انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا : کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔
Narrated Anas (RA) : A girl was found with her head crushed between two stones. She was asked: Who has done this to you ? Is it so and so ? Is it so and so, until a Jew was named, and she gave a sign with her head. The Jew was caught ad he admitted. So the Prophet ﷺ gave command that his head should be crushed with stones.
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کردیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے تو اسے رجم کردیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Anas (RA) : A Jew killed a girl of the Ansar for her ornaments. He then threw her in a well, and crushed her head with stones. He was then arrested and brought to the Prophet ﷺ . He ordered regarding him that he should be stoned to death. He was then stoned till he died. Abu Dawud said: It has been transmitted by Ibn Juraij from Ayyub in a similar way.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحدود ٣ (١٦٧٢) ، سنن النسائی/ المحاربة ٧ (٤٠٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٦٣) (صحیح )
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا : تجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے ؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے پھر پوچھا : تجھے کس نے قتل کیا ؟ فلاں نے قتل کیا ہے ؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے پھر پوچھا : کیا فلاں نے کیا ہے ؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان (کچل کر) مار ڈالا گیا۔
Narrated Anas (RA) : A girl was wearing silver ornaments. A Jew crushed her head with a stone. The Messenger of Allah ﷺ entered upon her when she had some breath. He said to her: Who has killed you ? Had so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Who has killed you ? Has so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Has so and so killed you ? She said: Yes, making sign with her head. The Messenger of Allah ﷺ commanded regarding him, and he was killed between two stones.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٥٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣١) (صحیح )
قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ میں اور اشتر دونوں علی (رض) کے پاس آئے اور ہم نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو ؟ وہ بولے : نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں : پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب (نکالی) اس میں یہ لکھا تھا : سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ١ ؎، آگاہ رہو ! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہوگی، اور جو نئی بات نکالے گا، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص (بدعتی) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مسدد کہتے ہیں : ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی۔
Narrated Qays ibn Abbad (RA) : I and Ashtar went to Ali and said to him: Did the Messenger of Allah ﷺ give you any instruction about anything for which he did not give any instruction to the people in general? He said: No, except what is contained in this document of mine. Musaddad said: He then took out a document. Ahmad said: A document from the sheath of his sword. It contained: The lives of all Muslims are equal; they are one hand against others; the lowliest of them can guarantee their protection. Beware, a Muslim must not be killed for an infidel, nor must one who has been given a covenant be killed while his covenant holds. If anyone introduces an innovation, he will be responsible for it. If anyone introduces an innovation or gives shelter to a man who introduces an innovation (in religion), he is cursed by Allah, by His angels, and by all the people. Musaddad said: Ibn Abu Urubahs version has: He took out a document.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دے دے تو کوئی مسلمان اسے توڑ نہیں سکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٥ (٤٧٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٢٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : … پھر راوی نے علی (رض) کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ said, mentioning the tradition similar to the one transmitted by Ali. This version adds: The most distant of them gives protection as from all, those who are strong among them send back (spoil) to those who are weak among them, and their expeditions sending it back to those who are at home.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وقد مضی بتمامہ ٢٧٥١، (تحفة الأشراف : ٨٨١٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٣١ (٢٦٨٥) (حسن صحیح )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں سعد نے کہا : کیوں نہیں، اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی (میں تو اسے قتل کر دوں گا) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سنو ! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں (عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، (سنو) جو سعد کہہ رہے ہیں) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : That Saad bin Ubadah said: Messenger of Allah! If a man finds a man with his wife, should he kill him ? The Messenger of Allah ﷺ said: No. Saad (RA) : Why not, by Him who has honoured you with truth ? The Prophet ﷺ said: Listen to what your chief is saying. The narrator Abd al-Wahhab said: (Listen) to what Saad is saying.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٤ (٢٦٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٩٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الأقضیة ١٩ (١٧) ، الحدود ١(٧) ، مسند احمد (٢/٤٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : That Saad bin Ubadah said to the Messenger of Allah ﷺ : What do you think if I find with my wife a man ; should I give him some time until I bring four witnesses ? He said: Yes.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک شخص نے اپنی زکاۃ کے سلسلہ میں ان سے جھگڑا کرلیا، ابوجہم نے اسے مارا تو اس کا سر زخمی ہوگیا، تو لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! قصاص دلوائیے، اس پر آپ نے ان سے فرمایا : تم اتنا اور اتنا لے لو لیکن وہ لوگ راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے فرمایا : اچھا اتنا اور اتنا لے لو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا : اچھا اتنا اور اتنا لے لو اس پر وہ رضامند ہوگئے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آج شام کو میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی خبر دوں گا لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا، اور فرمایا : قبیلہ لیث کے یہ لوگ قصاص کے ارادے سے میرے پاس آئے ہیں تو میں نے ان کو اتنا اور اتنا مال پیش کیا اس پر یہ راضی ہوگئے ہیں (پھر آپ نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا :) بتاؤ کیا تم لوگ راضی ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں، تو مہاجرین ان پر جھپٹے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان سے باز رہنے کا حکم دیا، چناچہ وہ رک گئے، پھر آپ نے انہیں بلایا، اور کچھ اضافہ کیا پھر پوچھا : کیا اب تم راضی ہو ؟ انہوں نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : میں لوگوں کو خطاب کروں گا، اور انہیں تمہاری رضا مندی کے بارے میں بتاؤں گا لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے خطاب کیا، اور پوچھا : کیا تم راضی ہو ؟ وہ بولے : ہاں۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ sent Abu Jahm ibn Hudhayfah as a collector of zakat. A man quarrelled with him about his sadaqah (i. e. zakat), and Abu Jahm struck him and wounded his head. His people came to the Prophet ﷺ and said: Revenge, Messenger of Allah! The Prophet ﷺ said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. So they agreed. The Prophet ﷺ said: I am going to address the people in the afternoon and tell them about your consent. They said: Yes. Addressing (the people), the Messenger of Allah ﷺ said: These people of faith came to me asking for revenge. I presented them with so much and so much and they agreed. Do you agree? They said: No. The immigrants (muhajirun) intended (to take revenge) on them. But the Messenger of Allah ﷺ commanded them to refrain and they refrained. He then called them and increased (the amount), and asked: Do you agree? They replied: Yes. He said: I am going to address the people and tell them about your consent. They said: Yes. The Prophet ﷺ addressed and said: Do you agree? They said: Yes.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٠ (٤٧٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٣ (٢٦٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٣٢) (صحیح )
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں، چناچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کرلیا تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔
Narrated Anas (RA) : A girl was found with her head crushed between two stoned. She was asked: Who did it with you ? Was it so and so ? Was it so and so ? Until the Jew was named. Thereupon she gave a sign with her head. The Jew was arrested and he admitted. So the Prophet ﷺ gave command that his head should be crushed with stones.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٥٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩١) (صحیح )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آگئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : آؤ قصاص لے لو ١ ؎ وہ بولا : اللہ کے رسول ! میں نے معاف کردیا۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ was distributing something, a man came towards him and bent down on him. The Messenger of Allah ﷺ struck him with a bough and his face was wounded. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Come and take retaliation. He said: no, I have forgiven, Messenger of Allah!.
