قبیصہ بن ذؤیب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو تو ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، آپ نے پھر اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر لایا گیا تو پھر آپ نے کوڑے ہی لگائے، اور قتل کا حکم اٹھا دیا اور رخصت ہوگئی۔ سفیان کہتے ہیں : زہری نے اس حدیث کو بیان کیا اور ان کے پاس منصور بن معتمر اور مخول بن راشد موجود تھے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا : تم دونوں اہل عراق کے لیے یہ حدیث یہاں سے تحفے میں لیتے جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو شرید بن سوید، شرحبیل بن اوس، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عمر، ابوغطیف کندی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔
Narrated Qabisah ibn Dhuwayb: The Prophet ﷺ said: If anyone drinks wine, flog him; if he repeats it, flog him, and if he repeats it, flog him. If he does it again a third or a fourth time, kill him. A man who had drunk wine was brought (to him) and he gave him lashes. He was again brought to him, and he flogged him. He was again brought to him and he flogged him. He was again brought to him and he flogged him. The punishment of killing (for drinking) was repealed, and a concession was allowed. Sufyan said: Al-Zuhri transmitted this tradition when Mansur bin al-Mutamir amd Mukhawwal bin Rashid were present with him. He said to them: Take this tradition as a present to the people of Iraq. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Sharid bin Suwaid, Sharahbil bin Aws, Abdullah bin Amr, Abdullah bin Umar (RA) , Abu Ghutaif al-Kindi, and Abu Salamah bin Abdur-Rahman from Abu Hurairah.
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مرجائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے۔
Ali said: I shall not pay blood-money or (he said): I am not going to pay blood-money for him on whom I inflicted the prescribed punishment except for the one who drank wine, for the Messenger of Allah ﷺ did not prescribe anything definite. It is a thing which we have decided (by agreement) ourselves.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحدود ٥ (٦٧٧٨) ، صحیح مسلم/ الحدود ٨ (١٧٠٧) ، سنن ابن ماجہ/ الحدود ١٦ (٢٥٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٢٥، ١٣٠) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن ازہر (رض) کہتے ہیں کہ گویا میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں آپ کجاؤں کے درمیان میں کھڑے تھے، خالد بن ولید (رض) کا کجاوہ ڈھونڈ رہے تھے، آپ اسی حالت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے لوگوں سے کہا : اسے مارو ، تو کسی نے جوتے سے، کسی نے چھڑی سے، اور کسی نے کھجور کی ٹہنی سے اسے مارا (ابن وہب کہتے ہیں) ميتخة کے معنی کھجور کی تر ٹہنی کے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے زمین سے مٹی لی اور اس کے چہرے پر ڈال دی۔
Narrated Abdur Rahman ibn Azhar (RA) : I can still picture myself looking at the Messenger of Allah ﷺ who was among the camps of the Companions seeking the camp of Khalid ibn al-Walid, when a man who had drunk wine was brought before him. He asked the people: Beat him. Some struck him with sandals, some with sticks and some with fresh branches of the palm-tree (mitakhah). Ibn Wahb said: This (mitakhah) means green palm fronds. Then the Messenger of Allah ﷺ took some dust from the ground and threw it on his face.
عبدالرحمٰن بن ازہر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شرابی لایا گیا، اور آپ حنین میں تھے، آپ نے اس کے منہ پر خاک ڈال دی، پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے، اور جو چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھیں ان سے مارا، یہاں تک کہ آپ فرمانے لگے : بس کرو، بس کرو تب لوگوں نے اسے چھوڑا، پھر رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو آپ کے بعد ابوبکر (رض) بھی شراب کی حد میں چالیس کوڑے مارتے رہے، پھر عمر (رض) نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں چالیس کوڑے ہی مارے، پھر خلافت کے اخیر میں انہوں نے اسی کوڑے مارے، پھر عثمان (رض) نے کبھی اسی کوڑے اور کبھی چالیس کوڑے مارے، پھر معاویہ (رض) نے اسی کوڑوں کی تعیین کردی۔
Narrated Abdur Rahman ibn al-Azhar (RA) : A man who had drunk wine was brought before the Prophet ﷺ when he was in Hunayn. He threw some dust on his face. He then ordered his Companions and they beat him with their sandals and whatever they had in their hands. He then said to them: Leave him, and they left him. The Messenger of Allah ﷺ then died, and Abu Bakr gave forty lashes for drinking wine, and then Umar in the beginning of his Caliphate inflicted forty stripes and at the end of his Caliphate he inflicted eighty stripes. Uthman (after him) inflicted both punishments, eighty and forty stripes, and finally Muawiyah established eighty stripes.
