عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں : میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں : وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہوگی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ١ ؎۔
Asim reported from Abu Razin on the authority of Ibn Abbas saying: There is no prescribed punishment for one who has sexual intercourse with an animal. Abu Dawud said: Ata is also so. Al Hakam said: I think he should be flogged, but the number should not reach the one of the prescribed punishment. Al-Hasan said: He is like a fornicator. Abu Dawud said: THe tradition of Asim proves the tradition of Amr bin Abi Amr as weak.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ملاحظہ ہو حدیث نمبر (٤٤٦٢ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٣ (١٤٥٥) ، انظر حدیث رقم (٤٤٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٧٦) (حسن )
سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔
Narrated Sahl ibn Saad (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and made acknowledgment before him that he had committed fornication with a woman whom he named. The Messenger of Allah ﷺ sent someone to the woman and he asked her about it. She denied that she had committed fornication. So he gave him the prescribed punishment of lashes and left her.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٤٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٧٠٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا : قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول ! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی (٨٠) کوڑے لگائے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man of Bakr ibn Layth came to the Prophet ﷺ and made confession four times that he had committed fornication with a woman, so he had a hundred lashes administered to him. The man had not been married. He then asked him to produce proof against the woman, and she said: I swear by Allah, Messenger of Allah, that he has lied. Then he was given the punishment of eighty lashes of falsehood.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، عمر (رض) نے کہا : اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی ۔ (ھود : ١١٤) ١ ؎ تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : سارے لوگوں کے لیے ہے ۔
Abdullah (bin Masud) said: A man came to the Prophet ﷺ and said: I contacted directly a women at the furthest part of the city (i. e., Madina), and I did with her everything except sexual intercourse. So here I am; inflict any punishment you wish. Thereupon Umar said: Allah has concealed your fault; it would have been better if you also had concealed it yourself. The Prophet ﷺ sent a men after him. (When he came) he recited the verse: “And establish regular prayers at the two ends of the day and at the approaches of the night. . . ” up to the end of the verse. A man from the people got up and asked: Is it particular to him, Messenger of Allah, or for the people in general? He replied: It is all the people.
Notes · وضاحت
١ ؎ : دن کے دونوں سرے مراد فجر، ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں، اور رات کی ساعتوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٩١٦٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٤ (٥٢٦) ، التفسیر ٤ (٤٦٨٧) ، سنن الترمذی/التفسیر ١٢ (٣١١٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٣ (١٣٩٨) (حسن صحیح )
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو (تو اس کا کیا حکم ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو ، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا : یا چوتھی بار میں اور ضفیر کے معنی رسی کے ہیں۔
Abu Hurairah and Zaid bin Khalid al-Juhani said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a slave-woman who commits fornication, and she is not married: If she commits fornication, flog her: if she commits fornication again flog her; if only for a rope of hair (dafir). Ibn Shihab: I do not know whether he (the Prophet) said it is a third or a fourth time.
Takhrij · تخریج
خ /الحدود ٢٢ (٦٨٣٧ و ٦٨٣٨) ، صحیح مسلم/الحدود ٦ (١٧٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٤ (٢٥٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٥٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحدود ١٣ (١٤٣٣) ، موطا امام مالک/الحدود ٣ (١٤) ، دي الحدود ١٨ (٢٣٧١) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: When the slave-woman of any of you commits fornication, he should inflict the prescribed punishment on her, but not hurl reproaches at her. This is to be done up to three times. If she a fourth time, he should flog her, and sell her even if only for a rope of hair.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحدود ٦ (١٧٠٣) ، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٧٦) (صحیح )
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، اس میں ہے کہ ہر بار اسے اللہ کی کتاب کے موافق یعنی پچاس کوڑے مارے ١ ؎ اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر نہ چھوڑ دے، یا حد لگانے کے بعد پھر نہ ڈانٹے، اور چوتھی بار میں فرمایا : اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے اللہ کی کتاب کے موافق حد لگائے، پھر چاہیئے کہ اسے بیچ دے، گو بال کی ایک رسی ہی کے بدلے کیوں نہ ہو۔
This tradition has been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . This version has: He said each time: He should give her the appropriate beating according to Allah’s Book, but not Hurl reproaches at her. He said a fourth time: If she does it again, he should give her the appropriate beating according to Allah’s Book, and then should sell her even if only for a rope of hair.
