Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 144 of 265

2869Sunan Abu Dawood

والدین اور دسرے عزیزوں کے حق میں وصیت کا منسوخ ہونا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ سورة البقرة آية 180 فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: إن ترک خيرا الوصية للوالدين والأقربين اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے (سورۃ البقرہ: ١٨٠) ، وصیت اسی طرح تھی (جیسے اس آیت میں مذکور ہے) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کردیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Quranic verse goes: (It is prescribed when death approaches any of you), if he leaves any goods, that he may bequest to parents and next to kin. The bequest was made in this way until the verse of inheritance repealed it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٦٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الوصایا ٢٨ (٣٣٠٦) (حسن صحیح )
2870Sunan Abu Dawood

وار ثت کیلئے وصیّت کرنا درست نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے ١ ؎ لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no bequest must be made to an heir.

Notes · وضاحت
١ ؎: آیت میراث نازل فرما کر اس کا حصہ مقرر کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الوصایا ٥ (٢١٢٠)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٦ (٢٧١٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٧)، ویأتي ہذا الحدیث برقم: ٣٥٦٥ (حسن صحیح )
2871Sunan Abu Dawood

یتیم کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شریک کرنا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152 وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10 الآيَةَ، انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ، فَجَعَلَ يَفْضُلُ مِنْ طَعَامِهِ فَيُحْبَسُ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ سورة البقرة آية 220، فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں جب اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو مستحسن ہے (سورۃ الانعام: ١٥٢) : اور إن الذين يأکلون أموال اليتامى ظلما جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں (سورۃ النساء: ١٠) نازل فرمائی تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے جدا کردیا تو یتیم کا کھانا بچ رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا سڑ جاتا، یہ امر لوگوں پر شاق گزرا تو انہوں نے اس بات کو رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو اللہ نے یہ آیت ويسألونک عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانکم اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں (سورۃ البقرہ: ٢٢٠) اتاری تو لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When Allah, Most High, revealed the verses: Come not nigh to the orphans property except to improve it. And Those who unjustly eat up the property of orphans, everyone who had an orphan with him went and separated his food from his (orphans) food, and his drink from his drink, and began to detain the remaining food which he (the orphan) himself ate or spoiled. This fell heavy on them, and they mentioned this to the Messenger of Allah ﷺ . So Allah, Most High, revealed the verse: They ask thee concerning orphans. Say: The best thing to do is what is for their good; if ye mix their affairs with yours, they are your brethren. Then they mixed their food with his food and their drink with his drink.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الوصایا ١٠ (٣٦٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٩) (حسن )
2872Sunan Abu Dawood

یتیم کے متولی کو اس کے مال سے کس قدر لینے کا حق حاصل ہے؟

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِي يَتِيمٌ، قَالَ: فَقَالَ: كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَادِرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں محتاج ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میرے پاس ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاؤ، لیکن فضول خرچی نہ کرنا، نہ جلد بازی دکھانا (اس کے بڑے ہوجانے کے ڈر سے) نہ اس کے مال سے کما کر اپنا مال بڑھانا ١ ؎۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather told that a man came to the Prophet ﷺ and said: I am poor, I have nothing (with me), and I have an orphan. He said: Use the property of your orphan without spending it lavishly, hurrying and taking it as your own property.

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ضرورت کے بقدر تم کھاؤ، نہ کہ فضول خرچی کرو، یا یہ خیال کر کے یتیم بڑا ہوجائے گا تو مال نہ مل سکے گا جلدی جلدی خرچ کر ڈالو، یا اس میں سے اپنے لئے جمع کرلو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الوصایا ١٠(٣٦٩٨)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٩ (٢٧١٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٦) (حسن صحیح )
2873Sunan Abu Dawood

یتیم کتنی عمر کے بچہ کو کہا جاتا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ وَلَا صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں (یعنی جب جوان ہوگیا تو یتیم نہیں رہا) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ١ ؎۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: I memorised (a tradition) from the Messenger of Allah ﷺ : There is no orphanhood after puberty, and there is no silence for the whole day till the night.

Notes · وضاحت
١ ؎: زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عبادت کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ خاموشی کا روزہ رکھتے اور دوران خاموشی کسی سے بات نہیں کرتے تھے، اسلام نے اس طریقہ عبادت سے منع کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠١٦٠) (صحیح )
2874Sunan Abu Dawood

یتیم کا مال کھانے کی سخت وعید

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْغَيْثِ سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات تباہ و برباد کردینے والی چیزوں (کبیرہ گناہوں) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Refrain from seven (characteristics) which cause destruction. He was asked: What are they, Messenger of Allah ? He replied: To assign partner to Allah, magic, to kill a soul (man) which is prohibited by Allah except for which is due, to take usury, to consume the property of an orphan, to retreat on the day of the battle, and to slander chaste women, indiscreet but believing. Abu Dawud said: The name Abu al-Ghaith is Salim client of Ibn Muti.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢٣ (٢٧٦٦)، والطب ٤٨ (٥٧٦٤)، والحدود ٤٤ (٦٨٥٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٨ (٨٩)، سنن النسائی/الوصایا ١١ (٣٧٠١)، (تحفة الأشراف: ١٢٩١٥) (صحیح )
2875Sunan Abu Dawood

یتیم کا مال کھانے کی سخت وعید

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكَبَائِرُ ؟ فَقَالَ: هُنَّ تِسْعٌ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ زَادَ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا.

عمیر بن قتادۃ لیثی ؓ (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ نو ہیں ١ ؎، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر بیان ہوئی، اور اس میں: مسلمان ماں باپ کی نافرمانی، اور بیت اللہ جو کہ زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے کی حرمت کو حلال سمجھ لینے کا اضافہ ہے۔

Umair A Companion of the Prophet ﷺ said: A man asked him (the Prophet): Messenger of Allah, what are the grave sins? He replied: They are nine. He then mentioned the tradition to the same effect. This version adds: And disobedience to the Muslim parents, and to violate the sacred House, your qiblah (direction of prayer), in your life and after death.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں حصر اور استقصاء مقصود نہیں ان کے علاوہ اور بھی متعدد کبیرہ گناہ ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المحاریة ٣ (٤٠١٧) (وعندہ: ” تسع “ )، (تحفة الأشراف: ١٠٨٩٥) (حسن )
2876Sunan Abu Dawood

کفن کا کپڑا بھی مردہ کے مال میں داخل ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَمْ تَكُنْ لَهُ إِلَّا نَمِرَةٌ كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ.

خباب ؓ کہتے ہیں کہ مصعب بن عمیر ؓ احد کے دن قتل کردیے گئے، اور ان کے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہ تھا، جب ہم ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل جاتے اور جب دونوں پاؤں ڈھانکتے تو ان کا سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر اذخر ڈال دو ١ ؎۔

Narrated Khabbab (RA) : Musab bin Umar was killed at the battle of Uhud, and for him only a coarse cloth would be found as shroud. When we covered his head, his feet showed, and when we covered his feet, his head showed. So the Messenger of Allah ﷺ said: Cover his head with it (cloth), and put some rushes over his feet.

Notes · وضاحت
١ ؎: اذخر بلاد عرب میں ایک خوشبودار گھاس ہوتی ہے جو بہت سی ضرورتوں میں استعمال کی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢٧ (١٢٧٦)، مناقب الأنصار ٤٥ (٣٨٩٧)، المغازي ١٧ (٤٠٤٥)، ٢٦ (٤٠٨٢)، الرقاق ٧ (٦٤٣٢)، ١٦ (٦٤٤٨)، صحیح مسلم/الجنائز ١٣ (٩٤٠)، سنن الترمذی/المناقب ٥٤ (٣٨٥٣)، سنن النسائی/الجنائز ٤٠ (١٩٠٤)، (تحفة الأشراف: ٣٥١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٢، ٦/٣٩٥) (صحیح )
2877Sunan Abu Dawood

