ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک عورت کو رجم کرنا چاہا تو اس کے لیے ایک گڈھا سینے تک کھودا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : غسانی کا کہنا ہے کہ جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلہ ہے۔
Narrated Zakariya Abi Imran (RA) : I heard an old man who transmitted from Abu Bakrah on this fathers authority that the Prophet ﷺ had a woman stoned and a pit was dug up to her breasts. Abu Dawud said: A man made me understand it from Uthman (b. Abi Shaibah) Abu Dawud said: Al-Ghassani said: Juhainah, Ghamid and Bariq as the same. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Zakariya bin Salim through a different chain of narrators. This version adds: He (the Prophet) then threw a pebble like a gram at her. He then said: Throw at her and avoid her face. When se died, he took her out and prayed over her. About repentance he said similar to the tradition on Buraidah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/٣٦، ٤٢، ٤٣) (صحیح )
ابوداؤد کہتے ہیں مجھ سے یہ حدیث عبدالصمد بن عبدالوارث کے واسطہ سے بیان کی گئی ہے، زکریا بن سلیم نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے اسے چنے کے برابر ایک کنکری سے مارا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : مارو لیکن چہرے کو بچا کر مارنا پھر جب وہ مرگئی تو آپ نے اسے نکالا، پھر اس پر نماز پڑھی، اور توبہ کے سلسلہ میں ویسے ہی فرمایا جیسے بریدہ کی روایت میں ہے۔
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٦٨٤) (ضعیف )
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی (رض) روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا : ہاں، اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا : اچھا کہو اس نے کہنا شروع کیا : میرا بیٹا اس کے یہاں عسیف یعنی مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کرلیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم اس کی بیوی پر ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سنو ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ضرور بالضرور تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تو یہ تمہیں واپس ملیں گی اور اس کے بیٹے کو آپ نے سو کوڑے لگوائے، اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، اور اس سے پوچھیں اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کردیں، چناچہ اس نے اقرار کرلیا، تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔
Abu Hurairah and Zaid bin Khalid al-Juhani said: Two men brought a dispute before the Messenger of Allah ﷺ . One of them said: Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, Messenger of Allah! The other who had more understanding said: Yes, Messenger of Allah! Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, and allow me to speak. He (the Prophet) said: Speak, He then said: My son who was a hired servant with this (man) committed fornication with his wife, and when I was told that my son must be stoned to death, I ransomed him with a hundred sheep and a slave girl of mine; but when I asked the learned, they told me that my son should receive a hundred lashes and be banished for a year, and that stoning to death applied only to man’s wife. The Messenger of Allah ﷺ replied: By him in whose hand my soul is, I shall certainly pronounce judgment between you in accordance with Allah’s Book. Your sheep and your slave girl must be returned to you, and your son shall receive a hundred lashes and be banished for a year. And he commanded Unias al-Aslami go to that man’s wife, and if she confessed, he should stone her to death. She confessed and he stoned her.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کرلیا ہے، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : تم تورات میں زنا کے معاملہ میں کیا حکم پاتے ہو ؟ تو ان لوگوں نے کہا : ہم انہیں رسوا کرتے اور کوڑے لگاتے ہیں، تو عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا : تم لوگ جھوٹ کہتے ہو، اس میں تو رجم کا حکم ہے، چناچہ وہ لوگ تورات لے کر آئے، اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، پھر وہ اس کے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا، تو عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا : اپنا ہاتھ اٹھاؤ، اس نے اٹھایا تو وہیں آیت رجم ملی، تو وہ کہنے لگے : صحیح ہے اے محمد ! اس میں رجم کی آیت موجود ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے رجم کا حکم دے دیا، چناچہ وہ دونوں رجم کردیے گئے۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں : میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا۔
Ibn Umar said: some jews came to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned to him that a man and a women of their number had committed fornication. The Messenger of Allah ﷺ asked them: What do you find in the Torah about stoning? They replied: We disgrace them and they should be flogged. Abdullah bin Salam said: You lie; it contains (instruction for) stoning. So they brought the Torah and spread it out, and one of them put his hand over the verse of stoning and read what preceded it and what followed it. Abdullah bin Salam said to him: Lift your hand. When he did so, the verse of stoning was seen to be in it. They then said: He has spoken the truth, Muhammad, the verse of stoning is in it. The Messenger of Allah ﷺ then gave command regarding them, and they were stoned to death. Abdullah bin Umar (RA) said: I saw the man leaning on the woman protecting her from the stones.
