عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: ہم ان کتوں سے شکار کرتے ہیں (آپ کیا فرماتے ہیں؟ ) تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑو تو وہ جو شکار تمہارے لیے پکڑ کر رکھیں انہیں کھاؤ گرچہ وہ انہیں مار ڈالیں سوائے ان کے جنہیں کتا کھالے، اگر کتا اس میں سے کھالے تو پھر نہ کھاؤ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو ۔
Narrated Adi bin Hatim: I asked the Messenger of Allah. I said: We hunt with these dogs. He replied: When you set off your dog and mention Allahs name over it, eat what it catches for you, even if it kills it, except that the dog has eaten (any of it); if the dog has eaten (any of it), do not eat, for Im afraid it has caught it only for itself.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصید ٧ (٥٤٨٣)، ١٠ (٥٤٨٧)، صحیح مسلم/ الصید ١ (١٩٢٩)، سنن ابن ماجہ/ الصید ٣ (٣٢٠٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٨، ٣٧٧) (صحیح )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم بسم اللہ کہہ کر تیر چلاؤ، پھر اس شکار کو دوسرے روز پاؤ (یعنی شکار تیر کی چوٹ کھا کر نکل گیا پھر دوسرے روز ملا) اور وہ تمہیں پانی میں نہ ملا ہو ١ ؎، اور نہ تمہارے تیر کے زخم کے سوا اور کوئی نشان ہو تو اسے کھاؤ، اور جب تمہارے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی شامل ہوگیا ہو (یعنی دونوں نے مل کر شکار مارا ہو) تو پھر اس کو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس جانور کو کس نے قتل کیا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ دوسرے کتے نے اسے قتل کیا ہو ۔
Narrated Adi bin Hatim: The Prophet ﷺ as saying: When you shoot your arrow and mention Allahs name, and you find it (the game) after a day, and you do not find it in water, and you find in it only the mark of you arrow, eat (it). But if another dog joins your dogs, do not eat it, for you do not know maybe the one which was not yours has killed it.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ کتے کے قتل کرنے کے سبب وہ ہلاک ہوا ہو بلکہ پانی ہی اس کے ہلاک ہونے کا سبب بنا ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٨٤٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٢) (صحیح )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کتے یا باز کو تم سدھا رکھو اور اسے اللہ کا نام لے کر یعنی (بسم اللہ کہہ کر) شکار کے لیے چھوڑو تو جس شکار کو اس نے تمہارے لیے روک رکھا ہو اسے کھاؤ ۔ عدی ؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے مار ڈالا ہو؟ آپ نے فرمایا: جب اس نے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو سمجھ لو کہ اس نے شکار کو تمہارے لیے روک رکھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: باز جب کھالے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور کتا جب کھالے تو وہ مکروہ ہے اگر خون پی لے تو کوئی حرج نہیں۔
Narrated Adi ibn Hatim: The Prophet ﷺ said: Eat what ever is caught for you by a dog or a hawk you have trained and set off when you have mentioned Allahs name. I said: (Does this apply) if it killed (the animal)? He said: When it kills it without eating any of it, for it caught it only for you. Abu Dawud said: If a hawk eats any of it, there is no harm (in eating it). If a dog eats it, it is disapproved (to eat the meat). If it drinks blood, there is no harm (in eating it).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصید ٣ (١٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٧، ٣٧٩) (صحیح) (مگر باز کا اضافہ منکر ہے )
ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شکاری کتے کے سلسلہ میں فرمایا: جب تم اپنے (شکاری) کتے کو چھوڑو، اور اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ کہہ) کر چھوڑو تو (اس کا شکار) کھاؤ اگرچہ وہ اس میں سے کھالے ١ ؎ اور اپنے ہاتھ سے کیا ہوا شکار کھاؤ ١ ؎۔
Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said about the game hunted by a dog: If you set off your dog and have mentioned Allahs name, eat (it), even if it eats any of it; and eat what your hands return you.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوثعلبہ خشنی ؓ کی اس حدیث اور عدی بن حاتم ؓ کی روایت کردہ اس سے ماقبل کی حدیث کے مابین تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ابوثعلبہ ؓ کی روایت کو بیان جواز پر، اور عدی بن حاتم ؓ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا، ایک تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ عدی بن حاتم ؓ کی حدیث حرمت کے سلسلہ میں اصل ہے، اور ابوثعلبہ ؓ کی روایت میں وإن أكل کے معنی ہیں اگرچہ وہ اس سے پہلے کھاتا رہا ہو مگر اس شکار میں اس نے نہ کھایا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما یأتي برقم: (٢٨٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٨) (منکر) (اس میں وإن أَکَلَ مِنْہ کا جملہ منکر ہے اور کسی راوی کے یہاں نہیں ہے، مسند احمد میں اس کی جگہ وإنّ قَتَلَ (اگرچہ قتل کر ڈالا ہو) کا جملہ ہے، اور یہ حدیث عدی ؓ کی حدیث کے مطابق ہے
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے شکار کو تیر مارتا ہے پھر اسے دو دو تین تین دن تک تلاش کرتا پھرتا ہے، پھر اسے مرا ہوا پاتا ہے، اور اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو کیا وہ اسے کھائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگر چاہے یا فرمایا: کھا سکتا ہے اگر چاہے ۔