ایک شخص کوئی چیز ہبہ کردے اور پھر اسی چیز کو وصیت یا میراث کے ذریعہ پائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بَنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ، قَالَ: قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ، قَالَتْ: وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ قَالَتْ: وَإِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مرگئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی ، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مرگئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ١ ؎، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں تو اس کے لیے کافی ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں (کر لو) ۔

Narrated Buraidah (RA) : A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I donated my slave-girl to my mother, but she died and left the slave-girl. He said: Your reward became due, and she came back to you in inheritance. She said: She died while a months fasting was due from her. Would it be sufficient or be taken as completed if I fast on her behalf ? He said: Yes. She said: She also did not perform Hajj. Would it be sufficient or be taken completed if I perform (Hajj) on her behalf ? He said: Yes.

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض اہل علم کا خیال ہے کہ میت کی طرف سے روزہ رکھا جاسکتا ہے جب کہ علماء کی اکثریت کا کہنا ہے کہ بدنی عبادت میں نیابت درست نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ نماز میں کسی کی طرف سے نیابت نہیں کی جاتی، البتہ جن چیزوں میں نیابت کی تصریح ہے ان میں نیابت درست ہے جیسے روزہ و حج وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٩٨٠) (صحیح )
2878Sunan Abu Dawood

وقف کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ،عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُوَرَّثُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ، وَزَادَ عَنْ بِشْرٍ، وَالضَّيْفِ ثُمَّ اتَّفَقُوا لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، زَادَ عَنْ بِشْرٍ قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی مال نہیں ملا تو اس کے متعلق مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو زمین کی اصل (ملکیت) کو روک لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو ١ ؎، عمر ؓ نے ایسا ہی کیا کہ نہ زمین بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی، اور نہ میراث میں تقسیم ہوگی (بلکہ) اس سے فقراء، قرابت دار، غلام، مجاہدین اور مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ بشر کی روایت میں مہمان کا اضافہ ہے ، باقی میں سارے راوی متفق ہیں: جو اس کا والی ہوگا دستور کے مطابق اس کے منافع سے اس کے خود کھانے اور دوستوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ مال جمع کر کے رکھنے والا نہ ہو ۔ بشر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ محمد (ابن سیرین) کہتے ہیں: مال جوڑنے والا نہ ہو ۔

Narrated Ibn Umar (RA) : Umar got some land in Khaibar, and when to the Prophet ﷺ and said: I have acquired land in Khaibar which I consider to be more valuable than any I have acquired ; so what do you command me to do with it ? He replied: If you wish, you may make the property as inalienable possession, and give its produce as sadaqah (charity). So Umar gave it as a sadaqah declaring that the property must not be sold, given away, or inherited: (and gave its produce as sadaqah to be devoted) to poor, relatives, the emancipation of slaves, Allahs path, travellers. The narrator Bishr added: and guests. Then the agreed version goes: No sin being committed by the one who administers it if he eats something from it in a reasonable manner, or gives something to a friend, who does not make his own property. The narrator Bishr added: (provided) he is not storing-up goods (for himself).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ پہلا اسلامی وقف ہے جس کی ابتداء عمر ؓ کی ذات سے ہوئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشروط ١٩ (٢٧٣٧)، والوصایا ٢٢ (٢٧٦٤)، ٢٨ (٢٧٧٢)، ٣٢ (٢٧٧٧)، صحیح مسلم/الوصایا ٤ (١٦٣٢)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٦ (١٣٧٥)، سنن النسائی/الإحب اس ١ (٣٦٢٩)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٤ (٢٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٥، ١٢٥) (صحیح )
2879Sunan Abu Dawood

