جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If any man is among a people in whose midst he does acts of disobedience, and, though they are able to make him change (his acts), they do not change, Allah will smite them with punishment before they die.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٢٤٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠٠٩) (حسن )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو کوئی منکر دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔
Abu Saeed Al-Khudri said: I head the Messenger of Allah ﷺ say: If any one you sees something objectionable, he should change it with his hand if he can change it with his hand. (The narrator Hammad broke the rest of the tradition which was completed by Ibn al-Ala.) But if he cannot (do so), he should do it with his tongue, and if he cannot (do so with) his tongue he should do it in his heart, that being the weakest form of faith.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم :(١١٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٠٨٥) (صحیح )
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی (رض) سے پوچھا : ابوثعلبہ ! آپ آیت کریمہ عليكم أنفسکم کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : قسم اللہ کی ! تم نے اس کے متعلق ایک جانکار شخص سے سوال کیا ہے، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا (کہ کیا اس آیت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت باقی نہیں رہی ؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو ، اور بری بات سے روکو، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہوگا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہوگا جو انہیں میں سے ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا ۔
Abu Umayyah ash-Shabani said: I asked Abu Thalabah al-Khushani: What is your opinion about the verse Care for yourselves. He said: I swear by Allah, I asked the one who was well informed about it; I asked the Messenger of Allah ﷺ about it. He said: No, enjoin one another to do what is good and forbid one another to do what is evil. But when you see niggardliness being obeyed, passion being followed, worldly interests being preferred, everyone being charmed with his opinion, then care for yourself, and leave alone what people in general are doing; for ahead of you are days which will require endurance, in which showing endurance will be like grasping live coals. The one who acts rightly during that period will have the reward of fifty men who act as he does. Another version has: He said (The hearers asked:) Messenger of Allah, the reward of fifty of them? He replied: The reward of fifty of you.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة المائدة ١٨ (٣٠٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٤٠١٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٨١) (ضعیف )
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہوگا ؟ یا آپ نے یوں فرمایا : عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مرجائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہوگا (یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہوجائیں گے آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت ہم کیا کریں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو ، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عبداللہ بن عمرو (رض) سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: How will you do when that time will come? Or he said: A time will soon come when the people are sifted and only dregs of mankind survive and their covenants and guarantees have been impaired and they have disagreed among themselves and become thus, interwining his fingers. They asked: What do you order us to do, Messenger of Allah? He replied: Accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs and leave alone the affairs of the generality. Abu dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abdullah bin Amr from the Prophet ﷺ through different chain.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٩٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ٨٨ (٤٨٠) ، مسند احمد (٢/٢١٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہوگئے ہوں، اور ان سے امانتداریاں کم ہوگئیں ہوں اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہوگیا ہو عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں : یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا، اور میں نے عرض کیا : اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے ! ایسے وقت میں میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: When we were around the Messenger of Allah ﷺ , he mentioned the period of commotion (fitnah) saying: When you see the people that their covenants have been impaired, (the fulfilling of) the guarantees becomes rare, and they become thus (interwining his fingers). I then got up and said: What should I do at that time, may Allah make me ransom for you? He replied: Keep to your house, control your tongue, accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs, and leave alone the affairs of the generality.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٨٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢١٢) (حسن صحیح )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم حاکم کے پاس انصاف کی بات کہنی ہے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: The best fighting (jihad) in the path of Allah is (to speak) a word of justice to an oppressive ruler.
عرس بن عمیرہ کندی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا (یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا) ۔
Narrated Al-Urs bin Amirat al-Kindi: The Prophet ﷺ said: When sin is done in the earth, he who sees it and disapproves of it will be taken like one who was not present, but he who is not present and approves of it will be like him who sees.
عدی بن عدی (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : جس نے اس کو دیکھا اور ناپسند کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہیں ۔
A similar tradition has also been transmitted by ‘Adl from the prophet ﷺ though a different chain of narrators. This version has: He who sees it and disapproves of it will be like him who was not present.
ابوالبختری کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے، اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لوگ اس وقت تک ہلاک نہیں ہوں گے جب تک ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے یا وہ خود اپنا عذر زائل نہ کرلیں ۔
A man from among the companions of the prophet ﷺ reported him as saying: The people will not perish until their sins and faults become abundant, and there remains no excuse for them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٤/٢٦٠، ٥/٢٩٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا : تمہیں پتا ہے، آج کی رات کے سو سال بعد اس وقت جتنے آدمی اس روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی (زندہ) باقی نہیں رہے گا ابن عمر (رض) کہتے ہیں : لوگ رسول اللہ ﷺ کی سو سال کے بعد کے متعلق احادیث بیان کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ سو برس بعد قیامت آجائے گی، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جتنے لوگ زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ رہے گا مطلب یہ تھا کہ یہ نسل ختم ہوجائے گی، اور دوسری نسل آجائے گی۔
Abdullah bin Umar (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ led us in the night prayer one night towards the end of his life. When he uttered the salutation, he got up and said: Have you seen this night of yours ? No one of those who are on the surface of the earth will survive at the ends of one hundred years. Ibn Umar said: The people fell into fallacy by this statement of the Messenger of Allah ﷺ about the traditions they used to narrate concerning one hundred years. The Messenger of Allah ﷺ said: No one of those who are present today on the surface of the earth will survive, meaning when that century comes to and end.
