انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ (آقا) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone pretends to be the son of a man other than his father, or attributes his freedom to people other than those who set him free, on him will be the curse of Allah that will continue till the day of resurrection.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کردیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ١ ؎، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں (اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کرلے جاتا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah, Most High, has removed from you the pride of the pre-Islamic period and its boasting in ancestors. One is only a pious believer or a miserable sinner. You are sons of Adam, and Adam came from dust. Let the people cease to boast about their ancestors. They are merely fuel in Jahannam; or they will certainly be of less account with Allah than the beetle which rolls dung with its nose.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اصلاً تم سب ایک ہو پھر ایک دوسرے پر فخر کرنا کیسا۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : If anyone helps his people in an unrighteous cause, he is like a camel which falls into a well and is pulled out by its tail.
Notes · وضاحت
١ ؎ : تو جس طرح دم پکڑ کر اونٹ کا نکالنا ممکن نہیں ہے ایسے ہی متعصب شخص کا جہنم سے نکلنا بھی ناممکن ہوگا۔
واثلہ بن اسقع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اللہ کے رسول : عصبیت کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو ، اور ان کی مدد کرو ۔
Narrated Wathilah ibn al-Asqa (RA) : I asked: Messenger of Allah! what is party spirit? He replied: That you should help your people in wrongdoing.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٧ (٣٩٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠٧) (ضعیف) (اس کی راویہ بنت واثلہ مجہول اور سلمہ لین الحدیث ہیں )
سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا : تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ (اس دفاع سے) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔
Narrated Suraqah ibn Malik ibn Jusham al-Mudlaji (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave us an address and said: The best of you is the one who defends his tribe, so long as he commits no sin. Abu Dawud said: Abu Ayyub bin Suwaid is weak.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٨١٧) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کردیا کہ ایوب بن سوید ضعیف ہیں )
جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے ۔
Jubair bin Mutim reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: he who summons others to party-spirit does not belong to us; and he who dies upholding party spirit does not belong to us. ’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣١٨٨) (ضعیف) (عبداللہ بن ابی سلیمان کا سماع جبیر بن مطعم سے نہیں ہے )
ابوعقبہ (رض) سے روایت ہے وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے، وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا : یہ لے میرا وار، میں ایک فارسی جوان ہوں ١ ؎ (میری آواز سن کر) رسول اللہ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا : ایسا کیوں نہ کہا ؟ یہ لے میرا وار، میں انصاری جوان ہوں ٢ ؎۔
Narrated Abu Uqbah (RA) : Abdur Rahman ibn Abu Uqbah quoted his father Abu Uqbah who was a client from the people of Persia as saying: I was present at Uhud along with the Messenger of Allah ﷺ , and on smiting one of the polytheists I said: Take this from me who is the young Persian. The Messenger of Allah ﷺ then turned to me and said: Why did you not say: Take this from me who is the young Ansari?
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ جملہ انہوں نے اظہار شجاعت کے لئے کہا۔ ٢ ؎ : کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٣ (٢٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩٥) (ضعیف) اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں )
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا : تم نے اسے یہ بات بتادی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : اسے بتادو یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے کی محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا : تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔
Narrated Anas ibn Malik: A man was with the Prophet ﷺ and a man passed by him and said: Messenger of Allah! I love this man. The Messenger of Allah ﷺ then asked: Have you informed him? He replied: No. He said: Inform him. He then went to him and said: I love you for Allahs sake. He replied: May He for Whose sake you love me love you!
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٤١) (حسن )
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل نہیں کر پاتا ؟ آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! تو اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو تو انہوں نے کہا : میں تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا : تم اسی کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو ابوذر نے پھر یہی کہا : تو رسول اللہ ﷺ نے پھر وہی دہرایا۔
Abdullah bin al-samit told that Abu Dharr said: Messenger of Allah! A man loves some people, but he cannot do work like their work. He replied; Yes, Abu Dharr, will be with those whom you love. Abu Dharr then repeated it. The Messenger of Allah ﷺ also repeated it.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا : آدمی اسی کے ساتھ ہوگا، جس سے اس نے محبت کی ہے ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) said: I never saw the Companions of the Messenger of Allah ﷺ so happy about anything as I saw them happy about this thing. A man said: Messenger of Allah! A man loves another man for the good work which he does, but he himself cannot do like it. The Messenger of Allah ﷺ said: A man will be with those whom he loves.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : جنت میں اس نیک آدمی کے ساتھ ہوگا، اس لئے نیک لوگوں سے محبت رکھنی چاہیے۔
ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا : میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا ۔
Abu Masud al-Ansari said: A man came to the prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! I have been left without a mount. So give me a mount. He replied: I have no mount to give, but go to so and so; he may perhaps give you a mount. He then went to him and he gave him a mount. He came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him about it. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: if anyone guides someone to a good (deed), he will get the reward like the reward of the one who does it.
ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے سفارش کرو تاکہ تم کو (سفارش کا) ثواب ملے، اور فیصلہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کرے گا جو اسے منظور ہوگا ۔
Abu Musa reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Make intercession to me, you will be rewarded, for Allah decrees what he wishes by the tongue of his prophet.
معاویہ (رض) کہتے ہیں کہ سفارش کرو، اجر پاؤ گے، میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، تو اسے مؤخر کردیتا ہوں، تاکہ تم سفارش کر کے اجر کے مستحق بن جاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : سفارش کرو تم اجر پاؤ گے ۔
Narrated Muawiyah (RA) : Make intercession, you will be rewarded, for I purposely delay a matter so that you intercede and then you are rewarded. The Messenger of Allah ﷺ said: If you make intercession, you will be rewarded.
علاء کے کسی بیٹے سے روایت ہے کہ علاء بن حضرمی نبی اکرم ﷺ کی طرف سے بحرین (علاقہ احساء) کے گورنر تھے، وہ جب آپ کو کوئی تحریر لکھ کر بھیجتے تو اپنے نام سے شروع کرتے۔
Narrated al-Ala ibn al-Hadrami (RA) : Some of the children of al-Ala ibn al-Hadrami said: Al-Ala ibn al-Hadrami was the governor of the Prophet ﷺ at al-Bahrayn, and when he wrote to him he began with his won name.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٣٩) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )