وار ثت کیلئے وصیّت کرنا درست نہیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ.
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے ١ ؎ لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no bequest must be made to an heir.
Notes · وضاحت
١ ؎: آیت میراث نازل فرما کر اس کا حصہ مقرر کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الوصایا ٥ (٢١٢٠)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٦ (٢٧١٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٧)، ویأتي ہذا الحدیث برقم: ٣٥٦٥ (حسن صحیح )