ابوہریرہ (رض) کا بیان ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا : جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے یہ لکھ دیجئیے (عباس بن ولید کی روایت اکتب لی کے بجائے اکتبوا لی یہ صیغۂ جمع ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اکتبوا لی سے مراد نبی اکرم ﷺ کا خطبہ ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When Makkah was conquered, the Messenger of Allah ﷺ got up and said: If a relative of anyone is killed, he will have a choice between two: he (the slayer) will either pay the blood-wit or he will be killed. A man of the Yemen called Abu Shah stood up and said: Write for me, Messenger of Allah. The narrator al-Abbas (b. al-Walid) said: Write to me, (you people). The Messenger of Allah ﷺ said: Write (you people), for Abu Shah. These are the wordings of the tradition of Ahmad. Abu Dawud said: Write (you people), for me, that is, the address of the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٠١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٨٣، ١٥٣٦٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کردیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں ۔
Narrated Amr bin Shuaib: On his fathers authority said that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: A believer will not be killed for an infidel. If anyone kills a man deliberately, he is to be handed over to the relatives of the one who has been killed. If they wish, they may kill, but if they wish, they may accept blood-wit
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی، آپ نے اس میں سے کچھ کھالیا، تو اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا، تو اس نے کہا : میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا، آپ نے فرمایا : اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا صحابہ نے عرض کیا : کیا ہم اسے قتل نہ کردیں، آپ نے فرمایا : نہیں چناچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ ﷺ کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا۔
Narrated Anas bin Malik (RA): A Jewess brought a poisoned sheep to the Messenger of Allah ﷺ , and he ate of it. She was then brought to the Messenger of Allah ﷺ who asked her about it. She said: I intended to kill you. He said: Allah will not give you control over it ; or he said: over me. They (the Companions) said: Should we not kill her ? He said: No. He (Anas) said: I always found it in the uvula of the Messenger of Allah ﷺ
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک زہر آلود بکری بھیجی، لیکن آپ نے اس عورت سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرحب کی ایک یہودی بہن تھی جس نے نبی اکرم ﷺ کو زہر دیا تھا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A Jewess presented a poisoned sheep to the Prophet ﷺ , but the Prophet ﷺ did not interfere with he. Abu Dawud said: The Jewess who poisoned the Prophet ﷺ was sister of Marhab.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥١٤٠، ١٣١٢٢، ١٥١٤٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجزیة ٧ (٣١٦٩) ، المغازي ٤١ (٤٢٤٩) ، الطب ٥٥ (٥٧٧٧) (صحیح) ( سفیان بن حسین کی زہری سے روایت میں ضعف ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے اور صحیح بخاری میں ہے )
جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے تھے کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا، پھر اسے رسول اللہ ﷺ کو تحفہ میں بھیجا، آپ نے دست کا گوشت لے کر اس میں سے کچھ کھایا، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا، پھر ان سے آپ نے فرمایا : اپنے ہاتھ روک لو اور آپ نے اس یہودیہ کو بلا بھیجا، اور اس سے سوال کیا : کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا ؟ یہودیہ بولی : آپ کو کس نے بتایا ؟ آپ نے فرمایا : دست کے اسی گوشت نے مجھے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے وہ بولی : ہاں (میں نے ملایا تھا) ، آپ نے پوچھا : اس سے تیرا کیا ارادہ تھا ؟ وہ بولی : میں نے سوچا : اگر نبی ہوں گے تو زہر نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر نہیں ہوں گے تو ہم کو ان سے نجات مل جائے گی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف کردیا، کوئی سزا نہیں دی، اور آپ کے بعض صحابہ جنہوں نے بکری کا گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے، رسول اللہ ﷺ نے بکری کے گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے شانوں کے درمیان پچھنے لگوائے، جسے ابوہند نے آپ کو سینگ اور چھری سے لگایا، ابوہند انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کے غلام تھے۔
Narrated Ibn Shihab (RA) : Jabir ibn Abdullah used to say that a Jewess from the inhabitants of Khaybar poisoned a roasted sheep and presented it to the Messenger of Allah ﷺ who took its foreleg and ate from it. A group of his companions also ate with him. The Messenger of Allah ﷺ then said: Take your hands away (from the food). The Messenger of Allah ﷺ then sent someone to the Jewess and he called her. He said to her: Have you poisoned this sheep? The Jewess replied: Who has informed you? He said: This foreleg which I have in my hand has informed me. She said: Yes. He said: What did you intend by it? She said: I thought if you were a prophet, it would not harm you; if you were not a prophet, we should rid ourselves of him (i. e. the Prophet). The Messenger of Allah ﷺ then forgave her, and did not punish her. But some of his companions who ate it, died. The Messenger of Allah ﷺ had himself cupped on his shoulder on account of that which he had eaten from the sheep. Abu Hind cupped him with the horn and knife. He was a client of Banu Bayadah from the Ansar.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٠٠٦) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/المقدمة ١١ (٦٩) (ضعیف )