وقف کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بِنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ صَدَقَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَسَخَهَا لِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا كَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ فِي ثَمْغٍ فَقَصَّ مِنْ خَبَرِهِ نَحْوَ حَدِيثِ نَافِعٍ قَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا فَمَا عَفَا عَنْهُ مِنْ ثَمَرِهِ فَهُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ، قَالَ: وَسَاقَ الْقِصَّةَ قَالَ: وَإِنْ شَاءَ وَلِيُّ ثَمْغٍ اشْتَرَى مِنْ ثَمَرِهِ رَقِيقًا لِعَمَلِهِ وَكَتَبَ مُعَيْقِيبٌ وَشَهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَرْقَمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ، أَنَّ ثَمْغًا، وَصِرْمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ، وَالْعَبْدَ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ، وَرَقِيقَهُ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ الَّتِي أَطْعَمَهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَادِي تَلِيهِ حَفْصَةُ مَا عَاشَتْ، ثُمَّ يَلِيهِ ذُو الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَنْ لَا يُبَاعَ وَلَا يُشْتَرَى يُنْفِقُهُ حَيْثُ رَأَى مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِي الْقُرْبَى وَلَا حَرَجَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ إِنْ أَكَلَ أَوْ آكَلَ أَوِ اشْتَرَى رَقِيقًا مِنْهُ.

یحییٰ بن سعید سے عمر بن خطاب ؓ کے صدقہ کے متعلق روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے مجھے عمر بن خطاب ؓ کے صدقے کی کتاب نقل کر کے دی، اس میں یوں لکھا ہوا تھا: بسم الله الرحمن الرحيم، یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ کے بندے عمر نے ثمغ (اس مال یا باغ کا نام ہے جس کو عمر ؓ نے مدینہ یا خیبر میں وقف کیا تھا) کے متعلق لکھا ہے ، پھر وہی تفصیل بیان کی جو نافع کی حدیث میں ہے اس میں ہے: مال جوڑنے والے نہ ہوں، جو پھل اس سے گریں وہ مانگنے اور نہ مانگنے والے فقیروں اور محتاجوں کے لیے ہیں ، راوی کہتے ہیں: اور انہوں نے پورا قصہ بیان کیا، اور کہا کہ: ثمغ کا متولی پھلوں کے بدلے (باغ کے) کام کاج کے لیے غلام خریدنا چاہے تو اس کے پھل سے خرید سکتا ہے ، معیقیب نے اسے لکھا اور عبداللہ بن ارقم نے اس بات کی یوں گواہی دی۔ بسم الله الرحمن الرحيم، یہ وہ وصیت نامہ ہے جس کی اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر ؓ نے وصیت کی اگر مجھے کوئی حادثہ پیش آجائے (یعنی مرجاؤں) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور غلام جو اس میں ہے اور خیبر کے میرے سو حصے اور جو غلام وہاں ہیں اور میرے سو وہ حصے جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے خیبر سے قریب کی وادی میں دیئے تھے ان سب کی متولیہ تاحیات حفصہ رہیں گی، حفصہ کے بعد ان کے اہل میں سے جو صاحب رائے ہوگا وہ متولی ہوگا لیکن کوئی چیز نہ بیچی جائے گی، نہ خریدی جائے گی، سائل و محروم اور اقرباء پر ان کی ضروریات کو دیکھ کر خرچ کیا جائے گا، ان کا متولی اگر اس میں سے کھائے یا کھلائے یا ان کی حفاظت و خدمت کے لیے ان کی آمدنی سے غلام خرید لے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں ۔

