Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 242 of 265

4849Sunan Abu Dawoodصحیح

عشاء کے بعد گفتگو (قصے کہانیاں) کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّوْمِ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا.

ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونے ١ ؎ اور اس کے بعد بات کرنے ٢ ؎ سے منع فرماتے تھے۔

Abu Barzah said: The Messenger of Allah ﷺ forbade sleeping before the night prayer and talking after it.

Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ اس میں عشاء چھوٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ ٢ ؎ : اور اس صورت میں قیام اللیل (تہجد) اور فجر کے چھوٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المواقیت ٢٣ (٥٦٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ١١ (١٦٨) ، سنن ابن ماجہ/ الصلاة ١٢٥ (٧٠١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٠٥، ١١٦٠٦) (صحیح )
4850Sunan Abu Dawoodصحیح

آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسْنَاءَ.

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز فجر پڑھ لیتے تو چارزانو (آلتی پالتی) ہو کر بیٹھتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح نکل آتا۔

Jabir bin Samurah said: When the Prophet ﷺ prayed the dawn prayer, he sat cross-legged where he was till the sun had come well up.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٢ (٦٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٢١٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٠٠، ١٠١، ١٠٧) (صحیح )
4851Sunan Abu Dawoodصحیح

دو سے زائد افراد کی موجودگی میں سرگوشی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْالْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اسے رنجیدہ کر دے گی ۔

Abdullah (bin Masud) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Two persons should not talk privately ignoring the third, for that will grieve him.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ١٥ (٢١٨٤) ، سنن الترمذی/الأدب ٥٩ (٢٨٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٠ (٣٧٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٥٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٤٥ (٦٢٨٨) ، ٤٧ (٦٢٩٠) ، موطا امام مالک/الکلام ٦ (١٤) ، مسند احمد (١/٤٢٥، ٤٦٢، ٤٦٤) ، دی/ الاستئذان ٢٨ (٢٦٩٩) (صحیح )
4852Sunan Abu Dawoodصحیح

دو سے زائد افراد کی موجودگی میں سرگوشی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: فَأَرْبَعَةٌ، قَالَ: لَا يَضُرُّكَ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی کے مثل فرمایا، ابوصالح کہتے ہیں : میں نے ابن عمر سے کہا : اگر چار آدمی ہوں تو ؟ وہ بولے (تو کوئی حرج نہیں) اس لیے کہ یہ چیز تم کو ایذاء نہ دے گی۔

A similar tradition has been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators. This version has: Abu Salih said: I asked Ibn Umar (RA) : If they are four? He replied: then it does not harm you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٧١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨، ٤٣، ١٤١) (صحیح )
4853Sunan Abu Dawoodصحیح

مجلس سے اٹھ کر لوٹ آنے والا اسی جگہ پر بیٹھنے کا مستحق ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَالِسًا وَعِنْدَهُ غُلَامٌ فَقَامَ ثُمَّ رَجَعَ، فَحَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.

سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لڑکا تھا، وہ اٹھ کر گیا پھر واپس آیا، تو میرے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب آدمی ایک جگہ سے اٹھ کر جائے پھر وہاں لوٹ کر آئے تو وہی اس (اس جگہ بیٹھنے) کا زیادہ مستحق ہے ۔

Abu Salih said: I was sitting with my father and there was also a boy with him. He got up and then returned. So my father mentioned a tradition on the authority of Abu Hurairah from the prophet ﷺ saying: If anyone gets up from where he has been sitting and comes back to it, he has most right to it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٢٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/السلام ١٢ (٢١٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٢ (٣٧١٧) ، مسند احمد (٢/٣٤٢، ٥٢٧) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٥ (٢٦٩٦) (صحیح )
4854Sunan Abu Dawoodضعیف

مجلس سے اٹھ کر لوٹ آنے والا اسی جگہ پر بیٹھنے کا مستحق ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ كَعْبٍ الْإِيَادِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ،فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَامَ فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَيْهِ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ.