Notes · وضاحت
١ ؎ : سبحان اللہ ! رسول اکرم ﷺ کس قدر عادل تھے کہ جو تکلیف کسی کو غلطی سے پہنچ جاتی اس سے بھی قصاص لینے کو کہتے اور اپنی عظمت کا خیال نہ کرتے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ١٦ (٤٧٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٢٨) (ضعیف )
ابوفراس کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ہم سے خطاب کیا اور کہا : میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا عمرو بن العاص (رض) نے کہا : اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے، وہ بولے : ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے قصاص لوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا۔
Narrated Abu Firas: Umar bin al-Khattab (ra) addressed us and said: I did not send my collectors (of zakat) so that they strike your bodies and that they take your property. If that is done with someone and he appeals to me, I shall take retaliation on him. Amr ibn al-As said: If any man (i. e. governor) inflicts disciplinary punishment on his subjects, would you take retaliation on him too? He said: Yes, by Him in Whose hand my soul is, I shall take retaliation on him. I saw that the Messenger of Allah ﷺ has given retaliation on himself.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ١٩ (٤٧٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ١/٤١) (ضعیف )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں، پہلے جو سب سے قریبی ہے وہ معاف کرے، پھر اس کے بعد والے خواہ وہ عورت ہی ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عورتوں کا قتل کے سلسلے میں قصاص معاف کردینا جائز ہے جب وہ مقتول کے اولیاء میں سے ہوں، اور مجھے ابو عبید کے واسطے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے قول ينحجزوا کے معنی قصاص سے باز رہنے کے ہیں۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ Said: The disputants should refrain from taking retaliation. The one who is nearer should forgive first and then the one who is next to him, even if (the one who forgives) were a woman. Abu Dawud said: I have been informed that forgiving by women in the case of murder is permissible if a woman were one of the heirs (of the slain). I have been told on the authority of Abu Ubaid about the meaning of the word yanhajizu, that is, they should refrain from retaliation.
طاؤس کہتے ہیں کہ جو مارا جائے، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی کسی لڑائی یا دنگے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر، کوڑے، یا لاٹھی سے مارا جائے ١ ؎ تو وہ قتل خطا ہے، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے (البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ) اس میں ہاتھ کا قصاص ہے، ٢ ؎ (پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے ٣ ؎ تو اس پر اللہ کی لعنت، اور اس کا غضب ہو، اس کی نہ توبہ قبول ہوگی اور نہ فدیہ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Tawus, in his version said: If anyone is killed. Ibn Ubaid in his version said: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone is killed in error (blindly) when people are throwing stones, or by beating with whips, or striking with a stick, it is accidental and the compensation for accidental death is due. But if anyone is killed deliberately, retaliation is due. Ibn Ubaid in his version: Retaliation of the man is due. The agreed version then goes: If anyone comes in (between the two parties) to prevent it, Allahs curse and anger will rest on him, and neither supererogatory nor obligatory acts will be accepted from him. The version of the tradition of Sufyan is more perfect.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکے۔ ٢ ؎ : یعنی جان کا قصاص ہے جان کی تعبیر ہاتھ سے کی گئی ہے۔ ٣ ؎ : یعنی قصاص نہ لینے دے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا : جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ١ ؎ تیس بنت لبون ٢ ؎ تیس حقے ٣ ؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہوچکے ہوں ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ gave judgment that if anyone is killed accidentally, his blood-wit should be one hundred camels: thirty she-camels which had entered their second year, thirty she-camels which had entered their third year, thirty she-camels which had entered their fourth year, and ten male camels which had entered their third year.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ایسی اونٹنی جو ایک برس کی ہوچکی ہو۔ ٢ ؎ : ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہوچکی ہو۔ ٣ ؎ : ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہوچکی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/االدیات ١ (١٣٨٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٤ (٢٦٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٣، ١٨٤، ١٨٥، ١٨٦، ٢١٧، ٢٢٤) (حسن )