Narrated Yahya bin Saeed: Abd al-Hamid bin Abd Allah bin Abdullah bin Umar (RA) bin al-Khattab copied to me a document about the religious endowment (waqf) made by Umar bin al-Khattab (RA) : In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. This is what Allahs servant Umar has written about Thamgh. He narrated the tradition like the one transmitted by Nafi. He added: provided he is not storing up goods (for himself). The surplus fruit will be devoted to the beggar and the deprived. He then went on with the tradition, saying: If the man in charge of Thamgh wishes to buy a slave for his work for its fruits (by selling them), he may do so. Muiqib penned it and Abdullah bin al-Arqam witnessed it: In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. This is what Allahs servant Umar, Commander of Faithful, directed, in case of some incident happens to him (i. e. he dies), that Thamg, Sirmah bin al-Akwa, the servant who is there, the hundred shares in (the land of) Khaibr, the servant who is there and the hundred sahres which Muhammad ﷺ had donated to me in the valley (nearly) will remain in the custody of Hafsah during her life, then the men of opinion from her family will be in charge of these (endowments), that these will neither be sold not purchased, spending (its produce) where they think (necessary on the beggar, deprived and relatives). There is no harm to the one in charge (of this endowment) if he eats himself, or feeds, or buys slaves with it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٩) (صحیح) (بطور وجادہ کے یہ روایت صحیح ہے، وجادہ کا مطلب یہ ہے کہ خاندان کی کتاب میں ایسا لکھا ہوا پایا، وجادہ کے راوی اگر ثقہ ہوں اور صاحب تحریر کی تحریر پہچانتے ہوں تو ایسی روایت بھی صحیح ہوتی ہے )
2880Sunan Abu Dawood

میت کی طرف سے جو صدقہ ہوگا اس کا ثواب میت کو پہنچے گا

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِأُرَاهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے) : ایک صدقہ جاریہ ١ ؎، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے ٢ ؎، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When a man dies, his action discontinues from him except three things, namely, perpetual sadaqah (charity), or the knowledge by which benefit is acquired, or a pious child who prays for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایسی خیرات جس کا فائدہ ہمیشہ جاری رہے مثلا مسجد، مدرسہ، کنواں وغیرہ۔ ٢ ؎: مثلاً دینی تعلیم دینا، کتاب و سنت کے مطابق کتابیں و تفسیریں وغیرہ لکھ جانا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٠٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الوصایا ٣ (١٦٣١)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٦ (١٣٧٦)، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨١)، مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٥٠، ٣٧٢) (صحیح )
2881Sunan Abu Dawood

جو شخص وصیت کیے بغیر مرجائے اس کی طرف سے صدقہ دینا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَوْلَا ذَلِكَ لَتَصَدَّقَتْ وَأَعْطَتْ أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ فَتَصَدَّقِي عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میری ماں اچانک انتقال کر گئیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ کرتیں اور (اللہ کی راہ میں) دیتیں، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ انہیں کفایت کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دو ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A woman said: Messenger of Allah, my mother suddenly died; if it had not happened, she would have given sadaqah (charity) and donated (something). Will it suffice if I give sadaqah on her behalf? The Prophet ﷺ said: Yes, give sadaqah on her behalf.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس بات پر علماء اہل سنت کا اتفاق ہے کہ صدقے اور دعا کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٨٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا ١٩ (٢٩٦٠)، صحیح مسلم/الزکاة ١٥ (١٠٠٤)، الوصیة ٢ (١٦٣٠)، سنن النسائی/الوصایا ٧ (٣٦٧٩)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٨ (٢٧١٧)، موطا امام مالک/الأقضیة ٤١ (٥٣)، مسند احمد (٦/٥١) (صحیح )
2882Sunan Abu Dawood

جو شخص وصیت کیے بغیر مرجائے اس کی طرف سے صدقہ دینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص (سعد بن عبادہ ؓ) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے، کیا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں (پہنچے گا) ، اس نے کہا: میرے پاس کھجوروں کا ایک باغ ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کردیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : A man said: Messenger of Allah, my mother has died ; will it benefit her if I give sadaqah on her behalf ? He said: Yes. He said: I have a garden, and I call you to witness that I have given it as sadaqah on her behalf.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢٠ (٢٧٧٠)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٣ (٦٦٩)، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨٥)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٠) (صحیح )
2883Sunan Abu Dawood