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے ؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے ؟ تو اس نے کہا : رجم ہے، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہوگیا، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائے اور جو ایسے نہ ہوں ان پر حد جاری کی جائے، تو ہم نے اس حکم ہی کو اپنے اوپر سے اٹھا لیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے رجم کا حکم دیا تو وہ رجم کردیا گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری کتاب میں سے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیا تھا ۔
Al-Bara bin Azib said: The people passed by the Messenger of Allah ﷺ with a jew whose face blackened with charcoal and he was being taken around. He adjured them by Allah and asked: What is the prescribed punishment for a fornicator in your Divine book? He (the narrator) said: They referred him to a man of them. The Prophet ﷺ adjured him and asked: What is the punishment for a fornication in your Divine Book? He replied: Stoning. But fornication spread among our people of rank, so we disliked that a person of rank should be left alone and the punishment be inflicted on one who is lower in rank than him. So we suspended it for us. The Messenger of Allah ﷺ then commanded regarding him and he was stoned to death. He then said: O Allah! I am the first to give life to a command of Thy Book which they had killed.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ٦ (١٧٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٠ (٢٣٢٧) ، الحدود ١٠ (٢٥٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٠) (صحیح )
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے ایک یہودی گزارا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا : کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا : ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو ؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا : نہیں، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے، لیکن جب ہمارے معزز اور شریف لوگوں میں اس کا کثرت سے رواج ہوگیا تو جب ہم کسی معزز شخص کو اس جرم میں پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کرتے تھے، پھر ہم نے کہا : آؤ ہم تم اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اسے شریف اور کم حیثیت دونوں پر جاری کریں گے، تو ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے پر اتفاق کرلیا، اور رجم کو چھوڑ دیا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا ہے، جبکہ ان لوگوں نے اسے ختم کردیا تھا پھر آپ نے اسے رجم کا حکم دیا، چناچہ وہ رجم کردیا گیا، اس پر اللہ نے یہ آیت يا أيها الرسول لا يحزنک الذين يسارعون في الکفر سے يقولون إن أوتيتم هذا فخذوه وإن لم تؤتوه فاحذروا اے رسول ! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھئیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں، خواہ وہ ان (منافقوں) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حقیقتاً ان کے دل میں ایمان نہیں، اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط باتیں سننے کے عادی ہیں، اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو اب تک آپ کے پاس نہیں آئے، وہ کلمات کے اصلی موقع کو چھوڑ کر انہیں متغیر کردیا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر تم یہی حکم دیئے جاؤ تو قبول کرنا، اور یہ حکم دیئے جاؤ تو الگ تھلگ رہنا (سورۃ المائدہ : ٤١) تک، اور ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت و نور ہے، یہودیوں میں اس تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام) اور اہل اللہ، اور علماء فیصلہ کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا۔ اور اس پر اقراری گواہ تھے اب چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو، اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو، جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ (پورے اور پختہ) کافر ہیں (سورۃ المائدہ : ٤٤) تک، اور ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کردی تھی کہ جان کے بدلے جان، اور آنکھ کے بدلے آنکھ، اور ناک کے بدلے ناک، اور کان کے بدلے کان، اور دانت کے بدلے دانت، اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے، اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے مطابق حکم نہ کریں، وہی لوگ ظالم ہیں (سورۃ المائدہ : ٤٥) تک یہود کے متعلق اتاری، نیز ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الفاسقون اور انجیل والوں کو بھی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں، اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ سے ہی حکم نہ کریں وہ (بدکار) فاسق ہیں (سورۃ المائدہ : ٤٧) تک اتاری۔ یہ ساری آیتیں کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: The people passed by the Messenger of Allah ﷺ with a Jew who was blackened with charcoal and who was being flogged. He called them and said: Is this the prescribed punishment for a fornicator? They said: Yes. He then called on a learned man among them and asked him: I adjure you by Allah Who revealed the Torah to Moses, do you find this prescribed punishment for a fornicator in your divine Book? He said: By Allah, no. If you had not adjured me about this, I should not have informed you. We find stoning to be prescribed punishment for a fornicator in our Divine Book. But it (fornication) became frequent in our people of rank; so when we seized a person of rank, we left him alone, and when we seized a weak person, we inflicted the prescribed punishment on him. So we said: Come, let us agree on something which may be enforced equally on people of higher and lower rank. So we agreed to blacken the face of a criminal with charcoal, and flog him, and we abandoned stoning. The Messenger of Allah ﷺ then said: O Allah, I am the first to give life to Thy command which they have killed. So he commanded regarding him (the Jew) and he was stoned to death. Allah Most High then sent down: O Messenger, let not those who race one another into unbelief, make thee grieve. . . up to They say: If you are given this, take it, but if not, beware!. . . . up to And if any do fail to judge by (the light of) what Allah hath revealed, they are (no better than) unbelievers, about Jews, up to And if any do fail to judge by (the right of) what Allah hath revealed, they are no better than) wrong-doers about Jews: and revealed the verses up to And if any do fail to judge by (the light of) what Allah hath revealed, they are (no better than) those who rebel. About this he said: This whole verse was revealed about the infidels.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ ﷺ کو بلا کر قف ١ ؎ لے گئے آپ ان کے پاس بیت المدارس (مدرسہ) میں آئے تو وہ کہنے لگے : ابوالقاسم ! ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کرلیا ہے، آپ ان کا فیصلہ کر دیجئیے، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک گاؤ تکیہ لگایا، آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے، پھر آپ نے فرمایا : میرے پاس تورات لاؤ چناچہ وہ لائی گئی، آپ نے اپنے نیچے سے گاؤ تکیہ نکالا، اور تورات کو اس پر رکھا اور فرمایا : میں تجھ پر ایمان لایا اور اس نبی پر جس پر اللہ نے تجھے نازل کیا ہے پھر آپ نے فرمایا : جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اسے بلاؤ چناچہ ایک نوجوان کو بلا کر لایا گیا آگے واقعہ رجم کا اسی طرح ذکر ہے جیسے مالک کی روایت میں ہے جسے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar (RA) : A group of Jews came and invited the Messenger of Allah ﷺ to Quff. So he visited them in their school. They said: Abul Qasim, one of our men has committed fornication with a woman; so pronounce judgment upon them. They placed a cushion for the Messenger of Allah ﷺ who sat on it and said: Bring the Torah. It was then brought. He then withdrew the cushion from beneath him and placed the Torah on it saying: I believed in thee and in Him Who revealed thee. He then said: Bring me one who is learned among you. Then a young man was brought. The transmitter then mentioned the rest of the tradition of stoning similar to the one transmitted by Malik from Nafi (No. 4431).
