انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے بسم الله توکلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو آپ نے فرمایا : اس وقت کہا جاتا ہے (یعنی فرشتے کہتے ہیں) : اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کردی گئی، اور تو بچا لیا گیا، (یہ سن کر) شیطان اس سے جدا ہوجاتا ہے، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے : تیرے ہاتھ سے آدمی کیسے نکل گیا کہ اسے ہدایت دے دی گئی، اس کی جانب سے کفایت کردی گئی اور وہ (تیری گرفت اور تیرے چنگل سے) بچا لیا گیا۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: When a man goes out of his house and says: In the name of Allah, I trust in Allah; there is no might and no power but in Allah, the following will be said to him at that time: You are guided, defended and protected. The devils will go far from him and another devil will say: How can you deal with a man who has been guided, defended and protected?
ابو مالک اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو کہے اللهم إني أسألک خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وبسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توکلنا اے اللہ ! ہم تجھ سے اندر جانے اور گھر سے باہر آنے کی بہتری مانگتے ہیں، ہم اللہ کا نام لے کر اندر جاتے ہیں اور اللہ ہی کا نام لے کر باہر نکلتے ہیں اور اللہ ہی پر جو ہمارا رب ہے بھروسہ کرتے ہیں پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔
Narrated Abu Malik Al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said: When a man goes into his house, he should say: O Allah! I ask Thee for good both when entering and when going out; in the name of Allah we have entered, and in the name of Allah we have gone out, and in Allah or Lord do we trust. He should then greet his family.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ریح (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے (سلمہ کی روایت میں من روح الله ہے) ، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The wind comes from Allahs mercy. Salamahs version has: It is Allahs mercy; it (sometimes) brings blessing and (sometimes) brings punishment. So when you see it, do not revile it, but ask Allah for some of its good, and seek refuge in Allah from its evil.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٩ (٣٧٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥٠، ٢٦٧، ٤٠٩، ٤٣٦، ٥١٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے (ہلکا سا مسکراتے) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا (آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہوجاتے) تو (ایک بار) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری (گھبراہٹ اور پریشانی) جھلکتی ہے (اس کی وجہ کیا ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم (قوم عاد) ہوا کے عذاب سے دو چار ہوچکی ہے، اور ایک قوم نے (بدلی کا) عذاب دیکھا، تو وہ کہنے لگی هذا عارض ممطرنا ١ ؎: یہ بادل تو ہم پر برسے گا (وہ برسا تو لیکن، بارش پتھروں کی ہوئی، سب ہلاک کردیے گئے) ۔
Aishah, wife of the prophet ﷺ , said: I never saw the Messenger of Allah ﷺ laugh fully to such an extent that I could see his uvula. He would only smile, and when he saw clouds or wind, his face showed signs (of fear). I asked him: Messenger of Allah! When the people see the cloud, they rejoice, hoping for that it may contain rain, and I notice that when you see it, (the signs of) abomination on your face. He replied: Aisha (RA) ! What gives me safety from the fact that it might contain punishment? A people were punished by the wind. When those people saw the punishment, they said: this is a cloud which would give us rain.
Notes · وضاحت
١ ؎ : قوم ثمود کی طرف اشارہ ہے، مدائن صالح (سعودی عرب) میں اس قوم کے آثار موجود ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٥ (٣٢٠٦) ، تفسیر سورة الأحقاف (٤٨٢٩) ، الأدب ٦٨ (٦٠٩٣) ، صحیح مسلم/الاستسقاء ٣ (٨٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٣٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٦ (٤٨٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢١ (٦٠٩٢) ، مسند احمد (٦/١٩٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب آسمان کے گوشے سے بدلی اٹھتے دیکھتے تو کام (دھام) سب چھوڑ دیتے یہاں تک کہ نماز میں ہوتے تو اسے بھی چھوڑ دیتے، اور یوں دعا فرماتے : اللهم إني أعوذ بک من شرها اے اللہ ! میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگر بارش ہونے لگتی، تو آپ فرماتے : اللهم صيبا هنيئا اے اللہ ! اس بارش کو زوردار اور خوشگوار و بابرکت بنا ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Prophet ﷺ saw a cloud formation in the sky, he left work, even if he were at prayer, and then would say: O Allah! I seek refuge in Thee from its evil. If it rained, he would say: O Allah! send a beneficial downpour.
انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا : اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آرہی ہے ١ ؎۔
Anas said; A shower of rain fell on us when we were with the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ went out and removed his garment till some of the rain fell on him. We asked him; Messenger of Allah! Why did you do this? He replied: Because it has recently been with its Lord.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے رب عزوجل کا بلندی پر ہونا ثابت ہے جب کہ قرآن و احادیث اور عقائد سلف صالحین سے قطعیت کے ساتھ معلوم ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بدن پر بارش کا گرنا برکت کا باعث ہے۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: when you hear the cocks crowing, ask Allah for some of His grace, for they have seen as angel; but when you hear an ass braying, seek refuge in Allah from the devil, for it has seen the devil.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم رات میں کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کا رینکنا سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: When you hear the barking of dogs and the braying of asses at night, seek refuge in Allah, for they see which you do not see.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٤٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٠٦) (صحیح )
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رات میں) آمدورفت بند ہوجانے (اور سناٹا چھا جانے) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، (وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں) (ابن مروان کی روایت میں في تلک الساعة کے الفاظ ہیں اور اس میں فإن لله تعالى دواب کے بجائے فإن لله خلقا ہے) ، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں : مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے اور جابر نے رسول اللہ ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Ali ibn Umar ibn Husayn ibn Ali (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not go out much when there are few people about, for Allah the Exalted scatters abroad of His beasts in that hour (according to Ibn Marwans version). Ibn Marwans version has: For Allah has creatures. He then mentioned the barking of dogs and braying of asses in a similar manner. He added in his version: Ibn al-Had said: Shurahbil ibn al-Hajib told me on the authority of Jabir ibn Abdullah from the Messenger of Allah ﷺ similar to it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١٣٨، ٢٢٥٥، ٢٢٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٥) (صحیح )
ابورافع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ (رض) نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔
Narrated Abu Rafi (RA) : I saw the Messenger of Allah ﷺ uttering the call to prayer (Adhan) in the ear of al-Hasan ibn Ali when Fatimah gave birth to him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحی ١٧ (١٥١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩، ٣٩١، ٣٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچے لائے جاتے تھے تو آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے تھے، (یوسف کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ ان کی تحنیک فرماتے یعنی کھجور چبا کر ان کے منہ میں دیتے تھے، البتہ انہوں نے برکت کی دعا فرمانے کا ذکر نہیں کیا ہے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Boys used to be brought to the Messenger of Allah ﷺ , and he would invoke blessings on them. Yusuf added: and soften some dates and rub their palates with them. He did not mention blessings.
