انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے (راہ میں) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا : یہ کیا ہے ؟ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہوگیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا : قسم اللہ کی ! میں اپنے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ : آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ (مکان) دیکھا تھا (شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے (توڑ تاڑ کر) زمین کے برابر کردیا، پھر ایک روز رسول اللہ ﷺ نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا : وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا : مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بےالتفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتادیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا : سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ came out, and on seeing a high-domed building, he said: What is it? His companions replied to him: It belongs to so and so, one of the Ansar. He said: he said nothing but kept the matter in mind. When its owner came and gave him a greeting among the people, he turned away from him. When he had done this several times, the man realised that he was the cause of the anger and the rebuff. So he complained about it to his companions, saying: I swear by Allah that I cannot understand the Messenger of Allah ﷺ . They said: He went out and saw your domed building. So the man returned to it and demolished it, levelling it to the ground. One day the Messenger of Allah ﷺ came out and did not see it. He asked: What has happened to the domed building? They replied: Its owner complained to us about your rebuff, and when we informed him about it, he demolished it. He said: Every building is a misfortune for its owner, except what cannot, except what cannot, meaning except that which is essential.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٢٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الزھد ١٣ (٤١٦١) ، مسند احمد (٣/٢٢٠) (حسن) (الصحیحة ٢٨٣٠ )
دکین بن سعید مزنی (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا : عمر ! جاؤ اور انہیں دے دو ، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔
Narrated Dukayn ibn Saeed al-Muzani (RA) : We came to the Prophet ﷺ and asked him for some corn. He said: Go, Umar, and give them. He ascended with us a room upstairs, took a key from his apartment and opened it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٧٤) (صحیح الإسناد )
عبداللہ بن حبشی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص (بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا ١ ؎ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا ۔ ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ : یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے (تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔
Narrated Abdullah ibn Habashi (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone cuts the lote-tree, Allah brings him headlong into Hell. Abu Dawud was asked about the meaning of this tradition. He said: This is a brief tradition. It means that if anyone cuts uselessly, unjustly and without any right a lote-tree under the shade of which travellers and beasts take shelter, Allah will bring him into Hell headlong.
Notes · وضاحت
١ ؎ : طبرانی کی ایک روایت میں من سدر الحرم (حرم کے بیر کے درخت) کے الفاظ وارد ہیں جس سے مراد کی وضاحت ہوجاتی ہے اور اشکال رفع ہوجاتا ہے۔
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا : ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا : اے عراقی (بھائی) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ بدعت تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Narrated Hassan ibn Ibrahim: I asked Hisham ibn Urwah about the cutting of a lote-tree when he was leaning against the house of Urwah. He said: Do you not see these doors and leaves? These were made of the lote-tree of Urwah which Urwah used to cut from his hand? He said: There is no harm in it. Humayds version adds: You have brought an innovation, O Iraqi! He said: The innovation is from you. I heard someone say at Makkah: The Messenger of Allah ﷺ cursed him who cuts a lote-tree. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect.