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہوگی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے ۔ سعد (رض) سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے کہا : پانچ سو سال۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : The Prophet ﷺ said: I hope my community will not fail to maintain their position in the sight of their Lord if He delays them half a day. Saad was asked: How long is half a day? He said: It is five hundred years.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف : ٣٨٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ١/١٧٠) (صحیح )
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی (رض) نے کچھ لوگوں کو جو اسلام سے پھرگئے تھے آگ میں جلوا دیا، ابن عباس (رض) کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا : مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں انہیں جلاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : تم انہیں وہ عذاب نہ دو جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے میں تو رسول اللہ ﷺ کے قول کی رو سے انہیں قتل کردیتا کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : جو اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کرلے اسے قتل کر دو پھر جب علی (رض) کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا : اللہ ابن عباس کی ماں پر رحم فرمائے انہوں نے بڑی اچھی بات کہی۔
Ikrimah said: Ali burned some people who retreated from islam. When Ibn Abbas was informed of it, he said: If it had been I, I would not have then burned, for the Messenger of Allah ﷺ said: Do not inflict Allah’s punishment on anyone, but would have had killed them on account of the statement of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger said: Kill those who change their religion. When ‘All was informed about it he said: How truly Ibn Abbas said!
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی مسلمان آدمی کا جو صرف اللہ کے معبود ہونے، اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو خون حلال نہیں، سوائے تین صورتوں کے : یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا اس نے کسی کا قتل کیا ہو تو اس کو اس کے بدلہ قتل کیا جائے گا، یا اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہوگیا ہو ۔
Abdullah (bin Masud) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The blood of a Muslim man who testifies that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah should not be lawfully shed but only for one of three reasons: married fornicator, soul for soul, and one who deserts his religion separating himself from the community.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی مسلمان شخص کا خون جو صرف اللہ کے معبود ہونے اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے ایک وہ شخص جو شادی شدہ ہو اور اس کے بعد زنا کا ارتکاب کرے تو وہ رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا، یا اسے سولی دے دی جائے گی، یا وہ جلا وطن کردیا جائے گا، تیسرے جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے وہ قتل کیا جائے گا ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ Said: The blood of a Muslim man who testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is Allahs Messenger should not lawfully be shed except only for one of three reasons: a man who committed fornication after marriage, in which case he should be stoned; one who goes forth to fight with Allah and His Messenger, in which case he should be killed or crucified or exiled from the land; or one who commits murder for which he is killed.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المحاربة ٩ (٤٠٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦/١٨١، ٢١٤) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو شخص تھے، ایک میرے دائیں طرف تھا دوسرا بائیں طرف، تو دونوں نے آپ سے عامل کا عہدہ طلب کیا، اور آپ ﷺ خاموش رہے، پھر فرمایا : ابوموسیٰ ! یا فرمایا : عبداللہ بن قیس ! تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، ان دونوں نے مجھے اس چیز سے آگاہ نہیں کیا تھا جو ان کے دل میں تھا، اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ آپ سے عامل بنائے جانے کا مطالبہ کریں گے، گویا میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں، وہ آپ ﷺ کے مسوڑھے کے نیچے تھی اور مسوڑھا اس کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ہم اپنے کام پر اس شخص کو ہرگز عامل نہیں بنائیں گے یا عامل نہیں بناتے جو عامل بننے کی خواہش کرے، لیکن اے ابوموسیٰ ! یا آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن قیس ! اس کام کے لیے تم جاؤ چناچہ آپ ﷺ نے انہیں بھیج دیا، پھر ان کے پیچھے معاذ بن جبل (رض) کو بھیجا، جب معاذ بن جبل (رض) ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : اترو، اور ایک گاؤ تکیہ ان کے لیے لگا دیا، تو اچانک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس بندھا ہوا ہے، معاذ (رض) نے پوچھا : یہ کیسا آدمی ہے ؟ ابوموسیٰ نے کہا : یہ ایک یہودی تھا جو اسلام لے آیا تھا، لیکن اب پھر وہ اپنے باطل دین کی طرف پھر گیا ہے، معاذ (رض) نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق جب تک یہ قتل نہ کردیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا، ابوموسیٰ نے کہا : اچھا بیٹھئیے، معاذ نے پھر کہا : اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی رو سے جب تک وہ قتل نہ کردیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا، آپ نے تین بار ایسا کہا، چناچہ انہوں نے اس کے قتل کا حکم دیا، وہ قتل کردیا گیا، (پھر وہ بیٹھے) پھر ان دونوں نے آپس میں قیام اللیل (تہجد کی نماز) کا ذکر کیا تو ان دونوں میں سے ایک نے غالباً وہ معاذ بن جبل (رض) تھے کہا : رہا میں، تو میں سوتا بھی ہوں، اور قیام بھی کرتا ہوں، یا کہا قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور بحالت نیند بھی اسی ثواب کی امید رکھتا ہوں جو بحالت قیام رکھتا ہوں۔
