عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کرلیا ہے، آپ نے ان سے منہ پھیرلیا، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی، ہر بار آپ ﷺ اپنا منہ پھیر لیتے تھے، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا : کیا یہ دیوانہ تو نہیں ؟ لوگوں نے کہا : نہیں ایسی کوئی بات نہیں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا : کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : ہاں واقعی، تو آپ ﷺ نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا، تو انہیں لا کر سنگسار کردیا گیا، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Maiz ibn Malik came to the Prophet ﷺ and said that he had committed fornication and he (the Prophet) turned away from him. He repeated it many times, but he (the Prophet) turned away from him. He asked his people: Is he mad? They replied: There is no defect in him. He asked: Have you done it with her? He replied: Yes. so he ordered that he should be stoned to death. He was taken out and stoned to death, and he (the Prophet) did not pray over him.
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے، ان کے جسم پر چادر نہ تھی، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہوسکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں، قسم اللہ کی اس رذیل ترین نے زنا کیا ہے، پھر آپ ﷺ نے انہیں رجم کیا، پھر خطبہ دیا، اور فرمایا : آگاہ رہو جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلے جاتے ہیں، اور ان میں سے کوئی ان خاندانوں باقی رہ جاتا ہے تو وہ ویسے ہی پھنکارتا ہے جیسے بکرا جفتی کے وقت بکری پر پھنکارتا ہے، پھر وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سامان (جیسے دودھ اور کھجور وغیرہ دے کر اس سے زنا کر بیٹھتا ہے) تو سن لو ! اگر اللہ ایسے کسی آدمی پر ہمیں قدرت بخشے گا تو میں اسے ان سے روکوں گا (یعنی سزا دوں گا رجم کی یا کوڑے کی) ۔
Jabir bin Samurah said: I saw Ma’iz bin Malik when he was brought to the Prophet ﷺ . He was a small and muscular man. He did not wear the loose outer garment. He made confession about him four times that he committed fornication. The Messenger of Allah ﷺ said: Perhaps you kissed her. He said that this most discarded man has committed fornication. He said: So he had him stoned to death and gave an address, saying: Beware, whenever we go out on an expedition in the path of Allah, one of them (I. e. the people) lags behind with a bleating sound like that of a he-goat, and gives modicum of his milk (i. e. sperm) to one of the women. If Allah gives control over any of them, I shall deter him from them (i. e. women) by punishing him severely.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٢١٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/٨٦، ٨٧) (صحیح )
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ (رض) سے یہی حدیث سنی ہے، اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ماعز کے اقرار کو دو بار رد کیا، سماک کہتے ہیں : میں نے اسے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : آپ نے ان کے اقرار کو چار بار رد کیا تھا ۔
Simak said: I heard this tradition from Jabir bin Samurah. But the first version is more perfect. This version has: He repeated twice, Simak said: I narrated to Saeed bin Jubair. He said: He repeated it four times.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ماعز بن مالک (رض) سے فرمایا : کیا تمہارے متعلق جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے صحیح ہے ؟ وہ بولے : میرے متعلق آپ کو کون سی بات معلوم ہوئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے بنی فلاں کی باندی سے زنا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، پھر چار بار اس کی گواہی دی، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چناچہ وہ رجم کردیئے گئے۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ asked Ma’iz bin Malik: Is what I have heard about you is true? He said: What have you heard about me? He said: I have heard that you have had intercourse with a girl belonging to the family of so and so. He said: Yes. He then testified four times. He (The prophet) then gave order regarding him and he was stoned to death.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک (رض) نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، اور انہوں نے زنا کا دو بار اقرار کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں بھگا دیا، وہ پھر آئے اور انہوں نے پھر دو بار زنا کا اقرار کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اپنے خلاف چار بار گواہی دے دی، لے جاؤ اسے سنگسار کر دو ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Maiz ibn Malik came to the Prophet ﷺ and admitted fornication twice. But he drove him away. He then came and admitted fornication twice. But he drove him away. He then came and admitted fornication twice. He (the Prophet) said: You have testified to yourself four times. Take him away and stone him to death.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٥٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣١٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ماعز بن مالک (رض) سے فرمایا : شاید تو نے بوسہ لیا ہوگا، یا ہاتھ سے چھوا ہوگا، یا دیکھا ہوگا ؟ انہوں نے کہا : نہیں، ایسا نہیں ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : پھر کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں، تو اس اقرار کے بعد آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said to Maiz ibn Malik: Perhaps you kissed, or squeezed, or looked. He said: No. He then said: Did you have intercourse with her? He said: Yes. On the (reply) he (the Prophet) gave order that he should be stoned to death. The narrator did not mention on the authority of Ibn Abbas. This is Wahbs version.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کرلیا ہے، ہر بار آپ ﷺ اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہوگیا بولا : جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں، اور رسی کنویں میں داخل ہوجاتی ہے اس نے کہا : ہاں ایسے ہی، آپ ﷺ نے فرمایا : تجھے معلوم ہے زنا کیا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، میں نے اس سے حرام طور پر وہ کام کیا ہے، جو آدمی اپنی بیوی سے حلال طور پر کرتا ہے، آپ ﷺ نے کہا : اچھا، اب تیرا اس سے کیا مطلب ہے ؟ اس نے کہا : میں چاہتا ہوں آپ مجھے گناہ سے پاک کر دیجئیے، پھر آپ نے حکم دیا تو وہ رجم کردیا گیا، پھر آپ نے اس کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں کو یہ کہتے سنا کہ اس شخص کو دیکھو، اللہ نے اس کی ستر پوشی کی، لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکا یہاں تک کہ پتھروں سے اسی طرح مارا گیا جیسے کتا مارا جاتا ہے، آپ ﷺ یہ سن کر خاموش رہے، اور تھوڑی دیر چلتے رہے، یہاں تک کہ ایک مرے ہوئے گدھے کی لاش پر سے گزرے جس کے پاؤں اٹھے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : فلاں اور فلاں کہاں ہیں ؟ وہ دونوں بولے : ہم حاضر ہیں اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا : اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ ان دونوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کا گوشت کون کھائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عیب جوئی کی ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ سخت ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man of the tribe of Aslam came to the Prophet ﷺ and testified four times against himself that he had had illicit intercourse with a woman, while all the time the Prophet ﷺ was turning away from him. Then when he confessed a fifth time, he turned round and asked: Did you have intercourse with her? He replied: Yes. He asked: Have you done it so that your sexual organ penetrated hers? He replied: Yes. He asked: Have you done it like a collyrium stick when enclosed in its case and a rope in a well? He replied: Yes. He asked: Do you know what fornication is? He replied: Yes. I have done with her unlawfully what a man may lawfully do with his wife. He then asked: What do you want from what you have said? He said: I want you to purify me. So he gave orders regarding him and he was stoned to death. Then the Prophet ﷺ heard one of his companions saying to another: Look at this man whose fault was concealed by Allah but who would not leave the matter alone, so that he was stoned like a dog. He said nothing to them but walked on for a time till he came to the corpse of an ass with its legs in the air. He asked: Where are so and so? They said: Here we are, Messenger of Allah ﷺ ! He said: Go down and eat some of this asss corpse. They replied: Messenger of Allah! Who can eat any of this? He said: The dishonour you have just shown to your brother is more serious than eating some of it. By Him in Whose hand my soul is, he is now among the rivers of Paradise and plunging into them. A similar tradition has also been transmitted by Abu Hurrairah through a different chain of narrators. This version adds: The narrator Hasan bin “All said: The transmitters have differed in the wordings (of this tradition) reported to me. Some said: He (Ma’iz) was tied to a tree, and others said: He was made to stand.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٥٩٩) (ضعیف )
اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے (میدان میں) کھڑا کردیا گیا تھا۔
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٥٩٩) (ضعیف )
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا، آپ ﷺ نے اس سے اپنا منہ پھیرلیا، پھر اس نے آ کر اعتراف کیا، آپ ﷺ نے پھر اس سے اپنا منہ پھیرلیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہیاں دیں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا تجھے جنون ہے ؟ اس نے کہا : ایسی کوئی بات نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تو شادی شدہ ہے اس نے کہا : ہاں، اس پر نبی اکرم ﷺ نے ان کے متعلق حکم دیا، تو انہیں عید گاہ میں رجم کردیا گیا، جب ان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی تو وہ بھاگے، پھر پکڑ لیے گئے، اور پتھروں سے مارے گئے، یہاں تک کہ ان کی موت ہوگئی، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کی تعریف فرمائی اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
Jabir bin Abdullah said: A man of the tribe of Asalam came to the Messenger of Allah ﷺ and made confession of fornication. He (the prophet) turned away from him. When he testified against him four times, the Prophet ﷺ said: Are you mad? He said: No. he asked: Are you married? He replied: Yes. The Prophet ﷺ then commanded regarding him and he was stoned in the place of prayer. Then when the stones hurt him, he fled, but was overtaken and stoned to death. The Prophet ﷺ then spoke well of him and did not pray over him.