عبدالرحمٰن بن ازہر کہتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو رسول اللہ ﷺ کو دیکھا میں ایک کمسن لڑکا تھا، لوگوں میں گھس کر آیا جایا کرتا تھا، آپ خالد بن ولید (رض) کی قیام گاہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شرابی لایا گیا، آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا، تو لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی اسی سے انہوں نے اس کی پٹائی کی، کسی نے اسے کوڑے سے، کسی نے لاٹھی سے، کسی نے جوتے سے پیٹا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی، پھر جب ابوبکر (رض) کا زمانہ آیا تو ان کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے نبی اکرم ﷺ کی اس مار کے متعلق دریافت کیا جسے آپ نے مارا تھا تو لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ چالیس کوڑے رہے ہوں گے، تو ابوبکر (رض) نے اس کی حد چالیس کوڑے مقرر کردی، پھر جب عمر (رض) کا زمانہ آیا تو خالد بن ولید نے انہیں لکھا کہ لوگ کثرت سے شراب پینے لگے ہیں اور اس کی حد اور سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور لکھا کہ لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے پوچھ لیں، اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین موجود تھے، آپ نے ان سے پوچھا تو سب کا اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ اسی کوڑے مارے جائیں، علی (رض) نے کہا : آدمی جب شراب پیتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اس کی حد بہتان کی حد کردی جائے۔
Narrated Abdur Rahman ibn Azhar (RA) : I saw the Messenger of Allah ﷺ on the morning of the conquest of Makkah when I was a young boy. He was walking among the people, seeking the camp of Khalid ibn al-Walid. A man who had drunk wine was brought (before him) and he ordered them (to beat him). So they beat him with what they had in their hands. Some struck him with whips, some with sticks and some with sandals. The Messenger of Allah ﷺ threw some dust on his face. When a man who had drunk wine was brought before Abu Bakr, he asked them (i. e. the people) about the number of beatings which they gave him. They numbered it forty. So Abu Bakr gave him forty lashes. When Umar came to power, Khalid ibn al-Walid wrote to him: The people have become addicted to drinking wine and they look down upon the prescribed punishment and its penalty. He said: They are with you, ask them. The immigrants who embraced Islam in the beginning were with him. He asked them and they agreed on the fact that (a drunkard) should be given eighty lashes. Ali said: When a man drinks wine, he tells lies. I, therefore, think that he should be prescribed punishment that is prescribed for telling lies. . Abu Dawud said: Uqail bin Khalid included in the chain of this tradition: Abdullah bin Abdur-Rahman bin al-Azhar from his father between al-Zuhri and Ibn al-Azhar.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٤٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٨٥) (حسن )
حکیم بن حزام (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں قصاص لینے، اشعار پڑھنے اور حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Hakim ibn Hizam (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to take retaliation in the mosque, to recite verses in it and to inflict the prescribed punishments in it.
Notes · وضاحت
W
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٤٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٣٤) (حسن )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے بچے ۔
Abu Burdah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: No more than ten lashes are to be given, except in the case of one of the punishment prescribed by Allah, the Exalted.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٤٩٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٢/٢٤٤، ٢٥١، ٤٣٤) (صحیح)
ابوبردہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوڑے دس سے زیادہ نہ مارے جائیں سوائے اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Burdah al-Ansari through a different chain of narrators. This version has: I heard the Messenger of Allah ﷺ say. . . He then mentioned the tradition to the same effect.