جو شخص وصیت کیے بغیر مرجائے اس کی طرف سے صدقہ دینا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ أَوْصَى أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ، فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً، فَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ، فَقَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْصَى بِعَتْقِ مِائَةِ رَقَبَةٍ، وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَة، أَفَأُعْتِقُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ، أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ، أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ، بَلَغَهُ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ عاص بن وائل نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے، اس کے بعد اس کے (دوسرے) بیٹے عمرو نے ارادہ کیا کہ باقی پچاس وہ اس کی طرف سے آزاد کردیں، پھر انہوں نے کہا: (ہم رکے رہے) یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیں، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی تو ہشام نے اس کی طرف سے پچاس غلام آزاد کردیئے ہیں، اور پچاس غلام ابھی آزاد کرنے باقی ہیں تو کیا میں انہیں اس کی طرف سے آزاد کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ (باپ) مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا حج کرتے تو اسے ان کا ثواب پہنچتا ١ ؎۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather told that al-As ibn Wail left his will that a hundred slaves should be emancipated on his behalf. His son Hisham emancipated fifty slaves and his son Amr intended to emancipate the remaining fifty on his behalf, but he said: I should ask first the Messenger of Allah ﷺ . He, therefore, came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, my father left in his will that a hundred slaves should be emancipated on his behalf and Hisham has emancipated fifty on his behalf and fifty remain. Shall I emancipate them on his behalf? The Messenger of Allah ﷺ said: Had he been a Muslim and you had emancipated slaves on his behalf, or given sadaqah on his behalf, or performed the pilgrimage, that would have reached him.

Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن جب وہ کافر مرا ہے اور کافر کا کوئی عمل اللہ کے یہاں مقبول نہیں لہٰذا اس کی طرف سے تمہارے غلام آزاد کرنے سے اسے کوئی فائدہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١) (حسن )
2884Sunan Abu Dawood

اگر کوئی شخص قرض داری کی حالت میں وفات پا جائے اور اسکا مال موجود ہو تو اس کے وارث کو قرض خواہوں سے مہلت دلوائی جائیگی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ إِسْحَاق حَدَّثَهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ يَهُودَ فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ، فَأَبَى فَكَلَّمَ جَابِرٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ، وَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْظِرَهُ فَأَبَى، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور اپنے ذمہ ایک یہودی کا تیس وسق کھجور کا قرضہ چھوڑ گئے، جابر ؓ نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے (مہلت دینے سے) انکار کردیا، تو آپ نے نبی اکرم ﷺ سے بات کی کہ آپ چل کر اس سے سفارش کردیں، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور یہودی سے بات کی کہ وہ (اپنے قرض کے بدلے میں) ان کے کھجور کے باغ میں جتنے پھل ہیں لے لے لیکن اس نے انکار کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا: اچھا جابر کو مہلت دے دو ، اس نے اس سے بھی انکار کیا، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : That his father died and left a debt of thirty wasqs of a Jew on him. Jabir asked him to defer, but he refused. Jabir then spoke to the Messenger of Allah ﷺ asking him to mediate to him on his behalf. The Messenger of Allah ﷺ came to the Jew and spoke to him about taking fruit-dates in lieu of the debt that was on him. But he refused. The Messenger of Allah ﷺ asked him to defer (the debt) to him, but he refused. He then narrated the rest of the tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: پھر رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے جابر ؓ کے باغ کے کھجوروں کو قرض خواہوں کے مابین تقسیم کرنا شروع کردیا، بفضل الٰہی سب کا قرضہ اداء ہوگیا اور کھجوروں کا ڈھیر ویسا ہی رہا، یہ آپ کا معجزہ تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥١ (٢١٢٧)، الاستقراض ٨ (٢٣٩٥)، ٩ (٢٣٩٦)، ١٨ (٢٤٠٥)، الھبة ٢١ (٢٦٠١)، الصلح ١٣ (٢٧٠٩)، الوصایا ٣٦ (٢٧٨١)، المناقب ٢٥ (٣٥٨٠)، المغازي ١٨ (٤٠٥٣)، سنن النسائی/الوصایا ٤ (٣٦٧٠)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٢٠ (٢٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ٣١٢٦) (صحیح )
2885Sunan Abu Dawood

علم الفرائض سیکھنے کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اصل) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل (زائد) کی ہے: آیت محکمہ ٢ ؎، یا سنت قائمہ ٣ ؎، یا فریضہ عادلہ ٤ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Knowledge has three categories; anything else is extra; a precise verse, or an established sunnah (practice), or a firm obligatory duty.

