Sunan Abu Dawood 2869

وصیتوں کا بیان

2869Sunan Abu Dawood

والدین اور دسرے عزیزوں کے حق میں وصیت کا منسوخ ہونا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ سورة البقرة آية 180 فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: إن ترک خيرا الوصية للوالدين والأقربين اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے (سورۃ البقرہ: ١٨٠) ، وصیت اسی طرح تھی (جیسے اس آیت میں مذکور ہے) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کردیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Quranic verse goes: (It is prescribed when death approaches any of you), if he leaves any goods, that he may bequest to parents and next to kin. The bequest was made in this way until the verse of inheritance repealed it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٦٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الوصایا ٢٨ (٣٣٠٦) (حسن صحیح )