Takhrij · تخریج
خ /الطلاق ١١ (٥٢٧٠) ، الحدود ٢١ (٦٨١٤) ، ٢٥ (٦٨٢٠) ، صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٩١) ، سنن الترمذی/الحدود ٥ (١٤٢٩) ، ن /الجنائز ٦٣ (١٩٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٣١٤٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٣٢٣) ، دي /الحدود ١٢ (٢٣٦١) (صحیح) إلا أن (خ) قال : وصلي علیہ وھي شاذة
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ نے ماعز بن مالک (رض) کے رجم کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کی طرف چلے، قسم اللہ کی ! نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا، لیکن وہ خود کھڑے ہوگئے، ہم نے انہیں ہڈیوں، ڈھیلوں اور مٹی کے برتن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے مار ا، تو وہ ادھر ادھر دوڑنے لگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ پتھریلی جگہ کی طرف آئے تو وہ کھڑے ہوگئے ہم نے انہیں حرہ کے بڑے بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہوگئے، تو نہ تو آپ نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی، اور نہ ہی انہیں برا کہا۔
Abu Saeed said: When the Prophet (May peace e upon him) commanded to stone Ma’iz bin Malik, we took him out to Baql. I swear by Allah, we did not tie him, nor did we dig a pit for him. But he was standing before us. The narrator Abu Kamil said: So we threw at him bones, clods of mud and pieces of earthenware. He ran away and we ran after him till he came to a side of the Harrah. He stood there before us and we threw at him big stones of the Harrah until he died. He (the Prophet) did not ask forgiveness for him, nor did he speak ill of him.
ابونضرہ سے روایت ہے ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آگے اسی جیسی روایت ہے، اور پوری نہیں ہے اس میں ہے : لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے، تو آپ نے انہیں منع فرمایا، پھر لوگ اس کی مغفرت کی دعا کرنے لگے تو آپ ﷺ نے انہیں روک دیا، اور فرمایا : وہ ایک شخص تھا جس نے گناہ کیا، اب اللہ اس سے سمجھ لے گا (چاہے گا تو معاف کر دے ورنہ اسے سزا دے گا تم کیوں دخل دیتے ہو) ۔
Abu Nadrah said: A man came to Prophet ﷺ . He then mentioned a similar tradition but not completely. This version has: People began to speak ill of him but he (the Prophet) forbade them. Then they began to ask forgiveness from him, but he forbade them by saying. He is a man who had committed a sin. Allah will call him to account himself.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٣٣١) (ضعیف) (ابو نضرة منذر بن مالک بن قطعة تابعی ہیں، اور انہوں نے واسطہ ذکر نہیں کیا ہے، اس لئے حدیث مرسل و ضعیف ہے )
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ ١ ؎ اور ماعز بن مالک (رض) دونوں اگر اقرار سے پھرجاتے، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کرچکے تھے (اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا) ۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: We, the Companions of the Messenger of Allah ﷺ , used to talk mutually: Would that al-Ghamidiyyah and Maiz ibn Malik had withdrawn after their confession; or he said: Had they not withdrawn after their confession, he would not have pursued them (for punishment). He had them stoned after the fourth (confession).
