سعد (رض) کہتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عثمان بن عفان (رض) کے پاس چھپ گیا، پھر آپ نے اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لا کھڑا کیا، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا، ہر بار آپ انکار فرماتے رہے، پھر تین دفعہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم میں کوئی ایسا نیک بخت انسان نہیں تھا کہ اس وقت اسے کھڑا ہوا پا کر قتل کردیتا، جب اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ میں اس سے بیعت کے لیے اپنا ہاتھ روکے ہوئے ہوں تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کا جو منشا تھا ہمیں معلوم نہ ہوسکا، آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کردیا ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا : کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کنکھیوں سے پوشیدہ اشارے کرے ۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : On the day of the conquest of Makkah, Abdullah ibn Saad ibn Abu Sarh hid himself with Uthman ibn Affan. He brought him and made him stand before the Prophet ﷺ , and said: Accept the allegiance of Abdullah, Messenger of Allah! He raised his head and looked at him three times, refusing him each time, but accepted his allegiance after the third time. Then turning to his companions, he said: Was not there a wise man among you who would stand up to him when he saw that I had withheld my hand from accepting his allegiance, and kill him? They said: We did not know what you had in your heart, Messenger of Allah! Why did you not give us a signal with your eye? He said: It is not advisable for a Prophet to play deceptive tricks with the eyes.
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیوں کنکھیوں سے اشارہ کرنا یہ ایسے دنیاداروں کا طریقہ ہے جنہیں اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٦٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس (رض) کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ ﷺ کی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس (اندھے) نے ایک چھری لی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا کر اسے ہلاک کردیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کردیا، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ سے اس حادثہ کا ذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا : جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے تو وہ اندھا کھڑا ہوگیا اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے اور ہانپتے کانپتے آ کر آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا : اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجو کرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مار ہی ڈالا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : A blind man had a slave-mother who used to abuse the Prophet ﷺ and disparage him. He forbade her but she did not stop. He rebuked her but she did not give up her habit. One night she began to slander the Prophet ﷺ and abuse him. So he took a dagger, placed it on her belly, pressed it, and killed her. A child who came between her legs was smeared with the blood that was there. When the morning came, the Prophet ﷺ was informed about it. He assembled the people and said: I adjure by Allah the man who has done this action and I adjure him by my right to him that he should stand up. Jumping over the necks of the people and trembling the man stood up. He sat before the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! I am her master; she used to abuse you and disparage you. I forbade her, but she did not stop, and I rebuked her, but she did not abandon her habit. I have two sons like pearls from her, and she was my companion. Last night she began to abuse and disparage you. So I took a dagger, put it on her belly and pressed it till I killed her. Thereupon the Prophet ﷺ said: Oh be witness, no retaliation is payable for her blood.
علی (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا، یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون باطل ٹھہرا دیا۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: A Jewess used to abuse the Prophet ﷺ and disparage him. A man strangled her till she died. The Messenger of Allah ﷺ declared that no recompense was payable for her blood.
ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ میں ابوبکر (رض) کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول کے خلیفہ ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن مار دوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کردیا، پھر وہ اٹھے اور اندر چلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا : ابھی تم نے کیا کہا تھا ؟ میں نے کہا : میں نے کہا تھا : مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، بولے : اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کر گزرتے ؟ میں نے عرض کیا : ہاں، ضرور، بولے : نہیں، قسم اللہ کی ! محمد ﷺ کے بعد کسی آدمی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ یزید کے الفاظ ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں : یعنی ابوبکر ایسا نہیں کرسکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں : ایک ایمان کے بعد کافر ہوجانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتہ نبی اکرم ﷺ قتل کرسکتے تھے۔
Narrated Abu Bakr (RA) : Abu Barzah said: I was with Abu Bakr. He became angry at a man and uttered hot words. I said: Do you permit me, Caliph of the Messenger of Allah ﷺ , that I cut off his neck? These words of mine removed his anger; he stood and went in. He then sent for me and said: What did you say just now? I said: (I had said:) Permit me that I cut off his neck. He said: Would you do it if I ordered you? I said: Yes. He said: No, I swear by Allah, this is not allowed for any man after Muhammad ﷺ . Abu Dawud said: This is Yazids version. Ahmad bin Hanbal said: That is, Abu Bakr has no powers to slay a man except for three reasons which the Messenger of Allah ﷺ had mentioned: disbelief after belief, fornication after marriage, or killing a man without (murdering) any man by him. The Prophet ﷺ had powers to kill.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی رسول اللہ ﷺ ہی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ جو کوئی آپ کو برا بھلا کہے یا گالی دے تو آپ اس کی گردن مارنے کا حکم دیں، دوسرے کسی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل، یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی، رسول اللہ ﷺ نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاں دلوائیں، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ (اونٹنیاں لے کر) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرم ﷺ کو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چناچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑ کرلے آیا گیا، آپ ﷺ نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں : ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی۔