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا تو ان میں سے بعض بعض سے کہنے لگے : ہم سب اس نبی کے پاس چلیں کیونکہ وہ تخفیف و آسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، اگر اس نے رجم کے علاوہ کوئی اور فتویٰ دیا تو ہم اسے مان لیں گے، اور اسے اللہ کے سامنے دلیل بنائیں گے، ہم کہیں گے کہ یہ تیرے نبیوں میں سے ایک نبی کا فتویٰ ہے، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ مسجد نبوی میں اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اور پوچھنے لگے : آپ اس مرد اور عورت کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے زنا کیا ہو ؟ آپ ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا جب تک کہ آپ ان کے مدرسہ میں نہیں آگئے، پھر مدرسہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا : میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے بتاؤ تم تورات میں اس شخص کا کیا حکم پاتے ہو جو شادی شدہ ہو کر زنا کرے ؟ لوگوں نے کہا : اس کا منہ کالا کیا جائے گا، اسے گدھے پر بٹھا کر پھرایا جائے گا، اور کوڑے لگائے جائیں گے ( تَجبیہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کو گدھے پر اس طرح سوار کیا جائے کہ ان کی گدی ایک دوسرے کے مقابل میں ہو، اور انہیں پھرایا جائے) ان میں کا ایک نوجوان چپ رہا، تو جب نبی اکرم ﷺ نے اس کو خاموش دیکھا تو اس سے سخت قسم دلا کر پوچھا، تو اس نے اللہ کا نام لے کر کہا : جب آپ نے ہمیں قسم دلائی ہے تو صحیح یہی ہے کہ تورات میں ایسے شخص کا حکم رجم ہے، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر کب سے تم لوگوں نے اللہ کے اس حکم کو چھوڑ رکھا ہے ؟ تو اس نے بتایا : ہمارے بادشاہوں میں ایک بادشاہ کے کسی رشتہ دار نے زنا کیا تو اس نے اسے رجم نہیں کیا، پھر ایک عام شخص نے زنا کیا، تو بادشاہ نے اسے رجم کرنا چاہا تو اس کی قوم کے لوگ آڑے آگئے، اور کہنے لگے : ہمارے آدمی کو اس وقت تک رجم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ آپ اپنے آدمی کو لا کر رجم نہ کردیں، چناچہ اس سزا پر لوگوں نے آپس میں مصالحت کرلی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو تورات میں ہے چناچہ آپ ﷺ نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دیا تو انہیں رجم کردیا گیا۔ زہری کہتے ہیں : ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آیت کریمہ إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا ہم نے تورات نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے اللہ کے ماننے والے انبیاء کرام اسی سے فیصلہ کرتے تھے (المائدہ : ٤٤) انہیں کے بارے میں اتری ہے، اور نبی اکرم ﷺ بھی انہیں میں سے تھے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : (This is Mamars version which is more accurate.) A man and a woman of the Jews committed fornication. Some of them said to the others: Let us go to this Prophet, for he has been sent with an easy law. If he gives a judgment lighter than stoning, we shall accept it, and argue about it with Allah, saying: It is a judgment of one of your prophets. So they came to the Prophet ﷺ who was sitting in the mosque among his companions. They said: Abul Qasim, what do you think about a man and a woman who committed fornication? He did not speak to them a word till he went to their school. He stood at the gate and said: I adjure you by Allah Who revealed the Torah to Moses, what (punishment) do you find in the Torah for a person who commits fornication, if he is married? They said: He shall be blackened with charcoal, taken round a donkey among the people, and flogged. A young man among them kept silent. When the Prophet ﷺ emphatically adjured him, he said: By Allah, since you have adjured us (we inform you that) we find stoning in the Torah (is the punishment for fornication). The Prophet ﷺ said: So when did you lessen the severity of Allahs command? He said: A relative of one of our kings had committed fornication, but his stoning was suspended. Then a man of a family of common people committed fornication. He was to have been stoned, but his people intervened and said: Our man shall not be stoned until you bring your man and stone him. So they made a compromise on this punishment between them. The Prophet ﷺ said: So I decide in accordance with what the Torah says. He then commanded regarding them and they were stoned to death. Az-Zuhri said: We have been informed that this verse was revealed about them: It was We Who revealed the Law (to Moses): therein was guidance and light. By its standard have been judged the Jews, by the Prophet who bowed (as in Islam) to Allahs will.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، انظر حدیث (٤٨٨) (تحفة الأشراف : ١٥٤٩٢) (ضعیف) (سند میں مبہم راوی ہے )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے، جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو تورات میں رجم کا حکم تحریر تھا، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ تَجبیہ کو اختیار کرلیا تھا، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پچھاڑی کی طرف ہوتا، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے : چونکہ وہ آپ ﷺ کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا فإن جاءوک فاحکم بينهم أو أعرض عنهم اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو (سورۃ المائدہ : ٤٢) ۔
