Sunan Abu Dawood 5265

ادب کا بیان

5265Sunan Abu Dawood

چینو نٹی کو بلا وجہ نہیں مارنا چاہیے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو انہیں ایک چھوٹی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے (غصے میں آ کر) سامان ہٹا لینے کا حکم دیا تو وہ اس کے نیچے سے ہٹا لیا گیا، پھر اس درخت میں آگ لگوا دی (جس سے سب چیونٹیاں جل گئیں) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ تنبیہ فرمائی: تم نے ایک ہی چیونٹی کو (جس نے تمہیں کاٹا تھا) کیوں نہ سزا دی (سب کو کیوں مار ڈالا؟ ) ۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: A prophet got down beneath a tree and he was stung by an ant. He ordered regarding the baggage and it was removed from beneath it. He then ordered regarding it and it was burnt. Allah then revealed to him: why not (just) one ant?

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٩ (٢٢٤١)، (تحفة الأشراف: ١٣٣١٩، ١٥٣٠٧، ١٣٨٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٥٣(٣٠١٩)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩)، سنن النسائی/الصید ٣٨ (٤٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٠ (٣٢٢٥)، مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )