Sunan Abu Dawood 5116

ادب کا بیان

5116Sunan Abu Dawood

حسب ونسب پر تفاخر جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَي. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ: مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ: أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ، إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتِنَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کردیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ١ ؎، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں (اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کرلے جاتا ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah, Most High, has removed from you the pride of the pre-Islamic period and its boasting in ancestors. One is only a pious believer or a miserable sinner. You are sons of Adam, and Adam came from dust. Let the people cease to boast about their ancestors. They are merely fuel in Jahannam; or they will certainly be of less account with Allah than the beetle which rolls dung with its nose.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصلاً تم سب ایک ہو پھر ایک دوسرے پر فخر کرنا کیسا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٧٥ (٣٩٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٣٣) (حسن )