ابوسلمہ (رض) کہتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے رسول اللہ ﷺ کو بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی، پھر راوی نے ویسے ہی بیان کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے، ابوسلمہ کہتے ہیں : پھر بشر بن براء بن معرور انصاری فوت ہوگئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا : تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا ؟ پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا : تو وہ قتل کردی گئی، اور انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Salamah (RA) : A Jewess presented a roasted sheep to the Messenger of Allah ﷺ at Khaybar. He then mentioned the rest of the tradition like that of Jabir (No. 4495). He said: Then Bashir ibn al-Bara ibn Marur al-Ansari died. He sent someone to call on the Jewess, and said to her (when she came): What motivated you to do the work you have done? He then mentioned the rest of the tradition similar to the one mentioned by Jabir (No. 4495). The Messenger of Allah ﷺ then ordered regarding her and she was killed. But he (Abu Salamah) did not mention the matter of cupping. Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would accept a present, but would not accept alms (sadaqah). And Wahb bin Baqiyyah narrated to us, elsewhere, from Khalid, from Muhammad ibn Amr said on the authority of Abu Salamah, and he did not mention the name of Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to accept presents but not alms (sadaqah). This version adds: So a Jewess presented him at Khaybar with a roasted sheep which she had poisoned. The Messenger of Allah ﷺ ate of it and the people also ate. He then said: Take away your hands (from the food), for it has informed me that it is poisoned. Bishr ibn al-Bara ibn Marur al-Ansari died. So he (the Prophet) sent for the Jewess (and said to her): What motivated you to do the work you have done? She said: If you were a prophet, it would not harm you; but if you were a king, I should rid the people of you. The Messenger of Allah ﷺ then ordered regarding her and she was killed. He then said about the pain of which he died: I continued to feel pain from the morsel which I had eaten at Khaybar. This is the time when it has cut off my aorta.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے پہلی والی حدیث میں معاف کردیئے جانے کا ذکر ہے، جبکہ اس حدیث میں قتل کئے جانے کا ذکر ہے، قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ شروع میں جب زہر کھلانے کا علم ہوا، اور کہا گیا کہ اسے قتل کردیا جائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، لیکن جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن البراء بن معرور انتقال کرگئے تب آپ نے اس یہودیہ کو ان کے ورثہ کے حوالے کردیا، پھر وہ بطور قصاص قتل کی گئی۔ (عون المعبود ١٢ ؍ ١٤٩ )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : اپنے ہاتھ روک لو، اس (گوشت) نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے چناچہ بشر بن براء بن معرور انصاری مرگئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا : ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا ؟ وہ بولی : اگر آپ نبی ہیں تو جو میں نے کیا ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں نے لوگوں کو آپ سے نجات دلا دی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو وہ قتل کردی گئی، پھر آپ نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں فرمایا : جس میں آپ نے وفات پائی کہ میں برابر خیبر کے اس کھانے کے اثر کو محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت آگیا کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٤٥٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٢٢) (حسن صحیح) (ابوسلمہ نے اس حدیث میں ابوہریرہ (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن اس سے پہلے اور بعد کی حدیثوں میں صراحت ہے ملاحظہ ہو نمبر : ٤٥٠٩ اور ٤٥١٢ )
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٠٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٥٩) (حسن صحیح )
کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ام مبشر (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی کہا : اللہ کے رسول ! آپ کا شک کس چیز پر ہے ؟ میرے بیٹے کے سلسلہ میں میرا شک تو اس زہر آلود بکری پر ہے جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے سلسلہ میں بھی میرا شک اسی پر ہے، اور اب یہ وقت آچکا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرزاق نے کبھی اس حدیث کو معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور کبھی معمر نے اسے زہری سے اور، زہری نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس حدیث کو ان سے کبھی مرسلاً روایت کرتے تو وہ اسے لکھ لیتے اور کبھی مسنداً روایت کرتے تو بھی وہ اسے بھی لکھ لیتے، اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں : جب ابن مبارک معمر کے پاس آئے تو معمر نے وہ تمام حدیثیں جنہیں وہ موقوفاً روایت کرتے تھے ان سے متصلًا روایت کیں۔
Narrated Ibn Kab bin Malik: On the authority of his father: Umm Mubashshir said to the Prophet ﷺ during the sickness of which he died: What do you think about your illness, Messenger of Allah ﷺ ? I do not think about the illness of my son except the poisoned sheep of which he had eaten with you at Khaybar. The Prophet ﷺ said: And I do not think about my illness except that. This is the time when it cut off my aorta. Abu Dawud said: Sometime Abd al-Razzaq transmitted this tradition, omitting the link of the Companion, from Mamar, from al-Zuhri, from the Prophet ﷺ , and sometimes he transmitted it from al-Zuhri from Abdur-Rahman bin Kab bin Malik, Abdur-Rahman mentioned that Mamar sometimes transmitted the tradition in a mursal form (omitting the link of the Companion), and they recorded it. And all this is correct with us. Abd al-Razzaq said: When Ibn al-Mubarak came to Mamar, he transmitted the traditions in a musnad form (with a perfect chain) which he transmitted as mauquf traditions (statements of the Companions and not of the Prophet). Narrated Abdur-Rahman bin Abdullah bin Kab bin Malik: On the authority of his mother than Umm Mubashshir said (Abu Saeed bin al-Arabi said: So he said it on the authority of his mother ; what is correct is: on the authority of his father, instead of his mother): I entered upon the Prophet ﷺ . He then mentioned the tradition of Makhlad bin Khalid in a way similar to the tradition of Jabir. The narrator said: Then Bishr bin al-Bara bin Marur died. So he (the Prophet) sent for the Jewess and said: What did motivate you for your work you have done ? He (the narrator) then mentioned the rest of the tradition like the tradition of Jabir. The Messenger of Allah ﷺ ordered regarding her and she was killed. He (the narrator in this version) did not mention cupping.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١١٣٩، ١٩٨١٥، ١٨٣٥٨، ١٨٣٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦/١٨) (صحیح )
ام مبشر (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے، اس میں ہے کہ بشر بن براء بن معرور مرگئے، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا : یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا ؟ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور وہ قتل کردی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١١٣٩، ١٨٣٥٨) (صحیح )
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے ۔
Narrated Samurah (RA) : The Prophet ﷺ Said: If anyone kills his slave, we shall kill him, and if anyone cuts off the nose of his slave, we shall cut off his nose.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ١٨ (١٤١٤) ، سنن النسائی/القسامة ٦ (٤٧٤٠) ، ٧ (٤٧٤٣) ، ١٢ (٤٧٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨) ، دی/ الدیات ٧ (٢٤٠٣) (ضعیف) (سند میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حسن بصری نے عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ سے دوسری احادیث نہیں سنی ہے )
اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے۔
Narrated Qatadah (RA) : Through the same chain of narrators as mentioned before, i. e. Samurah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone castrates his slave, we shall castrate him. He then mentioned the rest of the tradition like that of Shubah and Hammad. Abu Dawud said: Abu Dawud al-Tayalisi transmitted it from Hisham like the tradition of Muadh.
اس سند سے بھی قتادہ سے شعبہ کی سند والی روایت کے مثل مروی ہے اس میں اضافہ ہے کہ پھر حسن (راوی حدیث) اس حدیث کو بھول گئے چناچہ وہ کہتے تھے : آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
Qatadah transmitted the tradition mentioned above through a chain of narrators like that of Shubah. This version adds: Then al-Hasan forgot this tradition, and he used to say: A free man is not to be killed for a slave.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا : ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا ؟ اس نے کہا : برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لاسکا تب آپ نے (اس غلام سے) فرمایا : جاؤ تم آزاد ہو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میری مدد کون کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہر مومن پر یا کہا : ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے۔
Narrated Amr bin Shuaib: On his fathers authority, said that his grandfather told that a A man came to the Prophet ﷺ crying for help. He said: His slave-girl, Messenger of Allah! He said: Woe to you, what happened with you ? He said that it was an evil one. He saw the slave-girl of his master; he became jealous of him, and cut off his penis. The Messenger of Allah ﷺ said: Bring the man to me. The man was called, but people could not get control over him. The Messenger of Allah ﷺ then said: Go away, you are free. He asked: Messenger of Allah! upon whom does my help lie? He replied: On every believer, or he said: On every Muslim. Abu Dawud said: The name of the man who was emancipated was Rawh bin Dinar Abu Dawud said: The man who cut off the penis was Zinba Abu Dawud said: The Zinba Abu Rawh was master of the slave.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٩ (٢٦٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٧١٦، ٤٥٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٢، ٢٢٥) (حسن )