Notes · وضاحت
١ ؎ : تعزیر ایسی سزا کو کہتے ہیں جو حد سے کم ہو۔
جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوبردہ انصاری سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٤٢ (٦٨٤٨) ، صحیح مسلم/الحدود ٩ (١٧٠٨) ، سنن الترمذی/الحدود ٣٠ (١٤٦٣) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٢ (٢٦٠١) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٤٦٦، ٤/٤٥) ، سنن الدارمی/الحدود ١١ (٢٣٦٠) (صحیح)
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٧٢٠) (صحیح)
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر دو (یہودی) قبیلے تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ باعزت تھے، جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو اسے اس کے بدلے قتل کردیا جاتا، اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو سو وسق کھجور فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا جاتا، جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کردیا، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، نضیر نے کہا : ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم ﷺ فیصلہ کریں گے، چناچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آیت وإن حکمت فاحکم بينهم بالقسط اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو اتری، اور انصاف کی بات یہ تھی کہ جان کے بدلے جان لی جائے، پھر آیت أفحکم الجاهلية يبغون کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں ؟ نازل ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قریظہ اور نضیر دونوں ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : Qurayzah and Nadir (were two Jewish tribes). An-Nadir were nobler than Qurayzah. When a man of Qurayzah killed a man of an-Nadir, he would be killed. But if a man of an-Nadir killed a man of Qurayzah, a hundred wasq of dates would be paid as blood-money. When Prophethood was bestowed upon the Prophet ﷺ , a man of an-Nadir killed a man of Qurayzah. They said: Give him to us, we shall kill him. They replied: We have the Prophet ﷺ between you and us. So they came to him. Thereupon the following verse was revealed: If thou judge, judge in equity between them. In equity means life for a life. The following verse was then revealed: Do they seek of a judgment of (the days) ignorance? Abu Dawud said: Quraizah and al-Nadir were the descendants of Harun the Prophet ﷺ
ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، آپ نے میرے والد سے پوچھا : یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ میرے والد نے کہا : ہاں رب کعبہ کی قسم ! آپ ﷺ نے فرمایا : سچ مچ ؟ انہوں نے کہا : میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ مسکرائے، کیونکہ میں اپنے والد کے مشابہ تھا، اور میرے والد نے قسم کھائی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : سنو ! نہ یہ تمہارے جرم میں پکڑا جائے گا، اور نہ تم اس کے جرم میں اور پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی (الانعام : ١٦٤، الاسراء : ١٥، الفاطر : ١٨) ۔
Narrated Abu Rimthah (RA) : I went to the Prophet ﷺ with my father. The Messenger of Allah ﷺ then asked my father: Is this your son? He replied: Yes, by the Lord of the Kabah. He again said: Is it true? He said: I bear witness to it. The Messenger of Allah ﷺ then smiled for my resemblance with my father, and for the fact that my father took an oath upon me. He then said: He will not bring evil on you, nor will you bring evil on him. The Messenger of Allah ﷺ recited the verse: No bearer of burdens can bear the burden of another.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٤٢٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٧) (صحیح )
ابوشریح خزاعی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو (اپنے کسی رشتہ دار کے) قتل ہونے، یا زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی ہو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہوگا : یا تو قصاص لے لے، یا معاف کر دے، یا دیت لے لے، اگر وہ ان کے علاوہ کوئی چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو، اور جس نے ان (اختیارات) میں زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔
Narrated Abu Shurayh al-Khuzai (RA) : The Prophet ﷺ said: If a relative of anyone is killed, or if he suffers khabl, which means a wound, he may choose one of the three things: he may retaliate, or forgive, or receive compensation. But if he wishes a fourth (i. e. something more), hold his hands. After this whoever exceeds the limits shall be in grave penalty.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٣ (٢٦٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٤/٣١) ، سنن الدارمی/الدیات ١ (٢٣٩٦) (ضعیف )
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ (پہلے) آپ اس میں معاف کردینے کا حکم دیتے۔
Narrated Anas ibn Malik: I never saw the Messenger of Allah ﷺ that some dispute which involved retaliation was brought to him but he commanded regarding it for remission.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٣ (٤٧٨٧، ٤٧٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٥ (٢٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٣، ٢٥٢) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص قتل کردیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم ﷺ کی عدالت میں پیش کیا گیا، آپ نے اس (قاتل) کو مقتول کے وارث کے حوالے کردیا، قاتل کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے وارث سے فرمایا : سنو ! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کردیا، تو تم جہنم میں جاؤ گے یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑگیا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man was killed in the lifetime of the Prophet ﷺ . The matter was brought to the Prophet ﷺ . He entrusted him to the legal guardian of the slain. The slayer said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I did not intend to kill him. The Messenger of Allah ﷺ said to the legal guardian: Now if he is true and you kill him, you will enter Hell-fire. So he let him go. His hands were tied with a strap. He came out pulling his strap. Hence he was called Dhu an-Nisah (possessor of strap).