کعب الایادی کہتے ہیں کہ میں ابو الدرداء کے پاس آتا جاتا تھا تو ابو الدرداء نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے تو آپ (کسی کام سے جانے کے لیے) کھڑے ہوتے اور لوٹنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی جوتیاں اتار کر رکھ جاتے یا اور کوئی چیز رکھ جاتے جو آپ کے پاس ہوتی، اس سے آپ کے اصحاب سمجھ لیتے تو وہ ٹھہرے رہتے۔

Narrated Abud Darda: The Messenger of Allah ﷺ would sit and we would also sit around him. If he got up intending to return, he would take off his sandals or something he was wearing, and his Companions recognising his purpose (that he would return) would stay where they were.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٦٠) (ضعیف )
4855Sunan Abu Dawoodصحیح

آدمی کا کسی مجلس سے بغیر اللہ کا ذکر کیے اٹھ جانا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو لوگ بھی بغیر اللہ کو یاد کئے کسی مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے ہوں تو وہ ایسی مجلس سے اٹھے ہوتے ہیں جو بدبو میں مرے ہوئے گدھے کی لاش کی طرح ہوتی ہے، اور وہ مجلس ان کے لیے (قیامت کے روز) باعث حسرت ہوگی ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: People who get up from an assembly in which they did not remember Allah will be just as if they had got up from an asss corpse, and it will be a cause of grief to them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٢٥٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٥١٥، ٥٢٧) (صحیح )
4856Sunan Abu Dawoodصحیح

آدمی کا کسی مجلس سے بغیر اللہ کا ذکر کیے اٹھ جانا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ، وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہوگا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone sits at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah; and if he lies at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٠٤٣) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدعوات ٨ (٣٣٨٠) ، مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٥٢، ٤٨١، ٤٨٤) (حسن صحیح )
4857Sunan Abu Dawoodصحیح

مجلس میں کیے ہوئے صغارہ کا کفارہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: كَلِمَاتٌ لَا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِهِ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا كُفِّرَ بِهِنَّ عَنْهُ، وَلَا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ إِلَّا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے (ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں سبحانک اللهم وبحمدک لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك اے اللہ ! تو پاک ہے، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: There are some expressions which a man utters three times when he gets up from an assembly he will be forgiven for what happened in the assembly; and no one utters them in an assembly held for a noble cause or for remembrance of Allah but that is stamped with them just as a document is stamped with a signet-ring. These expressions are: Glory be to Thee, O Allah, and I begin with praise of Thee, there is no god but thou; I ask Thy pardon, and return to Thee in repentance.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٩٨١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدعوات ٣٩ (٣٤٢٩) ، مسند احمد (٢/٤٩٤) (صحیح) دون قولہ : ثلاث مرات
4858Sunan Abu Dawoodصحیح

مجلس میں کیے ہوئے صغارہ کا کفارہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو، وحَدَّثَنِي بِنَحْوِ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْالْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

ابوہریرہ (رض) بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔

A similar tradition has also been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٨١) (صحیح )
4859Sunan Abu Dawoodصحیح

مجلس میں کیے ہوئے صغارہ کا کفارہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، أَنَّ عَبْدَةَ بْنَ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ ديِنَارٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ،عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، فَقَالَ رَجُلٌ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، فَقَالَ: كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ.

ابوبرزہ اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے : سبحانک اللهم وبحمدک أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك تو ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا : یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہوجاتی ہیں ۔

Narrated Abu Barzah al-Aslami (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ intended to get up from the assembly he used to say in the last. Glory be to Thee. O Allah, and I begin with praise of Thee, I testify that there is no god but Thou; I ask Thy pardon, and return to Thee in repentance. The man asked: Messenger of Allah! you utter the words now which you did not do in the past? He replied: (This is an) atonement for what takes place in the assembly.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٥) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٩ (٢٧٠٠) (حسن صحیح )
4860Sunan Abu Dawoodضعیف