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں (چلتے چلتے) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے، پھر عبداللہ بن سہل قتل کردیے گئے، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑوں کا لحاظ کرو (اور انہیں گفتگو کا موقع دو ) یا یوں فرمایا : بڑے کو پہلے بولنے دو چناچہ ان دونوں (حویصہ اور محیصہ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کردیا جائے ان لوگوں نے کہا : یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں ؟ آپ نے فرمایا : پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے وہ بولے : اللہ کے رسول ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار ؟ ) چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی، سہل کہتے ہیں : ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے : کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو ؟ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے ابتداء تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔
Narrated Sahl bin Abi Hathmah and Rafi bin Khadij (RA) : Muhayyasah bin Masud and Abdullah bin Sahl came to Khaibar and parted (from each other) among palm trees. Abdullah bin Sahl was killed. The Jews were blamed (for the murder). Abdur-Rahman bin Sahl and Huwayyasah and Muhayyasah, the sons of his uncle (Masud) came to the Prophet ﷺ . Abdur-Rahman, who was the youngest, spoke about his brother, but the Messenger of Allah ﷺ said to him: (Respect) the elder, (respect) the elder or he said: Let the eldest begin. They then spoke about their friend and the Messenger of Allah ﷺ said: Fifty of you should take oaths regarding a man from them (the Jews) and he should be entrusted (to him) with his rope (in his neck). They said: It is a matter which we did not see. How can we take oaths ? He said: The Jews exonerate themselves by the oaths of fifty of them. They said: Messenger of Allah! they are a people who are infidels. So the Messenger of Allah ﷺ paid them bloodwit himself. Sahl said: Once I entered the resting place of their camels, and the she-camel struck me with her lef. Hammad said this or (something) similar to it. Abu Dawud said: Another version transmitted by Yahya bin Saeed has: Would you swear fifty oaths and make you claim regarding your friend or your slain man ? Bishr, the transmitter, did mention blood. Abdah transmitted it from Yahya as transmitted by Hammad. Ibn Uyainah has also transmitted it from Yahya, and began with his words: The Jew will exonerate themselves by fifty oaths which they will swear. He did not mention the claim. Abu Dawud said: This is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : قسامہ یہ ہے کہ جب مقتول کی نعش کسی بستی یا محلہ میں ملے اور اس کا قاتل معلوم نہ ہو تو مقتول کے ورثہ کا جس پر گمان ہو اس پر پچاس قسمیں کھائیں کہ اس نے قتل کیا ہے اگر مقتول کے ورثہ قسم کھانے سے انکار کریں تو اہل محلہ میں سے جنہیں وہ اختیار کریں ان سے قسم لی جائے گی، اگر قسم کھا لیں تو ان پر کچھ مواخذہ نہیں ، اور قسم نہ کھانے کی صورت میں وہ دیت دیں، اور اگر نہ مقتول کے ولی قسم کھائیں، اور نہ ہی بستی یا محلہ والے تو سرکاری خزانہ سے اس مقتول کی دیت ادا کی جائے گی، جیسا کہ آپ ﷺ نے ادا کیا۔
سہل بن ابی حثمہ انصاری (رض) اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ (رض) کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا، وہ (محیصہ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے : قسم اللہ کی ! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے، وہ بولے : اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں (رسول اللہ ﷺ کے پاس) آئے، محیصہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کیونکہ وہی خیبر میں ساتھ تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑوں کو بڑائی دو آپ کی مراد عمر میں بڑائی سے تھی چناچہ حویصہ نے گفتگو کی، پھر محیصہ نے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یا تو یہ لوگ تمہارے آدمی کی دیت دیں، یا لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں پھر آپ نے اس سلسلے میں انہیں خط لکھا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ اللہ کی قسم ! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، تو آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے پوچھا : کیا تم قسم کھاؤ گے کہ اپنے بھائی کے خون کا مستحق بن سکو ؟ انہوں نے کہا : نہیں، اس پر آپ نے فرمایا : تو پھر یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے اس پر وہ کہنے لگے : وہ تو مسلمان نہیں ہیں، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی، اور سو اونٹ بھیج دیے گئے یہاں تک کہ وہ ان کے مکان میں داخل کردیے گئے، سہل کہتے ہیں : انہیں میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری ہے۔
Sahl bin Abi Hathmah and some senior men of the tribe told that Abdullah bin Abi Sahl and Muhayyasah came to Khaibar on account of the calamity (i. e. famine) that befall them. Muhayyasah came and told the Abdullah bin Sahl had been killed and thrown in a well or stream. He hen came to the Jews and said: I swear by Allah, you have killed him. They said: We swear by Allah, we have not killed him. He then proceeded and came to his tribe and mentioned this to them. Then he, his brother Huwayyasah, who was older to him, and Abdur-Rahman bin Sahl came forward (to the Prophet). Muhayyasah began to speak. It was he who was at Khaibar. The Messenger of Allah ﷺ then said to him: Let the eldest (speak), let the eldest (speak), meaning age. So Huwayyasah spoke, and after him Muhayyasah spoke. The Messenger of Allah ﷺ then said: They should either pay the bloodwit for you friend or they should be prepared for war. So the Messenger of Allah ﷺ wrote to them about it. They wrote (in reply): We swear by Allah, we have not killed him. The Messenger of Allah ﷺ then said to Huwayyasah, Muhayyasah and Abdur-Rahman: Will you take an oath and thus have the claim to the blood of your friend ? They said: No. He (the Prophet) said: The Jews will then take an oath. They said: They are not Muslims. Then the Messenger of Allah ﷺ himself paid the bloodwit. The Messenger of Allah ﷺ then sent on one hundred she-camels and they were entered in their house. Sahl said: A red she-camel of them gave me a kick.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٣٦، ٤٦٤٤، ١٥٥٩٢) (صحیح )