Anas bin Malik (RA) said: Some people of ‘Ukl or ‘Urainah’ came to the Messenger of Allah ﷺ and found Madinah unhealthy. So the Messenger of Allah ﷺ ordered them to go to the camels (of the sadaqah) and ordered them to drink some of their urine and milk. They went there when they became well, they killed the herdsman of the Messenger of Allah ﷺ and drove off the camels. The news about them reached the prophet ﷺ early in the morning. So he sent people in pursuit of them, and they were brought when they day had risen high. He ordered and their hands and feet were cut off and nails were drawn into their eyes, and they were thrown out of Harrah. They begged for water but were not supplied water. Abu Qilabah said: They were people who had stolen, killed, apostatized after their faith and fought against Allah and his Messenger ﷺ .
اس سند سے بھی ایوب سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ ﷺ نے سلائیوں کو گرم کرنے کا حکم دیا تو وہ گرم کی گئیں، پھر انہیں آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں پھیر دیں، ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالے، اور ان کو یکبارگی ہی نہیں مار ڈالا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by the narrator Ayyub through different chain. This version has: So he (the prophet) order nails to be heated and had them blinded with them, and he had their hands and feet cut off, and did not cauterise them to stop the flow of blood.
انس بن مالک (رض) سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے تعاقب میں کچھ مخبر بھیجے تو انہیں پکڑ کر لایا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت کریمہ إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں (سورۃ المائدہ : ٣٣) اتاری۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas. bin Malik through a different chain of narrators. This version says: The Messenger of Allah ﷺ sent some people who were experts in tracking in pursuit of them and they were brought (to him). Allah, the Exalted, then revealed the verse about it: “ The punishment of those who wage war against Allah and his Messenger and strive for mischief through the land.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٣٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٥) (صحیح )
انس بن مالک (رض) سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں انس کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین کو اپنے منہ سے کاٹتا تھا یہاں تک کہ وہ سب (پیاس سے تڑپ تڑپ کر) مرگئے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas. bin Malik through a different chain of narrators. This version has: Anas said: I saw one of them biting the earth with this mouth (teeth) on account of thirst and this they died.
اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر۔
A similar tradition has also been transmitted by Anas bin Malik (RA) through a different chain of narrators. This version adds: He then forbade disfiguring. This version does not mention the words “ from opposite sides”. This tradition has been narrated by Shubah from Qatadah and Salam bin Miskin from Thabit on the authority of Anas. They did not mention the words “from opposite side”. I did not find these words “their hands and feet were cut off from opposite sides”. In any version except in the version of Hammad bin Salamah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٣٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٧٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتد ہوگئے، اور آپ ﷺ کے مومن چرواہے کو قتل کردیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑے گئے، تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک (رض) نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Some people raided the camels of the Prophet ﷺ , drove them off, and apostatised. They killed the herdsman of the Messenger of Allah ﷺ who was a believer. He (the Prophet) sent (people) in pursuit of them and they were caught. He had their hands and feet cut off, and their eyes put out. The verse regarding fighting against Allah and His Prophet ﷺ was then revealed. These were the people about whom Anas ibn Malik informed al-Hajjaj when he asked him.
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان لوگوں کے (ہاتھ پاؤں) کاٹے جنہوں نے آپ کے اونٹ چرائے تھے اور ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائیاں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سلسلہ میں عتاب فرمایا : اور آیت محاربہ إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی پر چڑھا دئیے جائیں (سورۃ المائدہ : ٣٣) اخیر تک نازل فرمائی۔
Narrated Abuz Zinad (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ cut off (the hands and feet of) those who had stolen his camels and he had their eyes put out by fire (heated nails), Allah reprimanded him on that (action), and Allah, the Exalted, revealed: The punishment of those who wage war against Allah and His Messenger and strive with might and main for mischief through the land is execution or crucifixion.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آیت کریمہ إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا أو تقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف أو ينفوا من الأرض سے غفور رحيم تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کرلے تو ایسا نہ ہوگا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے ٢ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The verse The punishment of those who wage war against Allah and His Messenger, and strive with might and main for mischief through the land is execution, or crucifixion, or the cutting off of hands and feet from opposite side or exile from the land. . . most merciful was revealed about polytheists. If any of them repents before they are arrested, it does not prevent from inflicting on him the prescribed punishment which he deserves.