مجلس کی کوئی بات آگے بڑھانا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْوَلِيدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَنَسَبَهُ لَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ الْوَلِيدُ ابْنُ أَبِي هِشَامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ میں سے کوئی کسی کے بارے میں کوئی شکایت مجھ تک نہ پہنچائے، اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں (گھر سے) نکل کر تمہاری طرف آؤں، تو میرا سینہ صاف ہو (یعنی کسی کی طرف سے میرے دل کوئی میں کدورت نہ ہو) ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: None of my Companions must tell me anything about anyone, for I like to come out to you with no ill-feelings.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٦٤ (٣٨٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٩٦) (ضعیف) (زید بن زائد یا زائدہ لین الحدیث ہیں )
4861Sunan Abu Dawoodضعیف

لوگوں کے شر سے بچتے رہنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: الْتَمِسْ صَاحِبًا، قَالَ: فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا، قَالَ: فَقَالَ: مَنْ ؟ قُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: إِذَا هَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ، فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ: أَخُوكَ الْبِكْرِيُّ وَلَا تَأْمَنْهُ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَبْوَاءِ، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ، فَتَلَبَّثْ لِي، قُلْتُ رَاشِدًا، فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي حَتَّى خَرَجْتُ أُوضِعُهُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَصَافِرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطٍ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا وَجَاءَنِي، فَقَالَ: كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ وَمَضَيْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ.

عمرو بن فغواء خزاعی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے بلایا، آپ مجھے کچھ مال دے کر ابوسفیان کے پاس بھیجنا چاہتے تھے، جو آپ فتح مکہ کے بعد قریش میں تقسیم فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا : کوئی اور ساتھی تلاش کرلو ، تو میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے، اور کہنے لگے : مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارا ارادہ نکلنے کا ہے اور تمہیں ایک ساتھی کی تلاش ہے، میں نے کہا : ہاں، تو انہوں نے کہا : میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، آپ نے فرمایا : کون ؟ میں نے کہا : عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا : جب تم اس کی قوم کے ملک میں پہنچو تو اس سے بچ کے رہنا اس لیے کہ کہنے والے نے کہا ہے کہ تمہارا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو اس سے مامون نہ رہو ، چناچہ ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم ابواء میں پہنچے تو اس نے کہا : میں ودان میں اپنی قوم کے پاس ایک ضرورت کے تحت جانا چاہتا ہوں لہٰذا تم میرے لیے تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نے کہا : جاؤ راستہ نہ بھولنا، جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آئی، تو میں نے زور سے اپنے اونٹ کو بھگایا، اور تیزی سے دوڑاتا وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب مقام اصافر میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے روکنے آ رہا ہے میں نے اونٹ کو اور تیز کردیا، اور میں اس سے بہت آگے نکل گیا، جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوں، تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور وہ میرے پاس آیا اور بولا، مجھے اپنی قوم میں ایک کام تھا، میں نے کہا : ٹھیک ہے اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کو دے دیا۔

Narrated Amr ibn al-Faghwa al-Khuzai (RA) : The Messenger of Allah ﷺ called me. He intended to send me with some goods to Abu Sufyan to distribute among the Quraysh at Makkah after the conquest. He said: Search for a companion. Then Amr ibn Umayyah ad-Damri came to me and said: I have been told that you are intending to make a journey and are seeking a companion. I said: Yes. He said: I am your companion. I then went to the Messenger of Allah ﷺ and said: I have found a companion. He asked: Who is he? I replied: Amr ibn Umayyah ad-Damri. He said: When you come down to the territory of his people, be careful of him, for a maxim says: If one is your real brother, do not feel safe with him. So we proceeded, and when I reached al-Abwa, he said to me: I have some work with my people at Waddan, so stay here till I come back. I said: Do not lose your way. When he turned his back, I recalled the words of the Prophet ﷺ . So I rode my camel and galloped without stopping. When I reached al-Asafir, he was pursuing me with a group of men. So I galloped and forged ahead of him. When he saw me that I had outstripped him, they returned and he came to me. He said to me: I had some work with my people. I said: Yes. We then went on until we reached Makkah, and I gave the goods to Abu Sufyan.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٧٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٩) (ضعیف )
4862Sunan Abu Dawoodصحیح