بریدہ (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور انسان کو چاہیئے کہ ہر جوڑ کی طرف سے کچھ نہ کچھ صدقہ دے، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! اتنی طاقت کس کو ہے ؟ آپ نے فرمایا : مسجد میں تھوک اور رینٹ کو چھپا دینا اور (موذی) چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، اور اگر ایسا اتفاق نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہارے لیے کافی ہیں ۔
Narrated Abu Buraydah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A human being has three hundred and sixty joints for each of which he must give alms. The people asked him: Who is capable of doing this ? He replied: It may be mucus in the mosque which you bury, and something which you remove from the road; but if you do not find such, two rakahs in the forenoon will be sufficient for you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٩٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٤، ٣٥٩) (صحیح )
ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی صدقہ عائد ہوجاتا ہے، تو اس کا اپنے ملاقاتی سے سلام کرلینا بھی صدقہ ہے، اس کا معروف (اچھی بات) کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے اور منکر (بری بات) سے روکنا بھی صدقہ ہے، اس کا راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، اور اس کا اپنی بیوی سے ہمبستری بھی صدقہ ہے لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ تو اس سے اپنی شہوت پوری کرتا ہے، پھر بھی صدقہ ہوگا ؟ (یعنی اس پر اسے ثواب کیونکر ہوگا) تو آپ نے فرمایا : کیا خیال ہے تمہارا اگر وہ اپنی خواہش (بیوی کے بجائے) کسی اور کے ساتھ پوری کرتا تو گنہگار ہوتا یا نہیں ؟ (جب وہ غلط کاری کرنے پر گنہگار ہوتا تو صحیح جگہ استعمال کرنے پر اسے ثواب بھی ہوگا) اس کے بعد آپ نے فرمایا : اشراق کی دو رکعتیں ان تمام کی طرف سے کافی ہوجائیں گی (یعنی صدقہ بن جائیں گی) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد نے اپنی روایت میں امر و نہی (کے صدقہ ہونے) کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: In the morning alms are due from every bone in mans fingers and toes. Salutation to everyone he meets is alms; enjoining good is alms; forbidding what is disreputable is alms; removing what is harmful from the road is alms; having sexual intercourse with his wife is alms. The people asked: He fulfils his desire, Messenger of Allah; is it alms? He replied: Tell me if he fulfilled his desire where he had no right, would he commit a sin ? He then said: Two rakahs which one prays in the forenoon serve instead of all that. Abu Dawud said: Hammad did not mention enjoining good and forbidding what is disreputable.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٦٧، ١٧٨) (صحیح )
ابوالاسود الدیلی نے ابوذر سے یہی حدیث روایت کی ہے اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر اس کے وسط میں کیا ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Dharr through a different chain of narrators. In this version the transmitter mentioned the Prophet ﷺ in the middle of the tradition.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی بھلا کام نہیں کیا تھا کانٹے کی ایک ڈالی راستے پر سے ہٹا دی، یا تو وہ ڈالی درخت پر (جھکی ہوئی) تھی (آنے جانے والوں کے سروں سے ٹکراتی تھی) اس نے اسے کاٹ کر الگ ڈال دیا، یا اسے کسی نے راستے پر ڈال دیا تھا اور اس نے اسے ہٹا دیا تو اللہ اس کے اس کام سے خوش ہوا اور اسے جنت میں داخل کردیا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A man never did a good deed but removed a thorny branch from the road; it was either in the tree and someone cut it and threw it on the road, or it was lying in it, he removed it. Allah accepted this good deed of his and brought him into Paradise.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٣٢٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٣٢ (٦٥٢) ، المظالم ٢٨ (٢٤٧٢) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٣٦ (١٩١٤) ، الإمارة ٥١ (١٩١٤) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٣٨ (١٩٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٧ (٣٦٨٢) ، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦) ، مسند احمد (٢/٣٤١) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے وہ کبھی اسے موقوفاً روایت کرتے ہیں اور کبھی اسے نبی اکرم ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ جب سونے لگو تو آگ گھر میں موجود نہ رہنے دو (بجھا کر سوؤ) ۔
Salim quoting his father (Ibn Umar) said ( sometimes he traced back to the Prophet ﷺ : Do not leave a fire burning in your houses while you are asleep.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، (یہ دیکھ کر) آپ نے فرمایا : جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے ۔
Ibn Abbas said: A mouse came dragging a wick and dropped before the Messenger of Allah ﷺ on the mat on which he was sitting with the result that it burned a hole in it about the size of dirham. He (the prophet) said: When you go to sleep, extinguish your lamps, for the devil guides a creature like this to do thus and sets you on fire.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی (سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: We have not made peace with them since we fought with them, so he who leaves any of them alone through fear does not belong to us.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٤١٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٧، ٤٣٢، ٥٢٠) (حسن صحیح )
