عصبیت بالکل حرام ہے
حَدَّثَنَا مُحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْعَصَبِيَّةُ ؟، قَالَ: أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ.
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول: عصبیت کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو، اور ان کی مدد کرو ۔
Narrated Wathilah ibn al-Asqa (RA) : I asked: Messenger of Allah! what is party spirit? He replied: That you should help your people in wrongdoing.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٧ (٣٩٤٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠٧) (ضعیف) (اس کی راویہ بنت واثلہ مجہول اور سلمہ لین الحدیث ہیں )