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دیت کی قیمت ١ ؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر (رض) خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا : سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر (رض) نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار (درہم) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں (مسلمانوں کی دیت کی طرح) اضافہ نہیں کیا۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported that the value of the blood-money at the time of the Messenger of Allah ﷺ was eight hundred dinars or eight thousand dirhams, and the blood-money for the people of the Book was half of that for Muslims. He said: This applied till Umar (Allah be pleased with him) became caliph and he made a speech in which he said: Take note! Camels have become dear. So Umar fixed the value for those who possessed gold at one thousand dinars, for those who possessed silver at twelve thousand (dirhams), for those who possessed cattle at two hundred cows, for those who possessed sheep at two thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing at two hundred suits. He left the blood-money for dhimmis (protected people) as it was, not raising it in proportion to the increase he made in the blood-wit.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی دیت کے اونٹوں کی قیمت۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٨) (حسن )
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد (محمد بن اسحاق) کو یاد نہیں رہا۔
Narrated Ata ibn Abu Rabah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave judgment that blood-wit for those who possessed camels should be one hundred camels, and for those who possessed cattle two hundred cows, and for those who possessed sheep one thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing two hundred suits, and for those who possessed wheat something which the narrator Muhammad (ibn Ishaq) did not remember. Abu Dawud said: I read out to Saeed bin Yaqub al-Taliqini who said: Abu Tumailah transmitted to us, saying: Muhammad bin Ishaq transmitted to us saying: Ata reported Jabir bin Abdullah as saying: The Messenger of Allah ﷺ fixed; and he mentioned the tradition like that of Musa; he said: And those who possess corn food should pay something which I do not remember.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٤٨٢) (ضعیف )
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مقرر کیا پھر راوی نے ایسے ہی ذکر کیا جیسے موسیٰ کی روایت میں ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ طعام والوں پر کچھ مقرر کیا جو کہ مجھ کو یاد نہیں رہا۔
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٤٨٢) (ضعیف )
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: The blood-wit for accidental killing should be twenty she-camels which had entered their fourth year, twenty she-camels which had entered their fifth year, twenty she-camels which had entered their second year, twenty she-camels which had entered their third year, and twenty male camels which had entered their second year. It does not beyond Ibn Masud.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ١ (١٣٨٦) ، سنن النسائی/القسامة ٢٨ (٤٨٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣١) ، (تحفة الأشراف : ٩١٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٤، ٤٥٠) ، دی/ الدیات ١٣ (٢٤١٢) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة مدلس اور کثیر الخطاء راوی ہیں اور خشف طائی مجہول )
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کردیا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man of Banu Adi was killed. The Prophet ﷺ fixed his blood-wit at the rate of twelve thousand (dirhams). Abu Dawud said: Ibn Uyainah transmitted it from Amr, from Ikrimah, from the Prophet ﷺ , and he did not mention Ibn Abbas.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٢ (١٣٨٨) ، سنن النسائی/القسامة ٢٩ (٤٨٠٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٦١٦٥) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الدیات ١١ (٢٤٠٨) (ضعیف) امام ابو داود نے واضح فرما دیا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے )
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مسدد کی روایت کے مطابق) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا : لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی (یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے) سنو ! وہ تمام فضیلتیں جو جاہلیت میں بیان کی جاتی تھیں اور خون یا مال کے جتنے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے پاؤں تلے ہیں (یعنی لغو اور باطل ہیں) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے (یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپرد پہلے تھی پھر فرمایا : سنو ! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں (اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے) ۔
Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : (Musaddads version has): The Messenger of Allah ﷺ made a speech on the day of the conquest of Makkah, and said: Allah is Most Great, three times. He then said: There is no god but Allah alone: He fulfilled His promise, helped His servant, and alone defeated the companies. (The narrator said:) I have remembered from Musaddad up to this. Then the agreed version has: Take note! All the merits mentioned in pre-Islamic times, and the claim made for blood or property are under my feet, except the supply of water to the pilgrims and the custody of the Kabah. He then said: The blood-money for unintentional murder which appears intentional, such as is done with a whip and a stick, is one hundred camels, forty of which are pregnant. Musaddads version is more accurate.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٧ (٤٧٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٨٩) (حسن )
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
انظر ما قبلہ ، (تحفة الأشراف : ٨٨٨٩)