Notes · وضاحت
١ ؎ : قبیلہ غامد کی ایک عورت جسے زنا کی وجہ سے رجم کیا گیا تھا۔
خالد بن لجلاج کا بیان ہے کہ ان کے والد الجلاج نے انہیں بتایا کہ وہ بیٹھے بازار میں کام کر رہے تھے اتنے میں ایک عورت ایک لڑکے کو لیے گزری تو لوگ اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ان اٹھنے والوں میں میں بھی تھا، اور میں نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچا آپ اس سے پوچھ رہے تھے : اس بچہ کا باپ کون ہے ؟ وہ عورت چپ تھی، ایک نوجوان جو اس کے برابر میں تھا بولا : اللہ کے رسول ! میں اس کا باپ ہوں، آپ ﷺ پھر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا : اس بچے کا باپ کون ہے ؟ تو نوجوان نے پھر کہا : اللہ کے رسول ! میں اس کا باپ ہوں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے اپنے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے کسی کی طرف دیکھا، آپ ان سے اس نوجوان کے متعلق دریافت فرما رہے تھے ؟ تو لوگوں نے کہا : ہم تو اسے نیک ہی جانتے ہیں، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا : کیا تم شادی شدہ ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں، تو آپ ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، چناچہ وہ رجم کردیا گیا، اس میں ہے کہ ہم اس کو لے کر نکلے اور ایک گڑھے میں اسے گاڑا پھر پتھروں سے اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا، اتنے میں ایک شخص آیا، اور اس رجم کئے گئے شخص کے متعلق پوچھنے لگا، تو اسے لے کر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور ہم نے کہا : یہ اس خبیث کے متعلق پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے پھر پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا ہم نے اس کے غسل اور کفن دفن میں اس کی مدد کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے اور اس پر نماز پڑھنے میں بھی (مدد کی) کہا یا نہیں یہ عبدہ کی روایت ہے، اور زیادہ کامل ہے۔
Narrated Al-Lajlaj al-Amiri (RA) : I was working in the market. A woman passed carrying a child. The people rushed towards her, and I also rushed along with them. I then went to the Prophet ﷺ while he was asking: Who is the father of this (child) who is with you? She remained silent. A young man by her side said: I am his father, Messenger of Allah! He then turned towards her and asked: Who is the father of this child with you? The young man said: I am his father, Messenger of Allah! The Messenger of Allah ﷺ then looked at some of those who were around him and asked them about him. They said: We only know good (about him). The Prophet ﷺ said to him: Are you married? He said: Yes. So he gave orders regarding him and he was stoned to death. He (the narrator) said: We took him out, dug a pit for him and put him in it. We then threw stones at him until he died. A man then came asking about the man who was stoned. We brought him to the Prophet ﷺ and said: This man has come asking about the wicked man. The Messenger of Allah ﷺ said: He is more agreeable than the fragrance of musk in the eyes of Allah. The man was his father. We then helped him in washing, shrouding and burying him. (The narrator said:) I do not know whether he said or did not say in praying over him. This is the tradition of Abdah, and it is more accurate.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١١٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٤٧٩) (حسن الإسناد )
اس سند سے بھی الجلاج سے یہی روایت مرفوعاً آئی ہے اس میں اس حدیث کا کچھ حصہ ہے۔
A part of tradition has also been transmitted by al-Lajlaj from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. Narrated Sahl ibn Saad (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and confessed before him that he had committed fornication with a woman whom he named. The Messenger of Allah ﷺ sent for the woman and asked her about it. But she denied that she had committed fornication. So he inflicted the prescribed punishment of flogging on him, and let her go.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١١٧١) (حسن الإسناد )
سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے آپ سے نام لیا، زنا کیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو آپ نے اس مرد پر حد نافذ کی، اسے سو کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٧٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/٣٣٩، ٣٤٠) ، ویأتی برقم (٤٤٦٦) (صحیح )
جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے حد میں کوڑے لگائے گئے پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ تھا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے چناچہ وہ رجم کردیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو محمد بن بکر برسانی نے ابن جریج سے جابر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ابن وہب نے کیا ہے، اس میں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا، اس کے شادی شدہ ہونے کا علم نہیں تھا، تو اسے کوڑے مارے گئے، پھر پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کردیا گیا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : A man committed fornication with a woman. So the Messenger of Allah ﷺ ordered regarding him and the prescribed punishment of flogging was inflicted on him. He was then informed that he was married. So he commanded regarding him and he was stoned to death. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Muhammad bin Bakr al-Barsani from Ibn Juraij as a statement of Jabir, and Abu Asim has transmitted it from Ibn Juraid similar to that of Ibn Wahb. He did not mention the Prophet ﷺ . But he said: A man committed fornication, but did not know that he was married ; so he was flogged. It was then known that he was married, so he was stoned to death.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے کوڑے لگائے گئے، پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کردیا گیا۔