لوگوں کے شر سے بچتے رہنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: A believer is not stung twice from the same hole.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٨٣ (٦١٣٣) ، صحیح مسلم/الزہد ١٢ (٢٩٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٧٩) ، سنن الدارمی/الرقاق ٦٥ (٢٨٢٣) (صحیح )
4863Sunan Abu Dawoodصحیح

آدمی کی چال چلن کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَشَى كَأَنَّهُ يَتَوَكَّأُ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ آگے کی جانب جھکے ہوئے ہیں (جیسے کوئی اونچے سے نیچے کی طرف اتر رہا ہو) ۔

Anas said: when the Prophet ﷺ walked, it looked as if he bent forwards.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٥٦) (صحیح الإسناد )
4864Sunan Abu Dawoodصحیح

آدمی کی چال چلن کا بیان

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: كَيْفَ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ: كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَهْوِي فِي صَبُوبٍ.

سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا : آپ کو کیسا دیکھا ؟ وہ کہا : آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔

Saeed al-Jariri quoted Abu al-Tufail as saying: I saw the Messenger of Allah ﷺ . I asked: How did you see him? He said: He was white, good-looking, and when he walked, it looked as if he was descending to a low ground.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٨ (٢٣٤٠) ، سنن الترمذی/الشمائل (١٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٥٤) (صحیح )
4865Sunan Abu Dawoodصحیح

لیٹتے وقت ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنا ممنوع ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضَعَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ: يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، زَادَ قُتَيْبَةُ وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے۔ قتیبہ کی روایت میں أن يضع کے بجائے أن يرفع کے الفاظ ہیں، اور قتیبہ کی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے اور وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہو ۔

Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ forbade that a man should lie placing (and according to Qutaibah’s version: “should raise”) one of his legs over the other. Qutaibah’s version adds: When he was lying on his back.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٠ (٢٠٩٩) ، سنن الترمذی/الأدب ٢٠ (٢٧٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٩٢، ٢٩٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٦٢، ٣٦٧) (صحیح )
4866Sunan Abu Dawoodصحیح

لیٹتے وقت ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنا ممنوع ہے

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا، قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى.

عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھے ہوئے چت لیٹے دیکھا ١ ؎۔

Abbad bin Tamim quoted his paternal uncle as saying that he had seen the Messenger of Allah ﷺ lying on his back in the mosque according to Qanabi’s version) placing one foot over the other.

Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں بظاہر تعارض ہے ، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ممانعت اس صورت میں ہے جب لنگی ( ازار) تنگ ہو ، اور ایسا کرنے سے ستر کھلنے کا اندیشہ ہو ، اور اگر ازار کشادہ ہو ، اور ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو تو درست ہے ، یا دونوں پیر پھیلا کر ایسا کرنا درست ہے ، کیونکہ اس صورت میں ستر کھلنے کا اندیشہ نہیں رہتا ، البتہ ایک پیر کو کھڑا کر کے دوسرے کو کھڑے پر رکھنا درست نہیں کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
خ /الصلاة ٨٥ (٤٧٥) ، اللباس ١٠٣ (٥٩٦٩) ، الاستئذان ٤٤ (٦٢٨٧) ، صحیح مسلم/اللباس ٢٢ (٢١٠٠) ، سنن الترمذی/الأدب ١٩ (٢٧٦٥) ، سنن النسائی/المساجد ٢٨ (٧٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/السفر ٢٤ (٨٧) ، مسند احمد (٤/٣٩، ٤٠) ، دی/الاستئذان ٢٧(٢٦٩٨) (صحیح )
4867Sunan Abu Dawoodصحیح

لیٹتے وقت ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنا ممنوع ہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان (رض) بھی اسے کیا کرتے تھے۔

Saeed bin al-musayyab said: Umar bin al-khattab and Uthman bin Affan used to do that.

Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٨) (صحیح الإسناد عن عثمان )
4868Sunan Abu Dawoodصحیح

(راز کی) بات کو آگے بیان کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے (اسے افشاء نہیں کرنا چاہیئے) ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: When a man tells something and then departs, it is a trust.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٣٩ (١٩٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢٤، ٣٥٢، ٣٧٩، ٣٩٤) (حسن )