Abu Burdah said on the authority of Abu Musa (RA) : I went to the Prophet ﷺ while two men who were Ash’ arIs were with me. One of them was on my right and the other on my left side. Bothe of them asked him for employment. The prophet ﷺ was silent. He asked: What do you say Abu Musa, or Abdullah bin Qais (Abu Musa’s name)? I replied: By him who has sent you with truth, they did not inform me of what they had in their hearts, and I did not know that they would ask for an employment. He said: I have the scene before my eyes that he had his toothstick below his lip which receded. He (the prophet) said: We will never or will not put in charge of our work anyone who asks for it. But go, ye, Abu Musa, or Abdullah bin Qais. He then sent him as a Governor of the Yemen, After him he sent Muadh bin Jabal. When Muadh came to him, he said: come down, and he put a cushion for him. He saw that a man was chained with him. He asked: What is this? He replied: He was a Jew and he accepted Islam. He then converted to his religion, an evil religion. He said: I will not sit until he is killed according to the decision of Allah and his Messenger ﷺ . He said: Yes, be seated. He said: I will not sit until he is killed according to the decision of Allah and his Messenger ﷺ . He said it three times. He then commanded for it and he was killed. Both of them then discussed the question of prayer and vigilance at night. One of them, probably Muadh, said: So far as I am concerned, I sleep and I keep vigilance: I keep vigilance and I sleep: I hope for the same reward for my sleep as for my vigilance.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میرے پاس معاذ (رض) آئے، میں یمن میں تھا، ایک یہودی نے اسلام قبول کرلیا، پھر وہ اسلام سے مرتد ہوگیا، تو جب معاذ (رض) آئے کہنے تو لگے : میں اس وقت تک اپنی سواری سے نہیں اتر سکتا جب تک وہ قتل نہ کردیا جائے چناچہ وہ قتل کردیا گیا، اس سے پہلے اسے توبہ کے لیے کہا جا چکا تھا۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : Abu Musa said: Muadh came to me when I was in the Yemen. A man who was Jew embraced Islam and then retreated from Islam. When Muadh came, he said: I will not come down from my mount until he is killed. He was then killed. One of them said: He was asked to repent before that.
اس سند سے بھی ابوبردہ (رض) سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتے ہیں ابوموسیٰ (رض) کے پاس ایک شخص کو لے کر آیا گیا جو اسلام سے مرتد گیا تھا، بیس دن تک یا اس کے لگ بھگ وہ اسے اسلام کی دعوت دیتے رہے کہ اسی دوران معاذ (رض) آگئے تو آپ نے بھی اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے انکار کردیا تو آپ نے اس کی گردن مار دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے اور اسے ابن فضیل نے شیبانی سے شیبانی نے سعید بن ابی بردہ سے، ابوبردہ نے اپنے والد ابوبردہ سے اور ابوبردہ نے ابوموسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے اور اس میں بھی انہوں نے توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
Abu Burdah said: A man who turned back from Islam was brought to Abu Musa. He invited him to repent for twenty days or about so. Muadh then came and invited him (to embrace Islam) but he refused. So he was beheaded.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : ٤٣٥٤، (تحفة الأشراف : ٩٠٩٦، ٩١١٣، ١٩١٩٥) (صحیح الإسناد )
قاسم سے بھی یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہے کہ جب تک اس کی گردن مار نہیں دی گئی وہ سواری سے نیچے نہیں اترے اور انہوں نے اس سے توبہ نہیں کرائی ١ ؎۔
The tradition mention above has also been transmitted by Abu Musa through a different chain if narrators. But there is no mention of demand of repentance.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ اس سے پہلے والی روایت کے معارض ہے جس میں ذکر ہے کہ معاذ (رض) نے اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے اسے قبول نہیں کیا لیکن مسعودی کی یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٣٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٩٦) (ضعیف الإسناد )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ١ ؎ رسول اللہ ﷺ کا منشی تھا، پھر شیطان نے اس کو بہکا لیا، اور وہ کافروں سے جا ملا تو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا، پھر عثمان بن عفان (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لیے امان مانگی تو آپ نے اسے امان دی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Abdullah ibn Abu Sarh used to write (the revelation) for the Messenger of Allah ﷺ . Satan made him slip, and he joined the infidels. The Messenger of Allah ﷺ commanded to kill him on the day of Conquest (of Makkah). Uthman ibn Affan sought protection for him. The Messenger of Allah ﷺ gave him protection.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ عثمان (رض) کے رضاعی بھائی تھے، عثمان انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آئے اور اس کی معافی کے لئے بہت زیادہ شفارش کی تو ان کا قصور معاف ہوگیا۔