Notes · وضاحت
١ ؎ : سنن نسائی میں یہاں عبارت اس طرح ہے : فمن تاب منهم قبل أن يقدر عليه لم يكن عليه سبيل، وليست هذه الآية للرجل المسلم، فمن قتل وأفسد في الأرض وحارب الله ورسوله ثم لحق بالکفار قبل أن يقدر عليه لم يمنعه ذلك أن يقام فيه الحد الذي أصابه۔ ٢ ؎ : یہ صرف ابن عباس (رض) کا مذہب ہے، جمہور علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، نیز اس کے راوی علی بن حسین کے بارے میں کلام ہے، ان کا حافظہ کمزور تھا اس لئے انہیں وہم ہوجاتا تھا۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکرمند کردیا، وہ کہنے لگے : اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ ﷺ سے بات کرے گا ؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید (رض) کے سوا اور کس کو اس کی جرات ہوسکتی ہے ؟ چناچہ اسامہ (رض) نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسامہ ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو ! پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ نے اس خطبہ میں فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کیونکہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور سے یہ جرم سرزد ہوجاتا تو اس پر حد قائم کرتے، قسم اللہ کی اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالوں گا ۔
Aishah said: The Quraish were anxious about the Makhzumi woman who had committed theft, They said: Who will speak to the Messenger of Allah ﷺ about her ? Then they said: Who will be bold enough for it but Uasmah bin Zaid, the prophet’s ﷺ friend! So Usamah spoke to him, and the Messenger of Allah ﷺ said: Are you interceding regarding one of the punishments prescribed by Allah ? He then got up and gave an address, saying: What destroyed your predecessors was just that when a person of rank among them committed a theft, They left him alone, and when a weak one of them committed a theft, they inflicted the prescribed punishment on him. I swear by Allah that if Fatimah daughter of Muhammad should steal, I would have her hand cut off.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کرلے جایا کرتی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کردیا کرتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔ اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔ اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے (کوئی چیز) منگنی (مانگ کر) لی تھی (پھر وہ مکر گئی تھی) ۔ اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرم ﷺ سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔ اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی۔
Aishah said: A Makhzumi woman used to borrow goods and deny having received them, so the prophet ﷺ gave orders that her hand should be cut off. The narrator than transmitted the rest of the tradition like that of al-laith, saying: So the prophet ﷺ had her hand cut off. Abu dawud said: Ibn Wahb transmitted this tradition from Yunus on the authority of al-Zuhri, and in this version he said al-Laith has said: A woman committed theft during the lifetime of the Prophet ﷺ on the occasion of the Conquest (of Makkah). It has been transmitted by al-Laith from Yunus on the authority of Ibn Shihab through his chain of narrators. He said in this version: A woman borrowed goods. Masud bin al-Aswad also transmitted a similar tradition from the Prophet ﷺ and said: A velvet was stolen from the house of the Messenger of Allah ﷺ . Abu Dawud said: Abu al-Zubair reported on the authority of Jabir: A woman committed theft and took refuge with Zainab daughter of Prophet ﷺ .
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کردیا کرو سوائے حدود کے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ Said: Forgive the people of good qualities their slips, but not faults to which prescribed penalties apply.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٩١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦/١٨١) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حدود کو آپس میں نظر انداز کرو، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہوگئی (اسے معاف نہیں کیا جاسکتا) ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Forgive the infliction of prescribed penalties among yourselves, for any prescribed penalty of which I hear must be carried out.
نعیم بن ہزال اسلمی (رض) روایت کرتے ہیں کہ ماعز (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال (جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا) سے کہا : اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپالیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا ۔
Narrated Nuaym: Maiz came to the Prophet ﷺ and admitted (having committed adultery) four times in his presence so he ordered him to be stoned to death, but said to Huzzal: If you had covered him with your garment, it would have been better for you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/٢١٧) (ضعیف )