ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری (رض) کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے (جھانک کر) دیکھا تو (وہاں) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید (رض) نے کہا : کیا ہوا تمہیں ؟ (کیوں کھڑے ہوگئے) میں نے کہا : یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا : تمہارا ارادہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا : میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا (چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ ؟ (گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی (ساتھی) کو لوٹا دے، (زندہ کر دے) آپ نے فرمایا : اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو (اب زندگی ملنے سے رہی) پھر آپ نے فرمایا : مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو (سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو ۔
Abu al-Saib said I went to visit Abu Sa’ld al-Khudri, and while I was sitting I heard a movement under under his couch. When I looked and found a snake there, I got up. Abu Sa’ld said: what is with you? I said: Here is a snake. He said: what do you want ? I said: I shall kill it. He then pointed to a room in his house in front of his room and said: My cousin (son of my uncle) was in this room. He asked his permission to go to his wife on the occasion of the battle of Troops (Ahzab), as he was recently married. The Messenger of Allah ﷺ gave him permission and ordered him to take his weapon with him. He came to his house and found his wife standing at the door of the house. When he pointed to her with the lance, she said; do not make haste till you see what has brought me out. He entered the house and found an ugly snake there. He pierced in the lance while it was quivering. He said: I do not know which of them died first, the man or the snake. His people then came to the Messenger of Allah ﷺ and said: supplicate Allah to restore our companion to life for us. He said: Ask forgiveness for your Companion. Then he said: In Madina a group of Jinn have embraced Islam, so when you see one of them, pronounce a waring to it three times and if it appears to you after that, kill it after three days.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٧ (٢٢٣٦) ، سنن الترمذی/الصید ١٥ (١٤٨٤) ، موطا امام مالک/الاستئذان ١٢ (٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٤١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤١) (حسن صحیح )
اس سند سے ابن عجلان سے یہی حدیث مختصراً مروی ہے، اس میں ہے کہ اسے (سانپ کو) تین بار آگاہ کر دو ، (اگر جن وغیرہ ہو تو چلے جاؤ) پھر اس کے بعد اگر وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Ajilan through a different chain of narrators briefly. This version has: He should give it a warning three times. If it appears to him after that, he should kill it, for it is a devil.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٥٢٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٤١٣) (حسن صحیح )
ہشام بن زہرہ کے غلام ابوسائب نے خبر دی ہے کہ وہ ابو سعید خدری (رض) کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی جیسی اور اس سے زیادہ کامل حدیث ذکر کی اس میں ہے : اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Saeed al-Khudri in a similar manner through a different chain of narrators. This version is more perfect. In this version he said: give it a warning for three days; if it appears to you after that, then kill it, for it is only a devil.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٥٢٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٤١٣) (صحیح )
ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا : جب تم ان میں سے کسی کو اپنے گھر میں دیکھو تو کہو : میں تمہیں وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے نوح (علیہ السلام) نے لیا تھا، وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے سلیمان (علیہ السلام) نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اس یاددہانی کے باوجود اگر وہ دوبارہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالو ۔
Narrated Abdur Rahman Ibn Abu Layla (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked about the house-snakes. He said: When you see one of them in your dwelling, say: I adjure you by the covenant which Noah made with you, and I adjure you by the covenant which Solomon made with you not to harm us. Then if they come back, kill them.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصید ١٥ (١٤٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں )
ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح (یعنی سفید سانپ کو نہ مارو) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا : جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Kill all the snakes except the little white one which looks like a silver wand. Abu Dawud said: A man said to me: A white snake does not wind in its movement. If it is correct, that is a sign in it, if Allah wills.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے چھپکلی کو پہلے ہی وار میں قتل کردیا اس کو اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، اور جس نے دوسرے وار میں اسے قتل کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، پہلے سے کم، اور جس نے تیسرے وار میں اسے ہلاک کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی دوسرے وار سے کم ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone kills a gecko with the first blow, such and such number of good deeds will be recorded for him, if he kills it with the second blow, such and such number of good deeds will be recorded for him less than the former; and if he kills it with the third blow, such and such number of good deeds will be recorded for him, less than the former.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نبیوں میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو انہیں ایک چھوٹی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے (غصے میں آ کر) سامان ہٹا لینے کا حکم دیا تو وہ اس کے نیچے سے ہٹا لیا گیا، پھر اس درخت میں آگ لگوا دی (جس سے سب چیونٹیاں جل گئیں) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ تنبیہ فرمائی : تم نے ایک ہی چیونٹی کو (جس نے تمہیں کاٹا تھا) کیوں نہ سزا دی (سب کو کیوں مار ڈالا ؟ ) ۔
Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: A prophet got down beneath a tree and he was stung by an ant. He ordered regarding the baggage and it was removed from beneath it. He then ordered regarding it and it was burnt. Allah then revealed to him: why not (just) one ant?