Abu Hurairah said: A man and a woman of the Jews who were married committed fornication at the time when the Messenger of Allah ﷺ came to Madina. Stoning was a prescribed punishment for them in accordance with the Torah, but they abandoned it and followed tajbiyyah, meaning, the man was beaten a hundred times with a rope painted with tar and was seated on a donkey with his face towards the tail of the donkey. Their rabbis then assembled and sent some people to the Messenger of Allah ﷺ . They said to them: Ask him about the prescribed punishment for fornication. The transmitter then mentioned the rest of the tradition. They version adds: They were not the followers of his religion, and he (the prophet) was to pronounce judgment between them. So he was given a choice in this verse: ”If they do come to thee, either judge between them, or decline to interfere.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے، آپ ﷺ نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا : تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو ؟ ان دونوں نے کہا : ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے، آپ ﷺ نے پوچھا : تو پھر انہیں رجم کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہماری سلطنت تو رہی نہیں اس لیے اب ہمیں قتل اچھا نہیں لگتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے گواہوں کو بلایا، وہ چار گواہ لے کر آئے، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔
Jabir bin Abdullah said: The Jews brought a man and a woman of them who had committed fornication. He said: Bring me two learned men or yours. So they brought the two sons of Suriya. He adjured them and said: How do you think about the matter if these two persons bear witness to the effect that they have seen his sexual organ in her female organ (penetrated) like a collyrium stick when enclosed in its case, they will be stoned to death. He asked: What is there which prevents you from stoning them: They replied: Our rule has gone, so we disapproved of killing. The Messenger of Allah ﷺ then called four witnesses. They brought four witnesses. Who testified that they had seen his sexual organ (penetrated) in her female organ like a collyrium stick when enclosed in its case. The Prophet ﷺ then gave orders for stoning them.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الأحکام (٢٣٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٣٨٧) ، صحیح مسلم/الحدود ٦ (٢٣٧٤) (صحیح )
ابراہیم اور شعبی سے روایت ہے وہ دونوں نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں لیکن اس میں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ نے گواہوں کو بلایا، اور انہوں نے گواہی دی۔
A similar tradition has also been transmitted by Ibrahim and al-Shabi from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. But this version does not mention the words: He called the witnesses who testified.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٦، ١٨٤٠٢، ١٨٨٧١) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ یہ مرسل ہے اور مرسل ضعیف کی اقسام سے ہے ، اس لئے کہ ابراہیم نخعی اور عامر بن شراحیل شعبی تابعی ہیں )
A similar tradition has also been transmitted by al-Shabi through a different chain of narrators. Jabir bin Abdullah said: The Prophet ﷺ had a man and a woman of the Jews who had committed fornication stoned to death.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٦، ١٨٨٧١، ١٨٤٠٢ )
جابر بن عبداللہ (رض) کو کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہود کے ایک مرد اور ایک عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا رجم کیا۔
صحیح مسلم/ الحدود ٦ (١٧٠١) ، (تحفة الأشراف : ٢٨١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢١، ٣٨٦) (صحیح )
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم ﷺ سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: while I was wandering in search of my camels which had strayed, a caravan or some horsemen carrying a standard came forward. The bedouin began to go round me for my position with the Prophet ﷺ . They came to a domed structure, took out a man from it, and struck his neck. I asked about him. They told me that he had married his fathers wife.
