وائل (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا، اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی، وہ جا چکا تھا، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس (فلاں) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آگئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، اور اسے لے کر آئے، تو اس نے کہا : ہاں اسی نے کیا ہے، چناچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا (کہ اس پر حد جاری کی جائے) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہوگیا، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا : تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا (کیونکہ یہ تیری رضا مندی سے نہیں ہوا تھا) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مراد وہ آدمی ہے (ناحق) جو پکڑا گیا تھا، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا : اس کو رجم کر دو پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہوجائے ۔
Narrated Wail ibn Hujr (RA) : When a woman went out in the time of the Prophet ﷺ for prayer, a man attacked her and overpowered (raped) her. She shouted and he went off, and when a man came by, she said: That (man) did such and such to me. And when a company of the Emigrants came by, she said: That man did such and such to me. They went and seized the man whom they thought had had intercourse with her and brought him to her. She said: Yes, this is he. Then they brought him to the Messenger of Allah ﷺ . When he (the Prophet) was about to pass sentence, the man who (actually) had assaulted her stood up and said: Messenger of Allah, I am the man who did it to her. He (the Prophet) said to her: Go away, for Allah has forgiven you. But he told the man some good words (Abu Dawud said: meaning the man who was seized), and of the man who had had intercourse with her, he said: Stone him to death. He also said: He has repented to such an extent that if the people of Madina had repented similarly, it would have been accepted from them. Abu Dawud said: Asbat bin Nasr has also transmitted it from Simak.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٢ (١٤٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦/٣٩٩) (حسن )
ابوامیہ مخزومی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کرلیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے اس نے کہا : کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ ﷺ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا : اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو اس نے کہا : میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا : اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔
Narrated Abu Umayyah al-Makhzumi (RA) : A thief who had accepted (having committed theft) was brought to the Prophet ﷺ , but no good were found with him. The Messenger of Allah ﷺ , said to him: I do not think you have stolen. He said: Yes, I have. He repeated it twice or thrice. So he gave orders. His hand was cut off and he was then brought to him. He said: Ask Allahs pardon and turn to Him in repentance. He said: I ask Allahs pardon and turn to Him in repentance. He (the Prophet) then said: O Allah, accept his repentance. Abu Dawud said: It has been transmitted by Amr bin Asim, from Hammam, from Ishaq bin Abdullah from Abu Ummayyah, a man of the Ansar from the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٣ (٤٨٨١) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٩ (٢٥٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩٣) (ضعیف )
ابوامامہ (رض) کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حد کا مرتکب ہوگیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کردیا ۔
Abu Umamah said: A man came to the prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! I have committed a crime which involves prescribed punishment so inflict it on me. He said: Have you not performed ablution when you came? He said: Yes, He said: Have you not prayed with us when we prayed ? He said: Yes. He then said: Go off, for Allah, the Exalted, forgave you.
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر (رض) کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان (رض) کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان (رض) نے کہا : تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہوگی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا : یہ آپ کا فیصلہ ہے ؟ نعمان (رض) نے کہا : نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس قول سے نعمان (رض) نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ١ ؎۔
Azhar ibn Abdullah al-Harari said: Some goods of the people of Kila were stolen. They accused some men of the weavers (of theft). They came to an-Numan ibn Bashir, the companion of the Prophet ﷺ . He confined them for some days and then set them free. They came to an-Numan and said: You have set them free without beating and investigation. An-Numan said: What do you want? You want me to beat them. If your goods are found with them, then it is all right; otherwise, I shall take (retaliation) from your back as I have taken from their backs. They asked: Is this your decision? He said: This is the decision of Allah and His Messenger ﷺ . Abu Dawud said: By this statement he frightened them ; that is, beating is not necessary except after acknowledgement.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرم پر جب شبہ ہو تو اس کو پکڑنا صحیح ہے ، مگر ناحق مار پیٹ سے اس سے اقبال جرم کرانا صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ سراسر ظلم ہے ، جیسا کہ آج کل میں لوگ کرتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار، یا اس سے زائد میں کاٹا جائے ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کٹے گا۔
Aishah reported the prophet ﷺ as saying: A thief’s hand should be cut off for a quarter of a dinar and upwards. Ahmed bin Salih said: The amputation (of a thief’s hand) is for a quarter of a dinar and upwards.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحدود ١٣ (٦٧٩٠) ، صحیح مسلم/ الحدود ١ (١٦٨٤) ، سنن النسائی/ قطع السارق ٧ (٤٦٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٩٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ الحدود ٧ (٢٤) ، دی/ الحدود ٤ (٢٣٤٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) نے لوگوں سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ had a mans hand cut off who had stolen from the place reserved for women a shield whose price was three dirhams.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحدود ١ (١٦٨٦) ، سنن النسائی/ قطع السارق ٧ (٤٩١٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٤٥) ، دی/ الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح) (اس میں عورتوں کے چبوترہ کا ذکر صحیح نہیں ہے )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال کے (چرانے پر) کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had a mans hand cut off for (stealing) a shield whose price was a dinar or ten dirhams. Abu Dawud said: Muhammad bin Salamah and Saadan bin Yahya have transmitted it from Ibn Ishaq through his chain of narrators.