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ لونڈی کی حد آزاد عورت کے نصف ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤٦٩، (تحفة الأشراف : ١٤٣١٩) (صحیح )
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہوگیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آگئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کرلی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چناچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا، اور کہا : ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہوجائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔
Narrated Abu Umamah bin Sahl Hunaif: Abu Umamah ibn Sahl ibn Hunayf said that some companions of the Messenger of Allah ﷺ told that one of their men suffered so much from some illness that he pined away until he was skin and bone (i. e. only a skeleton). A slave-girl of someone visited him, and he was cheered by her and had unlawful intercourse with her. When his people came to visit the patient, he told them about it. He said: Ask the Messenger of Allah ﷺ about the legal verdict for me, for I have had unlawful intercourse with a slave-girl who visited me. So they mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ saying: We have never seen anyone (so weak) from illness as he is. If we bring him to you, his bones will disintegrate. He is only skin and bone. So the Messenger of Allah ﷺ commanded them to take one hundred twigs and strike him once.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٢٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الحدود ١٨ (٢٥٧٤) (صحیح )
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کرلی تو آپ نے فرمایا : علی ! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آگیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا : علی ! کیا حد لگا کر آگئے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہوجائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا : اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: A slave-girl belonging to the house of the Messenger of Allah ﷺ committed fornication. He (the Prophet) said: Rush up, Ali, and inflict the prescribed punishment on her. I then hurried up, and saw that blood was flowing from her, and did not stop. So I came to him and he said: Have you finished inflicting (punishment on her)? I said: I went to her while her blood was flowing. He said: Leave her alone till her bleeding stops; then inflict the prescribed punishment on her. And inflict the prescribed punishment on those whom your right hands possess (i. e. slaves). Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Ahwas from Abd al-Ala, and also by Shubah from Abd al-Ala. This version has: He said: Do not give her beating until she gives birth to a child. But the former (version) is sounder.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے اس کا ذکر کیا، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When my vindication came down, the Prophet ﷺ mounted the pulpit and mentioned that, and recited the Quran. Then when he came down from the pulpit he ordered regarding the two men and the woman, and they were given the prescribed punishment.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر النور ٢٥ (٣١٨١) ، سنن ابن ماجہ/الحدود (٢٥٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٨٦، ٦/٣٥، ٦١) (حسن )
اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے عائشہ (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے : آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی (کوڑے لگانے کا) حکم دیا، وہ حسان بن ثابت (رض) اور مسطح بن اثاثہ (رض) تھے نفیل کہتے ہیں : اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش (رض) تھیں۔
The tradition mentioned above (No. 4459) has also been transmitted by Muhammad ibn Ishaq through a different chain of narrators. But he did not mention Aisha (RA) . This version has: He (the Prophet) commanded regarding the two men and the woman who spoke obscenity were Hassan ibn Thabit and Mistah ibn Uthathah. An-Nufayl said: It is said that the woman was Hammah daughter of Jahsh.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٩٨) (حسن) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے )
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی، ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس (رض) کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس (رض) کے مکان میں جا گھسا، اور ان سے چمٹ گیا، پھر یہ قصہ نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے، اور صرف اتنا فرمایا : کیا اس نے ایسا کیا ہے ؟ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ did not prescribe any punishment for drinking wine. Ibn Abbas said: A man who had drunk wine and become intoxicated was found staggering on the road, so he was taken to the Prophet ﷺ . When he was opposite al-Abbass house, he escaped, and going in to al-Abbas, he grasped hold of him. When that was mentioned to the Prophet ﷺ , he laughed and said: Did he do that? and he gave no command regarding him. Abu Dawud said: This tradition of al-Hasan bin Ali has been transmitted only by the people of Madina.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٢١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ١/٣٢٢) (ضعیف )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا : اسے مارو ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا : اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔
Abu Hurairah said: When a man who had drunk wine was brought to the Messenger of Allah ﷺ , he said: Beat him. Abu Hurairah said: Some struck him with their hands, some with their garment. When he turned his face, some people said: Allah put you shame! The Messenger of Allah ﷺ said: Do not say like that and help the devil to get power over him.
ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ اسے مار چکنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اسے زبانی عار دلاؤ ، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے : نہ تو تو اللہ سے ڈرا، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ ﷺ سے شرمایا پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، اور اس کے آخر میں ہے : لیکن یوں کہو : اے اللہ اس کو بخش دے، اس پر رحم فرما کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn al- Had through a different chain of narrators to the same effect. He said after the word “beating”: The Messenger of Allah ﷺ then said to his Companions: Reproach him, and they faced him and said: You have not respected Allah, you have not feared Allah and you have not shown shame before the Messenger of Allah ﷺ . Then they released him. Some have also added similar words.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شراب پینے پر کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا، اور ابوبکر (رض) نے چالیس کوڑے لگائے، پھر جب عمر (رض) خلیفہ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلایا، اور ان سے کہا : لوگ گاؤں سے قریب ہوگئے ہیں (اور مسدد کی روایت میں ہے) بستیوں اور گاؤں سے قریب ہوگئے ہیں (یعنی شراب زیادہ پینے لگے ہیں) تو اب شراب کی حد کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ان سے کہا : ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے ہلکی جو حد ہے وہی آپ اس میں مقرر کردیں، چناچہ اسی (٨٠) کوڑے مارنے کا حکم ہوا (کیونکہ سب سے ہلکی حد یہی حدقذف تھی) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے چالیس مار ماریں۔ اور اسے شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس کے قریب مار ماریں۔
Anas bin Malik (RA) said: The Prophet ﷺ gave a beating with palm-branches and sandals for drinking wine and Abu Bakr gave lashes. When Umar came to power, he called upon people and said to them: The people are living now near watering placing, and, according to Musaddad’s version, “near villages and watering places, so what do you say about the punishment for (drinking) wine? Abdur-Rahman bin Awf said: We think that you should prescribe the lightest punishment. So he fixed eight lashes for it. Abu Dawud said: It has also been transmitted by Ibn Al Arubah from Qatadah from the Prophet ﷺ to the effect that he gave a beating forty times with palm branches and sandals. And Shubah narrated it from Qatadah on the authority of Anas from Prophet ﷺ . This version has: He gave a beating with two palm-branches about forty times.
حضین بن منذر رقاشی ابوساسان کہتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان (رض) کے پاس موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو ان کے پاس لایا گیا، اور حمران اور ایک اور شخص نے اس کے خلاف گواہی دی، ان میں سے ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے، اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اسے (شراب) قے کرتے دیکھا ہے، تو عثمان نے کہا : جب تک پیئے گا نہیں قے نہیں کرسکتا، پھر انہوں نے علی (رض) سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو، تو علی نے حسن (رض) سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو، تو حسن نے کہا : جو خلافت کی آسانیوں اور خیرات کا ذمہ دار رہا ہے وہی اس کی سختیوں اور برائیوں کا بھی ذمہ دار ہے، پھر علی (رض) نے عبداللہ بن جعفر سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو، تو انہوں نے کوڑا لے کر اسے مارنا شروع کیا، اور علی (رض) گننے لگے، تو جب چالیس کوڑے ہوئے تو علی (رض) نے کہا : بس کافی ہے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس کوڑے ہی مارے ہیں، اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابوبکر (رض) نے بھی چالیس کوڑے مارے ہیں، اور عمر (رض) نے اسی، اور سب سنت ہے، اور یہ چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہیں۔
Hudayn ibn al-Mundhir ar-Ruqashi, who was Abu Sasan, said: I was present with Uthman ibn Affan when al-Walid ibn Uqbah was brought to him. HUmran and another man bore witness against him (for drinking wine). One of them testified that he had seen him drinking wine, and the other testified that he had seen him vomiting it. Uthman said: He could not vomit it, unless he did not drink it. He said to Ali (RA) : Inflict the prescribed punishment on him. Ali said to al-Hasan: Inflict the prescribed punishment on him. Al-Hasan said: He who has enjoyed its pleasure should also bear its burden. So Ali said to Abdullah ibn Jafar: Inflict the prescribed punishment on him. He took a whip and struck him with it while Ali was counting. When he reached (struck) forty (lashes), he said: It is sufficient. The Prophet ﷺ gave forty lashes. I think he also said: And Abu Bakr gave forty lashes, and Uthman eighty. This is all sunnah (standard practice). And this is dearer to me.