Jabir said: A man committed fornication with a woman. It was not known that he was married. So he was flogged. It was then known that he was married, so he was stoned to death.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، اور وہ حاملہ ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے ولی کو بلوایا، اور اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا، اور جب یہ حمل وضع کرچکے تو اسے لے کر آنا چناچہ جب وہ حمل وضع کرچکی تو وہ اسے لے کر آیا، نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو اسے رجم کردیا گیا، پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی، عمر (رض) کہنے لگے : اللہ کے رسول ! ہم اس کی نماز جنازہ پڑھیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کردی جائے تو انہیں کافی ہوگی، کیا تم اس سے بہتر کوئی بات پاؤ گے کہ اس نے اپنی جان قربان کردی ؟ ۔ ابان کی روایت میں اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے کے الفاظ نہیں ہیں۔
Narrated Imran ibn Husayn: A woman belonging to the tribe of Juhaynah (according to the version of Aban) came to the Prophet ﷺ and said that she had committed fornication and that she was pregnant. The Messenger of Allah ﷺ called her guardian. Then the Messenger of Allah ﷺ said to him: Be good to her, and when she bears a child, bring her (to me). When she gave birth to the child, he brought her (to him). The Prophet ﷺ gave orders regarding her, and her clothes were tied to her. He then commanded regarding her and she was stoned to death. He commanded the people (to pray) and they prayed over her. Thereupon Umar said: Are you praying over her, Messenger of Allah, when she has committed fornication? He said: By Him in Whose hand my soul is, she has repented to such an extent that if it were divided among the seventy people of Madina, it would have been enough for them all. And what do you find better than the fact that she gave her life. Aban did not say in his version: Then her clothes were tied to her.
بریدہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا : میں نے زنا کرلیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : واپس جاؤ ، چناچہ وہ واپس چلی گئی، دوسرے دن وہ پھر آئی، اور کہنے لگی : شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ واپس جاؤ چناچہ وہ پھر واپس چلی گئی، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا : جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہوجائے پھر آنا چناچہ وہ چلی گئی، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی، اور کہا : اسے میں جن چکی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے، اور حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے، تو وہ رجم کردی گئی۔ خالد (رض) اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے، ان سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خالد ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہوجاتی ، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا۔
) Buraidah said: A woman of Ghamid came to the Prophet ﷺ and said: I have committed fornication. He said: Go back. She returned, and on the next day she came to him again, and said: Perhaps you want to send me back as you did to Ma’iz bin Malik. I swear by Allah, I am pregnant. He said to her: Go back. She then returned and came to him the next day. He said to her: Go back until you give birth to a child. She then returned. When she gave birth to a child, she brought the child to him, and said: Here it is! I have given birth to it. He said: Go back, and suckle him until you wean him. When she had weaned him, she brought him (the boy) to him with something in his hand which he was eating. The boy was then given to a certain man of the Muslims and he (the Prophet) commanded regarding her. So a pit was dug for her, and he gave orders about her and she was stoned to death. Khalid was one of those who were throwing stones at her. He threw a stone at her. When a drop blood fell on his cheeks, he abused her. The Prophet ﷺ said to him: Gently, Khalid. By Him in whose hand my soul is, she has reported to such an extent that if one who wrongfully takes extra tax were to repent to a like extent, he would be forgiven. Then giving command regarding her, prayed over her and she was buried.