شکار کو مشغلہ بنالینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی وفات کے وقت) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ did not leave dinars, dirhams, camels and goats, nor did he leave will for anything.
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی کا مطلب یہ ہے کہ مال و جائیداد سے متعلق کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی، کیونکہ آپ ﷺ نے اپنی امت کو عام وصیت فرمائی ہے، مثلاً نماز سے متعلق وصیت، اسی طرح جزیرۃ العرب سے یہودیوں کو نکالنے کی وصیت وغیرہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٦ (١٦٣٥)، سنن النسائی/الوصایا ٢ (٣٦٥١)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ١ (٢٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٤) (صحیح )