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سانپ کوئی بھی ہو اسے مار ڈالو اور جو کوئی ان کے انتقام کے ڈر سے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: Kill all the snakes, and he who fears their revenge does not belong to me.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سانپوں کو ان کے انتقام کے ڈر سے چھوڑ دے یعنی انہیں نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی چھڑی ہے ہم نے ان سے کبھی بھی صلح نہیں کی ہے (وہ ہمیشہ سے موذی رہے ہیں اور موذی کا قتل ضروری ہے) ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: He who leaves the snakes along through fear of their pursuit, does not belong to us. We have not made peace with them since we have fought with them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٢٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٠) (صحیح )
عباس بن عبدالمطلب (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو (جھاڑو دے کر) صاف ستھرا کردینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا۔
Narrated Al-Abbas ibn Abdul Muttalib: Al-Abbas said to the Messenger of Allah ﷺ : We wish to sweep out Zamzam, but in it there are some of these Jinnan, meaning small snakes; so the Messenger of Allah ﷺ ordered that they should be killed.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاریوں والوں کو بھی اور دم کٹے سانپوں کو بھی، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو زائل کردیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں (زہر کی شدت سے) ، سالم کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر (رض) جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ پر حملہ آور دیکھا تو کہا : رسول اللہ ﷺ نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Kill snakes, kill those which have two streaks and those with small tails, for they obliterate the eyesight and cause miscarriage. Salim said: Abdullah (bin Umar) used to kill every snake which he found. Abu Lubabah or Zaid bin al-Khattab saw him chasing a snake. He said: He (the Prophet) prohibited house-snakes.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس لئے کہ وہ جن و شیاطین بھی ہوسکتے ہیں، انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہوجانے یا اپنی شکل تبدیل کرلینے کی تین بار آگاہی دے دینی چاہیے اگر وہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تو دوسری روایات کی روشنی میں مار سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٤ (٣٢٩٧) ، صحیح مسلم/السلام ٣٧ (٢٢٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٤٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٤٢ (٣٥٣٥) ، موطا امام مالک/الاستئذان ١٢ (٣٢) ، مسند احمد (٣/٤٣٠، ٤٥٢، ٤٥٣) (صحیح )
ابولبابہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو (یہ دونوں بہت خطرناک ہیں) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔
Abu Lubabah said: The Messenger of Allah ﷺ prohibited killing the jinnan (small snakes) that are in the house, except the one which have two streaks and the one with small tail, for they obliterate the eyesight and cause miscarriage.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے لبابہ (رض) کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے (باہر کرنے کا) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔
Nafi said: After that, that is, after Abu Lubabah had mentioned him this tradition, Ibn Umar found a snake in his house; he commanded regarding it and it was driven away to al-Baqi.
اسامہ نے نافع سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے نافع نے کہا : پھر اس کے بعد میں نے اسے ان کے گھر میں دیکھا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Nafi through a different chain of transmitters. In this version Nafi said: After that I saw it again in his house.
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں ابو سعید خدری (رض) کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے (وہ ان کے پاس چلے گئے) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس (مسجد) میں آگئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے ابو سعید خدری (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں بعض زہریلے کیڑے (سانپ وغیرہ) دیکھے تو اسے تین مرتبہ تنبیہ کرے (کہ دیکھ تو پھر نظر نہ آ، ورنہ تنگی و پریشانی سے دو چار ہوگا، اس تنبیہ کے بعد بھی) پھر نظر آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے (جیسے شیطان شرارت سے باز نہیں آتا، ایسے ہی یہ بھی سمجھانے کا اثر نہیں لیتا، ایسی صورت میں اسے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے) ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : Muhammad ibn Abu Yahya said that his father told that he and his companion went to Abu Saeed al-Khudri to pay a sick visit to him. He said: Then we came out from him and met a companion of ours who wanted to go to him. We went ahead and sat in the mosque. He then came back and told us that he heard Abu Saeed al-Khudri say: The Messenger of Allah ﷺ said: Some snakes are jinn; so when anyone sees one of them in his house, he should give it a warning three times. If it return (after that), he should kill it, for it is a devil.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٤٤٤) (صحیح) (اس کے رواة میں ایک راوی مجہول ہے، ہاں اگلی سند سے یہ واقعہ صحیح ہے )