اس سند سے اعمش سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اس میں بھی حتى يعقل ہے اور عن المجنون حتى يبرأ کے بجائے حتى يفيق ہے، اور فجعل يكبر کے بجائے فجعل عمر يكبر ہے۔
A similar tradition has also been transmitted by al-Amash through a different chain of narrators. He also said: “. . . . Till he reaches puberty, and a lunatic till he is restored to consciousness. ” Umar then began to utter: Allah is most great.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اسے علی بن ابی طالب (رض) کے پاس سے گزارا گیا، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے، اس میں ہے : کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے : مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہوجائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے تو عمر (رض) بولے : تم نے سچ کہا، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Ibn Abbas said: A lunatic woman passed by Ali ibn Abu Talib. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as Uthman mentioned. This version has: Do you not remember that the Messenger of Allah ﷺ has said: There are three whose actions are not recorded: a lunatic whose mind is deranged till he is restored to consciousness, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty?
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٣٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٩٦) (صحیح )
ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ عمر (رض) کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، علی (رض) کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا : علی (رض) کو میرے پاس بلاؤ، چناچہ علی (رض) آئے اور کہنے لگے : امیر المؤمنین ! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے : بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہوجائے اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے، فلاں قوم کی ہے، ہوسکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو، تو عمر (رض) نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی، اس پر علی (رض) نے کہا : مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Abu Zubyan said: A woman who had committed adultery was brought to Umar. He gave orders that she should be stoned. Ali passed by just then. He seized her and let her go. Umar was informed of it. He said: Ask Ali to come to me. Ali came to him and said: Commander of the Faithful, you know that the Messenger of Allah ﷺ said: There are three (people) whose actions are not recorded: A boy till he reaches puberty, a sleeper till he awakes, a lunatic till he is restored to reason. This is an idiot (mad) woman belonging to the family of so and so. Someone might have done this action with her when she suffered the fit of lunacy. Umar said: I do not know. Ali said: I do not know.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠١٩٦، ١٠٠٧٨) (صحیح) دون قولہ : لعل الذی سے آخر تک ثابت نہیں ہے
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے : سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آجائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی (رض) سے، علی (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں کھوسٹ بوڑھے کا اضافہ ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, a boy till he reaches puberty, and a lunatic till he comes to reason. Abu Dawud said: Ibn Juraij has transmitted it from Al-Qasim bin Yazid on the authority of Ali from the Prophet ﷺ . This version adds: and an old man who is feeble-minded.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٢٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ١/١١٦، ١٤٠) (صحیح )
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کردیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔
Narrated Atiyyah al-Qurazi (RA) : I was among the captives of Banu Qurayzah. They (the Companions) examined us, and those who had begun to grow hair (pubes) were killed, and those who had not were not killed. I was among those who had not grown hair.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٢٩ (١٥٨٤) ، سنن النسائی/الطلاق ٢٠ (٣٤٦٠) ، قطع السارق ١٤ (٤٩٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٤ (٢٥٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٤/٣١٠، ٣٨٣، ٥/٣١٢، ٣٨٣) (صحیح )
عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے میرے زیر ناف کا حصہ کھولا تو دیکھا کہ وہ اگا نہیں تھا تو مجھے قیدی بنا لیا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abd al- Malik bin Umar through a different chain of narrators. This version has: They uncovered my private parts, and when they found that the hair had not begun to grow they put me among the captives.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔
Ibn Umar said: He was presented before the prophet ﷺ on the day of Uhd when he was fourteen years old, but he did not allow him (to participate in the battle). He was again presented before him on the day of Khandaq when he was fifteen years old, Then he allowed him.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٩٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٨١٥٣) (صحیح )
جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ ہم بسر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر پر تھے کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مصدر تھا اس نے ایک اونٹ چرایا تھا تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : سفر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اگر آپ کا یہ فرمان نہ ہوتا تو میں ضرور اسے کاٹ ڈالتا۔
Narrated Busr ibn Artat (RA) : Junadah ibn Abu Umayyah said: We were with Busr ibn Artat on the sea (on an expedition). A thief called Misdar who had stolen a bukhti she-camel was brought. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Hands are not to be cut off during a warlike expedition. Had it not been so, I would have cut it off.