Notes · وضاحت
١ ؎: فرائض فریضہ کی جمع ہے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حصے۔ ٢ ؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔ ٣ ؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔ ٤ ؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٨ (٥٤)، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی دونوں عبد الرحمن ضعیف ہیں )
2886Sunan Abu Dawood

کلالہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمَوَارِيثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.

جابر ؓ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر ؓ مجھے دیکھنے کے لیے پیدل چل کر آئے، مجھ پر غشی طاری تھی اس لیے آپ ﷺ سے بات نہ کرسکا تو آپ نے وضو کیا اور وضو کے پانی کا مجھ پر چھینٹا مارا تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا مال کیا کروں اور بہنوں کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، اس وقت میراث کی آیت يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے (سورۃ النساء: ١٧٦) ، اتری ١ ؎۔

Narrated Jabir: I fell ill, and the Prophet ﷺ and Abu Bakr came to me on foot to visit me. As I was unconscious, I could not speak to him. He performed ablution and sprinkled water on me ; so I became conscious. I said: Messenger of Allah, how should I do in my property, as I have sisters? Thereafter the verse about inheritance was revealed: They ask thee for legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.

Notes · وضاحت
١ ؎: کلالہ: ایسا شخص جو نہ باپ چھوڑے نہ کوئی اولاد، اس کے سلسلہ میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی مرجائے اور اس کی اپنی کوئی اولاد نہ ہو صرف ایک بہن ہو تو آدھا مال لے گی، دو ہوں تو ثلث لے لیں گی، اگر بہن بھائی دونوں ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا اخیر تک۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر النساء ٢٧ (٤٦٠٥)، المرضی ٥ (٥٦٥١)، الفرائض ١٣ (٦٧٤٣)، صحیح مسلم/الفرائض ٢ (١٦١٦)، سنن الترمذی/الفرائض ٧ (٢٠٩٧)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٥ (٢٧٢٨)، (تحفة الأشراف: ٣٠٢٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ٥٦ (٧٦٠) (صحیح)
2887Sunan Abu Dawood

جس کی صرف بہنیں ہوں اور اولاد نہ ہو اس کا حکم

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ، قَالَ: أَحْسِنْ، قُلْتُ الشَّطْرَ، قَالَ: أَحْسِنْ، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ: يَا جَابِرُ لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ، قَالَ: فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.

جابر ؓ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آگیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو ، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نیکی کرو ، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کردیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے ۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : I fell ill, and I had seven sisters. The Messenger of Allah ﷺ came to me and blew on my face. So I became conscious. I said: Messenger of Allah, may I not bequeath one-third of my property to my sisters? He replied: Do good. I asked: Half? He replied: Do good. He then went out and left me, and said: I do not think, Jabir, you will die of this disease. Allah has revealed (verses) and described the share of your sisters. He appointed two-thirds for them. Jabir used to say: This verse was revealed about me: They ask thee for a legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٩٧٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٦٣٢٥)، مسند احمد (٣/٣٧٢) (صحیح )
2888Sunan Abu Dawood

جس کی صرف بہنیں ہوں اور اولاد نہ ہو اس کا حکم

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْكَلَالَةِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة ہے ١ ؎۔

Narrated Al-Bara bin Azib: The last verse revealed about the decease who left no descendants or ascendants: They ask thee for the legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.

Notes · وضاحت
١ ؎: جو سورة نساء کے اخیر میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٦٦ (٤٣٦٤)، والتفسیر ٢٧ (٤٦٠٥)، ٣ (٤٦٥٦)، والفرائض ١٤ (٦٧٤٤)، صحیح مسلم/الفرائض ٣ (١٦١٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٧٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٢٧ (٤٣٤٦) (صحیح )