Notes · وضاحت
١ ؎ : تبرک کے لئے ضروری ہے کہ شخصیت متبرک ہو، رسول معصوم سے تحنیک کا فائدہ برکت کے یقینی طور پر حصول کی توقع تھی، بعد میں دوسری شخصیات سے تبرک اور تبریک کی بات خوش خیالی ہے، تحنیک کے اس واقعہ سے استدلال صحیح نہیں ہے، لیکن اگر تحنیک کا عمل حصول تبرک کے علاوہ دوسرے فوائد کے لئے کیا جائے تو اور بات ہے ایک تو یہی کہ اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کی اتباع کے جذبہ سے، دوسرے طب و صحت کے قواعد و ضوابط کے نقطہ نظر سے وغیرہ وغیرہ۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٦٨٥٤، ١٧٢٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم میں مغربون دیکھے گئے ہیں آپ نے دیکھے گئے ہیں کہا یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ کہا، میں نے پوچھا : مغربون کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : وہ لوگ جن میں جنوں کی شرکت ہو ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: Have the mugharribun been seen (or some other word) among you? I asked: What do the mugharribun mean? He replied: They are those in whom is a strain of the jinn.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ شرکت چاہے اللہ کی یاد سے غفلت اور شیطان کی اتباع کی وجہ سے ہو یا زنا کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہو، یا شیاطین کی صحبت سے پیدا ہوئے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٩٧٨) (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ام حمید مجہول ہیں )
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو ، اور جو شخص لوجہ اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر) سوال کرے تو اس کو دو ۔ عبیداللہ کی روایت میں من سألكم لوجه الله کے بجائے من سألكم بالله ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone asks (you) for refuge for the sake of Allah, give him refuge; and if anyone asks you (for something) for the pleasure of Allah, give him. Ubaydullah said: If anyone asks you for the sake of Allah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٥٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٤٩، ٢٥٠) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو ، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو ، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ۔
Ibn Abbas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone asks you refuge for Allah’s sake give him refuge; and if anyone asks you (for something) for Allah’s sake, give him. Sahl and Sulaiman said: if anyone calls you, respond to him. The Agreed version goes; if you do not afford to compensate him, pray Allah for him until you know that you have compensated him.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (١٦٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٩١) (صحیح )
ابوزمیل کہتے ہیں میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا : میرے دل میں کیسی کھٹک ہو رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا ہوا ؟ میں نے کہا : قسم اللہ کی ! میں اس کے متعلق کچھ نہ کہوں گا، تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا کوئی شک کی چیز ہے، یہ کہہ کر ہنسے اور بولے : اس سے تو کوئی نہیں بچا ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی فإن كنت في شک مما أنزلنا إليك فاسأل الذين يقرءون الکتاب اگر تجھے اس کلام میں شک ہے جو ہم نے تجھ پر اتارا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تم سے پہلے اتاری ہوئی کتاب (توراۃ و انجیل) پڑھتے ہیں (یونس : ٩٤) ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا : جب تم اپنے دل میں اس قسم کا وسوسہ پاؤ تو هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بکل شىء عليم وہی اول ہے اور وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ (الحدید : ٣) ، پڑھ لیا کرو۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Abu Zumayl said: I asked Ibn Abbas, saying: What is that I find in my breast? He asked: What is it? I replied: I swear by Allah, I cannot speak about it. He asked me: Is it something doubtful? and he laughed. He then said: No one could escape that, until Allah, the exalted, revealed: If thou went in doubt as to what we have revealed unto thee, and ask those who have been reading the Book from before thee. He said: If you find something in your heart, say: He is the first and the Last, the Evident and the Immanent, and He has full knowledge of all things.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے، اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں، جن کو بیان کرنا ہم پر بہت گراں ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اندر ایسے وسوسے پیدا ہوں اور ہم ان کو بیان کریں، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں ایسے وسوسے ہوتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : یہ تو عین ایمان ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah said; His companion came to him and said; Messenger of Allah! We have thoughts which we cannot dare talk about and we do not like that we have them or talk about them. He said: Have you experienced that? They replied: yes. He said: that is clear faith.