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا، اور اس سے پوچھا : کیا تم معاف کرو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو کیا دیت لو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو کیا تم قتل کرو گے ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا لے جاؤ اسے چناچہ جب وہ (اسے لے کر) چلا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا تم اسے معاف کرو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم دیت لو گے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم قتل کرو گے ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے لے جاؤ چوتھی بار میں آپ ﷺ نے فرمایا : سنو ! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا یہ سن کر اس نے اسے معاف کردیا۔ وائل کہتے ہیں : میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا۔
Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I was with the Prophet ﷺ when a man who was a murderer and had a strap round his neck was brought to him. He then called the legal guardian of the victim and asked him: Do you forgive him? He said: No. He asked: Will you accept the blood-money? He said: No. He asked: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him. When he turned his back, he said: Do you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the blood-money? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him. After repeating all this a fourth time, he said: If you forgive him, he will bear the burden of his own sin and the sin of the victim. He then forgave him. He (the narrator) said: I saw him pulling the strap.
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا : اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا : تم نے اسے کیسے قتل کردیا ؟ وہ بولا : میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مرگیا، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا، آپ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کرسکو اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کرسکتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کردیں گے ؟ اس نے کہا : نہیں، تب آپ نے اس شخص (مقتول کے وارث) سے فرمایا : اسے لے جاؤ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا : اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہوجائے گا وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا : وہ یہ ہے، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہوگا چناچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔
Narrated Wail (bin Hujr): A man brought an Abyssinian to the Prophet ﷺ and said: This man has killed my nephew. He asked: How did you kill him? He replied: I struck his head with axe but I did not intend to kill him. He asked: Have you some money so that you pay his blood-wit? He said: No. He said: What is your opinion if I send you so that you ask the people (for money) and thus collect your blood-wit? He said: No. He asked: Will your masters give you his blood-wit (to pay his relatives)? He said: No. He said to the man. Take him. So he brought him out to kill him. The Messenger of Allah ﷺ said: If he kill him, he will be like him. This (statement) reached the man where he was listening to his statement. He said: He is here, order regarding him as you like. The Messenger of Allah ﷺ said: Leave him alone. And he once said: He will bear the burden of the sin of the slain and that of his own and thus he will become one of the Companions of Hell. So he let him go.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٤٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٦٩) (صحیح )
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ہم عثمان (رض) کے ساتھ تھے، آپ گھر میں محصور تھے، گھر میں داخل ہونے کا ایک راستہ ایسا تھا کہ جو اس میں داخل ہوجاتا وہ باہر سطح زمین پر کھڑے لوگوں کی گفتگو سن سکتا تھا، عثمان اس میں داخل ہوئے اور ہمارے پاس لوٹے تو ان کا رنگ متغیر تھا، کہنے لگے : ان لوگوں نے ابھی ابھی مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے، تو ہم نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! آپ کی ان سے حفاظت کے لیے اللہ کافی ہے، اس پر انہوں نے کہا : آخر یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : تین باتوں کے بغیر کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں : ایک یہ کہ اسلام لانے کے بعد وہ کفر کا ارتکاب کرے، دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہو کر زنا کرے، اور تیسرے یہ کہ ناحق کسی کو قتل کر دے تو اللہ کی قسم ! میں نے نہ تو جاہلیت میں، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی زنا کیا، اور جب سے اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہے میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میرا دین اس کے بجائے کوئی اور ہو، اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو آخر کس بنیاد پر مجھے یہ قتل کریں گے ؟۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان اور ابوبکر (رض) نے تو جاہلیت میں بھی شراب سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔
Narrated Abu Umamah ibn Sahl (RA) : We were with Uthman when he was besieged in the house. There was an entrance to the house. He who entered it heard the speech of those who were in the Bilat. Uthman then entered it. He came out to us, looking pale. He said: They are threatening to kill me now. We said: Allah will be sufficient for you against them, Commander of the Faithful! He asked: Why kill me? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is not lawful to kill a man who is a Muslim except for one of the three reasons: Kufr (disbelief) after accepting Islam, fornication after marriage, or wrongfully killing someone, for which he may be killed. I swear by Allah, I have not committed fornication before or after the coming of Islam, nor did I ever want another religion for me instead of my religion since Allah gave guidance to me, nor have I killed anyone. So for what reason do you want to kill me? Abu Dawud said: Uthman and Abu Bakr (Allah be pleased with them) abandoned drinking wine in pre-Islamic times.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ١ (٢١٥٨) ، سنن النسائی/المحاربة ٦ (٤٠٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١ (٢٥٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٦١، ٦٢، ٦٥، ٧٠) ، دی/ الحدود ٢ (٢٣٤٣) (صحیح )
زبیر بن عوام اور ان والد عوام (رض) (یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے) سے روایت ہے کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کردیا، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے کیا، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں، اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عیینہ ! کیا تم دیت قبول نہیں کرسکتے ؟ عیینہ نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عیینہ ! کیا تم دیت قبول نہیں کرسکتے ؟ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لیے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو ، اور پچاس مدینے لوٹ کردینا ۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ بیٹھا، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے، اب میں توبہ کرتا ہوں، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے، اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ ﷺ نے بہ آواز بلند فرمایا : کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے، اے اللہ ! محلم کو نہ بخشنا ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں : محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ غير کے معنی دیت کے ہیں۔
Narrated Ziyad ibn Saad ibn Dumayrah as-Sulami (RA) : On the authority of his father (Saad) and his grandfather (Dumayrah) (according to Musas version) who were present in the battle of Hunayn with the Messenger of Allah ﷺ : After the advent of Islam, Muhallam ibn Jaththamah al-Laythi killed a man of Ashja. That was the first blood-money decided by the Messenger of Allah ﷺ (for payment). Uyaynah spoke about the killing of al-Ashjai, for he belonged to Ghatafan, and al-Aqra ibn Habis spoke on behalf of Muhallam, for he belonged to Khunduf. The voices rose high, and the dispute and noise grew. So the Messenger of Allah ﷺ said: Do you not accept blood-money, Uyaynah? Uyaynah then said: No, I swear by Allah, until I cause his women to suffer the same fighting and grief as he caused my women to suffer. Again the voices rose high, and the dispute and noise grew. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you not accept the blood-money Uyaynah? Uyaynah gave the same reply as before, and a man of Banu Layth called Mukaytil stood up. He had a weapon and a skin shield in his hand. He said: I do not find in the beginning of Islam any illustration for what he has done except the one that some sheep came on, and those in the front were shot; hence those in the rear ran away. (The other example is that) make a law today and change it. The Messenger of Allah ﷺ said: Fifty (camels) here immediately and fifty when we return to Madina. This happened during some of his journeys. Muhallam was a tall man of dark complexion. He was with the people. They continued (to make effort for him) until he was released. He sat before the Messenger of Allah ﷺ , with his eyes flowing. He said: Messenger of Allah! I have done (the act) of which you have been informed. I repent to Allah, the Exalted, so ask Allahs forgiveness for me. Messenger of Allah! The Messenger of Allah ﷺ then said: Did you kill him with your weapon at the beginning of Islam. O Allah! do not forgive Muhallam. He said these words loudly. Abu Salamah added: He (Muhallam) then got up while he was wiping his tears with the end of his garment. Ibn Ishaq said: His people alleged that the Messenger of Allah ﷺ asked forgiveness for him after that. Abu Dawud said: Al-Nadr bin Shumail said: al-ghiyar means blood-wit.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٤ (٢٦٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/١١٢، ٦/١٠) (ضعیف )
ابوشریح کعبی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سنو خزاعہ کے لوگو ! تم نے ہذیل کے اس شخص کو قتل کیا ہے، اور میں اس کی دیت دلاؤں گا، میری اس گفتگو کے بعد کوئی قتل کیا گیا تو مقتول کے لوگوں کو دو باتوں کا اختیار ہوگا یا وہ دیت لے لیں یا قتل کر ڈالیں ۔
Narrated Abu Shurayb al-Kabi (RA) : The Prophet ﷺ said: Then you, Khuzaah, have killed this man of Hudhayl, but I will pay his blood-wit. After these words of mine if a man of anyone is killed, his people will have a choice to accept blood-wit or to kill him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ١٣ (١٤٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٤/٣١) (صحیح )