Narrated Adi ibn Hatim: Messenger of Allah, one of us shoots at the game, and follows its mark for two or three days, and then finds it dead, and there is his arrow (pierced) in it, may he eat it? He said: Yes, if he wishes, or he said: he may eat if he wishes.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصید ٨ (٥٤٨٥ تعلیقًا) (صحیح )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے بےپر کے تیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ اپنی تیزی سے پہنچے تو کھاؤ (یعنی جب وہ تیزی سے گھس گیا ہو) ، اور جو تیر چوڑائی میں لگا ہو تو مت کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھایا ہوا ہے ۔ پھر میں نے کہا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں (اس بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: جب بِسْمِ اللهِ پڑھ کر چھوڑو تو کھاؤ، ورنہ نہ کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کھایا ہو تو اس کو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے ۔ پھر میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرا کتا بھی آ کر اس کے ساتھ لگ جاتا ہے (تب کیا کروں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: مت کھاؤ، اس لیے کہ بِسْمِ اللهِ تم نے صرف اپنے ہی کتے پر کہا ہے ۔
Narrated Adi bin Hatim: I asked Prophet ﷺ about featherless arrow. He said: If it strikes with its end, eat, and if it strikes with the middle part of it, do not eat, for it died by a violent blow. I said: I set off my dog? He replies: If you mention Allahs name, eat, otherwise do not eat. If it eats any of it, do not eat, for it caught for itself. He asked: I set off my dog, and I find with it another dog ? He replied: Do not eat, because you mentioned Allahs name on your dog.
ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے اور بےسدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو اس پر اللہ کا نام لو (یعنی بِسْمِ اللهِ کہو) اور کھاؤ، اور جو شکار اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو اور اس کے ذبح کو پاؤ (یعنی زندہ پاؤ) تو ذبح کر کے کھاؤ (ورنہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ کتا جو تربیت یافتہ نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا ذبح کے قائم مقام نہیں ہوسکتا) ۔
Narrated Abu Taalabat bin al-Khushani (RA) : I said: Messenger of Allah, I hunt with my trained dog, and with my untrained dog? He said: What you hunt with your trained dog, mention Allahs names (on it) and eat; and what you hunt with your untrained dog, and you find in a position that you slaughter it, then eat.
ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عرض کیا: ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ ۔ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ کتا سدھایا ہوا (شکاری) ہو، اور اپنے ہاتھ سے (یعنی تیر سے) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کرسکو یا نہ کرسکو ۔
Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: Abu Thalabah, eat what returns to you by your bow and your dog. Ibn Harbs version adds: The trained (dog), and your hand, then eat, whether it has been slaughtered or not slaughtered.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ابوثعلبہ ؓ نامی ایک دیہاتی نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس شکار کے لیے تیار سدھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے سلسلہ میں مجھے بتائیے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں انہیں کھاؤ ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: خواہ میں ان کو ذبح کرسکوں یا نہ کرسکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: اگرچہ وہ کتے اس جانور میں سے کھا لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگرچہ وہ اس جانور میں سے کھا لیں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تیر کمان سے شکار کے متعلق بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا تیر کمان جو تمہیں لوٹا دے اسے کھاؤ، خواہ تم اسے ذبح کر پاؤ یا نہ کر پاؤ ۔ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ شکار تیر کھا کر میری نظروں سے اوجھل ہوجائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہوجائے جب تک کہ گلے سڑے نہیں، اور تمہارے تیر کے سوا اس کی ہلاکت کا کوئی اور اثر معلوم نہ ہو سکے ۔ پھر انہوں نے کہا: مجوسیوں (پارسیوں) کے برتن کے متعلق بتائیے جب کہ ہمیں اس کے سوا دوسرا برتن نہ ملے، آپ ﷺ نے فرمایا: دھو ڈالو اور اس میں کھاؤ ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: There was a bedouin called Abu Thalabah. He said: Messenger of Allah, I have trained dogs, so tell me your opinion about (eating) the animal they hunt. The Prophet ﷺ said: If you have trained dogs, then eat what they catch for you. He asked: Whether it is slaughtered or not? He replied: Yes. He asked: Does it apply even if it eats any of it? He replied: Even if it eats any of it. He again asked: Messenger of Allah, tell me your opinion about my bow (i. e. the game hunted by arrow). He said: Eat what your bow returns to you, whether it is slaughtered or not. He asked: If it goes out of my sight? He replied: Even if it goes out of your sight, provided it has no stench, or you find a mark on it other than the mark of your arrow. He asked: Tell me about the use of the vessels of the Magians when we are forced to use them. He replied: Wash them and eat in them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٦٧١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصید ١٦ (٤٣٠١)، مسند احمد (٢/١٨٤) (حسن) (مگر وإن اَکَلَ منہ کا جملہ منکر ہے جو عدی کی حدیث (٢٨٥٤) کے مخالف ہے، اور نسائی کی روایت میں یہ جملہ ہے تو مگر اس میں اس کی جگہ وإن قتلنَ ہے جو عدی کی حدیث کے مطابق ہے )
ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ١ ؎۔
Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : The Prophet ﷺ said: When you shoot your arrow (and the animal goes out of your sight) and you come three days later on it, and in it there is your arrow, then eat provided it has not stench.