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے ؟ کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: I met my uncle who was carrying a standard. I asked him: Where are you going? He said: The Messenger of Allah ﷺ has sent me to a man who has married his fathers wife. He has ordered me to cut off his head and take his property.
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر (رض) کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا : میں بالکل رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کردیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کردیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: Habib ibn Salim said: A man called Abdur Rahman ibn Hunayn had intercourse with his wifes slave-girl. The matter was brought to an-Numan ibn Bashir who was the Governor of Kufah. He said: I shall decide between you in accordance with the decision of the Messenger of Allah ﷺ . If she made her lawful for you, I shall flog you one hundred lashes. If she did not make her lawful for you, I shall stone you to death. So they found that she had made her lawful for him. He, therefore, flogged him one hundred lashes. Qatadah said: I wrote to Habib bin Salim; so he wrote this (tradition) to me.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢١ (١٤٥١) ، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦ /٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧) ، دي /الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (حبیب بن سالم کے بارے میں بہت کلام ہے ، اور ان کا نعمان بن بشیر سے سماع ثابت نہیں ہے )
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو : اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کردیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا ۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: The Prophet ﷺ said: about a man who had (unlawful) intercourse with his wifes slave girl: If she made her lawful for him, he will be flogged one hundred lashes; if she did not make her lawful for him, I shall stone him.
سلمہ بن محبق (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہوگی، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہوگی ١ ؎۔
Narrated Salamah ibn al-Muhabbaq (RA) : The Messenger of Allah ﷺ made a decision about a man who had intercourse with his wifes slave-girl as follows. If he forced her, she is free, and he shall give her mistress a slave-girl similar to her; if she asked him to have intercourse voluntarily, she will belong to him, and he shall give her mistress a slave-girl similar to her. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Yunus bin Ubaid, Amr bin Dinar, Mansur bin Zadhan and Salam from al-Hasan to the same effect. But yunus and Mansur did not mention Qabisah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : خطابی (رح) کہتے ہیں : میں نے کسی فقیہ کو نہ پایا جس نے اس حدیث کے مطابق فتویٰ دیا ہو، شاید یہ حدیث منسوخ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٤٧٦، ٥/٦) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری مدلس راوی ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے )
سلمہ بن محبق (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔
Narrated Salamah ibn al-Muhabbaq (RA) : A similar tradition (to the No. 4445) has also been transmitted by Salamah ibn al-Muhabbaq from the Prophet ﷺ . This version has: If she asked her to have intercourse with her voluntarily, then she and a similar slave-girl would be given to her mistress from his property.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جسے قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If you find anyone doing as Lots people did, kill the one who does it, and the one to whom it is done. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Sulaiman bin Bilal from Amr bin Abi Umar. And Abbad bin Mansur transmitted it from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas who transmitted it from the Prophet ﷺ . It has also been transmitted by Ibn Juraij from Ibrahim from Dawud bin Al-Husain from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas who transmitted it from the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٤ (١٤٥٦) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٢ (٢٥٦١) ، (تحفة الأشراف : ٦١٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس (رض) سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کردیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : If a man who is not married is seized committing sodomy, he will be stoned to death. Abu Dawud said: The tradition of Asim proved the tradition of Amir bin Abi Amr as weak.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اوپر کی حدیث (٤٤٦٢) ابوداود کا یہ قول غالباً غلطی سے یہاں درج ہوگیا ہے، حدیث نمبر : (٤٤٦٥) کے بعد بھی یہ قول درج ہے اور وہی اس کی اصل جگہ ہے۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو ، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عکرمہ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس سے پوچھا : اس چوپایہ کا کیا جرم ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone has sexual intercourse with an animal, kill him and kill it along with him. I (Ikrimah) said: I asked him (Ibn Abbas): What offence can be attributed to the animal/ He replied: I think he (the Prophet) disapproved of its flesh being eaten when such a thing had been done to it. Abu Dawud said: This is not a strong tradition.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٤٤٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٧٦) (حسن صحیح )