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے، اور عمر (رض) نے اسی کوڑے پورے کئے، اور یہ سب سنت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اصمعی کہتے ہیں : من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها کے معنی یہ ہیں جو خلافت کی آسانیوں کا ذمہ دار رہا ہے اسی کو اس کی دشواریوں کا ذمہ دار رہنا چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr gave forty lashes for drinking wine and Umar made it eighty. And all this is sunnah, the model and standard practice. Abu Dawud said: Al-Asmai explaning the maxim, He who enjoys its cold should bear its heat, said: He who enjoys the easy if it should also take the responsibility of the hard of it. Abu Dawud said: Hudain bin al-Mundhir Abu Sasan was the leader of his tribe.
معاویہ بن ابی سفیان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب وہ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو انہیں قتل کر دو ۔
Narrated Muawiyah ibn Abu Sufyan (RA) : The Prophet ﷺ said: If they (the people) drink wine, flog them, again if they drink it, flog them. Again if they drink it, kill them.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٥ (١٤٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٧ (٢٥٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٤١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٤/٩٥، ٩٦، ١٠٠) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی فرمایا ہے، اس میں یہ ہے کہ میرا خیال ہے کہ پانچویں بار میں فرمایا : پھر اگر وہ پئے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابوغطیف کی روایت میں پانچویں بار کا ذکر ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators to the same effect. This version has: I think he said for the fifth time: If he drinks it, kill him. Abu Dawud said: And similarly the word “a fifth time” occurs in the tradition of Abu Ghutaif.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٦٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٣٦) (ضعیف الإسناد )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شرابی جب نشہ سے مست ہوجائے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہوجائے تو اسے پھر کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہوجائے تو اسے پھر کوڑے مارو، اور اگر چوتھی بار پھر ایسا ہی کرے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عمر بن ابی سلمہ کی روایت ہے جسے وہ اپنے والد سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر چوتھی بار پھر ویسے ہی کرے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح سہیل کی حدیث ہے جسے وہ ابوصالح سے اور ابوصالح ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اگر وہ چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو ۔ اور اسی طرح ابن ابی نعم کی روایت بھی ہے جسے وہ ابن عمر (رض) سے اور ابن عمر نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ اور اسی طرح عبداللہ بن عمرو (رض) اور شرید (رض) کی مرفوع روایت بھی ہے، اور جدلی کی روایت میں ہے جسے وہ معاویہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ تیسری یا چوتھی بار پھر کرے تو اسے قتل کر دو ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If he is intoxicated, flog him; again if he is intoxicated, flog him; again if he is intoxicated, flog him if he does it again a fourth time, kill him. Abu Dawud said: And there is a similar tradition of Umar ibn Abu Salamah, from his father, on the authority of Abu Hurairah, from the Prophet ﷺ : If he drinks wine, flog him if he does it so again, a fourth time, kill him. Abu Dawud said: And there is similar tradition of Suhail from Abu Salih on the authority of Abu Hurairah, from the Prophet ﷺ : It they drink a fourth time, kill them. And there is similar tradition of Ibn Abi Num on the authority of Ibn Umar from Prophet ﷺ . There is also similar tradition of Abdullah bin Amr from the Prophet ﷺ , and from Sharid from the Prophet ﷺ . And in the tradition of al-Jadli from Muawiyah, the Prophet ﷺ said: If he does so again third or fourth time, kill him.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأشربة ٤٣ (٥٧٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٧ (٢٥٧٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٨٠، ٢٩١، ٥٠٤، ٥١٩) (حسن صحیح )