ایک شخص کوئی چیز ہبہ کردے اور پھر اسی چیز کو وصیت یا میراث کے ذریعہ پائے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بَنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ، قَالَ: قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ، قَالَتْ: وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ قَالَتْ: وَإِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ.
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مرگئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی ، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مرگئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ١ ؎، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں تو اس کے لیے کافی ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں (کر لو) ۔
Narrated Buraidah (RA) : A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I donated my slave-girl to my mother, but she died and left the slave-girl. He said: Your reward became due, and she came back to you in inheritance. She said: She died while a months fasting was due from her. Would it be sufficient or be taken as completed if I fast on her behalf ? He said: Yes. She said: She also did not perform Hajj. Would it be sufficient or be taken completed if I perform (Hajj) on her behalf ? He said: Yes.