Sunan Abu Dawood 5119

ادب کا بیان

5119Sunan Abu Dawood

عصبیت بالکل حرام ہے

حَدَّثَنَا مُحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْعَصَبِيَّةُ ؟، قَالَ: أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ.

واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول: عصبیت کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو، اور ان کی مدد کرو ۔

Narrated Wathilah ibn al-Asqa (RA) : I asked: Messenger of Allah! what is party spirit? He replied: That you should help your people in wrongdoing.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٧ (٣٩٤٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠٧) (ضعیف) (اس کی راویہ بنت واثلہ مجہول اور سلمہ لین الحدیث ہیں )