عمرو بن شعیب رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃ الرغاء ١ ؎ میں لیۃ البحرہ ٢ ؎ کے کنارے پر قتل کیا، راوی کہتے ہیں : قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے، ببحرة الرغاء على شطر لية البحر کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں۔
Narrated Amr bin Shuaib: The Messenger of Allah ﷺ killed a man of Banu Nadr ibn Malik at Harrah ar-Righa at the bank of Layyat al-Bahrah. The transmitter Mahmud (ibn Khalid) also mentioned the words along with the words at Bahrah the slayer and the slain were from among them. Mahmud alone transmitted in this tradition the words at the bank of Layyah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎ : ایک وادی کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١٧٣) (ضعیف) (اس سند میں عمرو بن شعیب نے رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے روایت کی ہے، عموماً وہ اپنے والد اور ان کے والد عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں، اس لئے سند میں اعضال ہیں یعنی مسلسل دو راوی ایک جگہ سے ساقط ہیں )
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہوگئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا : تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے : ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چناچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا : تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا : پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے وہ کہنے لگے : ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہوجائے چناچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی۔
Narrated Bashir bin Yasar (RA) : That a man of the Ansar called Sahl bin Abi Hathmah told him that some people of his tribe went to Khaibar and separated there. They found one of them slain. They said to those with whom they had found him: You have killed our friend. They replied: We did not kill him, nor do we know the slayer. We (the people of the slain) then went to the Prophet of Allah ﷺ . He said to them: Bring proof against the one who has slain him. They replied: We have no proof. He said: Then they will take an oath for you. They said: We do not accept the oaths of the Jews. The Messenger of Allah ﷺ did not like no responsibility should be fixed for his blood. So he himself paid his bloodwit consisting of one hundred camels of sadaqah (i. e. camels sent to the Prophet as zakat).
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٤٥٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٤، ١٥٥٣٦، ١٥٥٩٢) (صحیح )
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کردیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہوجانے کی گواہی دیں ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کرلیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : A man of the Ansar was killed at Khaybar and his relatives went to the Prophet ﷺ and mentioned that to him. He asked: Have you two witnesses who can testify to the murderer of your friend? They replied: Messenger of Allah! there was not a single Muslim present, but only Jews who sometimes have the audacity to do even greater crimes than this. He said: Then choose fifty of them and demand that they take an oath; but they refused and the Prophet ﷺ paid the blood-wit himself.
عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہوگیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا : ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں : اس پر اس کی دیت رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے سو اونٹ (خود) ادا کی۔
Narrated Abdur-Rahman bin Bujaid: I swear by Allah, Sahl had a misunderstanding about this tradition. The Messenger of Allah ﷺ wrote to the Jews: A slain man has been found amongnst you, so pay his bloodwit. They wrote (to him): Swearing by Allah fifty oaths, we neither killed him nor do we know his slayer. He said: Then the Messenger of Allah ﷺ himself paid his bloodwit which consisted of one hundred she-camels.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٥٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٨٦) (منکر )
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پہلے یہود سے کہا : تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے انصار سے کہا : تم اپنا حق ثابت کرو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے ؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔
Narrated Abu Salamah bin Abdur-Rahman and Sulaiman bin Yasar: On the authority of some men of the Ansar: The Prophet ﷺ said to the Jews and started with them: Fifty of you should take the oaths. But they refused (to take the oaths). He then said to the Ansar: Prove your claim. They said: Do we take the oaths without seeing, Messenger of Allah? The Messenger of Allah ﷺ then imposed the blood-wit on the Jews because he (the slain) was found among them.