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوذر ! میں نے کہا : حاضر ہوں، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو، آپ ﷺ نے فرمایا : صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا : اس دن صبر کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں : کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: O Abu Dharr (RA) : I replied: At your service and at your pleasure, Messenger of Allah! He said: how will you do when death smites people, and a house, meaning a grave, will cost as much as a slave. I said: Allah and His Messenger know best, or he said: What Allah and His Messenger choose for me. He said: Show endurance, or he said: You may show endurance. Abu Dawud said: Hammad bin Abi Sulaiman said: The hand of one who rifles a grave should be cut off because he had entered the deceaseds house.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٢٦١) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٤٧) (صحیح )
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ نے فرمایا : اسے قتل کر دو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اسی شخص کو دوسری بار لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے قتل کر دو لوگوں نے پھر یہی کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری ہی کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا اس کا ہاتھ کاٹ دو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر وہی شخص تیسری بار لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو قتل کر دو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری ہی تو کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا اس کا ایک پیر کاٹ دو پھر اسے پانچویں بار لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ۔ جابر (رض) کہتے ہیں : ہم اسے لے گئے اور ہم نے اسے قتل کردیا، اور گھسیٹ کر اسے ایک کنویں میں ڈال دیا، اور اس پر پتھر مارے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : A thief was brought to the Prophet ﷺ . He said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! Then he said: Cut off his hand. So his (right) hand was cut off. He was brought a second time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! Then he said: Cut off his foot. So his (left) foot was cut off. He was brought a third time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! So he said: Cut off his hand. (So his (left) hand was cut off.) He was brought a fourth time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! So he said: Cut off his foot. So his (right) foot was cut off. He was brought a fifth time and he said: Kill him. So we took him away and killed him. We then dragged him and cast him into a well and threw stones over him.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ١٢ (٤٩٨١) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٨٢) (ضعیف) (اس کی سند میں مصعب کی نسائی نے تضعیف کی ہے، اور حدیث کو منکر کہا ہے، ابن حجر کہتے ہیں کہ اس بارے میں مجھے کسی سے صحیح حدیث کا علم نہیں ہے، ملاحظہ ہو : التلخیص الحبیر : ٢٠٨٨، شیخ البانی نے اس کو حسن کہا ہے : صحیح ابی داود ٣ ؍ ٥٨ )
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے ؟ تو آپ نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔
Abdur-Rahman bin Muhariz said: We asked Fadalah bin Ubaid about the hanging the (amputated) hand on the neck of a thief whether it was a sunnan. He said: A thief was brought to the Messenger of Allah ﷺ and his hand was cut off. Thereafter he commanded for it, and it was hung on his neck.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٧ (١٤٤٧) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٥ (٤٩٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٣ (٢٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦/١٩) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور عبدالرحمن بن محیریز مجہول ہیں )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منکم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے (سورۃ النساء : ١٥) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا : واللذان يأتيانها منکم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما تم میں دونوں جو ایسا کرلیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کرلیں تو ان سے منہ پھیر لو (سورۃ النساء : ١٦) ، پھر یہ جَلْد والی آیت الزانية والزاني فاجلدوا کل واحد منهما مائة جلدة زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو (سورۃ النور : ٢) منسوخ کردی گئی۔
Ibn Abbas said: The Quranic verse goes: “If any of your woman are guilty of lewdness, take the evidence of four (reliable) witnesses from amongst you against them, and if they testify, Confine them to houses until death do chain them or Allah ordains for them some (other) way. Allah then mentioned man after woman and combined them in another verse: “If two men among you are guilty of lewdness, punish them both. If they repent and amend, leave them alone. This command was abrogated by the verse relating to flogging: “The woman and the man guilty of adultery or fornication – flog each of them with one hundred stripes.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ شِبْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجِاهِدٍ، قَالَ: السَّبِيلُ الْحَدُّ، قَالَ سُفْيَانُ فَآذُوهُمَا سورة النساء آية 16 الْبِكْرَانِ،فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ سورة النساء آية 15 الثَّيِّبَاتُ.
مجاہد کہتے ہیں کہ سبیل سے مراد حد ہے۔ سفیان کہتے ہیں : فآذوهما سے مراد کنوارا مرد اور کنواری عورت ہے، اور فأمسكوهن في البيوت سے مراد غیر کنواری عورتیں ہیں۔
Mujahid said: “Apponting a way in the verse (iv. 15) means prescribed punishment. Sufiyan said: “Punish them “refers to unmarried, and “confine them to houses” refers to the women who are married.
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ نکال دی ہے غیر کنوارہ مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارا مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ۔
Ubadah bin al-Samit reported the Messenger of Allah ﷺ as sayings: Receive my teachings, receive my teachings. Allah has appointed a way for those women. If the parties have been married, they shall receive a hundred lashes and stoned to death. If the parties are unmarried, they shall receive a hundred lashes and banished for a year.
