٤٧) (صحیح )
5134Sunan Abu Dawoodضعیف

خط میں اپنا نام پہلے لکھنا چاہیے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ أَحْمَدُ قَالَ مَرَّةً يَعْنِي هُشَيْمًا، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ الْعَلَاءِأَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ كَانَ عَامِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَيْهِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ.

علاء کے کسی بیٹے سے روایت ہے کہ علاء بن حضرمی نبی اکرم ﷺ کی طرف سے بحرین (علاقہ احساء) کے گورنر تھے، وہ جب آپ کو کوئی تحریر لکھ کر بھیجتے تو اپنے نام سے شروع کرتے۔

Narrated al-Ala ibn al-Hadrami (RA) : Some of the children of al-Ala ibn al-Hadrami said: Al-Ala ibn al-Hadrami was the governor of the Prophet ﷺ at al-Bahrayn, and when he wrote to him he began with his won name.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٣٩) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )
5135Sunan Abu Dawoodضعیف

خط میں اپنا نام پہلے لکھنا چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الْحَضْرَمِيِّأَنَّهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَدَأَ بِاسْمِهِ.

علاء یعنی ابن حضرمی سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو لکھا تو پہلے اپنا نام لکھا۔

Ibn al-Ala said: Al-Ala bin al-Hadrami wrote to the prophet ﷺ , and he began with his name.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی ابن العلاء مبہم ہے )