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی عین ایمان یہی ہے جو تمہیں ان باتوں کو قبول کرنے اور ان کی تصدیق کرنے سے روک رہا ہے جنہیں شیطان تمہارے دلوں میں ڈالتا ہے یہاں تک کہ وہ وسوسہ ہوجاتا ہے اور تمہارے دلوں میں جم نہیں پاتا، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خود یہ وسوسہ ہی عین ایمان ہے۔ وسوسہ تو شیطان کی وجہ سے وجود میں آتا ہے پھر یہ ایمان صریح کیسے ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٥٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإیمان ٦٠ (١٣٢) ، مسند احمد (٢/٤٤١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے کسی کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، کہ اس کو بیان کرنے سے راکھ ہوجانا یا جل کر کوئلہ ہوجانا بہتر معلوم ہوتا ہے، آپ نے فرمایا : اللہ اکبر، اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے شیطان کے مکر کو وسوسہ بنادیا (اور وسوسہ مومن کو نقصان نہیں پہنچاتا) ۔ ابن قدامہ نے اپنی روایت میں رد كيده کی جگہ رد أمره کہا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! one of us has thoughts of such nature that he would rather be reduced to charcoal than speak about them. He said: Allah is Most Great, Allah is Most Great, Allah is Most Great. Praise be to Allah Who has reduced the guile of the devil to evil prompting. Ibn Qudamah said reduced his matter instead of reduced his guile. Ibn Qudamah said reduced his matter instead of reduced his guile.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٧٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٢، ٣٤٠) (صحیح )
سعد بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے محمد ﷺ سے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، آپ نے فرمایا : جو شخص جان بوجھ کر، اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے تو جنت اس پر حرام ہے ۔ عثمان کہتے ہیں : میں سعد (رض) سے یہ حدیث سن کر ابوبکرہ (رض) سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا، تو انہوں نے بھی کہا : میرے کانوں نے محمد ﷺ سے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، عاصم کہتے ہیں : اس پر میں نے کہا : ابوعثمان تمہارے پاس دو آدمیوں نے اس بات کی گواہی دی، لیکن یہ دونوں صاحب کون ہیں ؟ ان کی صفات و خصوصیات کیا ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں یا اسلام میں سب سے پہلے تیر چلایا یعنی سعد بن مالک (رض) اور دوسرے وہ ہیں جو طائف سے بیس سے زائد آدمیوں کے ساتھ پیدل چل کر آئے پھر ان کی فضیلت بیان کی۔ نفیلی نے یہ حدیث بیان کی تو کہا : قسم اللہ کی ! یہ حدیث میرے لیے شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے، یعنی ان کا حدثنا وحدثني کہنا (مجھے بہت پسند ہے) ۔ ابوعلی کہتے ہیں : میں نے ابوداؤد سے سنا ہے، وہ کہتے تھے : میں نے احمد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل کوفہ کی حدیث میں کوئی نور نہیں ہوتا (کیونکہ وہ اسانید کو صحیح طریقہ پر بیان نہیں کرتے، اور اخبار و تحدیث کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے) اور کہا : میں نے اہل بصرہ جیسے اچھے لوگ بھی نہیں دیکھے انہوں نے شعبہ سے حدیث حاصل کی (اور شعبہ کا طریقہ اسناد کو اچھی طرح بتادینے کا تھا) ۔
Saeed bin Malik said: My ears heard it end my heart remembered it from Muhammad ﷺ who said: if a man claims to be the son of a man who is not his father, paradise will be forbidden for him. He said: I then met Abu Bakrah and mentioned it to him. He said: my ears heard it and my heart remembered it from Muhammad ﷺ . Asim said: I said: Abu Uthman! Two men testified before you. Who are they? He said: One of them is the one who is first to shoot arrow in the path of Allah or in the path of Islam, that is to say: Saad bin Malik. The other is the one came from al-Taif with ten and some men on foot. He then mentioned his excellence. Abu Dawud said: When al-Nufaili mentioned this tradition, he said: I swear by Allah, this is sweater with me than honey, that is no say, his way transmission. Abu Ali said: I heard Abu Dawud say: I heard Ahmad say: The people of Kufah have no light in their traditions. I did not see them like the people of Basrah. They learnt it from Shubah.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے مولیٰ (آقا) کی اجازت ١ ؎ کے بغیر کسی قوم کو اپنا مولیٰ (آقا) بنائے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام ہی لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن نہ اس کا کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ ہی کوئی نفل قبول ہوگی ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: if a man becomes the client of any people without the permission of his patrons (i. e. those who have freed him), on him will be the curse of Allah, of angels and of all people; no obligatory or supererogatory worship will be accepted from him.
Notes · وضاحت
١ ؎ : من غير إذن مواليه کی قید زیادہ تقبیح کے لئے ہے اگر موالی اس کی اجازت دیں تو بھی غیر کو اپنا مولیٰ بنانا حرام ہے۔