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے (ایک باغ میں لگا) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کرلیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج (رض) کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : پھل اور جمار (کھجور کے درخت کے پیڑی کا گابھا) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا تو اس شخص نے کہا : مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، تو رافع بن خدیج (رض) اس کے ساتھ چلے، اور مروان کے پاس آئے، اور ان سے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : پھل اور گابھا کے (چرانے میں) ہاتھ نہیں کٹے گا مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا، چناچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کثر کے معنیٰ جمار کے ہیں۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : Muhammad ibn Yahya ibn Hibban said: A slave stole a plant of a palm-tree from the orchard of a man and planted it in the orchard of his master. The owner of the plant went out in search of the plant and he found it. He solicited help against the slave from Marwan ibn al-Hakam who was the Governor of Madina at that time. Marwan confined the slave and intended to cut off his hand. The slaves master went to Rafi ibn Khadij and asked him about it. He told him that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: The hand is not to be cut off for taking fruit or the pith of the palm-tree. The man then said: Marwan has seized my slave and wants to cut off his hand. I wish you to go with me to him and tell him that which you have heard from the Messenger of Allah ﷺ . So Rafi ibn Khadij went with him and came to Marwan ibn al-Hakam. Rafi said to him: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The hand is not to be cut off for taking fruit or the pith of the palm-tree. So Marwan gave orders to release the slave and then he was released. Abu Dawud said: Kathar means pith of the palm-tree.
Notes · وضاحت
١ ؎ : جمار کھجور کے درخت کی پیڑی کے اندر سے نکلنے والا نرم جو چربی کے طرح سفید ہوتا ہے ، اور کھایا جاتا ہے۔
اس سند سے بھی محمد بن یحییٰ بن حبان سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے مروان نے اسے کچھ کوڑے مار کر چھوڑ دیا۔
This tradition has also been transmitted by Muhammad bin Yahya bin Hibban through a different chain of narrators. This version adds: Marwan gave him some lashes and let him go.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : جس ضرورت مند نے اسے کھالیا، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہوگی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ was asked about fruit which was bung up and said: If a needy person takes some with his mouth and does not take a supply away in his garment, there is nothing on him, but he who carries any of it is to be fined twice the value and punished, and he who steals any of it after it has been put in the place where dates are dried to have his hand cut off if their value reaches the value of a shield. If he steals a thing less in value than it, he is to be find twice the value and punished. Abu Dawud said: Jarin means the place where dates are dried.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ١ ؎، اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Cutting of hand is not to be inflicted on one who plunders, but he who plunders conspicuously does not belong to us. Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : He also said through this chain: The Messenger of Allah ﷺ said: Cutting of the hand is not to be inflicted on one who is treacherous.
Notes · وضاحت
١ ؎ : زبردستی کسی کا مال چھیننا اگرچہ چرانے سے زیادہ قبیح فعل ہے، لیکن اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ اس پر سرقہ (چرانے) کا اطلاق نہیں ہوتا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے چور کا ہاتھ کاٹنا فرض کیا ہے، لیکن چھیننے جھپٹنے، اور غصب وغیرہ پر یہ حکم نہیں دیا اس لئے کہ چوری کے مقابلہ میں یہ چیزیں کم واقع ہوتی ہیں، اور ذمہ داروں سے شکایت کر کے اس طرح کی چیزوں کو لوٹایا جاسکتا ہے، اور ان کے خلاف دلائل دینا چوری کے برعکس آسان ہے، اس وجہ سے چوری کا معاملہ بڑا ہے، اور اس کی سزا سخت ہے، تاکہ اس سے باز آجانے میں یہ زیادہ موثر ہو۔ (ملاحظہ ہو : عون المعبود ١٢ ؍٣٩ )
اور اسی سند سے مروی ہے جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امانت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٨ (١٤٤٨) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٠ (٤٩٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٨٠) ، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦) (صحیح )
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٠) (صحیح )
جابر (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. This version adds: Cutting of the hand is not be inflicted on one who snatches something. Abu Dawud said: Ibn Juraij did not hear these two traditions from Abu al-Zubair, I have been informed by Ahmad. bin Hanbal saving: Ibn Juraij heard them from Yasin al-Zayyat. Aby Dawud said: Al-Mughirah bin Muslim has transmitted it from Abu al-Zubair from Jabir From the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٣٩١) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٠) (صحیح )
صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے اوپر میری ایک اونی چادر پڑی تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کرلے کر بھاگا، لیکن وہ پکڑ لیا گیا، اور اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے، تو میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا : کیا تیس درہم کی وجہ سے آپ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں گے ؟ میں اسے اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں، اور اس کی قیمت اس پر ادھار چھوڑ دیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس لانے سے پہلے ہی ایسے ایسے کیوں نہیں کرلیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے زائدہ نے سماک سے، سماک نے جعید بن حجیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے : صفوان سو گئے تھے اتنے میں چور آیا ۔ اور طاؤس و مجاہد نے اس کو یوں روایت کیا ہے کہ وہ سوئے تھے اتنے میں ایک چور آیا، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر چرا لی۔ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسے یوں روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ان کے سر کے نیچے سے کھینچا، تو وہ جاگ گئے، اور چلائے، اور وہ پکڑ لیا گیا۔ اور زہری نے صفوان بن عبداللہ سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ وہ مسجد میں سوئے اور انہوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، اتنے میں ایک چور آیا، اور اس نے ان کی چادر چرا لی، تو اسے پکڑ لیا گیا، اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔
Narrated Safwan bin Umayyah (RA) : I was sleeping in the mosque on a cloak mine whose price was thirty dirhams. A man came and pinched it away from me. The man was seized and brought to the Messenger of Allah ﷺ . He ordered that his hand should be cut off. I came to him and said: Do you cut off only for thirty dirhams ? I sell it to him and make the payment of its price a loan ? He said: Why did you not do so before bringing him to me ? Abu Dawud said: Zaidah has also transmitted it from Simak from Juayd ibn Hujayr. He said: Safwan slept. Mujahid and Tawus said: While he was sleeping a thief came and stole the cloak from beneath his head. The version of Abu Salamah ibn Abdur Rahman has: He snatched it away from beneath his head and he awoke. He cried and he (the thief) was seized. Az-Zuhri narrated from Safwan ibn Abdullah. His version has: He slept in the mosque and used his cloak as pillow. A thief came and took his cloak. The thief was seized and brought to the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٤ (٤٨٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٨ (٢٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٠١، ٦/٤٦٥، ٤٦٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی (مانگ کر) لے کر مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے جویریہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے تین بار فرمایا : کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے ؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی ۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی۔
Ibn Umar said: A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them, so the prophet ﷺ gave orders and her hand was cut off. Abu Dawud said: Juwairiyyah has transmitted it from Nafi from Ibn Umar or from Safiyyah daughter of Abu Ubaid. This version adds: The prophet ﷺ got up and gave an address saying: Is there any woman who repents to Allah, the Exalted, and to his Messenger? He said it three times, That ( woman) was present there but she did not get up and speak. Ibn Ghunj transmitted it from Nafi from Safiyyah daughter of Abu Ubaid. This version has: He witnessed to her.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٥ (٤٩٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٤٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٢/١٥١) (صحیح )
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے تھے کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید (رض) نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A woman borrowed jewellery through some known persons and she herself was unknown. She then sold them. She was seized and brought to the Prophet ﷺ . He gave orders that her hand should be cut off. It is this woman about whom Usamah interceded and of her the Messenger of Allah ﷺ said whatever he said.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت سامان منگنی (مانگ کر) لیتی اور اس سے مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ معمر نے اسی طرح کی روایت بیان کی جیسے قتیبہ نے لیث سے، لیث نے ابن شہاب سے بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔
Aishah said: A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them. The prophet ﷺ gave orders that her hand should be cut off. He (the narrator) then narrated the tradition similar to the one transmitted by Qutaibah from al-Laith from Ibn Shahib. This version adds: The Prophet ﷺ had her hand cut off.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٣٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٤٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آجائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, an idiot till he is restored to reason, and a boy till he reaches puberty.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٢١ (٣٤٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٥ (٢٠٤١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٠٠، ١٠١، ١٤٤) ، دی/ الحدود ١٣ (٢٣٤٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب (رض) کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا : کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو علی (رض) نے کہا : اسے واپس لے چلو، پھر وہ عمر (رض) کے پاس آئے اور کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے : دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آجائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، کہا : کیوں نہیں ؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے : پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے ؟ بولے : کوئی بات نہیں، تو علی (رض) نے کہا : پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور لگے اللہ اکبر کہنے ١ ؎۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Ibn Abbas said: A lunatic woman who had committed adultery was brought to Umar. He consulted the people and ordered that she should be stoned. Ali ibn Abu Talib passed by and said: What is the matter with this (woman)? They said: This is a lunatic woman belonging to a certain family. She has committed adultery. Umar has given orders that she should be stoned. He said: Take her back. He then came to him and said: Commander of the Faithful, do you not know that there are three people whose actions are not recorded: a lunatic till he is restored to reason, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty? He said: Yes. He then asked: Why is it that this woman is being stoned? He said: There is nothing. He then said: Let her go. He (Umar) let her go and began to utter: Allah is most great.
Notes · وضاحت
١ ؎ : کہ اللہ نے انہیں اس غلطی سے بچا لیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠١٩٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/ الحدود ١ (عقیب ١٤٢٣) ، مسند احمد (١/١٥٥، ١٥٨) (صحیح )