سعد (رض) کہتے ہیں کہ تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں (بہتر) ہے، سوائے آخرت کے عمل کے ١ ؎۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے۔
Narrated Saad (RA) : The Prophet ﷺ said: There is hesitation in everything except in the actions of the next world.
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ نیک کاموں میں تاخیر اور التواء سارعوا إلى مغفرة من ربکم کے منافی ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا (بھی) شکر ادا نہیں کرتا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who does not thank Allah does not thank people.
Notes · وضاحت
١ ؎ : جس کی عادت و طبیعت میں بندوں کی ناشکری ہو وہ اللہ کے احسانات کی بھی ناشکری کرتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسے بندوں کا شکر قبول نہیں فرماتا جو لوگوں کے احسانات کا شکریہ ادا نہ کرتے ہوں۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا : اللہ کے رسول ! سارا اجر تو انصار لے گئے، آپ نے فرمایا : نہیں (ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم اجر سے محروم رہو) جب تک تم اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Immigrants (Muhajirun) said: Messenger of Allah! the Helpers (Ansar) got the entire reward. He said: no, so long as you pray to Allah for them and praise them.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی في الیوم واللیلة (١٨١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٠٠، ٢٠١) (صحیح )
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کردیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سند میں رجل من قومی سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے، اس لیے ان کا نام نہیں لیا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If someone is given something, he should give a return for it provided he can afford; if he cannot afford, he should praise him. He who praises him for it, thanks him, and he who conceals it is ungrateful to him. Abu Dawud said: It has been transmitted by Yahya bin Ayyub, from Umarah bin Ghaziyyah, from Sharahbil on the authority of Jabir Abu Dawud said: In the chain of this tradition Umarah bin Ghaziyyah said: A man from my tribe said. The man referred by him is in Sharahbil. It is likely that they disliked him and, therefore, they did not blame him.
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کردیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If someone is donated something, and he mentions it, he thanks for it, and if he conceals it, he is ungrateful for it.
Notes · وضاحت
١ ؎ : حدیث میں أبلى بلائً جو من أعطى عطائًا کے معنیٰ میں ہے بلاء کا لفظ خیر اور شر دونوں معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں (ضروری امور پر) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو لوگوں نے عرض کیا : راستے کا حق کیا ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔
Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as sayings: Avoid sitting in the roads. The people said: Messenger of Allah! We must have meeting places in which to converse. The Messenger of Allah ﷺ said: If you insist on meeting, give the road its due. They asked: What is the due of roads, Messenger of Allah? He replied: Lowering the eyes, removing anything offensive, returning salutation, commanding what is reputable and forbidding what is disreputable.
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب (رض) کو نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا : اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ ۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : The Prophet ﷺ said: the same occasion: Help the oppressed (sorrowful) and guide those who have lost their way.
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور بولی : اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ نے اس سے فرمایا : اے فلاں کی ماں ! جہاں چاہو گلی کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ کر ملوں چناچہ وہ بیٹھ گئی، پھر نبی اکرم ﷺ اس سے آ کر ملے، یہاں تک کہ اس نے آپ سے اپنی ضرورت کی بات کی۔
Narrated Anas ibn Malik: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah: I have some need with you. He said to her: Mother of so and so, sit in the corner of any street you wish and I shall sit with you. So she sat and the Messenger of Allah ﷺ also sat with her till she fulfilled her need. The narrator Ibn Isa did not mention till she fulfilled her need. And Kathir said: from Humaid on the authority of Anas.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٤) (صحیح )
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت تھی جس کی عقل میں کچھ فتور تھا پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Anas reported this tardition to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: A woman who had something (feebleness) in her mind.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الفضائل ٢٣ (٢٣٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٨٥) (صحیح )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : مجالس میں بہتر وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: The best places to sit are those which provide most room. Abu Dawud said: The name of Abdur-Rahman bin Abi Amr is Abdur-Rahman bin Amr bin Abi Umrat al-Ansari.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، أبودواد، (تحفة الأشراف : ٤١٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٨، ٦٩) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو (مخلد کی روایت) سایہ میں ہو، پھر سایہ اس سے سمٹ گیا ہو اس طرح کہ اس کا کچھ حصہ دھوپ میں آجائے اور کچھ سایہ میں رہے تو چاہیئے کہ وہ اٹھ جائے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Abul Qasim ﷺ said: When one of you is in the sun (Shams)--Makhlads version has fay--and the shadow withdraws from him so that he is partly in sun and partly in shade, he should get up.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس لئے کہ اس سے ضرر کا اندیشہ ہے، جیسے بیک وقت گرم و سرد چیز کا استعمال مضر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨٣) (صحیح )
ابوحازم البجلی (رض) کہتے ہیں کہ وہ آئے اور رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو وہ دھوپ میں کھڑے ہوگئے، اس کے بعد (آپ نے انہیں سایہ میں آنے کے لیے کہا) تو وہ سائے میں آگئے۔
Qais quoted his father as saying that he (his father) came when the Messenger of Allah ﷺ was addressing. He stood in the sun. He ordered him (to shift) and he shifted to the shade.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٨٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٦، ٤٢٧، ٤/٢٦٢) (صحیح )
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو الگ الگ گروہوں میں دیکھ رہا ہوں ۔
Jabir bin Samurah said: The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque, and saw them ( his companions) in separate groups. He said: How is it that i see you in separate groups.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٩٣، ١٠١، ١٠٧) (صحیح )
سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ ابوبکرہ (رض) ایک گواہی کے سلسلے میں ہمارے ہاں آئے، تو ان کے لیے ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، تو انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کیا، اور کہا : نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ کسی ایسے شخص کے کپڑے سے پونچھے جسے اس نے کپڑا نہ پہنایا ہو۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : Saeed ibn AbulHasan said: When Abu Bakrah came to us to give some evidence, a man got up from his place, but he refused to sit in it saying: The Prophet ﷺ forbade this, and the Prophet ﷺ forbade anyone to wipe his hand on the garment of anyone whose clothing he had not himself provided.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٤، ٤٨) (ضعیف )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو ایک شخص اس کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تو وہ وہاں بیٹھنے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے روک دیا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : A man came to the Prophet ﷺ , another man got up from his place for him, and when he went to sit in it, the Prophet ﷺ forbade him. Abu Dawud said: The name of Abu al-Khusaib is Ziyad bin Abdur-Rahman.