Notes · وضاحت
١ ؎: تیر کے موجود رہنے کی شرط اس لئے ہے کہ شکاری کو یہ یقین ہوجائے کہ شکار کی موت کا سبب شکاری کا تیر ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز اس کی موت کا سبب بنی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ٢ (١٩٣١)، سنن النسائی/الصید ٢٠ (٤٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو ۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: It is the duty of a Muslim man who has something which is to be given as bequest not to have it for two nights without having his will written regarding it.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی شخص کے ذمہ کوئی ایسا واجبی حق ہے جس کی ادائیگی ضروری ہے مثلاً قرض و امانت وغیرہ تو ایسے شخص پر وصیت واجب ہے اور اگر اس کے ذمہ کوئی واجبی حق نہیں ہے تو وصیت مستحب ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی وفات کے وقت) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ did not leave dinars, dirhams, camels and goats, nor did he leave will for anything.
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی کا مطلب یہ ہے کہ مال و جائیداد سے متعلق کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی، کیونکہ آپ ﷺ نے اپنی امت کو عام وصیت فرمائی ہے، مثلاً نماز سے متعلق وصیت، اسی طرح جزیرۃ العرب سے یہودیوں کو نکالنے کی وصیت وغیرہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٦ (١٦٣٥)، سنن النسائی/الوصایا ٢ (٣٦٥١)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ١ (٢٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٤) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ وہ بیمار ہوئے (ابن ابی خلف کی روایت میں ہے: مکہ میں، آگے دونوں راوی متفق ہیں کہ) اس بیماری میں وہ مرنے کے قریب پہنچ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی عیادت فرمائی، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں بہت مالدار ہوں اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، پوچھا: کیا آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، پھر پوچھا: تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تہائی مال (دے سکتے ہو) اور تہائی مال بھی بہت ہے، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور جو چیز بھی تم اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اٹھا کر دو گے تو اس کا ثواب بھی پاؤ گے ١ ؎، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ (یعنی آپ ﷺ مکہ سے چلے جائیں گے، اور میں اپنی بیماری کی وجہ سے مکہ ہی میں رہ جاؤں گا، جب کہ صحابہ مکہ چھوڑ کر ہجرت کرچکے تھے) ، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم پیچھے رہ گئے، اور میرے بعد میرے غائبانہ میں بھی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرتے رہے تو تمہارا درجہ بلند رہے گا، امید ہے کہ تم زندہ رہو گے، یہاں تک کہ تمہاری ذات سے کچھ اقوام کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ کو نقصان و تکلیف ٢ ؎، پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ: اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما، اور انہیں ان کے ایڑیوں کے بل پیچھے کی طرف نہ پلٹا ، لیکن بیچارے سعد بن خولہ ؓ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ رنج و افسوس کا اظہار فرماتے تھے کہ وہ مکہ ہی میں انتقال فرما گئے ٣ ؎۔
Narrated Amir bin Saad (RA) : On the authority of his father (Saad bin Abi Waqqas): When he (Saad) fell ill at Makkah (according to the version of Ibn Abi Kkalaf) - then the agreed version has: which brought him near to death - the Messenger of Allah ﷺ went to visit him. He said: Messenger of Allah, I have a large amount of property, and my daughter is my only heir. May I give two-thirds (of my property) as a sadaqah (charity)? He said: No. He asked: Then a half ? He replied: No. He asked: Then one-third ? He replied: (You may will away) a third and third is a lot. To leave your heirs rich is better than to leave them poor begging from people. You will not spend anything, seeking thereby to please Allah, without being rewarded for it, even the mouthful you give your wife. I said: Messenger of Allah, shall I be left behind form immigration (to Madina)? He said: If you remain behind after me and do good works seeking the pleasure of Allah, your rank will be raised and degree increased. Perhaps you will not remain behind, and some people will benefit from you and others will be harmed by you. He then said: O Allah, complete the immigration of my Companions and do not turn them back. But miserable was Saad bin Khawlah. The Messenger of Allah ﷺ lamented on him as he died at Makkah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وارثوں کا حق فقیروں پر مقدم ہے، اور تہائی سے زیادہ وصیت درست نہیں، اور بیوی بچوں پر خرچ کرنے میں بھی ثواب ہے، بشرطیکہ اسے اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر خرچ کرے۔ ٢ ؎: چناچہ ایسا ہی ہوا وہ اس کے بعد (٤٥) سال تک زندہ رہے، اور جنگ قادسیہ وغیرہ میں مسلم فوج کے قائد و سربراہ رہے اور رب العزت نے ان کے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح و کامرانی سے نوازا، جب کہ مشرکین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٣ ؎: سعد بن خولہ ؓ پر رسول اللہ ﷺ نے رنج و افسوس کا اظہار اس لئے کیا کہ ان کا انتقال مکہ میں ہوا، اور مکہ ہی سے وہ ہجرت کر کے گئے تھے، اگر وہ مکہ کے علاوہ دوسری سرزمین میں وفات پاتے تو ان کا مقام و مرتبہ کچھ اور ہوتا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو، اور تمہیں زندگی کی امید ہو، اور محتاجی کا خوف ہو، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ: فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اتنا، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہوچکا ہوگا ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man asked the Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, which sadaqah (charity) is the best ? He replied: (The best sadaqah is) that you give something as sadaqah (charity) when you are healthy, greedy, expect survival and fear poverty, and not that you postpone it until your death. and then you say: For so-and-so is such-and-such, and for so-and-so is such-and-such, while it was already for so-and-so.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرتے وقت جب مال کے وارث اس کے حقدار ہوگئے تو صدقہ کے ذریعہ ان کے حق میں خلل ڈالنا مناسب نہیں، بہتر یہ ہے کہ حالت صحت میں صدقہ کرے کیونکہ یہ اس کے لئے زیادہ باعث ثواب ہوگا۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا اپنی زندگی میں (جب تندرست ہو) ایک درہم خیرات کردینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: A man giving a dirham as sadaqah (charity) during his life is better than giving one hundred dirhams as sadaqah (charity) at the moment of his death.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٠٧١) (ضعیف) (اس کے راوی شرحبیل آخر عمر میں مختلط ہوگئے تھے )
ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں (کسی کو محروم کردیتے ہیں، کسی کا حق کم کردیتے ہیں) تو ان کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے ۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں: اس موقع پر ابوہریرہ ؓ نے آیت کریمہ من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار پڑھی یہاں تک کہ ذلک الفوز العظيم پر پہنچے۔ یعنی (اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو، یہ مقرر کیا ہوا اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار، یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (سورۃ النساء: ١١، ١٢) ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی اشعت بن جابر، نصر بن علی کے دادا ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A man or a woman acts in obedience to Allah for sixty years, then when they are about to die they cause injury by their will, so they must go to Hell. Then Abu Hurairah recited: After a legacy which you bequeath or a debt, causing no injury. . . that will be the mighty success. Abu Dawud said: Al-Ashath bin Jabir is the grandfather of Nasr bin Ali.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الوصایا ٢ (٢١١٧)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٣ (٢٧٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧٨) (ضعیف) (اس کے راوی شہر بن حوشب ضعیف ہیں )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تو تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہونا، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں اہل مصر منفرد ہیں۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: Abu Dharr, I see you weak, and I like for you what I like for myself. Do not be a leader of two (persons), and do not be a guardian of an orphan. Abu Dawud said: This has been narrated only by the people of Egypt.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح یتیم کے مال کا ولی بننا اور لوگوں پر حاکم بننا ایک مشکل کام ہے اور خوف کا باعث ہے اسی طرح وصیت کرنے والے کا وصی بننا بھی ایک مشکل عمل اور باعث خوف ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤ (١٨٢٥)، سنن النسائی/الوصایا ٩ (٣٦٩٧)، (تحفة الأشراف: ١١٩١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٠) (صحیح )