اس طریق سے بھی حسن سے یحییٰ والی سند ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے (جب غیر کنوارا مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو) سو کوڑے اور رجم ہے۔
A similar tradition has been transmitted by al-Hasan through a chain of Yahya and to the same effect. This version adds: They shall receive a hundred lashes and toned to death. Narrated Ubadah ibn as-Samit: The tradition mentioned above (No. 4401) has also been transmitted by Ubadah ibn as-Samit through a different chain of narrators. This version has: The people said to Saad ibn Ubadah: Abu Thabit, the prescribed punishments have been revealed: if you find a man with your wife, what will you do? He said: I shall strike them with a sword so much that they become silent (i. e. die). Should I go and gather four witnesses? Until that (time) the need would be fulfilled. So they went away and gathered with the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah! did you not see Abu Thabit. He said so-and-so. The Messenger of Allah ﷺ said: The sword is a sufficient witness. He then said: No, no, a furious and a jealous man may follow this course. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Waki from al-Fadl bin Dilham from al-Hasan, from Qabisah bin Huraith, from Salamah bin al-Muhabbaq, from the Prophet ﷺ . And this is the chain of the tradition narrated by Ibn al-Muhabbaq to the effect that a man had sexual intercourse with a slave girl of his wife. Abu Dawud said: Al-Fadl bin Dilham was not the memoriser of traditions. He was a butcher in Wasit.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٠٨٣) (صحیح )
عبادہ بن صامت (رض) نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ کچھ لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا : اے ابوثابت ! حدود نازل ہوچکے ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو کیا کریں، انہوں نے کہا : ان دونوں کا کام تلوار سے تمام کر دوں گا، کیا میں چار گواہ جمع کرنے جاؤں گا تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرچکے گا، چناچہ وہ چلے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور ان لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں سنا وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ازروئے گواہ تلوار ہی کافی ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، نہیں، اسے قتل مت کرنا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ غصہ ور، اور غیرت مند پیچھے پڑ کر (بغیر اس کی تحقیق کئے کہ اس سے زنا سرزد ہوا ہے یا نہیں محض گمان ہی پر) اسے قتل نہ کر ڈالیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، فضل نے حسن سے، حسن نے قبیصہ بن حریث سے، قبیصہ نے سلمہ بن محبق سے سلمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، یہ سند جس کا ذکر وکیع نے کیا ہے ابن محبق والی روایت کی سند ہے جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مجامعت کرلی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : فضل بن دلہم حافظ حدیث نہیں تھے، وہ واسط میں ایک قصاب تھے۔
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٠٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٤٧٦) (ضعیف )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے خطبہ دیا اس میں آپ نے کہا : اللہ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، تو جو آیتیں آپ پر نازل ہوئیں ان میں آیت رجم بھی ہے، ہم نے اسے پڑھا، اور یاد رکھا، خود رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا، آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں آیت رجم نہیں پاتے، تو وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے چھوڑ کر گمراہ ہوجائے، لہٰذا مردوں اور عورتوں میں سے جو زنا کرے اسے رجم (سنگسار) کرنا برحق ہے، جب وہ شادی شدہ ہو اور دلیل قائم ہوچکی ہو، یا حمل ہوجائے یا اعتراف کرے، اور قسم اللہ کی اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کی ہے تو میں اسے یعنی آیت رجم کو مصحف میں لکھ دیتا۔
Abdullah bin Abbas said: Umar bin al-Khattab gave an address saying: Allah sent Muhammad ﷺ with truth and sent down the Books of him, and the verse of stoning was included in what He sent down to him. We read it and memorized it. The Messenger of Allah ﷺ had people stoned to death and we have done it also since his death. I am afraid the people might say with the passage of time: We do not find the verse of stoning in the Books of Allah, and thus they stray by abandoning a duty which Allah had received. Stoning is a duty laid down (by Allah) for married men and women who commit fornication when proof is established, or if there is pregnancy, or a confession. I swear by Allah, had it not been so that the people might say: Umar made an addition to Allah’s Book, I would have written it (there).