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٩ (٢٢٤١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣١٩، ١٥٣٠٧، ١٣٨٧٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٥٣(٣٠١٩) ، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩) ، سنن النسائی/الصید ٣٨ (٤٣٦٣) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٠ (٣٢٢٥) ، مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انبیاء میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا ۔
Abu Hurairah reported Messenger of Allah ﷺ as saying: An ant stung a prophet. He ordered a colony of ants to be burned. Allah revealed to him: because an ant stung you, you have perished a community which glorifies Me.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الجہاد ١٥٣ (٣٠١٩) ، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩) ، صحیح مسلم/ السلام ٣٩ (٢٢٤١) ، سنن النسائی/ الصید ٣٨ (٤٣٦٣) ، سنن ابن ماجہ/ الصید ١٠ (٣٢٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣١٩، ١٥٣٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور (انہیں حاصل کرنے کے لیے) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا : کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو ، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا : کس نے جلایا ہے ؟ ہم نے کہا : ہم نے، آپ نے فرمایا : آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے ۔
Abdur-Rahman bin Abdullah quoted his father as saying: When we were on a journey with the Messenger of Allah ﷺ and he had gone to releive himself, we saw a Hummarah with two young ones. We took the young ones. The Hummarah came and began to spread out its wings. Then the prophet ﷺ came and said: who has pained this young by the loss of her young? Give her young ones back to her. We also saw an ant-hill which we had burned. He asked? Who has burned this? We replied: we have. He said: it is not fitting that anyone but the lord of the fire should punish with fire.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٦٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٦٢) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ﷺ سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم ﷺ نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔
Narrated Abdur Rahman ibn Uthman (RA) : When a physician consulted the Prophet ﷺ about putting frogs in medicine, he forbade him to kill them.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٣٨٧١) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٠٦) (صحیح )
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (کھیل کود اور ہنسی مذاق میں) ایک دوسرے کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا : نہ تو یہ کسی شکار کا شکار کرتی ہے، نہ کسی دشمن کو گھائل کرتی ہے۔ یہ تو صرف آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے ۔
Abd bin Mughaffal said: The Messenger of Allah ﷺ prohibited throwing pebbles (in sport) saying: game is not caught by such means. Neither is an enemy injured, but it may sometimes put out an eye or break a tooth.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الفتح ٥ (٤٨٤١) ، الذبائح ٥ (٥٤٧٩) ، الأدب ١٢٢ (٦٢٢٠) ، صحیح مسلم/الذبائح ١٠ (١٩٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١١ (٣٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٦٣) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨١٩) ، مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٤٦، ٥٤، ٥٥، ٥٦، ٥٧) (صحیح )
ام عطیہ انصاریہ (رض) سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : نیچا کر ختنہ مت کرو بہت نیچے سے مت کاٹو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عبیداللہ بن عمرو سے مروی ہے انہوں نے عبدالملک سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے، وہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : محمد بن حسان مجہول ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے۔
Narrated Umm Atiyyah al-Ansariyyah (RA) : A woman used to perform circumcision in Madina. The Prophet ﷺ said to her: Do not cut severely as that is better for a woman and more desirable for a husband. Abu Dawud said: It has been transmitted by Ubaid Allah bin Amr from Abd al-Malik to the same effect through a different chain. Abu Dawud said: It is not a strong tradition. It has been transmitted in mursal form (missing the link of the Companions) Abu Dawud said: Muhammad bin Hasan is obscure, and this tradition is weak.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٠٩٣) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن حسان مجہول راوی ہیں )
ابواسید انصاری (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول ﷺ نے عورتوں سے فرمایا : تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے پھر تو ایسا ہوگیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے (دوپٹے وغیرہ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔
Narrated Abu Usayd al-Ansari (RA) : Abu Usayd heard the Messenger of Allah ﷺ say when he was coming out of the mosque, and men and women were mingled in the road: Draw back, for you must not walk in the middle of the road; keep to the sides of the road. Then women were keeping so close to the wall that their garments were rubbing against it.
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، وابن السرح، قالا: أخبرنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد عن أبى هريرة، عن النبي صلي الله عليه وسلم: يقول الله عز وجل: يؤذيني ابن آدم، يسب الدهر، وأنا الدهر بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار، قال ابن السرح، عن ابن المسيب مكان سعيد.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ عزوجل فرماتا ہے : ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہی ہوں، تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں، میں ہی رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں ۔
Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: Allah most high says: “The son of Adam injures me by abusing time, whereas I am time. Authority is in my hand. I alternate the night and the day”. Ibn al-Sarh said: “on the authority of Ibn al-Musayyab instead of Saeed.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الجاثیة ١ (٤٨٢٦) ، التوحید ٣٥ (٧٤٩١) ، الأدب ١٠١ (٦١٨١) ، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ١ (٢٢٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٣١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الکلام ١ (٣) (صحیح )
میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ( یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی ) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔
Narrated Ibn Abbas: I spent a night with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. When he woke up from his sleep (in the latter part of the night for prayer) he came to his ablution water. He took the tooth-stick and used it. He then recited the verse: Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are tokens (of His Sovereignty) for men of understanding (iii-190). He recited these verses up to the end of the chapter or he finished the whole chapter. He then performed ablution and came to the place of prayer. He then said two rak'ahs of prayer. He then lay down on the bed and slept as much as Allaah wished. He then got up and did the same. He then lay down and slept. He then got up and did the same. Every time he used the tooth-stick and offered two rak'ah of prayer. He then offered the prayer known as witr. Abu Dawud said: Fudail on the authority if Husain reported the wording: He then used the tooth-stick and performed ablution while he was reciting the verses: Verily in the creation of the heaves and the earth. . . until he finished the chapter.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی ۔ لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔
Abu al-Darda reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There are five thing, if anyone observe them with faith, he will enter Paradise. He who prays the five times prayer regularly, with the ablution for them, with their bowing, with their prostration and their (right) times ; keeps fast during Ramadan ; performs Hajj (pilgrimage) to the House (Kabah), provided he has the ability for its passage; pays Zakat happily ; and fulfills the trust (he will enter Paradise). People said: Abu al-Darda, what is fulfilling the trust ? He replied: Washing because of sexual defilement.