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا : جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ ﷺ کو بتادو ، ہوسکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کرلیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، آپ ﷺ نے ان سے اپنا چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کرلیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کرلیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : فلاں عورت سے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے ؟ ماعز نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تم اس سے چمٹے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، تو آپ ﷺ نے انہیں رجم (سنگسار) کئے جانے کا حکم دیا، انہیں حرہ ١ ؎ میں لے جایا گیا، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آگئے، ان کے ساتھی تھک چکے تھے، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور ان سے اسے بیان کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ٢ ؎، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ۔
Narrated Nuaym ibn Huzzal (RA) : Yazid ibn Nuaym ibn Huzzal, on his fathers authority said: Maiz ibn Malik was an orphan under the protection of my father. He had illegal sexual intercourse with a slave-girl belonging to a clan. My father said to him: Go to the Messenger of Allah ﷺ and inform him of what you have done, for he may perhaps ask Allah for your forgiveness. His purpose in that was simply a hope that it might be a way of escape for him. So he went to him and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. He (the Prophet) turned away from him, so he came back and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. He (again) turned away from him, so he came back and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. When he uttered it four times, the Messenger of Allah ﷺ said: You have said it four times. With whom did you commit it? He replied: With so and so. He asked: Did you lie down with her? He replied: Yes. He asked: Had your skin been in contact with hers? He replied. Yes. He asked: Did you have intercourse with her? He said: Yes. So he (the Prophet) gave orders that he should be stoned to death. He was then taken out to the Harrah, and while he was being stoned he felt the effect of the stones and could not bear it and fled. But Abdullah ibn Unays encountered him when those who had been stoning him could not catch up with him. He threw the bone of a camels foreleg at him, which hit him and killed him. They then went to the Prophet ﷺ and reported it to him. He said: Why did you not leave him alone. Perhaps he might have repented and been forgiven by Allah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مدینہ کے قریب ایک سیاہ پتھریلی جگہ ہے اس وقت شہر میں داخل ہے۔ ط ٢ ؎ : کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اقرار سے مکر جاتا اور اس سزا سے بچ جاتا نیز آپ ﷺ کا قول هلا ترکتموه اس بات کی دلیل ہے کہ اقرار کرنے والا اگر بھاگنے لگ جائے تو اسے مارنا بند کردیا جائے گا، پھر اگر وہ بصراحت اپنے اقرار سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ورنہ رجم کردیا جائے گا یہی قول امام شافعی اور امام احمد کا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف : ١١٦٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/٢١٧) (صحیح) آخری ٹکڑا : لعله أن يتوب ... صحیح نہیں ہے
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ماعز بن مالک (رض) کے واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں : مجھے قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں نے جو تمہیں محبوب ہیں اور جنہیں میں متہم نہیں قرار دیتا بتایا ہے کہ فهلا ترکتموه رسول اللہ ﷺ کا قول ہے، حسن کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث سمجھی نہ تھی، تو میں جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس آیا، اور ان سے کہا کہ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے پتھر پڑنے سے ماعز کی گھبراہٹ کا جب رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا : تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا یہ بات میرے سمجھ میں نہیں آئی، تو جابر (رض) نے کہا : بھتیجے ! میں اس حدیث کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا جب ہم انہیں لے کر نکلے اور رجم کرنے لگے اور پتھر ان پر پڑنے لگا تو وہ چلائے اور کہنے لگے : لوگو ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس لے چلو، میری قوم نے مجھے مار ڈالا، ان لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، انہوں نے مجھے یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ ﷺ مجھے مار نہیں ڈالیں گے، لیکن ہم لوگوں نے انہیں جب تک مار نہیں ڈالا چھوڑا نہیں، پھر جب ہم لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، میرے پاس لے آتے یہ آپ ﷺ نے اس لیے فرمایا تاکہ آپ ان سے مزید تحقیق کرلیتے، نہ اس لیے کہ آپ انہیں چھوڑ دیتے، اور حد قائم نہ کرتے، وہ کہتے ہیں : تو میں اس وقت حدیث کا مطلب سمجھ سکا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : Muhammad ibn Ishaq said: I mentioned the story of Maiz ibn Malik to Asim ibn Umar ibn Qatadah. He said to me: Hasan ibn Muhammad ibn Ali ibn Abu Talib said to me: Some men of the tribe of Aslam whom I do not blame and whom you like have transmitted to me the saying of the Messenger of Allah ﷺ : Why did you not leave him alone? He said: But I did not understand this tradition. So I went to Jabir ibn Abdullah and said (to him): Some men of the tribe of Aslam narrate that the Messenger of Allah ﷺ said when they mentioned to him the anxiety of Maiz when the stones hurt him: Why did you not leave him alone? But I do not know this tradition. He said: My cousin, I know this tradition more than the people. I was one of those who had stoned the man. When we came out with him, stoned him and he felt the effect of the stones, he cried: O people! return me to the Messenger of Allah ﷺ . My people killed me and deceived me; they told me that the Messenger of Allah ﷺ would not kill me. We did not keep away from him till we killed him. When we returned to the Messenger of Allah ﷺ we informed him of it. He said: Why did you not leave him alone and bring him to me? and he said this so that the Messenger of Allah ﷺ might ascertain it from him. But he did not say this to abandon the prescribed punishment. He said: I then understood the intent of the tradition.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٢٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٣٨١) (حسن )